ایران پرحملہ ہوا تو خلیجی ممالک کو اندھیرے میں ڈوب جائےگی
عالمی خبریں

ایران پرحملہ ہوا تو خلیجی ممالک کو اندھیرے میں ڈوب جائےگی

Awaz E Bihar••21 ویوز•4 منٹ پڑھیں

ایران نے امریکی حملے پر خلیجی ممالک کو اندھیرے میں ڈبونے کی دھمکی دیتے ہوئے مختلف خلیجی دارالحکومتوں تک انتباہی پیغامات پہنچادیئے۔
تفصیلات کے مطابق ایران نے خبردار کیا ہےکہ اگرامریکہ نے اس کے بجلی گھروں اور توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا تو جواب میں خلیجی ممالک کے بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو ہدف بنایا جائے گا۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق دو خلیجی عہدیداروں نے نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پر بتایا ایران نے مختلف خلیجی دارالحکومتوں کو پیغام دیا ہے کہ امریکی حملے کی صورت میں خطےکےبجلی کےنظام اوراہم انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ لیکن ایران نے اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔
ایک علاقائی عہدیدارنے بھی تصدیق کی کہ ایسے انتباہی پیغامات مختلف خلیجی ممالک تک پہنچائے گئے تھے۔
ایران نے مبینہ طور پر ان اہم تنصیبات اور اہداف کی فہرست بھی پیش کی جنہیں جوابی کارروائی میں نشانہ بنایا جا سکتا ہے، لیکن ان اہداف کی تفصیلات ظاہرنہیں کی گئیں۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کا کہنا ہے ان مبینہ انتباہی پیغامات کے بعد خلیجی ممالک میں تشویش پائی جا رہی ہے کیونکہ ان کی معیشت، تیل کی برآمدات، پانی صاف کرنے کے پلانٹس، مواصلاتی نظام اوردیگر اہم خدمات جدید بجلی کے بنیادی ڈھانچے پرانحصار کرتی ہیں۔تاہم اب تک نہ امریکہ نے اس رپورٹ پرباضابطہ ردعمل دیا ہے اورنہ ہی ایران نے ان دھمکیوں کی سرکاری سطح پرتصدیق یا تردید کی ہے۔ امریکہ کی شکاگو یونیورسٹی کے پروفیسر رابرٹ پیپ نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ 'تاریخ کے خطرناک ترین عسکری جال میں پھنس چکے ہیں۔عرب میڈیا کو دیے گئے انٹرویو کے دوران پروفیسر رابرٹ پیپ نے کہا ہے کہ امریکی فضائی اور بحری حملوں سے ٹرمپ کو وقتی فوجی کامیابیاں ضرور ملیں لیکن اس جنگ میں کودنے سے وہ اپنے کسی بھی بڑے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ جنگ کے بعد ایران پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر ابھرا ہے۔
پروفیسر رابرٹ پیپ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس اب صرف 2 راستے ہیں، یا تو ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو تسلیم کریں یا پھر جنگ کو مزید وسعت دیں۔
بقول پروفیسر رابرٹ پیپ کے صدر ٹرمپ کے پاس تیسرا کوئی راستہ موجود نہیں ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ فضائی اور بحری طاقت کی محدود افادیت سامنے آنے کے بعد صدر ٹرمپ زمینی کارروائی کی جانب بھی جا سکتے ہیں تاکہ وسط مدتی انتخابات سے قبل کوئی علامتی کامیابی حاصل کی جا سکے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے عالمی اور امریکی توانائی کی قیمتوں سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں ایران کے خلاف جنگ بہت جلد ختم ہوجائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ ایرانی زیادہ دیر تک یہ جنگ جاری رکھ سکیں گے۔ایران سے بات چیت جاری ہے، جنگ جلد ختم ہوجائے گی اور آبنائے ہرمز کھل جائے گی۔اس کے علاوہ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ وہ وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کی کارکردگی سے انتہائی خوش ہیں۔
ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری جنگ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ سب کچھ غیرمعمولی رہا ہے، ایران کو اس مقصد کے لیے شدید نقصان پہنچایا گیا ہے کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے، وہاں سب کچھ بہت اچھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ایران اس وقت عمان کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے، جہاں دونوں فریق آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے ایک ایسے معاہدے کے قریب بتائے جا رہے ہیں جو دونوں کے لیے قابلِ قبول ہو۔تاہم ایران متعدد بار واضح کر چکا ہے کہ جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے اس کی امریکہ کے ساتھ فی الحال کوئی براہِ راست بات چیت نہیں ہو رہی۔
اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ اس جنگ میں ایران کو شدید ترین نقصان پہنچایا گیا ہے اور وہ اب طویل جنگ لڑنے کے قابل نہیں رہا۔ٹرمپ نے اعادہ کیا کہ "ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے۔"صدارتی دفتر میں گفتگو کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے عوام کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ جنگ ختم ہوتے ہی گیس کی قیمتیں ایک بار پھر کم ہو جائیں گی اور شہری بہت جلد گیس کی قیمتوں میں کمی کا دن دیکھیں گے۔امریکی صدر نے اعتراف کیا کہ امریکی فوج کو بعض مخصوص اقسام کے ہتھیاروں کی دستیابی میں مشکلات کا سامنا ہے اور کچھ ہتھیاروں کی مقدار محدود ہے۔
، تاہم جدید اسلحہ کے مجموعی ذخائر لامحدود ہیں۔اس موقع پر صدر ٹرمپ نے امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کی کارکردگی اور دفاعی حکمتِ عملی کو سراہتے ہوئے ان کی خدمات کی کھلے دل سے تعریف بھی کی۔
شیئر کریں:

More from عالمی خبریں