جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
      حکومت، اکژیت کا زُعم اور بے بس اپوزیشن
  1. ہوم
  2. مضامین
مضامین

حکومت، اکژیت کا زُعم اور بے بس اپوزیشن

Awaz E Bihar•20 دسمبر، 2025 کو 01:31 PM•0 ویوز•7 منٹ پڑھیں

(اختر جمال عثمانی۔ بارہ بنکی Mb.9450191754, )
جمہوریت کا مطلب اکثر صرف یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ عوام اپنے حکمراں خود منتخب کریں ۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت کا اصل امتحان الیکشن کے بعد شروع ہوتا ہے ۔ ووٹ ڈالنا جمہوریت کا پہلا قدم ہے مگر حکومت کے قیام کے بعد اقتدار کا استعمال کس طرح کیا جاتا ہے، حزب اختلاف کو کتنی اہمیت دی جاتی ہے اور اقلیت اور دیگر کمزور طبقات کو انصاف ملتا ہے یا نہیں یہ وہ باتیں ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ جمہوریت حقیقی ہے یا محض رسمی طور پر جمہوریت کا دکھاوا ہے۔ اس تناظر میں حزب اختلاف کا لیڈر leader of opposition صرف ایک عہدہ نہیں بلکہ آئینی توازن کی علامت ہے مگر بدقسمتی سے ہمارے ملک کے سیاسی ماحول میں اسے غیر ضروری منصب سمجھ لیا گیا ہے ۔ حالانکہ آئین اور پارلیمانی روایات میں اس عہدے کی تقریباَ حکومت کے مساوی اہمیت ہے ۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ جس پارٹی کو یا پارٹیوں کو اکثریت نہیں حاصل ہو سکی وہ اپوزیشن میں ہیں ۔یہ تصور جمہوریت کی بنیادی سمجھ کے منافی ہے ۔ اس کو اس طرح سمجھیں ایک پارٹی نے محض 37 فیصد ی ووٹ حاصل کئے ، نشستیں زیادہ حاصل کیں اور اکثریت میں آ گئی ۔جب کہ مخالف پارٹیوں نے 63 فیصدی ووٹ حاصل کئے اور ووٹ تقسیم ہو جانے کے باعث کم نشستیں لا سکیں۔ اس طرح حکمراں جماعت کو محض 37 فیصدی عوام کی حمایت حاصل ہے اور حزبَ اختلاف 63 فیصدی عوام کی نمائندگی کر رہا ہے ۔ اس طرح نشستوں کی گنتی میں حکومت طاقتور دکھائی پڑتی ہے مگر اپوزیشن کو عوامی رائے کی مجموعی حمایت کہیں زیادہ حاصل ہوتی ہے ۔ اس حمایت کی مجموعی آواز حزب اختلاف کے لیڈر کے زریعے پارلیمنٹ میں سنائی دیتی ہے ۔
ایک بات جو کہ اکثر فراموش کر دی جاتی ہے کہ ہمارے آئین نے واضح کیا ہے کہ ملک کو حکومت نہیں بلکہ پارلیمنٹ چلاتی ہے ۔ وزیر اعظم، کابینہ، اور بیوروکریسی سب پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہ ہیں ۔ پارلیمنٹ ہی قانون بناتی ہے ،بجٹ منظور کرتی ہے پالیسیوں پر بحث کرتی ہے اور حکومت کے فیصلوں کو آئینی شکل دیتی ہے ۔ پارلیمنٹ کی تشکیل لوک سبھا ، راجیہ سبھا اور صدر جمہوریہ سے ہوتی ہے اور ان کے درمیان توازن قائم رہنے کے لئے اپوزیشن کا مضبوط ہونا ضروری ہے ۔ جمہوریت محض اکثریت کے شور و غل میں نہ تبدیل نہ ہو جائے بلکہ اتنی حساس ہو کہ حزب اختلاف کی کمزور سے کمزور آواز بھی سنی جائے یہی جمہوریت کی بنیاد ہے ۔ اپوزیشن کی زمہ داری سوال اٹھانا ، بحث کرنا ، تنقید کرنا یا ترمیم کی مانگ کرنا ہوتی ہے ۔ لیڈر آف اپوزیشن کا یہ مرکزی کردار ہوتا ہے کہ وہ حکومت کے فیصلوں پر سوال اٹھائے ، بلوں کی خامیاں گنوائے، اور ترامیم پیش کرے ۔ وہ ان طبقات کی نمائندگی کر رہا ہوتا ہے جن کی آواز براہ راست حکومت تک نہیں پہونچتی ہے ۔ پارلیمانی روایات کے مطابق آئینی اداروں میں تقرری ، قومی سلامتی کے معاملا ت اور حساس معاملوں میں حزب اختلاف کے لیڈر کو اعتماد میں لینا ضروری سمجھا جاتا رہا ہے ۔ جمہوریت میں اپوزیشن کو دشمن سمجھنا کسی بھی حکومت کے لئے مناسب نہیں ہے۔ اپوزیشن کو حکومت کا جانشین سمجھا جانا چاہئے۔ کہا جاتا ہے کہ ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے جن سنگھ سے پہلی بار پارلیمان کے رکن منتخب ہوئے اٹل بہاری واجپائی کا تعارف عالمی لیڈروں سے بھارت کے مستقبل کے وزیراعظم کے طور پر کرایا تھا۔ یہ کوئی سیاسی مجبوری نہیں بلکہ ان کے جمہوری مزاج کا ثبات تھا۔ بعد کے حکومتوں نے بھی خارجہ پالیسی ، اور ملک کی سلامتی جیسے معاملات میں اپوزیشن کو ساتھ رکھا۔ پارلیمانی نظام میں غیر جانبداری کی روایت رہی ہے اسپیکر حکمراں جماعت سے اور ڈپٹی اسپیکرحسبِ اختلاف کی جماعتوں کی طرف سے منتخب ہوتا تھا لیکن گزشتہ برسوں میں یہ تمام روایات کمزور پڑتی گئی ہیں ۔ آج صورتِ حال یہ ہے کہ اپوزیشن کو د شمن اور غدار قرار دینے میں تعمل نہیں کیا جاتا ۔ حزب اختلاف کے لیڈر کو قومی سلامتی کے لئے خطرہ بتانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ ان کی آواز کو ایوان میں بھی دبایا جاتا ہے اور سڑک پر بھی ۔ بے بنیاد مقدمات، ہتک عزت کے دعوے ، جعل سازی جیسے الزامات ، غرض یہ کہ ہر طرح سے حراساں کرنے کی کوشش کی جاتی ہے قومی تقاریب میں اپوزیشن کو پچھلی نشستوں پر بٹھانا ۔ اہم تقریبوں اور بین الاقوامی ملاقاتوں سے محروم رکھنا توہین آمیز سلوک کی کچھ مثالیں ہیں ۔ سیاسی اعتبار سے یہ طرزِ عمل آمرانہ اور فاشزم کی علامت اور اخلاقی طور سے قابلِ مذمت ہے ۔ اختلاف رائے کو دبانا حکومت کی طاقت کا اظہار ہے ۔ یہ وقتی طور پر کارگر ہو سکتا ہے مگر اس سے ادارے کمزور ہوتے ہیں ۔ اس پسِ منظر میں لیڈر آف اپوزیشن راہل گاندھی کی سادہ سی ٹی شرٹ، چہرے پر مسکراہٹ، اور ہاتھ میں آئین کی کتاب ایک طویل سیاسی سفر کی علامت ہیں ۔پیغام واضح ہے کہ سیاست اکثریت کے بل پر طاقت کے اظہار کا نام نہیں بلکہ آئین کے وقار کا نام ہے وہ کھلے طور پر چھوٹے دکانداروں ، مزدوروں ، اور کسانوں ، اور طلباء کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں ۔ انہوں نے عندیہ دیا ہے کہ وہ کتنے بھی الیکن ہاریں لیکن فرقہ پرستی کا استعمال نہیں کریں گے۔
گزشتہ ایک دہائی میں بی جے پی کی قیادت میں قائم مرکزی اور صوبائی حکومتوں نے اپوزیشن کے اعتراضات کو درکنار کرتے ہوئے کئی قانون من مانے طریقے سے پاس کئے ہیں ۔ ان میں سے اکژ کو بہت عجلت میں اور بنا تفصیلی بحث کے منظور کیا گیا ۔ اس طرح کے قوانین کو کچھ مثالوں سے سمجھا جا سکتا ہے۔ شہریت ترمیمی قانون یا CAA متنازع قانون سازی کی مثال بن کر سامنے آیا اس میں شہریت کو پہلی بار مذہب سے منسلک کیا گیا ۔ اس قانون کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے مگر حکومت نے احتجاج کو سختی سے کچل دیا متعدد مظاہرین ہلاک ہوئے۔ دوسری مثال یو اے پی اے میں ترامیم کی ہے۔ اس قانون کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال ہونے کے خدشات کے پیش نظر سخت مخالفت ہوئی ۔ زرعی اصلاحات کے نام پر 2020 میں تین زرعی قوانین لائے گئے ۔ ان قوانین کے خلاف عوام اور اپوزیشن نے زبردست احتجاج کیا ۔ یہ احتجاج ایک سال سے زیادہ عرصے تک جاری رہا ۔ کسانوں کا یہ احتجاج جدید ہندوستان کی سب سے بڑی عوامی تحریک مانا جاتا ہے ۔ مرکزی حکومت نے محنت کشوں کے لئے قانوں لیبر کوڈ میں بھی بنا پارلیمنٹ میں مناسب بحث کے تبدیلیاں کی ہیں ۔ اس کی اپوزیشن اور ٹریڈ یونینوں نے سخت مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ اس سے مزدوروں کے حقوق متاثر ہونگے ۔ لیکن حکومت نے اعتراضات پر کوئی توجہ نہیں دی ہے۔ اسی طرح ریاستی سطح پر قانون سازی کی گئی ، لو جہاد تبدیلی مذہب جیسے قانون بنے اور قومی سلامتی ایکٹ اور دیگر سخت قوانین کا اطلاق کیا گیا یا ان کا دائرہ وسیع کیا گیا ۔ ۔ ان قوانین کو لے کر کئی اندیشے درست ثابت ہوئے ہیں ایسی بہت سی مثالیں سامنے آئیں جب کہ ان قوانین کا استعمال سماجی کاکنوں ، صحافیوں ، طالب علموں اور اپوزیشن لیڈروں کے خلاف کیا گیاہے۔ اس طرح کے تما م فیصلوں میں ایک بات مشترک ہے کہ حزبِ اختلاف کی آواز کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا ۔ پارلیمنٹ میں بحث کے لئے مناسب وقت نہیں دیا گیا ۔ اپوزیشن کو اور عوام کے جس طبقے کے متعلق قانون سازی کی گئی اس کو اعتماد میں نہیں لیا گیاہے ۔سب سے تازہ مثال مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائیمنٹ گارنٹی ایکٹ یا’’ منریگا‘‘کو تبدیل کر کے ایک نیا بل پاس کیا گیا ہے جس میں سے مہاتما گاندھی کا نام حذف کر دیا گیا ہے ۔ اس کو لے کر اپوزیشن نے زبردست احتجاج کیا لیکن ہمیشہ کی طرح ناکام رہا۔یہ جمہوریت کے لئے المیہ ہے کہ حکومت اکثریت کے زُعم میں مبتلا ہے اور اپوزیشن بے بس ہے۔
٭٭ ٭
اختر جمال عثمانی، دیوہ روڈ، رفیع نگر۔ بارہ بنکی
Mb. +919450191754 یو پی۔ انڈیا۔۲۲۵۰۰۱
Email: akhtar.jamal.usmani@gmail.com .




















ٓٓ

شیئر کریں:

More from مضامین

عبد الجلیل مستان
مضامین

عبد الجلیل مستان

28 ستمبر، 2026
آٹھ سال کے بعد اردو ڈائرکٹریٹ، پٹنہ کا بے مثال جشن اردو
مضامین

آٹھ سال کے بعد اردو ڈائرکٹریٹ، پٹنہ کا بے مثال جشن اردو

28 اگست، 2026
آزادی کے بعد آزادی کی تلاش،خواب ابھی باقی ہے
مضامین

آزادی کے بعد آزادی کی تلاش،خواب ابھی باقی ہے

21 اگست، 2026
سپریم کورٹ کا حکم، انتظامی ضوابط اور جدید معاشی تحفظ کا پیغام
مضامین

سپریم کورٹ کا حکم، انتظامی ضوابط اور جدید معاشی تحفظ کا پیغام

21 اگست، 2026
شوبھندو حکومت کے 100 دن
مضامین

شوبھندو حکومت کے 100 دن

20 اگست، 2026
​پولیس تشدد کے خلاف اہم فیصلہ
مضامین

​پولیس تشدد کے خلاف اہم فیصلہ

13 جولائی، 2026