بات میں سچائی اور دلیل ہو تو ہنگامہ کھڑا کرنے کی ضرورت نہیں : نریندر مودی
Awaz E Bihar••19 ویوز•5 منٹ پڑھیں
وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اپوزیشن اور اقتدار میں شامل دونوں طرف کے اراکینِ پارلیمنٹ سے پارلیمنٹ میں مل جل کر ملک کے مفاد میں کام کرنے کی اپیل کرتے ہوئے پیر کو کہا کہ مسائل میں دم ہو اوردلیل پرمبنی بات ہو تو پرامن طریقے سے اٹھائی گئی مانگ بھی ایک بلند آواز بن سکتی ہے۔مسٹر مودی نے پیر کو مانسون سیشن کے پہلے دن کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے میڈیا کے سامنے روایتی خطاب میں کہا کہ ہندوستان امیدوں سے بھرے ہوئے نوجوانوں کا ملک ہے اور نوجوان چاہتے ہیں کہ ہم آگے بڑھیں۔ انہوں نے قوم کی آواز کو پارلیمنٹ میں جگہ دیے جانے اور ملک کو سمت دکھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مدلل بات کے لیے طوفان کھڑا کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں انتہائی تجربہ کار اراکین کی موجودگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا، "ایسپریشن (امیدوں) سے بھرے ہوئے ملک کے نوجوانوں کا مطالبہ ہے کہ ہم آگے بڑھیں۔ آج وقت کا تقاضا ہے کہ ملک کے تئیں وفاداری سے بھرے ہوئے، حب الوطنی کے لیے جی رہے (لوگوں کی) آواز کو ایوان میں مناسب پلیٹ فارم ملتا رہے۔ وہ (اراکین) اپنی آواز کو بلند کریں، ملک کو سمت دیں، اور اس لیے میں امید کرتا ہوں، اور مجھے پختہ یقین ہے، جہاں حقائق ہوتے ہیں، جہاں دلیلیں ہوتی ہیں، وہاں طوفان کے لیے جگہ نہیں ہوتی۔ اگر دلیل مضبوط ہے، حقیقت مضبوط ہے، تو پرسکون دل سے بھی اپنی آواز کو بلند بنایا جا سکتا ہے۔" مسٹر مودی نے کہا کہ پارلیمنٹ میں بہت سے تجربہ کار اراکینِ پارلیمنٹ بھی ہیں، ان کا تعلق خواہ کسی بھی پارٹی سے ہو، لیکن ان کے پاس ایک طویل تجربہ ہے۔ ایسے وقت میں ان کے تجربے اور ان کے علم کی پارلیمنٹ کو بھی ضرورت ہے، ملک کو بھی ضرورت ہے۔ اور اس کے لیے پارلیمنٹ کا چلنا، بامقصد بحث ہونا، مل جل کر ملک کو آگے لے جانے کا عزم کرنا، یہ میں سمجھتا ہوں کہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔" وزیرِ اعظم نے اپنے خطاب میں مختلف خطوں میں جنگوں اور کشیدگی کے باعث دنیا کی تشویش کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ایشیا کی جنگ کی وجہ سے تیل اور گیس کی ضرورتوں کے لیے درآمدات پر منحصر ہندوستان جیسے ملک کے لیے بڑا بحران پیدا ہوا۔ پیٹرول، ڈیزل، ایل پی جی، فرٹیلائزر اور کیمیکلز کی سپلائی میں کئی رکاوٹیں آئیں۔ اس کے باوجود ہندوستان 7.7 فیصد کی شرح سے اقتصادی ترقی درج کر کے دنیا کی سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی بڑی معیشت بنا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک جوش اور ولولے کے ساتھ نئی بلندیوں کو پار کرنا چاہتا ہے۔ ملک نے رفتار پکڑ لی ہے اور پارلیمنٹ کا مثبت ماحول اس اسپیڈ (رفتار) میں نئی توانائی بھر سکتا ہے۔ مثبت جذبہ ملک کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے۔ مسٹر مودی نے کہا، "میں امید کرتا ہوں کہ مدلل اور حقیقت کے ساتھ ایوان کی بحث کو مالامال کیا جائے۔ ہر آواز کو موقع ملے، ہر نظریے کو احترام ملے، یہ پارلیمنٹ میں ہمارا کردار ہے۔ میں تمام اراکینِ پارلیمنٹ کو بڑھ چڑھ کر اس ایوان کی کارروائی میں حصہ لینے کی دعوت دیتا ہوں۔" وزیرِ اعظم نے مانسون سیشن کے پہلے دن اراکینِ پارلیمنٹ کا خیرمقدم کرنے کے لیے صبح لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کی طرف سے سوشل میڈیا پر کہے گئے الفاظ کے ساتھ اپنی آواز ملائی۔ انہوں نے مانسون کی طرح پارلیمنٹ کا مانسون سیشن بھی سرگرم اور نتیجہ خیز رہنے کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ہی سرگرم ہوں گے تو ملک کا بھلا ہوگا۔ انہوں نے گزشتہ ایک ماہ میں حاصل کی گئی غیر معمولی قومی اور بین الاقوامی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے ملک کے بڑھتے ہوئے عالمی وقار پر گہرے فخر کا اظہار کیا۔ انہوں نے گزشتہ سال کے سیشن سے ٹھیک پہلے ایک ہندوستانی شہری کے انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن تک پہنچنے کے واقعے کو یاد کرتے ہوئے پرائیویٹ اسپیس اسٹارٹ اپ 'اسکائی روٹ' کی حالیہ تاریخی کامیابی کی ستائش کی۔ انہوں نے صرف 28 سال کی اوسط عمر والی ایک ٹیم کے ذریعے ملک کو پرائیویٹ خلائی تحقیق کے ایک نئے دور میں کامیابی کے ساتھ آگے بڑھانے کے ناقابلِ یقین حقیقت کی تعریف کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ یہ کامیابیاں قومی اعتماد کو بہت بڑھاتی ہیں۔ مسٹر مودی نے کہا، "ہمارے نوجوانوں کے ذریعے چلائے جانے والے ان اسٹارٹ اپس نے خلا میں ہندوستان کا پرچم مضبوطی سے نصب کیا ہے جس سے ہمارے ملک کا عکس عالمی سطح پر واضح ہو گیا ہے۔"مسٹر مودی نے حال ہی میں حاصل کی گئی ان تکنیکی کامیابیوں کو قوم کی لامحدود صلاحیت کا اشارہ قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ موجودہ نسل کی صلاحیتیں مکمل طور پر لامحدود ہیں۔ انہوں نے ان تاریخی کامیابیوں کو پورے ملک کے لیے باعث تحریک بتایا۔ انہوں نے کہا، "یہ ایک مضبوط پیغام ہے کہ ہمارے نوجوانوں کی صلاحیت اور خواہشات خلا کی طرح ہی لامحدود ہیں۔" وزیرِ اعظم نے ان غیر معمولی کاروباری کامیابیوں کی بنیادی وجوہات کا پتہ لگاتے ہوئے سرکار کی تیز رفتار اور انقلابی پالیسی تبدیلیوں کو اس کا کریڈٹ دیا۔ مسٹر مودی نے کہا، "ملک نے آج اصلاحات کی جس راہ پر تیزی سے قدم بڑھایا ہے، اسی کا نتیجہ ہے کہ ہمارے نوجوان اتنا حوصلہ دکھا پا رہے ہیں اور کامیاب ہو رہے ہیں۔" انہوں نے بنیادی ڈھانچے اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہونے والے کئی آغاز کی تفصیلات بتاتے ہوئے راجستھان میں حال ہی میں شروع ہونے والی ایک بڑی آئل ریفائنری، ملک کے تیسرے سیمی کنڈکٹر پلانٹ اور دنیا کی سب سے لمبی اور سب سے طاقتور گرین ہائیڈروجن ٹرین کے آغاز کا ذکر کیا۔ انہوں نے ان جدید ترین قومی اثاثوں کا کریڈٹ ملک کے باصلاحیت سائنسدانوں، انجینئروں اور کارکنوں کی مجموعی لگن اور انتھک محنت کو دیا۔