حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ: حیاتِ مبارکہ اور دینی و روحانی خدمات کا جامع مطالعہ
Awaz E Bihar••0 ویوز•18 منٹ پڑھیں
اللہ ربُّ العزّت نے ہر قوم کی ہدایت اور اصلاحِ معاشرہ کے لیے اُن میں انبیائے کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا۔ یہ سلسلہ ہمارے آقا و مولا، سیدِ کائنات حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر آ کر مکمل ہوا۔ آپ ﷺ کے بعد چونکہ وحی کا دروازہ بند ہو گیا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے اولیائے کرام کو امت کی رہنمائی اور اصلاح کے لیے منتخب فرمایا۔
اولیائے کرام اپنے اخلاقِ حسنہ، اعمالِ صالحہ اور کراماتِ باہرات کے ذریعے لوگوں کو اللہ ربُّ العزّت کی طرف دعوت دیتے رہے اور ہر دور میں پیدا ہونے والی بدعات، فتنوں اور گمراہیوں کا قلع قمع کرتے رہے۔
انہی عظیم اولیائے کرام میں ایک نہایت ہی جلیلُ القدر اور بلند مرتبہ ہستی حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمہ اللہ کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسے پُرآشوب دور میں ولایت کے منصب سے سرفراز فرمایا جب ظلم و ستم عام تھا، گمراہی ہر طرف پھیلی ہوئی تھی، اور لوگ عقائد و معاملات دونوں میں بھٹک رہے تھے۔ اس وقت ان کی رہنمائی کرنے والا کوئی کامل عالم یا مصلح موجود نہ تھا جو انہیں صحیح راستہ دکھا سکے اور ایک صالح معاشرے کی تشکیل کا شعور عطا کر سکے۔
ایسے نازک اور کٹھن حالات میں اللہ ربُّ العزّت نے سلطانُ الہند، خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمہ اللہ کو ولایت عطا فرمائی۔ آپ نے خالصتاً رضائے الٰہی کے لیے دینِ اسلام کی اشاعت و تبلیغ کا عظیم فریضہ انجام دیا اور اپنے حسنِ اخلاق، محبت، رواداری اور خدمتِ خلق کے ذریعے لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کو اصلاحِ معاشرہ اور راہِ ہدایت کی طرف راغب فرمایا۔
حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ برصغیر ہند کے عظیم روحانی پیشوا اور باکمال ولیِ کامل تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بلند مرتبہ، بے شمار کرامات اور ظاہر و باطن کے قوی علوم سے نوازا تھا۔ آپ کو بارگاہِ الٰہی میں خاص قرب حاصل تھا اور آپ انوارِ الٰہیہ کے مظہر تھے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے آپ کو یہ عظیم ذمہ داری سونپی گئی کہ اہلِ ہند کو کفر و شرک کی تاریکی سے نکال کر ایمان و توحید کی روشنی سے منور کریں۔ اسی وجہ سے آپ کو نائبِ رسول اور سلطانُ الہند جیسے عظیم القابات سے سرفراز کیا گیا۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کی نگاہ میں ایسی تاثیر رکھی تھی کہ جس پر بھی آپ توجہ فرماتے، وہ فوراً وحدانیتِ باری تعالیٰ اور رسالتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آتا۔ آپ کی غریب نوازی، محبت، اخلاق اور خدمتِ خلق پوری دنیا میں مشہور ہے۔
حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ کا تعلق خاندانِ سادات سے تھا اور آپ نجیب الطرفین سید تھے۔ آپ کا نسب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اولادِ پاک، حضرت علی المرتضیٰ اور سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہما کے فرزند، سید الشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے۔(ملتقطا دیوانِ خواجہ معین الدین چشتی)
حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے والدِ گرامی کا نام حضرت خواجہ غیاث الدین حسن تھا۔ آپ سیستان کے علاقے سنجر میں قیام پذیر تھے۔ اہلِ عرب سیستان کو اِمعان کہتے ہیں۔ خواجہ غیاث الدین حسن اپنے زمانے کے جلیل القدر عالم، صاحبِ تقویٰ اور صاحبِ ثروت بزرگوں میں شمار ہوتے تھے۔
ولادت:
حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادتِ باسعادت ۱۳ رجب ۵۳۷ھ میں ہوئی۔ دارا شکوہ نے اپنی مشہور کتاب سفینۃ الاولیاء میں تحریر کیا ہے کہ آپ کی ولادت سجستان میں ہوئی اور آپ کی پرورش و نشوونما خراسان میں ہوئی۔ اسی طرح مخزنِ چشت میں مذکور ہے کہ آپ کی ولادت قصبہ سِجز میں ہوئی، جو کستان میں واقع ہے اور جسے سیستان بھی کہا جاتا ہے، جبکہ یہ علاقہ خراسان کے ملک میں شامل تھا، جہاں آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم و تربیت حاصل کی۔
شجرۂ نسب:
حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ کا شجرۂ نسب
آپ، خواجہ سید غیاث الدین کے فرزند ہیں، جو سید کمال الدین کے صاحبزادے تھے، پھر سید احمد حسن، سید نجم الدین طاہر، سید عبدالعزیز، سید ابراہیم، سید محمد مہدی، امام حسن عسکری، امام محمد تقی، امام علی رضا، امام موسیٰ کاظم، امام جعفر صادق، امام محمد باقر، امام زین العابدین، سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہم کے فرزند، اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ تک جا ملتا ہے۔
اسی طرح مرآۃ الانساب میں یہ بھی مذکور ہے کہ آپ کا مادری شجرۂ نسب حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ سے جا کر ملتا ہے، اس طرح آپ نجیب الطرفین سید ہیں۔(ملتقطا دیوان خواجہ معین الدین چشتی)
حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کے کمالات و برکات اس حقیقت سے بخوبی ظاہر ہوتے ہیں کہ حضرت آدمؑ سے لے کر رسولِ اکرم ﷺ کے زمانۂ مبارک تک سرزمینِ ہند میں کوئی نبی مبعوث نہیں ہوا۔ پھر بعثتِ نبوی ﷺ کے بعد بھی تقریباً پانچ سو برس تک اللہ تعالیٰ نے آپؒ کے سوا کسی ایسے ولی کو یہ عظیم تصرف عطا نہیں فرمایا جس نے پورے ہندوستان کو، جو صدیوں سے شرک کی تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا، اپنی ولایت کی قوت سے نورِ توحید سے منور کر دیا ہو۔ یہ حقیقت آفتابِ نیم روز کی طرح روشن ہے۔
اسی دور کے ایک بزرگ نے اس حالت کو ان اشعار میں بیان کیا
همه غافل از حکمِ دینِ شریعت
ہمہ بے خبر از خدا و پیمبر
نہ ہرگز کسے دید منجارِ قبلہ
نہ ہرگز شنیده کس اللہ اکبر
یعنی لوگ شریعت کے احکام سے غافل، خدا و رسولؐ سے بے خبر تھے؛ نہ قبلہ کی پہچان تھی اور نہ کبھی “اللہ اکبر” کی صدا سنی گئی تھی۔ لیکن خواجۂ بزرگ کے فیض سے وہی سرزمین یوں بدل گئی:
از فیضِ او بجائے صلیبِ کلیسیا
آنجا کہ بود نعرۂ فریادِ مشرکاں
در دارِ کبوتر مسجد و محراب و منبر است
اکنون خروشِ نغمۂ اللہ اکبر است
حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کی ولادت
حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کی ولادت قصبہ سنجر میں ہوئی اور پرورش خراسان میں پائی۔ آپ کے والد گرامی حضرت خواجہ غیاث الدینؒ نہایت متقی و پرہیزگار تھے۔ کم عمری ہی میں ایک مجذوب بزرگ حضرت ابراہیمؒ کی صحبت سے آپ کے باطن میں نورِ معرفت کا چراغ روشن ہوا، جس کے بعد آپؒ نے دنیاوی تعلقات ترک کر کے اپنا مال و اسباب فقراء میں تقسیم کر دیا اور طلبِ حق کی راہ اختیار کی۔
آپؒ نے سمرقند و بخارا میں قیام کر کے قرآنِ مجید حفظ کیا اور ظاہری علوم حاصل کیے۔ پھر مرشدِ کامل کی تلاش میں عراق تشریف لے گئے، جہاں قصبہ ہارون میں حضرت خواجہ عثمان ہارونیؒ کی زیارت نصیب ہوئی۔ طویل عرصہ ان کی خدمت میں رہ کر مجاہدات و ریاضات سے گزرے اور بالآخر خرقۂ خلافت سے سرفراز ہوئے۔
اس کے بعد آپؒ نے بغداد، تبریز اور دیگر علمی و روحانی مراکز کا سفر کیا، متعدد اکابر اولیاء و مشائخ کی صحبت اختیار کی اور خود بھی بے شمار اہلِ حق کو فیض پہنچایا۔ یوں حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ نہ صرف سلسلۂ چشتیہ کے عظیم پیشوا ثابت ہوئے بلکہ ہندوستان میں اسلام کی روحانی بنیاد کے معمار بنے۔(ملتقطا مراۃ الاسرار)
حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ بیان فرماتے ہیں کہ حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ مجاہدات و ریاضات میں اپنی مثال آپ تھے۔ آپ کی خوراک نہایت قلیل ہوتی؛ بعض اوقات سات دن بعد محض روٹی کو پانی میں بھگو کر تناول فرماتے۔ لباس صرف دو چادریں تھیں جن پر جگہ جگہ پیوند لگے ہوتے، اور اگر پیوند کے لیے کپڑا نہ ملتا تو خود ہی معمولی کپڑے سے پیوند لگا لیتے تھے۔
جب حضرت خواجہ غریب نوازؒ اصفہان تشریف لے گئے تو وہاں کے جلیل القدر بزرگ شیخ محمد اصفہانیؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اس وقت حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ کا ارادہ کسی اور بزرگ سے بیعت کا تھا، لیکن جب آپ نے خواجۂ بزرگ کے احوال، جمالِ باطن اور نورانیت کا مشاہدہ کیا تو بے اختیار آپ ہی کے دامنِ ارادت سے وابستہ ہو گئے۔ خواجہ غریب نوازؒ کے لیے حضرت قطب الدینؒ سے بہتر کوئی مرید اور محرمِ راز نہ تھا، اور اسی طرح حضرت خواجہ عثمان ہارونیؒ کو بھی اپنے اس مرید پر فخر تھا۔
خواجہ غریب نوازؒ کو تقریباً بتیس برس کی عمر میں حضرت خواجہ عثمان ہارونیؒ سے خلافت و اجازت حاصل ہوئی۔ آپ جہاں بھی تشریف لے جاتے، اکثر قبرستان میں قیام فرماتے، دن رات عبادت میں مشغول رہتے اور روزانہ قرآنِ مجید کی کثرت سے تلاوت فرماتے۔ جہاں شہرت بڑھنے لگتی، وہاں سے خاموشی سے رخصت ہو جاتے۔
آپ نے تبریز، استرآباد، ہرات اور دیگر علاقوں کا سفر کیا اور اکابر اولیاء کی زیارت و صحبت سے فیض یاب ہوئے۔ ہرات میں جب عوام کا ہجوم بڑھا تو آپ وہاں سے بھی روانہ ہو گئے۔ اس دوران متعدد سخت دل، فاسق و فاجر اور بدعقیدہ افراد آپ کی ایک نگاہِ کرم سے تائب ہو گئے، دنیاوی لذتیں ترک کر کے اللہ کی راہ میں آ گئے اور بعض تو صاحبِ خلافت بھی بنے۔
بعد ازاں حضرت خواجہ غریب نوازؒ لاہور تشریف لائے، وہاں کے اولیاء کے مزارات سے فیض حاصل کیا، پھر دہلی پہنچے۔ اس وقت دہلی کفر و شرک کا گہوارہ تھی، لیکن آپ اپنی ولایت و روحانی قوت کے ساتھ بے خوف وہاں داخل ہوئے۔ مخالفین نے نقصان پہنچانے کی کوشش کی، مگر اللہ تعالیٰ نے ہر بار آپ کی حفاظت فرمائی۔ کئی سخت دل کفار آپ کے سامنے آئے، لیکن آپ کی فراست اور نورانیت کے سامنے ان کے ارادے ٹوٹ گئے اور وہ مشرف بہ اسلام ہو گئے۔
دہلی کے بعد آپ اجمیر تشریف لے گئے۔ وہاں راجپوت حکمران پرتھوی راج جیسے بااثر افراد بھی آپ کی روحانی ہیبت اور کرامات سے متاثر ہوئے۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے آپ کے دستِ مبارک پر بے شمار لوگوں کو ہدایت عطا فرمائی، اور ہندوستان میں اسلام کو استحکام نصیب ہوا۔
حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کسی کو زبردستی اسلام کی دعوت نہیں دیتے تھے؛ جو شخص اخلاص کے ساتھ خود مائل ہوتا، آپ اسے قبول فرما لیتے۔ آپ کا دربار ہر مذہب اور ہر طبقے کے لوگوں کے لیے کھلا تھا، اسی لیے آج تک مختلف مذاہب کے ماننے والے آپ کے آستانے پر عقیدت کے ساتھ حاضر ہوتے ہیں۔
۔(ملتقطا مراۃ الاسرار)
حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کی اولاد
اکبرنامہ اور تاریخِ اقبال نامۂ جہانگیری میں یہ بیان ملتا ہے کہ حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کی کوئی اولاد نہ تھی، لیکن سلسلۂ چشتیہ کے معتبر ملفوظات اور اکابر مشائخ کی تصریحات اس دعوے کی تردید کرتی ہیں۔ خواجگانِ چشت کے اقوال اور سلاسل کی کتابوں سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت خواجہ غریب نوازؒ صاحبِ اولاد تھے اور ان کی نسل آگے چلی۔
سلطانُ التارکین حضرت شیخ حمید الدین ناگوریؒ اپنے ملفوظات میں نقل کرتے ہیں کہ حضرت خواجہ معین الدینؒ نے ایک مرتبہ خواب میں رسولِ اکرم ﷺ کی زیارت کی۔ حضور ﷺ نے فرمایا: “اے معین الدین! تم ہمارے دین کے مددگار ہو، مگر میری سنتوں میں سے ایک سنت کے تارک ہو۔” اس ارشاد سے نکاح کی طرف اشارہ تھا، جس کے بعد حضرت خواجہؒ نے نکاح فرمایا۔
چنانچہ قلعہ بتنلی کے داروغہ ملک خطاب، جو خواجہ صاحب کے مرید تھے، ایک قیدی راجہ کی بیٹی کو خدمتِ خواجہ میں پیش کیا۔ حضرت خواجہؒ نے اسے قبول فرمایا اور اس کا نام بی بی اُمتہ اللہ رکھا۔ ان سے ایک صاحبزادی پیدا ہوئیں جن کا نام بی بی حافظہ جمال رکھا گیا، جو بعد میں صاحبِ کمال اور عارفۂ کاملہ ثابت ہوئیں۔
اس کے بعد سید وجیہ الدین کو خواب میں حضرت امام جعفر صادقؓ کی طرف سے یہ حکم ملا کہ اپنی بیٹی کا نکاح حضرت خواجہ معین الدینؒ سے کر دیں۔ جب یہ بات خواجۂ بزرگ کے سامنے پیش کی گئی تو آپؒ نے سید وجیہ الدین کی بیٹی بی بی عصمت سے نکاح فرمایا۔ ان کے بطن سے دو صاحبزادے پیدا ہوئے: شیخ فخر الدین اور شیخ حسام الدین۔
شیخ حسام الدین کم عمری میں ابدالوں کی صحبت اختیار کر گئے اور ان کی کوئی اولاد نہ ہوئی، جبکہ شیخ فخر الدین حضرت خواجہ غریب نوازؒ کے نہایت محبوب فرزند تھے۔ وہ اجمیر کے قریب زراعت کے پیشے سے وابستہ تھے۔ ایک موقع پر مقامی حاکم کے ظلم کی وجہ سے حضرت خواجہ غریب نوازؒ دہلی تشریف لے گئے اور سلطان شمس الدین التمش سے حکم نامہ حاصل کر کے اپنے فرزند کی داد رسی فرمائی۔
حضرت خواجہ غریب نوازؒ کے وصال کے بعد شیخ فخر الدین تقریباً بیس برس تک زندہ رہے اور قصبہ سردار، جو اجمیر شریف سے سولہ کوس کے فاصلے پر واقع ہے، میں وفات پائی۔ ان کے صاحبزادے شیخ حسام الدین اعلیٰ اخلاق اور روحانی کمالات کے حامل تھے اور اولیائے چشت سے گہرا تعلق رکھتے تھے۔
بی بی حافظہ جمالؒ، جن کا مزار حضرت خواجہ غریب نوازؒ کے مزارِ اقدس کے پائنتی کی طرف واقع ہے، نہایت عالی مقام اور عارفۂ کاملہ تھیں۔ ان کی تربیت براہِ راست حضرت خواجہؒ کی خاص نظر میں ہوئی اور ان کی بزرگی و کرامت اظہر من الشمس ہے۔
بعد کے ادوار میں حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کی اولاد اجمیر شریف میں سجادہ نشین رہی۔ مختلف زمانوں میں آپ کے فرزندان و احفاد نے آستانۂ عالیہ کی خدمت، دینی رہنمائی اور روحانی تربیت کے فرائض انجام دیے۔ مؤرخین کے درمیان اگرچہ بعض جزوی تفصیلات میں اختلاف پایا جاتا ہے، مگر اس امر پر سب کا اتفاق ہے کہ حضرت خواجہ غریب نوازؒ صاحبِ اولاد تھے۔
خلاصہ یہ ہے کہ حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کی اولاد کے انکار کا قول درست نہیں۔ معتبر ملفوظات، مشائخِ چشت کے اقوال اور تاریخی شواہد اس حقیقت کی تائید کرتے ہیں کہ آپؒ کی نسل موجود رہی اور انہوں نے ہندوستان میں اسلام اور تصوف کی اشاعت میں نمایاں کردار ادا کیا۔
حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کا اصل مشن اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنا اور ہدایت کے نور سے کفر و شرک کی تاریکی کو مٹانا تھا۔ آپؒ نے اس عظیم مقصد کو محض وعظ و گفتار تک محدود نہیں رکھا بلکہ اپنے پاکیزہ کردار، مضبوط ایمان، زہد و تقویٰ، اتباعِ سنتِ نبوی ﷺ اور کامل توکل علی اللہ کے ذریعے عملی صورت میں پیش کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خاص مدد و نصرت آپ کے شاملِ حال رہی اور آپ اپنے مشن میں پوری طرح کامیاب و کامران ہوئے۔
آپؒ کی تعلیمات اور روحانی اثرات ہی کا نتیجہ تھا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کو فتوحات، استحکام اور عروج نصیب ہوا۔ مگر جب مسلمانوں نے دین سے غفلت برتی، اخلاق و کردار سے دوری اختیار کی اور اپنی روحانی بنیادوں کو کمزور کیا تو اس کے تباہ کن نتائج بھی سامنے آئے۔ تاریخ اس حقیقت کی شاہد ہے کہ عزت و سربلندی اطاعتِ الٰہی سے وابستہ ہے اور زوال نافرمانی کا لازمی انجام ہوتا ہے۔
لہٰذا عصرِ حاضر کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کی تعلیمات کو عام کیا جائے، غیر مسلم برادرانِ وطن تک اسلام کا پیغام حکمت، محبت اور حسنِ اخلاق کے ساتھ پہنچایا جائے، اور مسلمانوں کے درمیان اتحاد، اخوت اور باہمی احترام کی نئی روح پیدا کی جائے۔ بلاشبہ کامیابی، عزت اور سربلندی کا واحد راستہ یہی ہے۔
حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کی عظیم الشان کرامات
1۔ راجا کے اونٹوں کا بیٹھے ہی رہ جانا
جب حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ اپنے مریدوں کے ساتھ اجمیر تشریف لائے اور شہر کے باہر ایک سایہ دار مقام پر قیام کا ارادہ فرمایا تو راجا کے سپاہیوں نے یہ کہہ کر روک دیا کہ یہ جگہ راجا کے اونٹوں کے بیٹھنے کی ہے۔ اس پر حضرت خواجہؒ نے کمالِ توکل اور اطمینان کے ساتھ فرمایا: “اچھی بات ہے، اگر یہاں راجا کے اونٹ بیٹھتے ہیں تو بیٹھے ہی رہیں”۔ اس کے بعد آپؒ اناساگر کے قریب تشریف لے گئے۔ شام کو جب راجا کے اونٹ آئے تو وہ اسی جگہ بیٹھ گئے لیکن اس طرح بیٹھے کہ پھر اٹھ نہ سکے۔ صبح سپاہیوں نے بہت کوشش کی مگر اونٹ نہ اٹھے۔ آخر کار سب نے حضرت خواجہؒ سے معافی مانگی۔ آپؒ کے ارشاد پر جب وہ واپس گئے تو اونٹ خود بخود کھڑے ہو چکے تھے۔ اس حیرت انگیز کرامت نے لوگوں کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔
2۔ رام دیو کا قبولِ اسلام
حضرت خواجہ غریب نوازؒ کی کرامتوں اور روحانی عظمت کا چرچا جب اجمیر میں پھیلنے لگا تو بڑی تعداد میں لوگ اسلام قبول کرنے لگے۔ اناساگر کے کنارے جہاں ہزاروں بت نصب تھے، حضرت خواجہؒ کا قیام پنڈتوں اور پجاریوں کو سخت ناگوار گزرا۔ ان ہی میں پنڈتوں کا سردار رام دیو بھی شامل تھا، جو حضرت کو وہاں سے ہٹانے آیا۔ مگر جونہی اس کی نظر حضرت خواجہؒ کے پرجلال اور نورانی چہرے پر پڑی، اس کا دل بدل گیا۔ حضرتؒ کی ایک نگاہِ کرم نے اس کے باطن کو منور کر دیا اور وہ خلوصِ دل کے ساتھ آپؒ کے ہاتھ پر اسلام لے آیا۔ بعد ازاں وہ حضرت خواجہؒ کا مخلص مرید بن گیا اور اس کا نام شادی دیو رکھا گیا۔
3۔ جادوگروں کی شکستِ فاش
حضرت خواجہؒ کی تبلیغ اور کرامتوں سے جب راجا پرتھوی راج چوہان کو اپنا اقتدار خطرے میں محسوس ہوا تو اس نے جوگی جے پال نامی مشہور جادوگر کو ڈیڑھ ہزار شاگردوں کے ساتھ اجمیر بلایا۔ جب یہ سب حضرت خواجہؒ کی قیام گاہ کی طرف بڑھے تو آپؒ نے وضو فرما کر اپنے عصا سے ایک حصار کھینچ دیا اور فرمایا کہ کوئی دشمن اس دائرے میں داخل نہیں ہو سکے گا۔ چنانچہ جادوگر جیسے ہی قریب آئے، بے ہوش ہو کر گرنے لگے اور بدحواس ہو کر واپس لوٹ گئے۔ یوں جادوگری، روحانیت کے سامنے بالکل ناکام ہو گئی۔
4۔ اناساگر کا پانی پیالے میں سما جانا
جب جادوگر ناکام ہو گئے تو راجا نے اناساگر کا پانی حضرت خواجہؒ اور آپ کے ساتھیوں پر بند کر دیا۔ اس موقع پر حضرتؒ نے شادی دیو کو ایک پیالہ دے کر فرمایا کہ اناساگر سے پانی لاؤ۔ شادی دیو جیسے ہی پیالہ پانی میں ڈالتا ہے، پورا تالاب سمٹ کر پیالے میں آ جاتا ہے اور اناساگر خشک ہو جاتا ہے۔ اس ایک پیالے سے تمام ساتھیوں کی ضرورت پوری ہو گئی، مگر پانی کم نہ ہوا۔ بعد میں حضرتؒ کے حکم سے وہی پانی دوبارہ تالاب میں ڈال دیا گیا اور اناساگر پہلے کی طرح بھر گیا۔ یہ کرامت دیکھ کر شہر میں تہلکہ مچ گیا۔
5۔ جوگی جے پال کی جادوگری کی ناکامی
جوگی جے پال نے دوبارہ جادوگری کے زور پر ہزاروں سانپ اور آگ کی بارش حضرت خواجہؒ کی طرف بھیجی، مگر دائرۂ حصار کے اندر کچھ بھی اثر نہ ہوا۔ آخر کار اس نے فضا میں اڑ کر حملہ کرنے کی کوشش کی، مگر حضرت خواجہؒ کے حکم سے آپ کی کھڑاؤں ہوا میں اڑیں اور جے پال کو مارتی ہوئی زمین پر حضرتؒ کے قدموں میں لا گرا۔ اس منظر نے حاضرین کو ششدر کر دیا۔
6۔ جوگی جے پال کا قبولِ اسلام
حضرت خواجہؒ کی روحانی طاقت کے سامنے جادوگری کا غرور ٹوٹ گیا۔ جوگی جے پال نے اپنے تمام تکبر کو چھوڑ کر حضرتؒ کے قدموں میں سر رکھ دیا اور سچے دل سے اسلام قبول کر لیا۔ حضرتؒ نے اس کا نام عبداللہ رکھا۔ روایت کے مطابق وہ اللہ کے حکم سے نگاہوں سے اوجھل ہو گیا، مگر قیامت تک زندہ رہنے کی دعا پائی۔ یہ واقعہ حضرت خواجہؒ کی روحانی عظمت اور حقانیت کا روشن ثبوت ہے۔
حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کی تعلیم و وصال
حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ نے طویل عرصہ تک تعلیم و تلقین اور رشد و ہدایت کی خدمت انجام دینے کے بعد بروزِ جمعہ 6 رجب 633 ہجری کو وصال فرمایا۔ آپ نکاح کے بعد تقریباً سات سال تک حیات رہے اور اس وقت آپ کی عمر ستانوے برس، چھ ماہ اور چھ دن تھی۔ وصال کے بعد آپ کے صاحبزادے خواجہ فخرالدین آپ کے جانشین مقرر ہوئے جبکہ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ خلیفۂ اعظم قرار پائے۔ آپؒ کے وصال کے بعد اسی مقام پر آپ کا مزار تعمیر کیا گیا، جسے بعد میں درگاہ کی صورت حاصل ہوئی۔ ابتدائی دور میں یہ درگاہ دہلی سلطنت کی سرپرستی میں رہی، تاہم بعد ازاں تقریباً دو صدیوں تک یہ مقام توجہ سے محروم رہا۔ مانڈو کے سلطان محمود خلجی اور ان کے جانشین غیاث الدین نے پہلی مرتبہ یہاں ایک مستقل مقبرہ تعمیر کرایا اور ایک خوبصورت گنبد قائم کروایا۔ مورخین کے مطابق ابتدا میں مزار لکڑی سے بنا ہوا تھا، بعد میں اس پر پتھر کی چھتری بنوائی گئی۔ سنہ 1325 میں سلطان محمد بن تغلق غالباً پہلے بادشاہ تھے جنہوں نے اس درگاہ کی زیارت کی، جبکہ 1395 میں تغلق حکمران ظفر خان نے حاضری دی اور درگاہ سے وابستہ افراد کو قیمتی تحائف عطا کیے۔ 1455 میں مانڈو کے خلجیوں کے اجمیر پر قبضے کے بعد درگاہ کو وسیع سرپرستی حاصل ہوئی اور ایک بلند و بالا دروازہ اور عظیم الشان مسجد تعمیر کی گئی۔ مورخ رانا صفوی کے مطابق درگاہ میں اولین مضبوط تعمیراتی ثبوت گنبد ہے، جسے 1532 میں مزین کیا گیا اور جس کا ثبوت مزار کی شمالی دیوار پر سنہری نوشتہ کی صورت میں موجود ہے۔ یہ وہی حسین گنبد ہے جو آج بھی ہند اسلامی طرزِ تعمیر کا شاہکار سمجھا جاتا ہے، جس پر کمل کی نقش و نگاری اور رام پور کے نواب حیدر علی خان کی جانب سے پیش کردہ سنہری تاج نصب ہے۔ فضل اللہ جمالی (وفات 1536) کے مطابق اس زمانے میں یہ مزار سبزوار، میہنا، زیل، بغداد اور ہمدان تک شہرت رکھتا تھا اور درگاہ پر مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ہندو زائرین بھی بڑی عقیدت سے حاضر ہوتے اور مجاوروں کو تحائف پیش کیا کرتے تھے، جو حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کی عالمگیر مقبولیت اور روحانی اثر کا روشن ثبوت ہے۔