جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
ایران کے پاس آئل انفراسٹرکچر کی تباہی سے قبل تین دن باقی رہ گئے: ٹرمپ
  1. ہوم
  2. عالمی خبریں
عالمی خبریں

ایران کے پاس آئل انفراسٹرکچر کی تباہی سے قبل تین دن باقی رہ گئے: ٹرمپ

Awaz E Bihar•27 اپریل، 2026 کو 03:20 PM•10 ویوز•4 منٹ پڑھیں

واشنگٹن،27اپریل(ایجنسی)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’’ فاکس نیوز ‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے پاس اپنے تیل کے بنیادی ڈھانچے کے دھماکے سے دوچار ہونے سے قبل تقریباً 3 دن باقی رہ گئے ہیں۔ٹرمپ نے "فاکس نیوز" پر "دی سنڈے بریفنگ" پروگرام میں ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ اگر ایران دونوں ملکوں کے درمیان جنگ ختم کرنے کے لیے مذاکرات کرنا چاہتا ہے تو وہ امریکہ سے رابطہ کر سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران میں جن لوگوں سے امریکہ نے معاملہ کیا ہے ان میں سے کچھ انتہائی معقول ہیں اور کچھ نہیں ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایرانی قیادت ذہانت کا مظاہرہ کرے گی۔انہوں نے اس بات کا امکان ظاہر کیا کہ ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہو جائے گی اور امریکہ اس میں فاتح بن کر نکلے گا۔ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کے ساتھ کھڑے نہ ہونے پر شمالی اوقیانوس کے معاہدے کی تنظیم (نیٹو) پر اپنی تنقید کی تجدید کی۔ انہوں نے اپنے بیانات میں یہ کہا کہ میں چین سے زیادہ مایوس نہیں ہوں لیکن وہ مزید مدد کر سکتا تھا۔وائٹ ہاؤس کے نمائندوں کی تقریب کو نشانہ بنانے والے حملے کے حوالے سے ٹرمپ نے واضح کیا کہ حملے کی جگہ کو محفوظ بنانا مشکل تھا۔ شوٹر تقریب کے ہال کے قریب نہیں پہنچ سکا تھا۔ٹرمپ نے اپنے بیانات میں انکشاف کیا کہ دستیاب معلومات کے مطابق شوٹر نفسیاتی امراض کا شکار تھا اور اس کا خاندان اس کے مسائل سے واقف تھا۔ امریکی صدر نے کہا کہ فائرنگ نے تقریب کی رات کو تناؤ سے نکال کر اتحاد کے لمحے میں بدل دیا۔ٹرمپ نے اس رائے کا اظہار کیا کہ وائٹ ہاؤس کے نمائندوں کے عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ وائٹ ہاؤس کے اندر ایک محفوظ ہال بنانے کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ منصوبہ سکیورٹی کی ترجیح ہے۔
دریں اثنا امریکی صدر ٹرمپ نے "ٹروتھ سوشل" پر کہا کہ گزشتہ رات جو کچھ ہوا وہ وہی بنیادی وجہ ہے جس کی بنا پر ہماری عظیم فوج، خفیہ سروس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور گزشتہ 150 سالوں کے دوران ہر صدر نے مختلف وجوہات کی بنا پر وائٹ ہاؤس کی حدود میں ایک بڑی اور محفوظ تقریب گاہ کی تعمیر کا مطالبہ کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ فوج کی انتہائی خفیہ تقریب گاہ کی موجودگی میں، جو اس وقت وائٹ ہاؤس میں تعمیر کی جا رہی ہے، یہ واقعہ کبھی پیش نہ آتا۔ ہم اس کی تعمیر مکمل ہونے تک انتظار نہیں کر سکتے! یہ خوبصورت ہے، اس میں سکیورٹی کے اعلیٰ ترین معیار ہیں۔ اوپر کوئی ایسے کمرے نہیں ہیں جو غیر محفوظ لوگوں کے داخلے کی اجازت دیں۔ یہ دنیا کی محفوظ ترین عمارت، وائٹ ہاؤس کی دیواروں کے اندر واقع ہے۔امریکی صدر نے مزید کہا کہ تقریب گاہ کے خلاف وہ مضحکہ خیز مقدمہ جو ایک کتے کے ساتھ چلنے والی خاتون نے دائر کیا ہے جس کے پاس ایسا مقدمہ کرنے کا کوئی قانونی حق نہیں ہے، فوری طور پر ختم ہونا چاہیے۔ اس کی تعمیر میں کسی بھی چیز کو مداخلت کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ یہ طے شدہ بجٹ کے اندر ہے اور شیڈول سے بہت آگے ہے! اس معاملے پر آپ کی توجہ کا شکریہ۔ٹرمپ کے یہ بیانات واشنگٹن میں تقریب کے دوران فائرنگ کے واقعے کے بعد سامنے آئے ہیں، جہاں فائرنگ کی آوازیں سننے کے بعد انہیں فوری طور پر سٹیج سے باہر لے جایا گیا تھا۔ اسی تناظر میں قائم مقام امریکی اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ نے کہا کہ حکام کا خیال ہے کہ مشتبہ شخص شاید ٹرمپ انتظامیہ کے ارکان کو نشانہ بنا رہا تھا۔انہوں نے کہا کہ حملہ آور حملے سے قبل کیلیفورنیا سے واشنگٹن آیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ 31 سالہ مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور اسے الزامات کا سامنا ہے۔ واقعے کے حالات کا پتہ لگانے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ اس حملے نے وسیع پیمانے پر صدمے کی لہر پیدا کی ہے۔ متعدد عالمی رہنماؤں نے سیاسی تشدد کی مذمت کی اور جمہوری اداروں اور پریس کی آزادی کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
شیئر کریں:

More from عالمی خبریں

غزہ میں اسرائیلی جنگ کے تین سال بعد تباہی کی ہولناک تصویرسے پوری دنیا حیران
عالمی خبریں

غزہ میں اسرائیلی جنگ کے تین سال بعد تباہی کی ہولناک تصویرسے پوری دنیا حیران

29 ستمبر، 2026
امریکہ و چین 60 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر ٹیرف کم کرنے پر متفق
عالمی خبریں

امریکہ و چین 60 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر ٹیرف کم کرنے پر متفق

28 ستمبر، 2026
 آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے و اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ایران آنے کی اجازت دینے کا اعلان
عالمی خبریں

آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے و اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ایران آنے کی اجازت دینے کا اعلان

26 ستمبر، 2026
ہم فلسطین کے معاملے میں ناکام ہیں، آئرش وزیر اعظم مارٹن کا اقوام متحدہ میں خطاب
عالمی خبریں

ہم فلسطین کے معاملے میں ناکام ہیں، آئرش وزیر اعظم مارٹن کا اقوام متحدہ میں خطاب

25 ستمبر، 2026
دو عظیم رہنما ؤں کی نازک تجارتی جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش
عالمی خبریں

دو عظیم رہنما ؤں کی نازک تجارتی جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش

24 ستمبر، 2026
ایرانی پاسداران انقلاب کا امریکہ کے ساتھ طویل جنگ کے لیے تیار ہونے کا اعلان، نئی صلاحیتیں استعمال کرنے کی دھمکی
عالمی خبریں

ایرانی پاسداران انقلاب کا امریکہ کے ساتھ طویل جنگ کے لیے تیار ہونے کا اعلان، نئی صلاحیتیں استعمال کرنے کی دھمکی

21 ستمبر، 2026