ایرانی حکومت نے ملک میں حالات کنٹرول کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت مخالف مظاہروں کا زور ٹوٹ رہا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کا زور ٹوٹ رہا ہے اور حکومت نے حالات کنٹرول کرنے کا دعویٰ کر دیا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ ہم نے اپنے لوگوں کی مشکلات دور کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ایرانی صدر نے مزید کہا کہ کچھ لوگوں نے دہشت گرد ملک میں داخل کیے، جنہوں نے مسجدیں جلائیں۔ ان کے پیچھے امریکہ اور اسرائیل ہیں، جو وہاں بیٹھ کر لوگوں کو سکھاتے ہیں کہ تخریب کاری کرو ہم تمہارے پیچھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کیلیے بیرون ملک سے دہشت گردوں کو لایا گیا۔ جنہوں نے لوگوں کو زندہ جلایا اور سر قلم کیے۔ مسعود پزشکیان نے والدین سے اپیل کرتے ہوئے کہا، وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں، انہیں سر کاٹنے اور قتل کرنے والوں میں شامل ہونے سے بچائیں۔ واضح رہے کہ ایران میں گزشتہ کئی روز سے جاری پرتشدد احتجاج میں درجنوں افراد جن میں سیکیورٹی ادارے کے لوگ بھی شامل ہیں، ہلاک ہوچکے ہیں۔ ایرانی حکومت نے احتجاج اور فسادات میں 110 سے زائد سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، پاسداران انقلاب نے خراسان سے اسرائیلی ایجنسی موساد کے دو ایجنٹ گرفتار کر لیے، جو ملک کے مختلف شہروں میں فسادات اور ہنگامے کروا رہے تھے، جاسوسوں سے اسلحہ اور بارود بھی برآمد کیا گیا ہے۔ دوسری جانب امریکہ نے پرتشدد مظاہروں کے بعد ایران پر براہ راست حملے کی دھمکی دے دی ہے جب کہ اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کا حکم بھی جاری کر دیا ہے۔ ایران میں جاری احتجاج اور پرتشدد مظاہروں کو جواز بنا کر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملے کا عندیہ دے دیا تاہم تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایران وینزویلا نہیں۔ اس حوالے سے اے آر وائی نیوز کے پروگرام دی رپورٹر میں ماہر بین الاقوامی امور ڈاکٹر ہما بقائی نے اس تمام صورتحال پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ میری اطلاعات کے مطابق ایران میں انٹرنیٹ کی بندش گزشتہ 90 گھنٹوں سے جاری تھی جس کے سبب احتجاجی مظاہروں میں کافی حد تک کمی آگئی تھی جسے اب بحال کیا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ ایرانی فوج نے بہت سے مقامات پر کنٹرول سنبھال لیا ہے اور اس دوران مظاہرین کی جو ہلاکتیں ہوئی ہیں اس کے غم میں 3روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔ اسلام آباد، 13 دسمبر (یو این آئی) ڈاکٹر ہما بقائی نے کہا کہ ایران صورتحال پر قابو پانے کی پوری کوشش کررہا ہے اور ساتھ ہی امریکہ سے یہ بھی کہا ہے کہ ہم نیوکلیئر معاملات پر مذاکرات کرلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی اس بات کا اندازہ ہے کہ حملہ کرنا اتنا آسان نہیں کیونکہ ایران وینزوئیلا نہیں ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال جون میں امریکہ نے ایران کی جوہری تنصیبات پر بمباری کی تھی۔ امریکی صدر ڈونلد ٹرمپ نے کئی روز پہلے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ ایران آزادی چاہتا ہے اور شاید پہلے سے کہیں زیادہ، امریکہ اس کی مدد کے لیے تیار ہے۔ واضح رہے کہ ایران پر امریکہ کے ممکنہ حملے کی خبریں سامنے آنے پر چین نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بین الاقوامی تعلقات میں طاقت کے استعمال کی مخالفت کرتے ہیں۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق چین کا کہنا ہے کہ عالمی قوانین کے تحت ملکی خودمختاری اور سب کی سلامتی کا تحفظ کیا جانا چاہیے۔ ترجمان چینی وزارت خارجہ کے مطابق امید ہے ایرانی حکومت اور عوام موجودہ مشکل صورتحال پر قابو پاسکتے ہیں اور ملکی استحکام کو برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف حملے سے پہلے سفارت کاری کو موقع دینا چاہیے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق وال اسٹریٹ جرنل نے پیر کے روز امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ میں بعض سینئر معاونین، جن کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں، صدر ٹرمپ پر زور دے رہے ہیں کہ وہ ایران کے خلاف فوجی حملوں سے پہلے سفارت کاری آزمانے کی کوشش کریں۔ رپورٹ کے مطابق ایک جانب وائٹ ہاؤس تہران کی جانب سے جوہری پروگرام کے حوالے سے مذاکرات کی پیشکش پر غور کر رہا تھا اور دوسری طرف صدر ٹرمپ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی منظوری دینے پر بھی نظر رکھے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔ امریکی اخبار نے حکام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے ابھی فیصلہ نہیں کیا، تاہم فی الحال وہ ایران پر حملے کے حق میں ہیں لیکن ان کا رویہ بدل سکتا ہے۔ تاہم، نائب صدر وینس کے ترجمان نے کہا کہ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ درست نہیں ہے۔ جے ڈی وینس کے ڈائریکٹر برائے مواصلات ولیم مارٹن نے کہا نائب صدر وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو مل کر صدر کو مختلف آپشنز پیش کر رہے ہیں، جن میں سفارتی طریقۂ کار سے لے کر فوجی اقدامات تک شامل ہیں۔ وہ یہ تمام آپشنز بغیر کسی جانب داری یا جھکاؤ کے پیش کر رہے ہیں۔ اس سے قبل امریکی صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ان کی انتظامیہ ایران میں مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کے جواب میں حملوں پر غور کر رہی ہے، ترجمان وائٹ ہاؤس کیرولین لیوٹ نے کہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے ضروری سمجھا تو ایران پر حملے سے گریز نہیں کریں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ ہمیشہ سفارتکاری کو اوّلین ترجیح دیتے رہے ہیں، لیکن وہ آئندہ کیا قدم اٹھائیں گے یہ صرف وہی جانتے ہیں۔