ہندوستانی علمی نظام کو مذہب اور طریقۂ عبادت سے جوڑ کر نہیں، وسیع علمی و فکری تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے: پروفیسر سروج شرما
Awaz E Bihar••36 ویوز•6 منٹ پڑھیں
رانچی یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں ’’ہندوستانی علمی نظام میں اردو ادب کا کردار اور خدمات کے موضوع پر یونیورسٹی سطح کے سیمینار کا انعقاد
۔ رانچی یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کی جانب سے ’’ہندوستانی علمی نظام میں اردو ادب کا کردار اور خدمات‘ کے موضوع پر یونیورسٹی سطح کے سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ پروگرام کی صدارت شعبۂ اردو کے صدر ڈاکٹر محمد رضوان علی نے کی۔ سیمینار کی سرپرست اور یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر سروج شرما کا خطاب نہایت جامع، فکر انگیز اور عملی نوعیت کا حامل تھا۔ وائس چانسلر پروفیسر سروج شرما نے کہا کہ آج زبان، مذہب، رنگ اور معاشرے کو محدود دائروں میں تقسیم کر دیا گیا ہے، جبکہ ہندوستانی علمی نظام بند دروازوں کو کھولنے اور انسان کو وسیع تر انسانی شعور اور فطرت کے قریب لے جانے والی روایت ہے۔ اسے صرف ویدک ادب تک محدود کرکے نہیں دیکھا جانا چاہیے، بلکہ ویدانت، اپنشد، بدھ مت کے ادب، صوفی فکر اور ہندوستانی فلسفے کی مختلف روایتوں کو بھی اس کے وسیع تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ البیرونی اور دارا شکوہ جیسے دانش وروں کے ادب کو نئے ماحول اور نئی فکر کے ساتھ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ دارا شکوہ نے ہندوستانی فلسفے کو سمجھنے اور اس کے تراجم کے ذریعے ہندوستانی اور اسلامی علمی و فکری روایتوں کے درمیان ایک اہم پل کا کام کیا۔پروفیسر سروج شرما نے ہندوستان کے قدیم بین الاقوامی روابط کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پانچویں اور چھٹی صدی سے ہی ہندوستان کے مختلف تہذیبوں اور خطوں کے ساتھ علم اور تجارت کے تبادلے کے روابط قائم رہے ہیں۔ اس سے علمی روایت کو وسعت ملی اور مختلف زبانوں کے باہمی تعلقات مضبوط ہوئے۔ انہوں نے ریاضی، الجبرا اور فلکیات وغیرہ کے شعبوں میں ہندوستانی علمی روایت کے اہم کردار کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ کبیر، صوفی اور بھکتی روایت کے شعرا، رحیم اور رسخان نے ہندوستانی معاشرے کے مشترکہ تہذیبی شعور کو مالا مال کیا۔ ان تخلیق کاروں کے ادب میں انسانیت، محبت اور وحدانیت کا وسیع پیغام نظر آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادب اور شاعری کے اعتبار سے انہیں اردو اور بنگلہ دونوں زبانیں بے حد پسند ہیں۔ وائس چانسلر نے نوآبادیاتی نظامِ تعلیم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ میکالے کے نظامِ تعلیم نے ہندوستانی معاشرے کو اس کی اپنی علمی روایت سے دور کرنے کا کام کیا۔ اس کے برعکس ہندوستانی تعلیمی نظام میں علم کو زندگی، فطرت اور معاشرے سے مربوط کرکے دیکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی مختلف مذہبی اور تہذیبی روایتوں کے باوجود یہاں کے لوگوں کی خوبصورت مشترکہ تاریخی اور تہذیبی میراث ہے۔ تحریکِ آزادی بھی اسی مشترکہ شعور کا نتیجہ تھی، جس میں مختلف طبقات اور برادریوں کے لوگوں نے مل کر جدوجہد کی۔انہوں نے موجودہ صورتِ حال کے تناظر میں کہا کہ آج کارپوریٹ کلچر اور برانڈیڈ صارفیت کے ذریعے بھی ثقافتی انحصار پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔ ہندوستان کی شناخت اس کی گنگا جمنی تہذیب اور کثرت پسند ثقافتی شعور میں مضمر ہے۔ پروفیسر سروج شرما نے خصوصی طور پر کہا کہ ہندوستانی علمی روایت کو کسی ایک مذہب یا طریقۂ عبادت کے ساتھ جوڑ کر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ اس موضوع پر سنجیدہ اور سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔ انہوں نے گنگا کے پانی کی تقدس، ورت، روزہ اور نماز جیسی روایتوں کے سماجی، جسمانی اور روحانی پہلوؤں پر بھی غور کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں فکری شعور کو فروغ دیتے ہوئے ہندوستانی علمی روایت کو نئے مباحث اور تحقیق کے ذریعے مزید مالا مال کیا جانا چاہیے۔ سیمینار کے دوران اردو ادب کی دو اہم کتابوں کی رسمِ رونمائی بھی انجام دی گئی۔ سکندر احمد کے انتقال کے بعد ان کی اہلیہ روغلا سکندر کی مرتب کردہ کتاب ’’نئے تنقیدی زاویے‘‘ اور شکیل قمر کی غزلوں کے مجموعے ’’وقتِ سفر‘‘ کی رسمِ رونمائی رانچی یونیورسٹی کی وائس چانسلر اور سیمینار کی سرپرست پروفیسر سروج شرما اور مہمانِ خصوصی پروفیسر ارتضیٰ کریم کے دستِ مبارک سے انجام پائی۔اس موقع پر دونوں کتابوں کو اردو ادب کی معاصر تنقید اور شعری روایت کے اعتبار سے اہم تصانیف قرار دیتے ہوئے ان کی اشاعت کو ادبی دنیا کے لیے ایک قابلِ ذکر پیش رفت قرار دیا گیا۔ ’’نئے تنقیدی زاویے‘‘ کو سکندر احمد کی ادبی اور تنقیدی میراث کو محفوظ رکھنے اور آگے بڑھانے کی ایک اہم کوشش قرار دیا گیا، جبکہ ’’وقتِ سفر‘‘ کو شکیل قمر کی غزلوں کا ایک اہم مجموعہ بتایا گیا۔ پروفیسر ارتضیٰ کریم نے اردو ادب کو ہندوستانی علمی روایت کا لازمی حصہ قرار دیاقومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی کے سابق ڈائریکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم نے کہا کہ کبیر، رسخان، امیر خسرو اور نظیر اکبرآبادی سمیت متعدد شعرا و ادبا کا ادب ہندوستانی علمی روایت سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہندوستانی علمی روایت‘‘ کا مباحثہ اگرچہ موجودہ دور میں خاص طور پر سامنے آیا ہے، لیکن ان تخلیق کاروں نے صدیوں قبل ہی مذہبی رواداری، انسانی اتحاد اور تہذیبی ہم آہنگی کی بات کہہ دی تھی۔
ڈاکٹر محمد رضوان علی نے ہندوستانی فلسفیانہ روایتوں کو اردو ادب سے مربوط کیا۔ سیمینار کی صدارت کرتے ہوئے شعبۂ اردو کے صدر ڈاکٹر محمد رضوان علی نے وید، ویدانت، اپنشد، قبائلی فلسفہ، ویدک ادب اور بدھ مت کے ادب کی مختلف علمی روایتوں کا جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے ہندوستانی فلسفے کی مختلف روایتوں کو صوفی فکر سے مربوط کرتے ہوئے سوامی وویکانند کے ’’پران‘‘ کے تصور اور مرزا غالب کی شاعری کے حوالے پیش کیے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی علمی روایت کی سب سے بڑی خصوصیت اس کی وسعت، ہم آہنگی اور مکالماتی مزاج ہے۔
اس موقع پر شعبۂ اردو کے سابق صدر ڈاکٹر منظر حسین نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے ہندوستانی علمی روایت کے مختلف پہلوؤں اور اردو ادب کی گراں قدر میراث پر روشنی ڈالی۔
سیمینار میں شعبۂ ریاضی کے صدر ڈاکٹر ابرار احمد، شعبۂ سنسکرت کے انچارج ڈاکٹر شری پرکاش سنگھ، بھارتی دویدی، ڈاکٹر گوتم مکھرجی، ڈاکٹر رنجن لاہا، ڈاکٹر ہیرانند پرساد، انجینئر عزیر احمد، ڈاکٹر بھگت، ڈاکٹر روی بھوشن، ڈاکٹر ارشد اسلم، ڈاکٹر شکیل احمد، ڈاکٹر شکیل خان،ڈاکٹر غالب نشتر،ڈاکٹر افسانہ خاتون،،عبدالباسط۔ڈاکٹر افسانہ خاتو۔ڈاکٹر ڈاکٹر آرزو پروین، پروفیسر منظور، شکیل قمر، ڈاکٹر افسانہ پروین سمیت یونیورسٹی کے متعدد اساتذہ، ریسرچ اسکالرز اور طلبہ نے شرکت کی۔
پروگرام میں ڈاکٹر اعجاز احمد نے موضوع کا تعارف پیش کیا، جبکہ ڈاکٹر ارشد اسلم نے کلماتِ تشکر پیش کیے۔
پروگرام کا مقصد ہندوستانی علمی روایت کے وسیع تر مفہوم کو اجاگر کرتے ہوئے اردو ادب کے ہمہ جہت کردار اور خدمات کو علمی و فکری مباحثے کا حصہ بنانا تھا۔ سیمینار میں مقررین نے اس امر پر خصوصی زور دیا کہ اردو ادب کو محض ایک زبان یا ادبی روایت کے طور پر نہیں، بلکہ ہندوستانی معاشرے کی مشترکہ تہذیبی، علمی اور فکری میراث کی ایک اہم دستاویز کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔