تعلیم کے معاملے میں حکومت سنجیدہ نہیں، ترمیمی بل محض دکھاوا ہے: کانگریس
Awaz E Bihar••24 ویوز•3 منٹ پڑھیں
کانگریس نے منگل کے روز لوک سبھا میں حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ تعلیم کے معاملے میں سنجیدہ نہیں ہے اور صرف دکھاوے کے لیے قانون سازی کر رہی ہے۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ گورو گوگوئی نے 'لوک پریکشا (غیر منصفانہ ذرائع کی روک تھام) ترمیمی بل، 2026' پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ حکومت محکمۂ تعلیم کو لے کر سنجیدہ نہیں ہے اور یہ بل محض نمائشی اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو سال قبل بھی یہی بل پیش کیا گیا تھا، اس وقت بھی امتحانی نظام کے بارے میں عوام میں شدید تشویش پائی جاتی تھی، مگر حکومت کے بڑے بڑے دعوے عملی طور پر بے اثر ثابت ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ 2024 کے نیٹ پرچہ لیک معاملے میں 47 افراد کے خلاف چارج شیٹ داخل کی گئی تھی، لیکن ان میں سے 42 بری ہو گئے، جبکہ دیگر ملزمان کو بھی ضمانت مل گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر قانون مؤثر تھا تو پھر اتنے بڑے پیمانے پر پرچہ لیک کیسے ہوا؟ ان کے مطابق یہ قانون پہلے بھی ناکام تھا اور اب بھی اس سے مختلف نتائج کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ گورو گوگوئی نے الزام لگایا کہ وزیر تعلیم مسلسل پرچہ لیک کے واقعات سے انکار کرتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیر تعلیم جب گزشتہ روز پارلیمنٹ آئے تو ان کا ایسا استقبال کیا گیا جیسے انہوں نے کوئی بڑی کامیابی حاصل کی ہو۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم امتحانی نظام کو بہتر بنانے کے بجائے نوجوانوں کو انسٹاگرام پر توجہ دینے کا مشورہ دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دو سال قبل رادھا کرشنن کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، لیکن اس کے باوجود دو سال بعد بھی اتنا بڑا پرچہ لیک سامنے آیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت حال ہی میں نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) سے 47 ملازمین کی معطلی کے بارے میں ایوان کو وضاحت دے۔ ان کا کہنا تھا کہ این ٹی اے کے ڈائریکٹر جنرل کو تو تبدیل کر دیا گیا، مگر چیئرمین کو برقرار رکھا گیا، کیونکہ حکومت کو ان پر ایک مخصوص تنظیم سے وابستگی کی وجہ سے اعتماد ہے۔ کانگریس رہنما نے الزام عائد کیا کہ حکومت محکمۂ تعلیم میں حقیقی اصلاحات نہیں چاہتی، کیونکہ آر ایس ایس کے لیے تعلیم ایک اہم شعبہ ہے اور حکومت تعلیم کے ذریعے مستقبل کے لیے اپنے نظریاتی کارکن تیار کرنا چاہتی ہے۔ ان کے مطابق حکومت کو طلبہ کے مستقبل کی کوئی فکر نہیں ہے اور سابق وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے عہدہ چھوڑنے سے بھی تعلیمی نظام میں بہتری کی امید نہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے مسائل کے باعث ملک بھر کے نوجوان سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور ہوئے۔ حکومت کو ان کی تکلیف کو سمجھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مشکل حالات میں طلبہ نے سڑکوں پر راتیں گزاریں اور بھوک ہڑتالیں کیں۔ ان کے مطابق آج کا نوجوان شدید ذہنی دباؤ اور مایوسی کا شکار ہے، جس کے باعث طلبہ میں خودکشی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔