جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
’’اگر لالو جی نے مجھے نہ پھنسایا ہوتا، تو شاید میں سیاست میں نہ آتا اور نہ ہی آج وزیر اعلیٰ بن پاتا‘‘
  1. ہوم
  2. بہار
بہار

’’اگر لالو جی نے مجھے نہ پھنسایا ہوتا، تو شاید میں سیاست میں نہ آتا اور نہ ہی آج وزیر اعلیٰ بن پاتا‘‘

Awaz E Bihar•24 اپریل، 2026 کو 07:20 PM•9 ویوز•6 منٹ پڑھیں

پٹنہ، 24 اپریل ( اے بی این) بہار میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت والی سمراٹ چودھری کی مخلوط حکومت نے آج ریاستی اسمبلی میں بھاری اکثریت کے ساتھ اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیا۔ وزیراعلیٰ سمراٹ چودھری کی جانب سے پیش کردہ تحریک اعتماد کو ایوان نے صوتی ووٹ کے ذریعے منظوری دے دی۔
واضح رہے کہ نتیش کمار کے استعفیٰ کے بعد، سمراٹ چودھری نے 15 اپریل کو ریاست کے نئے وزیراعلیٰ کے طور پر حلف اٹھایا تھا۔ آج ایوان میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہوں نے ثابت کر دیا کہ حکومت کو ارکانِ اسمبلی کی مکمل حمایت حاصل ہے۔
اعتماد کے ووٹ پر ہونے والی بحث کا جواب دیتے ہوئے وزیراعلیٰ سمراٹ چودھری نے واضح کیا کہ کوئی اس وہم میں نہ رہے کہ نتیش کمار کو بہار کی سیاست سے الگ کیا جا سکتا ہے۔ ان کے پاس 20 سال بطور وزیراعلیٰ اور 50 سالہ عوامی زندگی کا وسیع تجربہ ہے۔ سمراٹ چودھری نے انکشاف کیا کہ 'سمردھی یاترا‘ کے دوران نتیش کمار خود ان کی طرف اشارہ کر کے کہا کرتے تھے کہ "اب بہار کو یہی لوگ سنبھالیں گے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسٹر کمار نے وزیراعلیٰ کا عہدہ اپنی مرضی سے چھوڑا ہے، ان پر کوئی دباؤ نہیں تھا۔ انہوں نے اپنی کامیابی کا سہرا وزیراعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ، اور بی جے پی کے قومی صدر نتن نوین کے سر باندھا۔ وزیراعلیٰ نے ریاست میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت تین چیزوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گی: کرائم (جرم) ۔کرپشن (بدعنوانی)کمیونلزم (فرقہ واریت) انہوں نے نتیش کمار کے دور میں شروع کی گئی فلاحی اسکیموں، جیسے طالبات کے لیے سائیکل اسکیم اور شراب بندی، کی بھی تعریف کی اور کہا کہ این ڈی اے حکومت بہار میں 'گڈ گورننس (سُشاسن) کے تسلسل کو برقرار رکھے گی۔
بہار کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد اپنے خطاب میں ماضی کے سیاسی حقائق اور مستقبل کے عزائم کا کھل کر اظہار کیا۔ انہوں نے لالو پرساد یادو پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اپنی سیاسی جدوجہد کی داستان بیان کی۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ لالو پرساد کو بڑا لیڈر بنانے میں نتیش کمار کا اہم کردار رہا ہے۔ انہوں نے ماضی کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہاسیاسی انتقام: 1995 میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ لالو پرساد نے انہیں اور ان کے خاندان کے 22 افراد کو جھوٹے مقدمات میں پھنسایا۔ سمراٹ چودھری نے بتایا کہ انہوں نے نچلی عدالت سے سپریم کورٹ تک قانونی لڑائی لڑی اور سرخرو ہوئے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا، "اگر لالو جی نے مجھے نہ پھنسایا ہوتا، تو شاید میں سیاست میں نہ آتا اور نہ ہی آج وزیر اعلیٰ بن پاتا۔سمراٹ چودھری نے نتیش کمار کے ترقیاتی کاموں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ اس مشن کو مزید آگے بڑھائیں گے۔ انہوں نے انتظامی اصلاحات کا اعلان کرتے ہوئے کہا بلاک، تھانہ اور دیگر سرکاری دفاتر کی کارکردگی پر وہ خود نظر رکھیں گے۔ زمین سے متعلق اصلاحات کو مزید بہتر بنایا جائے گا تاکہ عوامی مسائل حل ہوں۔وزیر اعلیٰ نے بہار کے نوجوانوں اور معیشت کے لیے بڑے اہداف کا اعلان کیا حکومت 2030 تک ایک کروڑ نوجوانوں کو نوکری اور روزگار فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
ریاست میں 1 لاکھ 36 ہزار کروڑ کی سرمایہ کاری کے منصوبے نشان زد کر لیے گئے ہیں، جبکہ اگلے پانچ سالوں میں 5 لاکھ کروڑ کی سرمایہ کاری کا ہدف ہے۔تعلیم کے شعبے میں بڑی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا جولائی سے ریاست کے 208 بلاکس میں کم از کم ایک نیا ہائی اسکول قائم کرنے کا کام شروع ہوگا۔ حکومت ایسے مثالی اسکول تیار کر رہی ہے جہاں وزراء اور اعلیٰ افسران کے بچے بھی فخر سے تعلیم حاصل کر سکیں۔
وزیراعلیٰ نے اپنے خطاب میں بہار کے مستقبل کا نقشہ پیش کرتے ہوئے کہا جس کوسی ندی کو کبھی ’’بہار کا سوگ‘‘ کہا جاتا تھا، اب اس کے پانی سے 22 لاکھ ہیکٹر زمین سیراب کی جا رہی ہے۔
پورنیہ اور دربھنگہ ہوائی اڈے فعال ہو چکے ہیں، جبکہ فاربس گنج اور سہرسہ میں نئے ایئرپورٹس کی منصوبہ بندی جاری ہے۔ریاست میں 11 نئے شہر بسائے جائیں گے جن کے نام قدیم عظمت کی علامت ہوں گے۔ مثلاً:پٹنہ کے قریب پاٹلی پتر،منگیر ،بھاگلپور کے قریب وکرم شیلا،سیتامڑھی کے قریب سیتا پورم اور متھلا کے علاقے میں متھلا شہر۔ سمراٹ چودھری نے کہا کہ خواتین کی توہین کرنے والوں کو "پاتال سے بھی ڈھونڈ کر نکالا جائے گا’’۔سڑک حادثات میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کو 4 لاکھ روپے انشورنس اور 4 لاکھ روپے حکومت کی جانب سے (کل 8 لاکھ روپے) دیے جائیں گے۔قائد حزب اختلاف تیجسوی یادو نے حکومت پر طنز کرتے ہوئے کہا’’اگر حکومت میں استحکام ہے تو پانچ سال میں پانچویں بار حکومت کیوں بنی؟ عوام نے 'نتیش کو منتخب کیا تھا، لیکن اتحاد نے ایک ’’سلیکٹڈ شخص کو وزیراعلیٰ بنا دیا۔‘‘تیجسوی یادو نے مزید کہا اب لالو جی پر خاندان پرستی کا الزام نہیں لگے گا کیونکہ نئے وزیراعلیٰ کے والد، والدہ اور بھائی سب سیاست میں ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سمراٹ چودھری نے سیاست کی تعلیم ’’لالو اسکول‘‘ سے حاصل کی ہے۔سمراٹ چودھری نے تیجسوی یادو کے ریمارکس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ اپنی بہن کی عزت نہیں کر سکتے، وہ دوسروں کا کیا احترام کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر اپوزیشن ذاتی حملے کرے گی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
اس سے قبل اسمبلی کے اسپیکر ڈاکٹر پریم کمار نے ایوان میں اپنے ابتدائی خطاب میں تمام اراکین کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کا یہ اجلاس جمہوری روایات کی عظمت اور ذمہ داری کی علامت ہے، اور تمام اراکین ایک اہم آئینی عمل - "وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کی جانب سے ایوان کا اعتماد حاصل کرنے" کی تکمیل کے لیے یہاں جمع ہوئے ہیں۔ڈاکٹر کمار نے کہا کہ اراکینِ اسمبلی، قانون ساز اسمبلی صرف اکثریت کا پلیٹ فارم نہیں بلکہ خیالات، وقار اور عوامی اعتماد کا مرکز بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کا دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ اقتدار کی اصل بنیاد عوام کا اعتماد ہے اور اسی اعتماد کا اظہار اس ایوان کے ذریعے ہوتا ہے۔ یہ عمل نہ صرف حکومت کی قانونی حیثیت کو مضبوط کرتا ہے بلکہ جمہوریت کی روح کو بھی زندہ رکھتا ہے۔
بہار اسمبلی کے اسپیکر نے کہا کہ اختلافِ رائے جمہوریت کی طاقت ہے، لیکن وقار اس کی پہچان ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ تمام اراکین سے توقع کرتے ہیں کہ وہ اس موقع پر مکمل شائستگی کے ساتھ اس مباحثے میں حصہ لیں گے۔ بامقصد اور باوقار بحث ہی اس ایوان کی روایت رہی ہے۔
مسٹر کمار نے یقین ظاہر کیا کہ یہ پارلیمانی عمل شفافیت، پاکیزگی اور آئین کے تئیں وفاداری کو مزید مضبوط کرے گا اور جمہوری اقدار کو مستحکم بنائے گا۔
شیئر کریں:

More from بہار

94 لاکھ 71 ہزار افراد کی خون کی کمی کی جانچ، 18 لاکھ سے زائد میں انیمیا کی تصدیق
بہار

94 لاکھ 71 ہزار افراد کی خون کی کمی کی جانچ، 18 لاکھ سے زائد میں انیمیا کی تصدیق

29 ستمبر، 2026
اننت سنگھ و نیرج کمار کا تنازع اعلیٰ قیادت تک پہنچا
بہار

اننت سنگھ و نیرج کمار کا تنازع اعلیٰ قیادت تک پہنچا

29 ستمبر، 2026
حکام کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل کیا جائے گا، شہریوں کو ڈیجیٹل کاپیاں ملیں گی: ڈاکٹر دلیپ جیسوال
بہار

حکام کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل کیا جائے گا، شہریوں کو ڈیجیٹل کاپیاں ملیں گی: ڈاکٹر دلیپ جیسوال

29 ستمبر، 2026
بچوں کی مضبوط بنیاد سے ہی مضبوط ہوگا بہار: سمراٹ چودھری
بہار

بچوں کی مضبوط بنیاد سے ہی مضبوط ہوگا بہار: سمراٹ چودھری

29 ستمبر، 2026
17 برسوں سے خدمات انجام دے رہے تعلیم سیوک سڑک پر، گردنی باغ میں سات روزہ دھرنا
بہار

17 برسوں سے خدمات انجام دے رہے تعلیم سیوک سڑک پر، گردنی باغ میں سات روزہ دھرنا

29 ستمبر، 2026
اے ڈی ایم سپلائی و اہلیہ کے کئی بینک کھاتے سیل ہوں گے
بہار

اے ڈی ایم سپلائی و اہلیہ کے کئی بینک کھاتے سیل ہوں گے

29 ستمبر، 2026