جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
ایران نے اسرائیل کے اہم اہداف پر شدید بمباری کی
  1. ہوم
  2. عالمی خبریں
عالمی خبریں

ایران نے اسرائیل کے اہم اہداف پر شدید بمباری کی

Awaz E Bihar•27 مارچ، 2026 کو 02:41 PM•3 ویوز•6 منٹ پڑھیں

ایران کی فوج نے اسرائیل کے اہم مقامات پر نئے ڈرون حملے کیے ہیں، جن میں حیفہ شہر میں واقع ایندھن اور بحری تنصیبات بھی شامل ہیں۔ یہ خبر پریس ٹی وی نے جمعہ کے روز دی۔
رپورٹس کے مطابق ایران، امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو شروع کیے گئے مشترکہ فوجی آپریشن کے جواب میں اسرائیلی علاقوں اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اہداف پر حملے کر رہا ہے۔ اس فوجی کارروائی کے پہلے ہی دن ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای جاں بحق ہو گئے تھے اور جنوبی ایران میں ایک لڑکیوں کے اسکول پر بھی بمباری کی گئی تھی۔ ایران کے مطابق اس میں مرنے والوں کی تعداد 1200 سے تجاوز کر چکی ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی نے اس وقت نیا رخ اختیار کر لیا جب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی فوج کی خطے میں موجودگی پر طنزیہ اور سخت ردعمل دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوجی اپنے ہی اڈوں پر غیر محفوظ ہونے کے باعث شہری مقامات پر پناہ لینے پر مجبور ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ 'ایکس' (ٹویٹر) پر اپنے ایک بیان میں محمد باقر قالیباف نے امریکی زمینی کارروائی کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا"امریکہ جو خطے میں اپنے فوجیوں کو اپنے ہی اڈوں پر محفوظ نہیں رکھ سکتا اور انہیں ہوٹلوں اور پارکوں میں چھپانے پر مجبور ہے، وہ ہماری سرزمین پر ان کی حفاظت کیسے کرے گا؟"
یہ بیان ان اطلاعات کے بعد سامنے آیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ واشنگٹن ایران کے خلاف زمینی کارروائی کے مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے۔ اگرچہ امریکی حکام نے تاحال کسی باقاعدہ حملے یا قبضے کی منصوبہ بندی کی تصدیق نہیں کی، تاہم انہوں نے ایرانی سرزمین پر فوجی تعیناتی کے امکان کو مکمل طور پر مسترد بھی نہیں کیا ہے۔
اسی تناظر میں ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے خطے کے شہریوں کے لیے ایک ہنگامی ہدایت نامہ جاری کیا ہے۔شہریوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ان تمام مقامات سے فوری دور ہو جائیں جہاں امریکی افواج مقیم ہیں۔ ایرانی گارڈز کا دعویٰ ہے کہ امریکی اور اسرائیلی افواج شہری علاقوں کو 'انسانی ڈھال' کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ ممکنہ ایرانی حملوں سے بچ سکیں۔
امریکی حکام نے سنسنی خیز دعویٰ کیا ہے کہ چین کی سب سے بڑی سیمی کنڈکٹر کمپنی نے ایرانی افواج کو چِپ سازی کے جدید آلات اور ٹیکنالوجی فراہم کی ہے۔ اس انکشاف نے واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ سے وابستہ دو سینئر حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ آلات تقریباً ایک سال قبل ایران کو منتقل کیے گئے تھے اور یہ تعاون اب بھی بلا تعطل جاری ہے۔ اس ڈیل میں محض آلات کی فراہمی ہی نہیں بلکہ ایرانی عملے کو سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی سے متعلق تکنیکی تربیت دینا بھی شامل ہے، جو ایران کے عسکری صنعتی ڈھانچے کے لیے ریڑھ کی ہڈی ثابت ہو سکتی ہے۔
رپورٹ میں اس بات پر تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ اگر یہ آلات امریکی ساختہ نکلے تو یہ براہِ راست امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی تصور کی جائے گی۔ یاد رہے کہ مذکورہ چینی کمپنی کو 2020 میں امریکی تجارتی بلیک لسٹ میں شامل کیا گیا تھا، تاہم کمپنی مسلسل ان الزامات کی تردید کرتی آئی ہے کہ اس کے چینی یا کسی غیر ملکی فوجی نظام سے روابط ہیں۔
جہاں امریکہ چین کی سیمی کنڈکٹر صلاحیت کو محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے، وہیں ایران کی تیل سے آمدن ۱۳۹ ملین ڈالرز یومیہ تک پہنچنا ایران کے بڑھتے ہوئے معاشی اور دفاعی اثر و رسوخ کی نشاندہی کرتا ہے۔
فی الحال چینی سفارت خانے، ایرانی مشن اور متعلقہ کمپنی کی جانب سے ان الزامات پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔ تاہم، چینی حکومت کا عمومی مؤقف رہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ معمول کی تجارتی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے اور وہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات میں کسی ایک فریق کی حمایت نہیں کرتا۔
ایران کے متحدہ عرب امارات پر حملوں کے بعد اماراتی حکام نے امریکا سے صرف جنگ بندی کے بجائے مستقل حل کا مطالبہ کیا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے واضح کیا ہے کہ اسے صرف جنگ بندی نہیں بلکہ ایرانی خطرات کا مستقل اور جامع حل درکار ہے۔ اماراتی حکام کا مؤقف ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے سادہ سیز فائر کافی نہیں، بلکہ طویل مدتی سکیورٹی انتظامات اور ایرانی میزائل، ڈرونز پر کنٹرو ل اور آبنائے ہرمز کا مستقل حل درکار ہے۔
امارتی وزیرنے اس حوالے سے گزشتہ روز امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات بھی کی تھی۔اماراتی صدر کے مشیر انور قرقاش نے بھی ایرانی حملوں پر دوٹوک مؤقف دیتےہوئے کہا ہے کہ ایرانی حملے کسی طور پر نظر انداز نہیں کیے جائیں گے۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ ایران کی طاقتور ترین فوجی قوت، پاسدارانِ انقلاب ( آئی آر جی سی ) نے خطے کے شہریوں کے لیے ایک ہنگامی وارننگ جاری کی ہے جس میں انہیں امریکی فوجی اڈوں کے قریب جانے سے سختی سے منع کر دیا گیا ہے۔
ایرانی گارڈز کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی افواج شہری علاقوں کو 'انسانی ڈھال' کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
شہری اپنی حفاظت کی خاطر فوری طور پر ان مقامات سے دور ہو جائیں جہاں امریکی افواج کی موجودگی ہے۔
سفارتی کوششوں کے باوجود امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر بمباری کا سلسلہ تھم نہ سکا۔
قم اور ارومی میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کئی گھر ملبے کا ڈھیر بن گئے۔
حالیہ حملوں میں مزید 10 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق اب تک مجموعی طور پر 1,937 افراد شہید ہو چکے ہیں۔
ایران نے خاموش رہنے کے بجائے اسرائیل پر جوابی حملوں کی 83 ویں لہر شروع کر دی ہے۔ ملٹی وار ہیڈ میزائلوں اور خودکش ڈرونز کے ذریعے اسرائیل کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی شہر اشدود میں تیل کے بڑے اسٹوریج ٹینکوں اور ڈپوؤں کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے وہاں بڑے پیمانے پر آگ لگنے کی اطلاعات ہیں۔
شیئر کریں:

More from عالمی خبریں

غزہ میں اسرائیلی جنگ کے تین سال بعد تباہی کی ہولناک تصویرسے پوری دنیا حیران
عالمی خبریں

غزہ میں اسرائیلی جنگ کے تین سال بعد تباہی کی ہولناک تصویرسے پوری دنیا حیران

29 ستمبر، 2026
امریکہ و چین 60 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر ٹیرف کم کرنے پر متفق
عالمی خبریں

امریکہ و چین 60 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر ٹیرف کم کرنے پر متفق

28 ستمبر، 2026
 آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے و اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ایران آنے کی اجازت دینے کا اعلان
عالمی خبریں

آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے و اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ایران آنے کی اجازت دینے کا اعلان

26 ستمبر، 2026
ہم فلسطین کے معاملے میں ناکام ہیں، آئرش وزیر اعظم مارٹن کا اقوام متحدہ میں خطاب
عالمی خبریں

ہم فلسطین کے معاملے میں ناکام ہیں، آئرش وزیر اعظم مارٹن کا اقوام متحدہ میں خطاب

25 ستمبر، 2026
دو عظیم رہنما ؤں کی نازک تجارتی جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش
عالمی خبریں

دو عظیم رہنما ؤں کی نازک تجارتی جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش

24 ستمبر، 2026
ایرانی پاسداران انقلاب کا امریکہ کے ساتھ طویل جنگ کے لیے تیار ہونے کا اعلان، نئی صلاحیتیں استعمال کرنے کی دھمکی
عالمی خبریں

ایرانی پاسداران انقلاب کا امریکہ کے ساتھ طویل جنگ کے لیے تیار ہونے کا اعلان، نئی صلاحیتیں استعمال کرنے کی دھمکی

21 ستمبر، 2026