ایران کی اسرائیل پر کلسٹر میزائلوں کی بارش، امریکی اڈوں پر ڈرون حملے، 37 فوجی ہلاک
Awaz E Bihar••8 ویوز•5 منٹ پڑھیں
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ ایک انتہائی ہولناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ ایران نے اسرائیل پر براہِ راست کلسٹر میزائل داغ دیے ہیں جبکہ خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات پر بھی بڑے پیمانے پر حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ایرانی فوج کی جانب سے داغے گئے کلسٹر میزائلوں نے تل ابیب سمیت کئی اسرائیلی شہروں کو ہلا کر رکھ دیا۔ حملوں کے نتیجے میں حیفا اور بنی براک میں شدید تباہی ہوئی ہے، عمارتوں کو نقصان پہنچا اور سڑکوں پر کھڑی گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ان حملوں میں کم از کم 7 اسرائیلی زخمی ہوئے ہیں، جبکہ پورے ملک میں جنگی سائرن بجنے سے خوف و ہراس پھیل گیا۔جنگ کے 33 ویں روز ایران نے ایک دھماکہ خیز دعویٰ کیا ہے جس نے عالمی برادری کو چونکا دیا ہے۔ ایرانی فوج کے ترجمان کے مطابق، پاسدارانِ انقلاب نے متحدہ عرب امارات میں ایک خفیہ مقام کو نشانہ بنایا جہاں امریکی فوجی ایک اہم میٹنگ کے لیے جمع تھے۔ اس حملے میں 37 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ بحرین کے دارالحکومت میں واقع امریکی بیس پر ڈرون حملے سے آگ بھڑک اٹھی، جبکہ بغداد میں امریکی سفارتی مرکز اور وکٹوریہ ایئربیس پر بھی میزائل داغے گئے۔ سعودی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے والے مزید 4 ڈرونز کو مار گرایا ہے۔ آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں میں عراقی ملیشیا کے مزید حملوں کے خدشے کے پیشِ نظر، امریکی سفارت خانے نے اپنے تمام شہریوں کو فوری طور پر عراق چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان لبنانی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر راکٹوں کی برسات کر دی ہے، جس سے سرحدی علاقوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔غیر ملکی خبر رساں اداروں اور اسرائیلی دفاعی فورسز ( آئی ڈی ایف) کے مطابق لبنان کی جانب سے شمالی اسرائیل پر 50 سے زائد راکٹ داغے گئے۔ایک راکٹ سرحدی شہر کریت شمونا میں گرا، جس کے نتیجے میں 2 افراد زخمی ہو گئے۔ یہ حملہ اسرائیلیوں کی مذہبی تقریب 'پاس اوور' کے آغاز پر کیا گیا، جس کے باعث سینکڑوں افراد کو اپنی جان بچانے کے لیے حفاظتی پناہ گاہوں (بنکرز) میں منتقل ہونا پڑا۔اسرائیلی حکام نے حزب اللہ کی جانب سے مزید بڑے حملوں کے خدشے کے پیشِ نظر شمالی سرحد پر حفاظتی اقدامات کو انتہائی سخت کر دیا ہے۔ دوسری جانب ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ دھمکیوں پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ایران کے خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹرز کے ترجمان کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے واضح کیا کہ کسی بھی حملے کی صورت میں ایرانی مسلح افواج دشمن کے پاؤں کاٹ دیں گی۔ٹرمپ آبنائے ہرمز کو بھول جائیں، دشمنوں کے لیے یہ راستہ کبھی نہیں کھولا جائے گا۔ ایران نے کبھی کسی دشمن کے سامنے سر نہیں جھکایا اور نہ اب جھکائے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریب کے دوران ایران نے اسرائیل پر جوابی وار کرتے ہوئے تابر توڑ حملے کیے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق جس وقت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس اوول آفس میں قوم سے خطاب کرتے ہوئے ایران پر بڑے حملے کرنے اور اس کو پتھر کے دور میں پہنچانے کی دھمکی دے رہے تھے، عین اسی وقت ایران کی اسرائیل کے خلاف بڑی کارروائی جاری تھی۔ رپورٹ کے مطابق ایران نے اسرائیل پر جوابی وار کرتے ہوئے تابڑ توڑ حملے کیے، جس کے باعث تل ابیب، حیفہ سمیت دیگر علاقے دھماکوں سے گونج اٹھے۔ حملے اس وقت کیے گئے جب کہ ایک عمارت میں اعلی اسرائیلی حکام کی میٹنگ جاری تھی۔ رمات گان میں عمارت کو میزائل لگنے سےنقصان پہنچا اور متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔ تل ابیب کے مشرقی علاقے میں میزائل لگنے سے پائپ لائن پھٹ گئی۔ عمارتوں اور گاڑیوں کو بھی نقصان ہوا جب کہ اسرائیل کے مختلف شہروں میں ایرانی میزائل حملوں سے خوف ہراس پھیل گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات نے مشرقِ وسطیٰ میں نئی ہلچل پیدا کر دی ہے، جس پر ردعمل دیتے ہوئے ایرانی عسکری اور پارلیمانی قیادت نے واشنگٹن کو سخت ترین وارننگ جاری کر دی ہے۔ایران کے خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹرز کے ترجمان کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے امریکی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوم اور مسلح افواج دفاعِ وطن کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا"کسی بھی جارحیت کی صورت میں حملہ آوروں کے پاؤں کاٹ دیے جائیں گے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایران نے کبھی کسی دشمن کے سامنے سر نہیں جھکایا۔کرنل ذوالفقاری نے امریکی صدر کے بیانات کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ ایران کے دشمنوں کے لیے آبنائے ہرمز کے راستے بند رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ اس اہم بحری گزرگاہ کے حوالے سے اپنے خواب دیکھنا چھوڑ دیں۔ایرانی پارلیمانی نیشنل سیکیورٹی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے بھی سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہااگر خطے میں میری ٹائم قوانین یا نظام کی تبدیلی کی بات ہے، تو ٹرمپ کا 'رجیم چینج' کا خواب پہلے ہی چکنا چور ہوچکا ہے۔ آبنائے ہرمز دوبارہ کھلے گی، لیکن وہ امریکہ یا اس کے اتحادیوں کے لیے نہیں ہوگی۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایرانی حکام کے ان تند و تیز بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں بحری گزرگاہوں کے کنٹرول اور امریکی مداخلت کے حوالے سے کشیدگی ایک بار پھر انتہا پر پہنچ گئی ہے، جس کے اثرات عالمی تیل کی ترسیل پر بھی پڑ سکتے ہیں۔