جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
پچھلے سات سالوں میں 36 ممالک سے واپس لائے گئے 274 مفرور مجرم
  1. ہوم
  2. سیاست
سیاست

پچھلے سات سالوں میں 36 ممالک سے واپس لائے گئے 274 مفرور مجرم

Awaz E Bihar•4 اگست، 2026 کو 03:59 PM•4 ویوز•6 منٹ پڑھیں

مفرور مجرموں کے خلاف حکومت کے سخت موقف کے باعث 2019 سے اب تک 36 ممالک سے 274 مفرور مجرموں کو ہندوستان واپس لایا گیا ہے جن میں ممبئی حملوں کے ملزم تہور حسین رانا کی امریکہ سے حوالگی بھی شامل ہے۔
وزارت داخلہ نے منگل کے روز بتایا کہ مفرور معاشی مجرموں سے متعلق قانون نافذ ہونے کے بعد ملک میں مفرور مجرموں کے خلاف مربوط، انٹیلی جنس پر مبنی اور ٹیکنالوجی سے لیس ماڈل تیار کیا گیا ہے جس سے مفرورافراد کے خلاف سختی برتتے ہوئے انہیں واپس لانے کا راستہ صاف ہوا ہے۔ واپس لائے گئے مفرورافراد میں دہشت گرد، گینگسٹر، معاشی مجرم، نارکوٹکس ملزمان، قتل، عصمت دری اور پوکسو کیسز کے مطلوب افراد شامل ہیں۔ مفرورمجرموں کو واپس لانے کی یہ مہم دہشت گردی، خالصتان حامی انتہا پسندی، گینگسٹر-ٹیریر کنورجنس، نارکوٹکس، سائبر دھوکہ دہی اور جعلی کرنسی تک پھیلی ہوئی ہے۔ تہور حسین رانا کی امریکہ سے حوالگی ہندوستان کے عزم اور پیچیدہ دہشت گردی کے معاملات میں صبر و تحمل کے ساتھ کی گئی قانونی و سفارتی کوششوں کی بڑی مثال ہے۔ جموں و کشمیر سے جڑے معاملات میں بیرون ملک بیٹھے مفرورمجرموں کا استعمال دہشت گردی، نارکو-دہشت گردی اور سرحد پار سے حمایت یافتہ نیٹ ورک چلانے میں ہو رہا تھا۔ اسی سال جنوری میں انٹیلی جنس بیورو کے ملٹی ایجنسی سینٹر کے تحت اسٹینڈنگ فوکس گروپ کا قیام بھی ایک اہم ادارہ جاتی قدم ہے۔وزارت کے مطابق سال 2014 سے پہلے حوالگی سے متعلق قوانین پرانے ہو چکے تھے اور صرف 37 ممالک کے ساتھ ہندوستان کے حوالگی کے معاہدے تھے۔ معاشی مفرورمجرموں کو پکڑنے اور ان کی جائیداد ضبط کرنے کے لیے کوئی الگ قانون نہیں تھا ۔ سال 2004 سے 2013 کے درمیان ہر سال اوسطاً صرف چار مفرورمجرموں کی حوالگی ہوتی تھی جبکہ 110 درخواستیں التوا میں تھیں۔ اس کے علاوہ، نامکمل دستاویزات اور سست کارروائی کی وجہ سے حوالگی کا طریقہ کار بہت پیچیدہ تھا اور غیر ملکی عدالتیں بھی حوالگی کی اجازت نہیں دیتی تھیں۔ ساتھ ہی قانونی اور عدالتی رکاوٹوں جیسے، دوہرے استغاثہ سے بچاؤ اور دوہرے جرم کے اصول کی وجہ سے ہندوستان کی تحویل کی درخواستیں منسوخ ہو جاتی تھیں۔ وزارت داخلہ اور دیگر شعبوں میں ہم آہنگی اور مربوط حکمت عملی کا فقدان تھا جس سے مفرورافراد کی معلومات شیئر کرنا، لوکیشن ٹریکنگ، ریڈ کارنر نوٹس جاری کرنے جیسے کام سست رفتاری سے ہوتے تھے۔
وزارت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ مفرورافراد کو واپس لانے کے حوالے سے پہلے کی حکومتوں میں سیاسی ارادے کا فقدان تھا جبکہ مودی حکومت نے مفرورافراد کی حوالگی کو 'قومی ترجیح' بنایا۔ حکومت نے مفرورافراد کے خلاف تین باتوں یعنی عالمی مہم، مضبوط ہم آہنگی اور اسمارٹ سفارت کاری پر خصوصی زور دیا اور مفرور مجرموں کے مسئلے کو ملک کی خودمختاری، معاشی استحکام، امن و امان اور قومی سلامتی سے جوڑا ہے۔
حکومت 2019 میں نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی ترمیمی ایکٹ اور یو اے پی اے ترمیمی ایکٹ لے کر آئی اور 2020 کے بعد مفرورافراد کو ہندوستان واپس لانے کے عمل کو 'مشن موڈ' میں آگے بڑھایا گیا۔ اس سے کارروائی صرف تنظیموں تک محدود نہیں رہی بلکہ انفرادی دہشت گردوں، ہینڈلرز، فنڈنگ نیٹ ورک اور بیرون ملک بیٹھے سپورٹ سسٹم تک کارروائی کا دائرہ بڑھا۔ سال 2024 میں حکومت نے تین نئے فوجداری قوانین کو نافذ کیا جن میں مفرورافراد سے متعلق خصوصی دفعات رکھی گئیں۔ پہلی بار، بھارتیہ نیاۓ سنہیتا کی دفعہ 355 اور 356 میں 'عدم موجودگی میں مقدمے' کا التزام رکھا گیا جس سے مفرور مجرموں کی عدم موجودگی میں بھی مقدمے سے لے کر استغاثہ تک کا پورا طریقہ کار مکمل کیا جا سکے گا۔ سال 2022 میں ہندوستان نے 90 ویں انٹرپول جنرل اسمبلی کی میزبانی کی، جس میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے عالمی پولیسنگ میں "رابطے، ہم آہنگی اور تعاون" کا پیغام دیا۔ ہندوستان اور عالمی ایجنسیوں کے درمیان ہم آہنگی، رابطہ اور بات چیت کو بڑھانے کے لیے مسٹر شاہ کے ذریعہ جنوری 2025 میں ملک کی تمام قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کو انٹرپول سے جوڑنے کے لیے 'بھارت پول' کا آغاز کیا گیا۔ بھارت پول نے سی بی آئی، ریاستی پولیس ہیڈکوارٹرز اور ضلع پولیس ہیڈکوارٹرز کو مربوط کر کے ایک جامع مواصلاتی بنیادی نیٹ ورک قائم کیا۔ اس کی وجہ سے، سی بی آئی اور دیگر قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے درمیان معلومات کے تبادلے کے وقت میں زبردست کمی آئی ہے۔ اب یہ معلومات 10 سے 20 دنوں میں اور کچھ معاملات میں محض 3 سے 10 دنوں میں شیئر کر دی جاتی ہیں۔
حکومت نے منی لانڈرنگ کے خلاف قانون کو سختی سے نافذ کیا ہے۔ اس کے سختی سے نافذ ہونے سے سال 2019 سے 2026 تک مفرورافراد کی کل 17,874 کروڑ روپے کی جائیداد ضبط کی گئی۔ سال 2019 سے 2026 تک 18,762 کروڑ روپے کی کامیاب واپسی کی گئی، اس میں ملک چھوڑ کر بھاگے معاشی مجرموں کا پیسہ بھی شامل ہے۔ سی بی آئی نے بین الاقوامی سطح پر مفرورافراد کو پکڑنے کے لیے خصوصی عالمی آپریشنل سینٹر قائم کیے ہیں۔ یہ سینٹر انٹرپول کے ذریعے دنیا بھر کی پولیس سے حقیقی وقت میں رابطہ کرتا ہے۔ معلومات کے تیز رفتار تبادلے کے لیے ہر ریاست اور مرکزی تحقیقاتی ایجنسی میں سی بی آئی نے انٹرپول رابطہ افسر مقرر کیے ہیں۔ انٹرپول کے ذریعے ریڈ کارنر نوٹس جاری کرنے کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ سال 2022 میں 40، 2023 میں 100، 2024 میں 107، 2025 میں 112، اور 2026 میں اب تک 182 ریڈ کارنر نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ مفرورافراد کی جیو لوکیشن ٹریک کرنے کے لیے آپریشن ترشول چلایا گیا۔ اس کے تحت انٹرپول کے تعاون سے چھپے ہوئے مجرموں کی سیٹلائٹ، سرویلنس، ڈیجیٹل فٹ پرنٹ کی بنیاد پر لوکیشن کا پتہ لگایا گیا۔ مفرورافراد کے ذریعہ بیرون ملک نام یا شناخت بدل لی گئی تھی لیکن پھر بھی ٹیکنالوجی اور پروفائل میپنگ کے ذریعے انہیں تلاش کر لیا گیا۔ تحویل کے عمل کو تیز کرنے کے لیے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے مقدمات کی سماعت جیسی ٹیکنالوجیز کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ پچھلے تین سالوں میں 401 مفرور مجرموں کے خلاف ریڈ کارنر نوٹس جاری کیے گئے۔
شیئر کریں:

More from سیاست

ہندوستان میں دہشت گردی کو برداشت نہیں کیا جائے گا:مودی
سیاست

ہندوستان میں دہشت گردی کو برداشت نہیں کیا جائے گا:مودی

27 ستمبر، 2026
ووٹ چوری سے آئین و جمہوریت ختم ہو رہی ہے: راہل گاندھی
سیاست

ووٹ چوری سے آئین و جمہوریت ختم ہو رہی ہے: راہل گاندھی

24 ستمبر، 2026
جموں و کشمیر اسمبلی میں ہنگامہ، پہلے ہی دن بی جے پی ارکان کا احتجاج
سیاست

جموں و کشمیر اسمبلی میں ہنگامہ، پہلے ہی دن بی جے پی ارکان کا احتجاج

21 ستمبر، 2026
ترقی یافتہ ہندوستان کے سفر کے مرکز میں ہے ملک کی نوجوان طاقت: مودی
سیاست

ترقی یافتہ ہندوستان کے سفر کے مرکز میں ہے ملک کی نوجوان طاقت: مودی

19 ستمبر، 2026
رمیش نے شی جن پنگ سے ملاقات کے بعد مودی کی چین پالیسی پر سوال اٹھائے، سرحد، آپریشن سندور اور معاشی انحصار کا معاملہ اٹھایا
سیاست

رمیش نے شی جن پنگ سے ملاقات کے بعد مودی کی چین پالیسی پر سوال اٹھائے، سرحد، آپریشن سندور اور معاشی انحصار کا معاملہ اٹھایا

13 ستمبر، 2026
’بچوں کی زندگی میں داخل ہونا ہوگا‘، یوم اساتذہ پر وزیراعظم نریندر مودی کی اساتذہ سے اپیل
سیاست

’بچوں کی زندگی میں داخل ہونا ہوگا‘، یوم اساتذہ پر وزیراعظم نریندر مودی کی اساتذہ سے اپیل

5 ستمبر، 2026