جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
غزہ امن معاہدہ: پہلے ہتھیار کون ڈالے گا حماس یا اسرائیل
  1. ہوم
  2. عالمی خبریں
عالمی خبریں

غزہ امن معاہدہ: پہلے ہتھیار کون ڈالے گا حماس یا اسرائیل

Awaz E Bihar•31 جولائی، 2026 کو 03:09 PM•14 ویوز•4 منٹ پڑھیں

امن بورڈ اور حماس میں ہونے والے غزہ امن معاہدے میں پہلے ہتھیار کون ڈالے گا اس کو طے کر لیا گیا ہے۔ غزہ پیس آف بورڈ نے حماس کو غیر مسلح ہونے پر راضی کر لیا ہے۔ تاہم اس معاہدے کے مطابق پہلے ہتھیار کون ڈالے گا، اس حوالے سے چار صفحات پر مشتمل ایک روڈ میپ سامنے آیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق معاہدے کی دستاویز میں لکھا ہے کہ حماس مرحلہ وار غیر مسلح، اسرائیلی افواج کا غزہ سے بتدریج انخلا اور نئی فلسطینی عبوری انتظامیہ کے قیام کو ایک دوسرے سے مشروط کیا گیا ہے۔ اس معاہدے کے مطابق ہر مرحلہ اس وقت تک مکمل نہیں ہوگا جب تک دوسرا فریق اپنی متعلقہ ذمہ داریاں پوری نہیں کرتا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس پورے اس اصول کے تحت تیار کیا گیا ہے کہ کسی بھی فریق پر اندھا اعتماد نہیں کیا جائے گا اور ہر پیش رفت کی باقاعدہ جانچ پڑتال ہوگی۔ دستاویز کے مطابق ابتدا میں غزہ میں سرگرم چھوٹے مسلح گروپوں کو غیر مسلح کیا جائے گا جس کے بعد حماس اپنے فوجی ڈھانچے کو ختم کرنے کا عمل شروع کرے گی، جس میں سرنگوں کا نیٹ ورک، اسلحہ کے ذخائر اور ہتھیار بنانے کی تنصیبات شامل ہیں۔
معاہدے کے روڈ میپ میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ تمام مراحل کی تکمیل کے بعد غزہ میں بننے والی نئی فلسطینی عبوری اتھارٹی کو اسلحے پر مکمل اختیار حاصل ہوگا جبکہ ایک بین الاقوامی استحکام فورس بھی عبوری دور میں امن و امان برقرار رکھنے میں معاونت کرے گی۔
عرب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے غازی حمد نے کہا کہ یہ مذاکرات نہایت مشکل اور پیچیدہ تھے، تاہم ہم نے ایسی بہترین قابلِ عمل صورت تک پہنچنے کی کوشش کی جو تمام فریقوں کے لیے قابلِ قبول ہو۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق غازی حمد نے واضح کیا کہ غزہ سے متعلق معاہدہ مرحلہ وار ہے اور اس پر مختلف مراحل میں عمل درآمد کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ دونوں فریقوں کی جانب سے معاہدے کے متن کی منظوری کے بعد اسرائیل کو پہلے مرحلے پر عمل درآمد شروع کرنا ہوگا، جبکہ اسرائیل کو غزہ سے اپنی تمام افواج بھی واپس بلانا ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ غزہ میں فلسطینی قومی کمیٹی اور بین الاقوامی فورس کی تعیناتی ضروری ہے اور اسرائیلی حمایت یافتہ مسلح ملیشیاؤں کو بھی ختم کیا جائے گا۔
حماس عہدیدار کے مطابق ہتھیار فلسطینی قومی کمیٹی کے حوالے کرنے کا عمل اسرائیل کی جانب سے معاہدے کی مکمل پاسداری پر منحصر ہے اور اگر اسرائیلی افواج نے معاہدے پر عمل کرتے ہوئے اپنی ذمے داریاں پوری نہ کیں تو حماس بھی معاہدے کے کسی حصے پر عمل درآمد نہیں کرے گی۔
ان کا کہنا ہے کہ اسلحہ چھوڑنے کا عمل اسرائیلی افواج کے غزہ سے انخلاء اور فلسطینی علاقے کی تعمیرِ نو میں پیش رفت سے مشروط ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل کی جانب سے تاحال اس معاہدے پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ادھر بورڈ آف پیس نے حماس کے غیر مسلح ہونے کے معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے۔
غزہ میں جنگ کے بعد عبوری انتظامات کی نگرانی کے لیے قائم بورڈ آف پیس نے اعلان کیا ہے کہ حماس نے باضابطہ طور پر جنگ بندی کے آئندہ مراحل پر عمل درآمد کے لیے ایک تفصیلی لائحۂ عمل پر اتفاق کر لیا ہے۔
بورڈ آف پیس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا ہے کہ پہلی مرتبہ حماس نے باضابطہ طور پر غیر مسلح ہونے کے قابلِ عمل منصوبے پر اتفاق کیا ہے، جس کے بعد اسرائیلی افواج غزہ سے انخلاء کریں گی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ معاہدہ کئی ماہ پر محیط سنجیدہ اور نیک نیتی پر مبنی مذاکرات کا نتیجہ ہے، جن کا مقصد صدر ٹرمپ کے اس وژن کو عملی شکل دینا ہے جس کے تحت غزہ میں نئی حکمرانی، سیکیورٹی، انسانی امداد، تعمیرِ نو اور معاشی بحالی کا نظام قائم کیا جانا ہے، جیسا کہ جامع امن منصوبے اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 میں بیان کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ حماس اور دیگر فلسطینی مسلح گروہوں نے غزہ میں غیر مسلح ہونے کے منصوبے پر مشتمل ایک دستاویز پر اتفاق کر لیا ہے، جسے امریکی صدر ٹرمپ نے امن اور سلامتی کی جانب ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا ہے۔
حماس کے غیر مسلح ہونے کے عمل کا تفصیلی لائحہ عمل 14 روز کے اندر تیار کیا جائے گا، جبکہ ضرورت پڑنے پر اس مدت میں توسیع بین الاقوامی نگرانی کے ادارے کی منظوری اور تمام فریقوں کی رضامندی سے کی جا سکے گی۔
شیئر کریں:

More from عالمی خبریں

غزہ میں اسرائیلی جنگ کے تین سال بعد تباہی کی ہولناک تصویرسے پوری دنیا حیران
عالمی خبریں

غزہ میں اسرائیلی جنگ کے تین سال بعد تباہی کی ہولناک تصویرسے پوری دنیا حیران

29 ستمبر، 2026
امریکہ و چین 60 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر ٹیرف کم کرنے پر متفق
عالمی خبریں

امریکہ و چین 60 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر ٹیرف کم کرنے پر متفق

28 ستمبر، 2026
 آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے و اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ایران آنے کی اجازت دینے کا اعلان
عالمی خبریں

آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے و اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ایران آنے کی اجازت دینے کا اعلان

26 ستمبر، 2026
ہم فلسطین کے معاملے میں ناکام ہیں، آئرش وزیر اعظم مارٹن کا اقوام متحدہ میں خطاب
عالمی خبریں

ہم فلسطین کے معاملے میں ناکام ہیں، آئرش وزیر اعظم مارٹن کا اقوام متحدہ میں خطاب

25 ستمبر، 2026
دو عظیم رہنما ؤں کی نازک تجارتی جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش
عالمی خبریں

دو عظیم رہنما ؤں کی نازک تجارتی جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش

24 ستمبر، 2026
ایرانی پاسداران انقلاب کا امریکہ کے ساتھ طویل جنگ کے لیے تیار ہونے کا اعلان، نئی صلاحیتیں استعمال کرنے کی دھمکی
عالمی خبریں

ایرانی پاسداران انقلاب کا امریکہ کے ساتھ طویل جنگ کے لیے تیار ہونے کا اعلان، نئی صلاحیتیں استعمال کرنے کی دھمکی

21 ستمبر، 2026