جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
اگر کوئی شخص مسلمانوں کو ہندستان سے باہر نکالنے کی بات کرتا ہے، تو وہ ہندو نہیں: بھاگوت
  1. ہوم
  2. قومی
قومی

اگر کوئی شخص مسلمانوں کو ہندستان سے باہر نکالنے کی بات کرتا ہے، تو وہ ہندو نہیں: بھاگوت

Awaz E Bihar•30 اگست، 2026 کو 06:50 PM•23 ویوز•7 منٹ پڑھیں

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سرسنگھ چالک موہن بھاگوت نے ہر انسان کی عزتِ نفس اور انسانی اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی شخص کے مذہب کی بنیاد پر اس کے وجود کا انکار ہندوتوا کی سوچ نہیں ہو سکتی اور اگر کوئی شخص مسلمانوں کو ہندستان سے باہر نکالنے کی بات کرتا ہے، تو وہ ہندو نہیں ہو سکتا۔
مسٹربھاگوت نے امریکہ کے نیویارک میں میڈیسن اسکوائر گارڈن میں ہفتے کی رات 'ون ورلڈ ون ہیومینٹی‘ پروگرام میں مذہب، ماحول، انسانی سوچ، فرض اور ہندوتوا سمیت مختلف موضوعات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے تقریباً 42 منٹ کے اپنے خطاب کے دوران ایک پرانے مکالمے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ مسلم کمیونٹی کے کچھ لوگوں نے ان سے پوچھا تھا کہ آر ایس ایس ہندو تنظیم ہے اور ہندو راشٹر کی بات کرتی ہے، تو مسلمانوں کا کیا ہوگا؟ کیا انہیں ہندستان سے باہر کر دیا جائے گا؟ انہوں نے کہا، "میں نے انہیں جواب دیا تھا کہ ایسا کرنا ہندوتوا نہیں ہے۔ اگر کوئی ہندو یہ سوچتا ہے کہ ہندستان میں کوئی مسلم نہیں ہونا چاہیے، تو وہ ہندو نہیں ہے۔"
اس دوران سنگھ سربراہ نے ہندوتوا کا مطلب سمجھاتے ہوئے کہا کہ ہندوتوا کسی بھی طبقے کو باہر نکالنے کی سوچ سے الگ ہے۔ تمام راستے ایک ہی مقصد یعنی ایشورکی طرف جاتے ہیں اور ہر انسان کی ایک عزتِ نفس ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتحاد اور تنوع ہندستان کے 'ڈی این اے‘ میں ہے۔ لوگ الگ الگ نظر آتے ہیں، ان کے رہنے سہنے کے اپنے اپنے طریقے ہیں، لیکن سب کے درمیان ایک پیدائشی تعلق ہے۔
مسٹر بھاگوت نے کہا کہ تنوع میں اتحاد ہندستان کی روایتی سوچ ہے اور ملک وقت فوقتاً پوری دنیا کو اس کا احساس دلاتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوچنے کی صلاحیت انسان کے لیے ایک نعمت ہے۔ صحیح سوچ انسان کو خدا کے قریب لے جاتی ہے، جبکہ غلط سوچ اسے جانوروں کے قریب لے جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں دنیا میں مذاہب کی پہچان بنیادی طور پر رسم و رواج سے ہوتی ہے۔ کسی مذہبی ڈسپلن کی پیروی کرنے اور ایشور تک پہنچنے کے اس راستے پر چلنے کے لیے رسم و رواج کا یہ نظم و ضبط بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا، "میں کوئی مذہبی ماہر یا مذہبی رہنما نہیں ہوں، لیکن ایسے معاشرے میں کام کر رہا ہوں جو کہتا ہے کہ مذہب بھلے ہی الگ الگ ہوں، لیکن انسانیت ایک ہے۔ سچائی ایک ہے اور انسانیت اسی سچائی کی پیداوار ہے۔ سچائی کو کئی طریقوں سے بیان کیا جاتا ہے۔"
انہوں نے مزید کہا، "اگر ہم معاشرے کو مسلسل تعلیم نہیں دیتے تو اس میں کمیاں یا بھٹکاؤ آ جاتا ہے۔ تاریخ کے دوران ایسا ہی کچھ ہوا۔ میں ٹھیک اس لمحے کی طرف اشارہ نہیں کر سکتا، لیکن اس کے بعد ہمارا معاشرہ اور ہمارا ملک غیر ملکی حملوں کا شکار بنا اور بہت سی چیزیں کھو گئیں۔"
انہوں نے کہا کہ موجودہ وقت میں دنیا میں دو طرح کے رجحانات دکھائی دیتے ہیں، جس میں ایک کہتا ہے-"جیو اور جینے دو"، تو دوسرا کہتا ہے-"جیو اور صرف انہیں جینے دو جو ہماری بات مانیں۔" جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اگر آپ ہماری بات مانیں گے تو ہم آپ کی حفاظت کریں گے، وہ دوسروں کی حفاظت کو اپنی شرائط سے جوڑتے ہیں۔ جو صرف اپنی بات ماننے والوں کی حفاظت کرتے ہیں، انہیں 'راکشس' کہا جاتا ہے۔"
سنگھ سربراہ نے اس سوچ کے برعکس ایسی سوچ کی ضرورت بتائی جس میں یہ بات اہمیت نہیں رکھتی کہ دوسرا شخص کسی کی بات مانتا ہے یا نہیں، کسی کی بات سنتا ہے یا نہیں، کسی کے بارے میں کیا سوچتا ہے یا کسی کے لیے کتنا کارآمد ہے۔ انہوں نے کہا، "سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم سب انسان ہیں۔ زندگی کو قائم رکھنے کے لیے بھائی چارے اور باہمی اپنائیت کے ساتھ رہنا ضروری ہے۔"
انہوں نے کہا کہ دنیا میں بھلے ہی لوگوں کے درمیان کئی طرح کے مادی اور سماجی فرق ہوں، لیکن تمام انسانوں کے اندر ایک ہی عنصر موجود ہے۔ انہوں نے کہا، "ہم اتحاد سے جڑے ہیں اور تنوع سے آراستہ ہیں۔ تنوع قدرتی ہے اور اتحاد ہی سچائی ہے۔"
انہوں نے کہا کہ جو اصول سب کو جوڑتا ہے، سبھی کو اپنے اندر شامل کرتا ہے، کسی قسم کی تقسیم پیدا نہیں کرتا، سب کے درمیان توازن برقرار رکھتا ہے اور درمیانی راستہ دکھاتا ہے، وہی دھرم (مذہب) ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندستان میں جس اصول کو دھرم کہا جاتا ہے، اسے صرف مذہب یا عبادت کے طور پر نہیں سمجھنا چاہیے۔ مذہب وہ نظام ہے جو کائنات اور زندگی کو سنبھالتا ہے۔ یہ زندگی کے مختلف حالات کے درمیان توازن برقرار رکھنے میں مدد کرتا ہے۔ پیسہ، سامان اور دوسری مادی سہولیات ہمیشہ خوشی نہیں دے سکتیں۔ مادی سکھ عارضی ہوتا ہے اور بہت زیادہ سہولیات ہونے کے باوجود اطمینان کی کمی رہ سکتی ہے۔مسٹربھاگوت نے کہا، "انسان کی زندگی میں چار مراحل ہوتے ہیں-برہمچریہ، گرہستھ، وان پرستھ اور سنیاس۔ پہلے سیکھنا، پھر خاندان اور معاشرے کو سنبھالنا اور بعد میں اپنے تجربات اگلی نسل کو دینا ضروری ہے۔"
ماحولیاتی تحفظ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے سنگھ سربراہ نے کہا کہ جس طرح 'فادرز ڈے' اور 'مدرز ڈے' منا کر ہم والدین کے تئیں اپنی ذمہ داری کو یاد کرتے ہیں، اسی طرح ماحول کے تئیں بھی اپنی ذمہ داری کو یاد رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کسی شخص کے کھانا کھانے سے پہلے دنیا میں زراعت کا ہونا ضروری ہے۔ اگر کسان کھیتی باڑی کرنا بند کر دیں، تو لوگوں کے پاس کھانے کے لیے کیا بچے گا؟ انہوں نے کہا کہ ترقی کے لیے نہ فرد کو دبانا چاہیے اور نہ ہی معاشرے کو۔ فرد، معاشرے اور ماحول کی بھلائی ایک ساتھ ہونی چاہیے۔
دنیا بھر میں مقیم ہندستانی تارکینِ وطن کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے مسٹربھاگوت نے کہا کہ انہیں اپنے کام کی سرزمین کے ساتھ مکمل وفاداری برقرار رکھنی چاہیے۔ ساتھ ہی انہیں اپنی جائے پیدائش کے اقدار کے مطابق زندگی گزارتے رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہندستان کو اپنے تارکینِ وطن سے یہی توقع ہے۔
اس پروگرام میں 5,000 سے زائد ہند نژاد امریکی شہریوں نے شرکت کی۔ اس کا اہتمام 'امریکن ہندوز فار انگیجمنٹ اینڈ ڈائیلاگ' (اے ایچ ای اے ڈی) نے کیا تھا۔ اس میں شرکت کے لیے 30 ممالک کے 180 مذہبی رہنما پہنچے تھے۔
مسٹربھاگوت نے اس دوران 'کال فار ایکشن' کی تجویز پیش کی اور مذہبی رہنماؤں نے مستقبل کے تئیں اپنی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے 5 نکاتی ایکشن پلان کا اعلان کیا۔ اس ایکشن پلان میں مذہب کا غلط استعمال روکنا، ایک دنیا، ایک انسانیت، سلامتی کا عزم، مستقبل کے تئیں ذمہ داری اور تنوع کا احترام شامل ہے۔
عالمی مذہبی رہنماؤں نے واضح کیا کہ مذہب کا استعمال کسی بھی قسم کی نفرت، توہین، غیر انسانی سلوک یا تشدد کو جائز قرار دینے کے لیے نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے ساتھ ہی 'ایک دنیا، ایک انسانیت' کے تصور کی پرزور حمایت کی گئی۔ اس کے علاوہ کسی بھی طبقے کی عزت اور سلامتی کے لیے متحد ہو کر کھڑے ہونے کا عزم کیا گیا۔ عالمی مذہبی رہنماؤں نے موجودہ عالمی چیلنجوں کے درمیان آنے والی نسلوں کے تئیں اپنی اخلاقی ذمہ داری کو قبول کیا۔ وہیں، تنوع کو قدرتی اور اتحاد کو واحد سچائی بتایا گیا۔ تقریب سے قبل رکشا بندھن کا تہوار منایا گیا، جس میں موجود لوگوں نے ایک دوسرے کو راکھی باندھی اور یگانگت کا پیغام دیا۔
شیئر کریں:

More from قومی

 مودی سرکار مساجد و عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنا چاہتی ہے
قومی

مودی سرکار مساجد و عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنا چاہتی ہے

29 ستمبر، 2026
امن ہندوستان کی پالیسی، کمزوری نہیں، دہشت گردی پر ضروری قدم اٹھائیں گے: راج ناتھ
قومی

امن ہندوستان کی پالیسی، کمزوری نہیں، دہشت گردی پر ضروری قدم اٹھائیں گے: راج ناتھ

27 ستمبر، 2026
ایس آئی آر کا فیصلہ متفقہ تھا، کابینہ سکریٹری کو لکھے گئے خط کا کسی پالیسی سے تعلق نہیں: الیکشن کمیشن
قومی

ایس آئی آر کا فیصلہ متفقہ تھا، کابینہ سکریٹری کو لکھے گئے خط کا کسی پالیسی سے تعلق نہیں: الیکشن کمیشن

26 ستمبر، 2026
گیانیش کمار کے استعفے و گرفتاری کے مطالبے حق میں کانگریس کا ملک گیر مظاہرہ
قومی

گیانیش کمار کے استعفے و گرفتاری کے مطالبے حق میں کانگریس کا ملک گیر مظاہرہ

25 ستمبر، 2026
گیانیش کمار نے دو دنوں میں استعفیٰ نہیں دیا تو ملک گیر تحریک ہوگی: سی جے پی
قومی

گیانیش کمار نے دو دنوں میں استعفیٰ نہیں دیا تو ملک گیر تحریک ہوگی: سی جے پی

24 ستمبر، 2026
الیکشن کمیشن کی 14 اعتراضات پر وضاحت، اختلافِ رائے کو معمول قرار دیا
قومی

الیکشن کمیشن کی 14 اعتراضات پر وضاحت، اختلافِ رائے کو معمول قرار دیا

23 ستمبر، 2026