ڈاکٹر شگفتہ یاسمین وہ خوشبو کی مانند اردو ادب کے چمن زار کو مہکاتی ہوئی وارد ہوئیں اور بڑی سرعت کے ساتھ اپنی شحصیت کے حسن و خود اعتمادی، لب و لہجے کی نرمی و شیرینی اوردل میں اترجانے والی شاعری کے ساتھ ذہن و دل پہ چھا گئیں ۔ بہت کم عمری میں انہیں وہ شہرت و مقبولیت بلکہ یوں کہیے کہ محبوبیت ملی جو بہت کم خوش نصیب لوگوں کے حصے میں آتی ہے ۔ یہ مایہ نازشخصیت خوشبو کی شاعرہ پروین شاکر ہیں جنہوں نے نسوانی جذبات و احساسات کو پوری آب وتاب اور سچائی کے ساتھ قلم و قرطاس کے سپرد کیا ، یوں تو ان سے پہلے بھی ادا جعفری اور فہمیدہ ریاض جیسی مضبوط و توانا آوازیں موجود تھیں جو اپنے اپنے رنگ وآہنگ میں شاعری کر رہی تھیں لیکن پروین شاکر کااعزاز یہ ہے کہ ان کی شاعری میں ایک عورت کے نسوانی جذبات واحساسات اپنی تمام تر نیرنگیوں کے ساتھ موجود ہیں ۔ رنگ ۔خوشبو، ہوا ،بادل، بارش کی ہنسی ، پھولوں کی مسکراہٹ،چڑیوں کے گیت اور خود ان کی اپنی سرگوشیاں جو کبھی خود کلامی ہے، کبھی سسکی، کبھی کراہ اور کبھی بے صدا چیخ۔ پروین شاکر نے 24 نومبر 1952کو کراچی کے ایک علمی وادبی گھرانے میں آنکھیں کھولیں۔ والد سید شاکر حسین ثاقب بہار کے دربھنگہ ضلع کے لہریا سرائے سےتعلق رکھتے تھے اور قیام پاکستان کے بعد کراچی منتقل ہوگئے اور وہیں سکونت اختیار کرلی۔ پروین شاکر بہت کم عمری میں ہی شعر کہنے لگی تھیں اور اس میں ان کے والد کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی کا بھی دخل تھا جو خود بھی شاعر تھے اور شاکر تخلص کرتے تھے۔پروین نے میٹرک کا امتحان رضویہ گرلز اسکول کراچی سے اور بی۔ اے سر سید کالج سے پاس کیا۔ 1972 میں کراچی یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی اور پھر لسانیات میں بھی ایم اے کیا اس کے علاوہ پروین نے ہارورڈ یونیورسٹی سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسڑز کی ڈگری بھی حاصل کی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد عبداللہ گرلز کالج کراچی میں بطور استاد مقرر ہوئیں ۔ اس کے علاوہ جامعہ کالج اور ٹرینیٹی کالج میں 9 برس تک درس و تدریس سے وابستہ رہیں۔ پاکستان سول سروسزکا امتحان پاس کرنے کے بعد1982 میں کراچی میں سیکنڈ سیکریٹری سینٹرل بورڈ آف ریوینیو کے عہدے پر فائز ہوئیں۔ بعد میں انہوں نے اسلام آباد میں ڈپٹی کلکٹر کے فرائض بھی انجام دیے۔ 25 سال کی عمر میں پہلا مجموعہ کلام ' خوشبو' منظر عام پر آیا اور اپنی خوشبو سے ادبی حلقوں میں دھوم مچا دی۔ اس مجموعے پر انہیں آدم جی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ 1982میں جب وہ سی ایس ایس کا امتحان دے رہی تھیں تو اردو کے سوالنامے میں ایک سوال انہی کی شاعری کے متعلق تھا۔یہ پروین شاکر کا انوکھا اعزاز تھا جس پر وہ تمام عمر فخر کرتی رہیں۔ پروین شاکر کا پہلا مجموعہ کلام ' خوشبو'اردو شاعری کے چمن میں ایک تازہوا کا معطر جھونکا تھا جس نے ہر خاص و عام کو چونکایا۔ گرچہ نسوانی اظہار بیان کے پیرائے اپنے اپنے رنگ وآہنگ میں پہلے سے ہی موجود تھے لیکن نسوانی جذبات واحساسات کو پوری تہذیبی پاسداری اور نفاست و نزاکت کے ساتھ بیان کرنے کا ہنر ان کی شاعری کے ساتھ ہی دنیائے سخن میں وارد ہوا۔پروین شاکر کی شاعری ایک نوخیز لڑکی کے ست رنگے اور کچے جذبات سے ایک رفیقہ حیات، ایک ماں اور ایک پختہ عمر کی باشعور عورت کی زندگی کے مختلف مراحل کا نگار خانہ ہے ۔ خوشبو کی لڑکی جس کے شہر ذات میں محبت کی خوشبو دبے پاؤں داخل ہوتی ہے جو اس کیفییت میں مبتلا ہے کہ چھپائے نہ چھپے اور بتائے نہ بنے۔ جو تنہائی میں یہ سوچ کر کانپ اٹھتی ہے کہ حال دل چہرے سے منکشف نہ ہو جائے لیکن خواب ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہوجاتے ہیں دل کی گلیاں سنسان ہیں اور اس کےنیم وا دریچوں میں کئی رتوں سے ایک ہی موسم ٹھہر سا گیا ہے صرف انتطار کا موسم۔۔!! ازل سے ہی عورت کے حصے میں دربدری رہی ہے۔دکھ سکھ ، خوشی غم، جبرو اختیار پر اس کا کچھ بس نہیں چلتا۔ وہ مرد کی اجازت کی پابند ہے اورجس قدر اجازت اسے ملتی ہے اسی لکشمن ریکھا کے اندر وہ جینے اور مرنے کی پابند ہے ۔اسی دائرے میں وہ غم کی تاریکیوں اور خوشیوں کے اجالے سے اپنی زندگی کے کینوس میں گہرے ہلکے رنگ بھرتی ہے۔ یہ بے امانی و بے ردائی اور ہجر و فراق پروین شاکر کے حصے میں بھی آیا۔ کیسے کہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا ہے اس نے بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی لیکن شب تنہائی کی قیامت کو اپنی ذات میں سمیٹے محبوب کو دعا دینے کا حوصلہ پروین شاکر کے یہاں ہی ملتا ہے ترا پہلو ترےدل کی طرح آباد رہے تجھ پہ گزرے نہ قیامت شب تنہائی کی تنہائی کا کرب ، سچ بول کر ہار جانے کا غم، آبلہ پائی اور شکستگی اور دھنک رنگ خوابوں کا راکھ ہو جانا پروین شاکر کی شاعری میں مختلف حوالوں سے آتا ہے۔ خواب جل جائیں ، مری چشم تمنا بجھ جائے بس ہتھیلی سے اڑے رنگ حنا ، آہستہ۔۔! ٹوٹنے اور بکھرنے کا کوئی موسم ہو پھول کی ایک دعا، موج ہوا آہستہ۔۔۔! صد برگ تک آتے آتے ان کی زندگی اور شاعری دونوں کا منظر نامہ بدل جاتا ہے۔ رزم گاہ جاں میں میں کئی معرکے سر کرتے، آنکھوں میں تھکن ، بدن پر دھنک سجائے سندر کومل سپنوں کی بارات کے گزر جانے کا ملال، کٹھن رستہ، شدت دھوپ میں سفر، 'پابہ گل شہر میں رہائی کی تدبیر' کی جستجو، کچھ موسموں کا راس نہ آنا کچھ مٹی میں بغاوت ، ہواؤں کی سیاست اور پھولوں کا بکھرنا مقدر بن گیا۔ برسات کی تمنا تمام عمر رہی لیکن وجود کو ملا چنار کا موسم۔ بارش کی دعاؤں میں نمی آنکھ کی مل جائے جذبے کی کبھی اتنی رفاقت بھی بہت تھی غزلوں کے علاوہ پروین شاکر کی نظموں میں بھی عورت کے جذباتی و نفسیاتی مسائل کو بڑی عمدگی سے بیان کیا گیا ہے۔ خواب، شہر چارہ گراں، لڑکیاں اداس ہیں، مسئلہ ،اسٹینوگرافر، ورکنگ وومن وغیرہ کچھ ایسی ہی مثالیں ہیں۔ وہ دور کہ جس میں حاکم شہر کے ذریعے لبوں پہ مہر لگا دی جائے۔ اس عہد میں علامت ،استعاروں اور اساطیر کے ذریعے انہوں نے اپنا احتجاج کبھی غزلوں اور کبھی نظموں کے پیرائے میں پیش کیا۔ تقیہ ، ایران ، روز سیاہ ، ایک معقول نکاح، پھر وہی فرمان ، ایسی چند مثالیں ہیں ۔ 'صد برگ' کے بعد 'خود کلامی' اور 'انکار' میں پروین شاکر کا فن ارتقاء کے کچھ اور مدارج طے کرتا ہے۔ آشوب آگہی سے بڑھ کر عذاب کچھ اور نہیں اور پروین اس عذاب سے گذر چکی تھیں لیکن چلنے کا حوصلہ نہ تھا اور رکنا محال تھا۔ میں ہجر کے عذاب سے انجان بھی نہ تھی پر کیا ہوا کہ صبح تلک جان بھی نہ تھی دنیا کو دیکھتی رہی جس کی نظر سے میں اس کی آنکھ میں مرے لیے پہچان بھی نہ تھی سنگل پیرنٹ single parentہونے کا دکھ بھی پروین شاکر نے جھیلا اور زمانے کے روبرو بڑے عزم و استقلال اور کمال خودداری کے ساتھ جھیلا لیکن جس مقام پر آکر ایک عورت ٹوٹتی ہے وہ پدر اساس سماج ہے جہاں بچے کو مادر نشاں ہونے کی قیمت چکانی پڑتی ہے۔ 'نوشتہ ، شرارت سے بھری آنکھیں ، سفر اب جتنا باقی ہے ، اپنے بیٹے کے لیے ایک نظم، 'جدائی کی پہلی رات' وہ نظمیں ہیں جن میں ایسا لگتا ہے کہ ایک ماں نے اپنا کلیجہ نکال کر رکھ دیا ہے۔ پروین شاکر کی شاعری جس اوج کمال کو پہنچی اور جس طرح لوگوں نے حرز جان بنا کر سر آنکھوں پر بٹھایا اس کی مثال اردو شاعری کی تاریخ میں کم ملتی ہے۔ انہیں یہ احساس ہو گیا تھا کہ اذن سفر ہونے کو ہے لیکن اتنی جلدی۔۔۔ شائد یہ گماں نہ تھا ۔ موت کی آہٹ سنائی دے رہی ہے دل میں کیوں کیا محبت سے بہت خالی یہ گھر ہونےکو ہے رونق بازار و محفل کم نہیں ہے آج بھی سانحہ اس شہر میں کوئی مگر ہونے کو ہے اور سانحہ ہو گیا دسمبر 1994 کی 26 تاریخ تھی، صبح کا وقت تھا ، بارش ہو رہی تھی آفس جاتے ہوئے ایک بس نےپروین شاکر کی کار کو ٹکر مار دی۔ انہیں اسپتال پہنچایا گیا لیکن خون بہت زیادہ بہہ چکا تھا۔ حادثے کے کچھ دیر بعد ہی ان کا انتقال ہو گیا۔ وہ اسلام آباد میں مدفون ہیں۔ انہیں بے شمار ایوارڈز سے نوازا گیا1985 میں ڈاکٹر محمد اقبال ایوارڈ، 1986 میں یو ایس آئی ایس ایوارڈ ، فیض احمد فیض انٹرنیشنل ایوارڈ اس کے علاوہ پرائڈ آف پرفارمنس ایوارڈ سے سرفراز ہوئیں لیکن ان کا سب سے بڑا ایوارڈ وہ منصب دلبری ہے جس پر دنیا سے جانے کے باوجود وہ آج بھی اسی محبوبیت اور تمکنت کے ساتھ فائز ہیں۔عکس خوشبو ہوں بکھرنے سے نہ روکے کوئی اور بکھر جاؤں تو مجھ کو نہ سمیٹے کوئی