گورنمنٹ اردو لائبریری بھی ’بہار اردواکادمی‘ کی راہ پر؟
Awaz E Bihar••27 ویوز•5 منٹ پڑھیں
ضیاء الحسن حمیدی پٹنہ: اردو زبان و ادب کے فروغ اور اردو کے طلبہ محققین ادیبوں اور عام قارئین کے لیے اہم حیثیت رکھنے والی گورنمنٹ اردو لائبریری گزشتہ تقریباً ایک سال سے مستقل چیئرمین کے بغیر ہے۔ چیئرمین کی عدم تقرری کے باعث لائبریری کے انتظامی امور ادبی سرگرمیوں اور ادارے کے مستقبل سے متعلق فیصلوں پر سوال اٹھنے لگے ہیں۔ اردو حلقوں نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مزید تاخیر کیے بغیر لائبریری کی نئی انتظامی کمیٹی تشکیل دی جائے اور اسے فعال بنایا جائے۔اردو حلقوں کا کہنا ہے کہ گورنمنٹ اردو لائبریری محض کتابیں رکھنے کی جگہ نہیں بلکہ اردو زبان و ادب کی ترویج مطالعے کے فروغ اور نئی نسل کو اردو کے علمی و ادبی سرمائے سے جوڑنے والااہم ادارہ ہے۔ ایسے میں طویل عرصے تک ادارے کا باقاعدہ انتظامی ڈھانچہ مکمل نہ ہونا تشویش کا باعث ہے۔ چیئرمین کی عدم موجودگی میں لائبریری کے کئی اہم معاملات کے بروقت فیصلے اور منصوبہ بندی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔اردو دانشوروں ادیبوں اور سماجی کارکنوں کا سوال ہے کہ اگر حکومت اردو زبان و ادب کے فروغ اور سرکاری اداروں کو فعال بنانے کے لیے سنجیدہ ہے تو گورنمنٹ اردو لائبریری کی انتظامی کمیٹی کی تشکیل میں اتنی طویل تاخیر کیوں ہو رہی ہے؟ ایک سال کا عرصہ معمولی مدت نہیں، اس دوران ادارے کی ضروریات کتابوں کی فراہمی لائبریری کے بنیادی ڈھانچے، قارئین کی سہولت اور ادبی سرگرمیوں سے متعلق متعدد فیصلے کیے جا سکتے تھے۔اردو حلقوں کا کہنا ہے کہ کسی بھی سرکاری ادارے کو مستقل انتظامی قیادت کے بغیر طویل عرصے تک چلانا اس کی کارکردگی کو متاثر کر سکتا ہے۔ اگر یہی صورت حال برقرار رہی تو لائبریری کے وقار کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔گورنمنٹ اردو لائبریری کی موجودہ صورت حال نے اردو آبادی میں بھی بے چینی پیدا کر دی ہے۔ اردو سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ ریاست میںاردو اکادمی کا جو حال ہوگیا ہے وہی حال گورنمنٹ اردو لائبریری کی بھی ہونے والی ہے۔در اصل افسران کی لاپروائی بھی کمیٹی کی تشکیل نو میں روڑا بن کر سامنے کھڑی ہوگئی ہے۔ گورنمنٹ اردو لائبریری میںبی پی ایس سی ‘ یوپی ایس سی بینکنگ و دیگر مسابقاتی امتحانات کی تیاری کرنے والے طالب علموں کو کا کہنا ہے کہ کمیٹی کے نہ ہونے سے تعلیمی سرگرمیاں کم ہوتی جارہی ہیں اور طالب علموں کو جس طرح سے تیاری کرنے میں مدد ملنی چاہیے وہ نہیں مل پارہی ہے۔طلبا و طالبات کا کہنا ہے کہ لائبریری میں کمیٹی کے نہ ہونے سے جو اساتذہ کے ذریعہ تیاری کرائی جاتی تھی وہ متاثر ہورہی ہے ۔طلبہ و طالبات نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گورنمنٹ اردو لائبریری کی صورتحال کا فوری جائزہ لیا جائے اور بلا تاخیر نئی انتظامی کمیٹی تشکیل دی جائے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ مسابقاتی امتحانات کی تیاری کے لیے تازہ ترین نصابی و حوالہ جاتی کتابیں، میگزین، روزگار سے متعلق جرائد اور دیگر مطالعاتی مواد مسلسل دستیاب رہنا ضروری ہے، مگر لائبریری میں اس جانب خاطر خواہ توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔ بعض پرانی اور اہم کتابیں موجود ہونے کے باوجود ان کی دیکھ بھال اور استعمال کے لیے مناسب انتظامات کا فقدان محسوس ہوتا ہے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ اگر لائبریری میں جدید کتابیں، اخبارات و جرائد، مناسب مطالعہ گاہ، انٹرنیٹ اور دیگر بنیادی سہولتیں فراہم کی جائیں تو بڑی تعداد میں نوجوانوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ ایسے وقت میں جب سرکاری ملازمتوں کے لیے مسابقاتی امتحانات میں نوجوانوں کی دلچسپی بڑھ رہی ہے، گورنمنٹ اردو لائبریری جیسے ادارے کی فعالیت مزید اہم ہو جاتی ہے۔سوال یہ ہے کہ جس لائبریری سے طلبہ کو علم اور مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری میں مدد ملنی چاہیے، وہاں بنیادی مطالعاتی سہولتوں کے لیے بھی انہیں کیوں پریشانی اٹھانی پڑ رہی ہے؟ گورنمنٹ اردو لائبریری جیسے ادارے نئی نسل میں مطالعے کی عادت پیدا کرنے اور اردو کے علمی ورثے کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ ایک سال سے خالی چیئرمین کا عہدہ کب پُر ہوگا؟ کیا حکومت گورنمنٹ اردو لائبریری کو دوبارہ فعال اور بااختیار بنانے کے لیے فوری فیصلہ کرے گی، یا یہ ادارہ بھی انتظامی بے توجہی کے باعث اپنی اہمیت کھوتا چلا جائے گا؟طلبا و طالبات میں یہ تشویش بھی بڑھ رہی ہے کہ اگر بروقت توجہ نہیں دی گئی تو گورنمنٹ اردو لائبریری بھی رفتہ رفتہ اپنی فعالیت اور اہمیت کھو سکتی ہے۔ معتبر ذرائع کے مطابق گورنمنٹ اردو لائبریری، پٹنہ میں 40 ہزار سے زائد کتابیں موجود ہیں۔ 2025 میں نئی عمارت کے افتتاح کے بعد اس کا رکھ رکھاؤ بھی نہیں ہو پارہا ہے ۔ ہم نے کئی طلبا و طالبات سے گفتگو کی تو انہوں نے صاف کہا کہ چیئرمین کی عدم موجودگی سے ہماری تعلیم متاثر ہورہی ہے کیونکہ جو عملہ یہاں کام کررہے ہیں انہیں ہماری کتابوں سے دلچسپی ہی نہیں ہے۔ واضح رہے کہ لائبریری کا قیام 1938ء میں ہوا تھا اور اس میں نایاب اردو اخبارات، قدیم کتب اور حوالہ جاتی مواد بھی موجود ہے۔ موجودہ انچارج نے لائبریری میں ۴ لوگوں کو آؤٹ سورسنگ سے بحال کیا ہےوہ لائبریری کے کاموں سے واقف ہی نہیں ہے تو وہ کیسے کام انجام دے گا ۔ بحال شدہ افراد کو کسی بھی فن پر عبور حاصل نہیں ہے اور انہیں کتابوں کی حفاظت ‘ نمبرنگ کتابوں کی نگرانی کرنے کا ذمہ سونپ دیا ہے اس سے تو لائبریری کی حالات مزید ابتر ہو جائے گی۔اگر ناواقف افراد کی بحالی ہوگی تومسابقاتی امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبہ طالبات کے حالات کیا ہوں گے ؟