ایران کی امریکا کیساتھ براہِ راست مذاکرات کی تردید
Awaz E Bihar••6 ویوز•3 منٹ پڑھیں
ایران نے امریکا کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کی تردید کر دی۔ اس حوالے سے ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ کوئی براہِ راست بات چیت نہیں ہوئی، پیغامات ثالثوں کے ذریعے پہنچائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو بھیجی گئی تجاویز زیادہ تر غیر حقیقت پسندانہ، غیر معقول اور حد سے زیادہ تھیں، خوش آئند ہے کہ علاقائی ممالک امن کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ صورتِ حال کو حقیقت پسندانہ انداز میں دیکھنا ضروری ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ یوکرین تنازع کو امریکا اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ سے جوڑنا تباہ کن غلط فہمی ہے، لبنان میں ایرانی سفیر بیروت میں اپنے فرائض انجام دیتے رہیں گے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی قیادت کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے اپنے جوہری عزائم ترک نہ کیے تو اسے مستقبل میں اپنے ملک سے بھی ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ ایران بالآخر اپنے جوہری پروگرام سے دستبردار ہو جائے گا اور افزودہ مواد امریکا کے حوالے کرے گا۔ صدر ٹرمپ کے مطابق ایران اس وقت بری طرح کمزور ہو چکا ہے اور جوہری ہتھیاروں سے دستبردار ہو جائے گا۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعوی کیا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ براہ راست اور بالواسطہ طور پر بات چیت کر رہا ہے ۔انہوں نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے نامہ نگاروں کو بتایا کہ "ہم ان کے ساتھ براہ راست اور بالواسطہ طور پر بات چیت کر رہے ہیں" ۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ ملاقاتوں کے دوران دونوں فریق بہت اہم امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں ۔انہوں نے دعوی کیا کہ ایران نے زیادہ تر امریکی امن منصوبے پر اتفاق کیا ہے ، لیکن امریکہ تہران پر اضافی مطالبات کرنا چاہتا ہے ۔28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران میں اہداف کو نشانہ بنانا شروع کیا ۔ تہران اسرائیلی سرزمین کے ساتھ ساتھ مشرق وسطی میں امریکی فوجی تنصیبات پر بھی انتقامی حملے کر رہا ہے ۔ ایران کے ارد گرد کشیدگی نے آبنائے ہرمز کی موثر ناکہ بندی کا باعث بنی ہے ، جو خلیج فارس سے عالمی منڈیوں تک تیل اور مائع قدرتی گیس کی فراہمی کا ایک اہم راستہ ہے ، اور اس نے خطے میں تیل کی برآمدات اور پیداوار کو متاثر کیا ہے ۔ ناکہ بندی کی وجہ سے دنیا بھر کے بیشتر ممالک میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے ۔