جشن میں ڈوبا ایران امریکہ واسرائیل میں صف ماتم ‘ ایران عالمی سطح پر سپرپاور بن کر ابھرا
Awaz E Bihar••3 ویوز•9 منٹ پڑھیں
تہران، 08 اپریل (یواین آئی) ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ان کا ملک امریکہ کے ساتھ دو ہفتے کی جنگ بندی پر راضی ہو گیا ہے اور اس دوران آبنائے ہرمز سے جہازوں کو محفوظ آمد و رفت کی اجازت دی جائے گی۔ عراقچی نے جنگ بندی معاہدہ کرانے کے لیے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور فوجی سربراہ عاصم منیر کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے بدھ کی صبح ایران کی سلامتی کونسل کی جانب سے جاری بیان میں کہاکہ ''اسلامی جمہوریہ ایران کی طرف سے میں خطے میں جنگ ختم کرنے کی انتھک کوششوں پر اپنے بھائی پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل منیر کے لیے شکریہ ادا کرتا ہوں۔"انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم شریف کی "بھائی چارے کی اپیل"، امریکہ کے 15 نکاتی تجویز پر مذاکرات کی مانگ اور امریکی صدر کی جانب سے ایران کے 10 نکاتی تجویز کو مذاکرات کی بنیاد کے طور پر قبول کرنے کے اعلان کو مدنظر رکھتے ہوئے ایران کی سلامتی کونسل نے دو فیصلے کیے ہیں: اگر ایران پر حملے بند کر دیے جاتے ہیں تو ایران کی مسلح افواج بھی اپنی دفاعی کارروائیاں روک دیں گی۔ دو ہفتے کے لیے آبنائے ہرمز سے محفوظ آمد و رفت کی اجازت دی جائے گی، جو ایران کی مسلح افواج کے ساتھ ہم آہنگی اور تکنیکی حدود کو مدنظر رکھتے ہوئے یقینی بنائی جائے گی۔ قابل ذکر ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے دارالحکومت تہران سمیت کئی شہروں پر حملے کیے تھے، جن میں ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت سینکڑوں افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ ایران نے اس کے جواب میں اسرائیل اور مغربی ایشیا میں امریکہ کے فوجی ٹھکانوں پر حملے کیے تھے۔ پاکستان نے اسلام آباد میں امن مذاکرات کی پہل کی تھی۔ ابتدا میں ایران نے اس مذاکرات میں شامل ہونے سے انکار کر دیا تھا، تاہم بدھ کی صبح دونوں ممالک کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے چند گھنٹے قبل ایران امریکہ جنگ بندی کی صورتحال میں ڈرامائی موڑ اس وقت آیا، جب ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے پہلی بار امریکہ کے ساتھ معاہدے کے اشارے دیے۔ رپورٹس کے مطابق، انہوں نے ایرانی مذاکرات کاروں کو امریکہ کے ساتھ زیادہ سنجیدگی سے بات چیت کرنے کی ہدایت دی، جسے علاقائی حکام نے ایک "بڑی تبدیلی" قرار دیا ہے۔ یہ موڑ اس وقت سامنے آیا جب مسٹر ٹرمپ نے وارننگ دی تھی کہ اگر ایران نے امریکی مطالبات نہ مانے تو "پوری تہذیب تباہ ہو سکتی ہے"، جس میں آبنائے ہرمز کو کھولنے کی شرط بھی شامل تھی۔ ایک طرف جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات چل رہے تھے، وہیں پینٹاگون میں بڑے پیمانے پر حملوں کی تیاریاں بھی متوازی طور پر جاری تھیں۔ اس سے یہ واضح نہیں ہو پا رہا تھا کہ صورتحال سفارت کاری کی طرف جائے گی یا براہِ راست تصادم کی طرف۔ 'ایکسیوس' کی رپورٹ میں ایک دفاعی اہلکار کے حوالے سے کہا گیا، "ہمیں ذرا بھی اندازہ نہیں تھا کہ آگے کیا ہونے والا ہے، یہ سب بہت ہی عجیب تھا۔" سفارتی کوششیں کئی خفیہ مذاکرات کے ذریعے آگے بڑھیں۔ ذرائع کے مطابق، امریکی مندوب اسٹیو وٹکوف "انتہائی غصے میں" تھے اور انہوں نے ایران کی ابتدائی 10 نکاتی جوابی تجویز کو "ایک آفت اور تباہی" قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔ اس کے نتیجے میں تجویز میں کئی تبدیلیاں کرنی پڑیں۔ یہ اعلان رات گئے ایک ڈرامائی پیش رفت کے طور پر سامنے آیا، جس نے دونوں ممالک کو ممکنہ بڑے فوجی تصادم کے دہانے سے واپس کھینچ لیا۔ واشنگٹن وقت کے مطابق شام 6 بج کر 32 منٹ (بدھ کو صبح 4 بج کر 2 منٹ ہندستانی وقت) پر، ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ جاری سفارتی پیش رفت کے پیش نظر وہ ایران کے خلاف طے شدہ فوجی کارروائیوں کو دو ہفتوں کے لیے معطل کر رہے ہیں۔ یہ اقدام ان کی جانب سے مقرر کردہ رات 8 بجے (ہندستانی وقت صبح 5:30) کی ڈیڈ لائن سے کچھ ہی پہلے سامنے آیا۔ اس سے قبل واشنگٹن نے خبردار کیا تھا کہ وہ ایران کے توانائی اور نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بناتے ہوئے بڑے پیمانے پر حملے کر سکتا ہے۔ ایک باضابطہ بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ یہ فیصلہ شہباز شریف اور عاصم منیر کے ساتھ بات چیت کے بعد کیا گیا، جنہوں نے کشیدگی کم کرنے پر زور دیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنگ بندی کا انحصار اس بات پر ہے کہ ایرانآبنائے ہرمز کو "مکمل، فوری اور محفوظ" طور پر کھولنے پر رضامند ہو۔ ٹرمپ نے کہا یہ دو طرفہ جنگ بندی ہوگی،" اور دعویٰ کیا کہ امریکہ اپنے تمام فوجی مقاصد حاصل کر چکا ہے اور ایران کے ساتھ طویل مدتی امن معاہدہ طے کرنے کے قریب ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ واشنگٹن کو تہران کی جانب سے 10 نکاتی تجویز موصول ہوئی ہے، جسے انہوں نے مذاکرات کے لیے "قابلِ عمل بنیاد" قرار دیا، اور کہا کہ ماضی کے بیشتر اختلافی نکات حل کیے جا چکے ہیں۔ یہ اعلان ہفتے کے آغاز میں اپنائے گئے سخت مؤقف سے ایک واضح تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔ منگل کی صبح تک ٹرمپ نے تہران کو سخت انتباہ دیتے ہوئے ایران کی تہذیب کو "مکمل طور پر تباہ کر دینے" کی دھمکی دی تھی، جو صورتحال کی غیر یقینی نوعیت کو ظاہر کرتا ہے۔ حکام کے مطابق جنگ بندی اس بات سے مشروط ہے کہ ایران بھی کشیدگی میں کمی کرے اور آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی مکمل آمد و رفت کو یقینی بنائے جس کے لیے تہران آمادگی ظاہر کر چکا ہے۔ کشیدگی سے مذاکرات کی جانب یہ تیز رفتار تبدیلی اس صورتحال کی نازک نوعیت اور خلیجی خطے میں استحکام کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے، جو عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے نہایت اہم ہے۔ بیک چینل سفارتی کوششوں میں مسٹر وٹکوف کے علاوہ ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور پاکستان، مصر اور ترکی کے ثالث شامل تھے۔ جیسے جیسے دن ڈھلتا گیا، پیر کی رات تک ثالثوں نے ایک ترمیم شدہ خاکے کے لیے امریکہ کی منظوری حاصل کر لی۔ امریکہ ایک قلیل مدتی جنگ بندی کے لیے راضی ہو گیا اور اس طرح حتمی فیصلہ مکمل طور پر مسٹر خامنہ ای کے ہاتھوں میں آگیا۔ بتایا گیا کہ آخری فیصلہ سپریم لیڈر کی منظوری پر منحصر تھا اور ان کی رضامندی کے بغیر کوئی معاہدہ ممکن نہیں تھا۔ اس دوران ایران میں ممکنہ حملوں کے خوف سے کچھ علاقوں میں لوگ گھر چھوڑنے لگے تھے، جبکہ علاقائی ممالک بھی کسی بھی ردعمل کے لیے تیار تھے۔ نائب صدر جے ڈی وینس بھی ان مذاکرات میں شامل رہے، جبکہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو مسلسل امریکہ کے ساتھ رابطے میں تھے۔ اسرائیلی حلقوں میں اس عمل کو لے کر بے چینی تھی کیونکہ معاملہ ان کے ہاتھ سے نکلتا جا رہا تھا۔ بالآخر منگل کی دوپہر تک، ایک قلیل مدتی جنگ بندی کے حوالے سے دونوں فریقین کے درمیان ممکنہ اتفاق رائے بنتا نظر آیا۔ چند ہی گھنٹوں کے اندر، پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے عوامی طور پر اس تجویز کا خاکہ پیش کیا اور دونوں فریقین سے اسے قبول کرنے کی اپیل کی۔ غیر یقینی صورتحال اب بھی برقرار تھی کیونکہ کئی ذرائع نے اشارہ دیا تھا کہ جن لوگوں نے کچھ دیر قبل ٹرمپ سے بات کی تھی، ان کا اب بھی یہی خیال تھا کہ وہ اس تجویز کو سرے سے مسترد کر سکتے ہیں۔ پاکستانی قیادت اور مسٹر نیتن یاہو کے ساتھ بات چیت کے بعد مسٹر ٹرمپ نے اسے قبول کر لیا۔ اس کے فوراً بعد خطے میں تعینات امریکی افواج کو حملے کی تیاری روکنے کے احکامات دیے گئے۔ ایران نے بھی جنگ بندی پر عمل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت ایرانی مسلح افواج کے تعاون سے جاری رہے گی، تاہم اس کی مدت اور شرائط ابھی مکمل واضح نہیں ہیں۔ تقریباً 39 روزہ جنگ کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ دو ہفتوں کی جنگ بندی کی منظوری دے دی، جو آبنائے ہرمز کھولنے کی شرط سے مشروط ہے۔ یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب ایران کو ہرمز کی گزرگاہ کھولنے کے لیے دی گئی آخری مہلت ختم ہونے میں چند گھنٹے باقی تھے۔ ٹرمپ کا مؤقف دن کے ابتدائی سخت بیان سے مختلف تھا، جس میں انہوں نے سخت دھمکی دی تھی۔ شہباز شریف نے، جنہوں نے ثالثی میں اہم کردار ادا کیا، "ایکس" پر بتایا کہ ایرانی اور امریکی وفود کو اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے مدعو کیا گیا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق معاہدہ آخری لمحات میں طے پایا اور اس کی بنیادی شرط یہ ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل و گیس کی ترسیل میں رکاوٹ ختم کرے، جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچویں مقدار گزرتی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ تہران جوابی حملے بند کرے گا اور گزرگاہ کو محفوظ بنایا جائے گا۔ ٹرمپ نے "ٹروتھ سوشل" پر لکھا کہ "یہ دونوں جانب سے جنگ بندی ہوگی" اور دعویٰ کیا کہ امریکہ اپنے فوجی مقاصد حاصل کر چکا ہے اور اب طویل المدتی امن کی جانب پیش رفت ہو رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ ہرمز میں نقل و حمل کے مسائل حل کرنے میں مدد کرے گا، جبکہ ایران کو تعمیر نو کا موقع ملے گا اور "بڑے مالی فوائد" حاصل ہو سکتے ہیں۔ ایرانی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل نے اس معاہدے کو اپنی فتح قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے ایران کی شرائط قبول کی ہیں۔ دوسری جانب ایک اسرائیلی عہدیدار نے بتایا کہ اسرائیل نے جنگ بندی سے قبل امریکہ کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کی تھی، اور امریکہ اپنے مطالبات-جن میں یورینیم افزودگی کا خاتمہ اور بیلسٹک میزائل خطرے کا سدباب شامل ہے-پر قائم رہے گا۔ یاد رہے کہ 28 فروری سے شروع ہونے والی اس جنگ میں 10 سے زائد ممالک متاثر ہوئے اور 5000 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے، جبکہ عالمی توانائی اور مالیاتی منڈیوں پر شدید اثرات پڑے۔