بحرین و کویت میں موجود امریکی ٹھکانوں پر ایران کی شدید بمباری
Awaz E Bihar••1 ویوز•6 منٹ پڑھیں
ایران کی اسلامک ریولوشنری گارڈز کور (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے 'آپریشن نصر-2' کے پانچویں مرحلے کے تحت بدھ کو بحرین میں واقع امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کے ٹھکانے پر حملہ کر کے فوجی ساز و سامان کے بڑے ذخیرے اور ایندھن کے ٹینکوں کو تباہ کر دیا ہے۔مہر نیوز ایجنسی کے مطابق، آئی آر جی سی نے ایک بیان میں کہا کہ حملے میں امریکی قومی سلامتی ایجنسی (این ایس اے) کے انتظامی مرکز، کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر، فوجی ساز و سامان اور پرزوں کے بڑے گوداموں اور امریکی بیڑے کے ایندھن ذخیرہ کرنے والے ٹینکوں کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان میں امریکہ پر بحر ہند میں "سمندری قزاقوں" کو تعینات کر کے آبنائے ہرمز کی حفاظت کے نام پر سمندری تجارتی راستوں کو مسدود کرنے اور خطے سے تیل و گیس کی سپلائی معطل کرنے کا الزام لگایا گیا۔آئی آر جی سی نے کہا کہ امریکہ کو یہ جان لینا چاہیے کہ اس کے سمندری قزاقوں نے بحر ہند سے دنیا کے لیے تیل اور گیس کی برآمدات کا راستہ بند کر دیا ہے، جس سے امریکہ کے اقتصادی حریفوں کے مفادات خطرے میں پڑ گئے ہیں۔ ایسے میں اسے یہ بھی توقع رکھنی چاہیے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کے مفادات کو پورا کرنے والے دیگر تیل اور گیس کی برآمدی راستے بھی بند کیے جا سکتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ خطے سے تیل اور گیس کی برآمد یا تو سب کے لیے ہوگی یا پھر کسی کے لیے بھی نہیں۔ اس سے قبل، آئی آر جی سی نے منگل کی شام امریکہ کے تازہ حملوں کے جواب میں بحرین اور کویت میں واقع امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ آئی آر جی سی نے ایک بیان میں کہا کہ بحریہ اور ایرواسپیس یونٹوں نے "یا زین العابدین" کوڈ نام سے مربوط مہم چلائی۔ بیان کے مطابق، بحرین کے شیخ عیسیٰ ایئر بیس پر امریکی بحری جہازوں اور طیاروں کے لیے ہتھیار اور پرزے رکھنے والے کئی گودام تباہ کر دیے گئے۔آئی آر جی سی نے دعویٰ کیا کہ کویت کے علی السالم ایئر بیس پر ایم کیو-9 ڈرون تعیناتی ریمپ کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس سے کئی ڈرون تباہ یا ناکارہ ہو گئے۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی کل دوپہر ایران کے کئی ساحلی فوجی اڈوں پر امریکی حملوں کے جواب میں کی گئی۔آئی آر جی سی نے انتباہ دیا کہ جب تک امریکہ کے "جرائم" جاری رہیں گے، تب تک جوابی کارروائی بھی جاری رہے گی اور مستقبل میں کسی بھی حملے کا "غیر متوقع جواب" دیا جائے گا۔ ایران نے یہ بھی کہا کہ خطے میں امریکی مداخلت جاری رہنے تک یہاں سے تیل اور گیس کی برآمد ممکن نہیں ہوگی اور اس سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے عمل میں مزید تاخیر ہوگی۔ پاسداران انقلاب نے بدھ کی علی الصبح دعویٰ کیا کہ انھوں نے کویت کے علاقے مینا عبداللہ میں امریکی فوج کے ایک لاجسٹک اور سپورٹ سینٹر کو نشانہ بنایا، آئی آر جی سی نے کہا امریکی لاجسٹکس مرکز کو نصر 2 آپریشن کی چوتھی لہر میں نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ ویڈیو میں نظر آنے والی جلتی ہوئی عمارت کا امریکی فوج سے کوئی تعلق تھا یا نہیں۔ سی این این نے اس دعوے پر امریکی سینٹرل کمانڈ سے مؤقف طلب کیا ہے۔ سی این این کی جانب سے اس ویڈیو کی جغرافیائی طور پر تصدیق کر دی گئی ہے، جس میں کویت کے مینا عبداللہ کے قریب ایک صنعتی علاقے میں پہلے سے جلتے ہوئے ایک گودام پر ایرانی ڈرون نے حملہ کیا، ویڈیو میں آسمان پر ایک ایسا ڈرون دکھائی دیتا ہے جو شاہد ڈرون سے مشابہ ہے۔ ڈرون جلتے ہوئے گودام کی جانب بڑھتا ہے، اس سے ٹکراتا ہے اور اس کے بعد ایک بڑا دھماکہ ہوتا ہے۔ ویڈیو میں حملے سے پہلے تک وہ مخصوص آواز بھی سنائی دیتی ہے جو عموماً شاہد ڈرون سے منسوب کی جاتی ہے۔ ویڈیو کے مطابق دھماکے کے وقت امدادی عملہ پہلے سے لگی آگ بجھانے کی کوشش کر رہا تھا۔ اردن میں ایف 18 طیاروں کے ٹھکانوں پر حملہ دوسری طرف ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے اِرنا کے مطابق، ایران کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اردن میں واقع الازرق ایئر بیس پر موجود امریکی فوجی اثاثوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ارنا کے مطابق ایرانی حملہ آور ڈرونز نے آپریشن صاعقہ کے آٹھویں مرحلے میں اس مقام پر حملہ کیا جہاں ایف-18 لڑاکا طیارے موجود تھے، ساتھ ہی رہائشی عمارت اور ایک بڑے آلات کے ہینگر کو بھی نشانہ بنایا، جس کے بارے میں ارنا کا کہنا ہے کہ وہ امریکی فوج کے زیرِ استعمال تھا۔ تاہم سی این این کا کہنا ہے کہ ایف-18 لڑاکا طیارے عموماً طیارہ بردار بحری جہازوں پر تعینات ہوتے ہیں، نہ کہ مشرقِ وسطیٰ کے زمینی فوجی اڈوں پر۔ ایران کی فوج اور سرکاری میڈیا اس سے قبل بھی امریکی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنانے کے کئی دعوے کر چکے ہیں، جن میں سے متعدد بعد میں غلط ثابت ہوئے۔ ایران گزشتہ ہفتے بھی الازرق ایئر بیس کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کر چکا ہے، جہاں اس نے ایف-35 طیاروں کے ہینگر تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ امریکی مفادات پر ایران کے یہ تازہ حملے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں پر اپنی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی ہے۔ دوسری جانب امریکی حکام نے بتایا ہے کہ امریکی افواج کویت کو ایران کے مسلسل جوابی حملوں سے بچانے میں مدد دے رہی ہیں۔ اس مقصد کے لیے امریکہ نے اپنے محدود ذخیرے میں موجود پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام بھی استعمال کیا۔ ادھر کویت کی وزارتِ دفاع کے مطابق ایرانی حملے میں کویتی بحریہ کے ایک جہاز پر حملہ ہوا، جس میں مسلح افواج کے 4 اہلکار زخمی ہوئے۔ ایران نے منگل کو بحرین پر بھی متعدد حملے کیے، جس کے باعث کئی مرتبہ سائرن بجائے گئے۔ نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس نیوز کے مطابق ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ بحرین میں امریکی بغیر پائلٹ کشتیوں کے کنٹرول سینٹر کو تباہ کر دیا گیا ہے۔