ایران کا کویت پر میزائل حملہ: پاور و واٹر پلانٹ تباہ
Awaz E Bihar••4 ویوز•5 منٹ پڑھیں
مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اب ہمسایہ ممالک تک پھیلنا شروع ہو گئی ہے۔ ایران کی جانب سے کویت کے اہم انفراسٹرکچر پر کیے گئے تازہ حملے کے نتیجے میں بجلی اور پانی کی فراہمی کا بڑا مرکز شدید متاثر ہوا ہے، کویت کی وزارتِ بجلی و پانی کے مطابق ایرانی جارحیت کا نشانہ وہ پلانٹ بنا جو سمندری پانی کو پینے کے قابل بناتا ہے اور بجلی فراہم کرتا ہے۔ پلانٹ کی مرکزی عمارت اور تکنیکی آلات کو بھاری نقصان پہنچا ہے، جس سے سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ کویتی حکام کا کہنا ہے کہ فوری طور پر تکنیکی اور ہنگامی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئی ہیں تاکہ پلانٹ کی سرگرمیاں بحال کی جا سکیں۔کویت گزشتہ ایک ماہ سے جاری امریکہ-اسرائیل اور ایران جنگ کے تناظر میں مسلسل حملوں کی زد میں ہے۔عرب میڈیا کے مطابق ایران نے تاحال اس مخصوص حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی اور نہ ہی کوئی باضابطہ بیان جاری کیا ہے۔ یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 116 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں، اور ایسے حملے سپلائی چین کو مزید متاثر کر سکتے ہیں۔ کویتی سرکاری میڈیا نے اس حملے کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کویت میں امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی اور حالیہ جنگی صورتحال کی وجہ سے کویت اس تنازع کا غیر ارادی طور پر حصہ بنتا جا رہا ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، ایران نے 28 فروری سے کم از کم 5,471 میزائل اور ڈرون حملے کیے جن کا ہدف امریکی اڈے اور سات عرب ممالک میں اہم مقامات بنے۔ جیسے جیسے ایران پر امریکی-اسرائیلی حملوں کے جواز میں تہران کے جوابی اقدامات جاری ہیں، خلیجی ممالک کے متعدد حساس مقامات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ متاثرہ ممالک کی وزارتِ دفاع اور سرکاری اطلاعاتی مراکز سے جمع کردہ معلومات کے مطابق متحدہ عرب امارات سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ امارات کی وزارتِ دفاع نے کہا کہ حملوں کے آغاز سے اس کے دفاعی نظاموں نے 414 بیلسٹک میزائل، 15 کروز میزائل اور 1,914 ڈرون روک لیے یا ناکارہ بنا دیئے ۔کویت نے کہا کہ اس نے 309 بیلسٹک میزائل اور 616 ڈرون روکے۔ بحرین کی دفاعی فورس کے جنرل کمانڈ نے کہا کہ اسی عرصے میں 174 میزائل اور 391 ڈرون ناکارہ کیے گئے۔ قطر کی وزارتِ دفاع نے رپورٹ کیا کہ ملک کو 206 بیلسٹک میزائل اور 93 ڈرون حملوں کا سامنا رہا۔ اردن کی فوج نے کہا کہ تنازع کے دوران 262 میزائل اور ڈرون حملے ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ سعودی عرب نے کہا کہ کم از کم 52 میزائل اور 1,006 ڈرون اس کے علاقے کو نشانہ بنا چکے ہیں۔ عمان نے کہا کہ اس پر 19 ڈرون حملے ہوئے۔ علاقائی کشیدگیاں جاری ہیں جب سے اسرائیل اور امریکہ نے 28 فروری کو ایران کے خلاف حملہ شروع کیا، جس سے اب تک 1,340 سے زائد لوگ ہلاک ہوئے، جن میں اس وقت کے رہبرِ اعلی آیت اللہ علی خامنہ ای بھی شامل ہیں۔ ایران نے جواب میں ڈرون اور میزائل حملے کیے جن کے اہداف میں اسرائیل، اردن، عراق اور وہ خلیجی ممالک شامل ہیں جن میں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں، جن کے نتیجے میں جانی نقصان اور انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا اور عالمی منڈیوں اور ہوابازی میں خلل پیدا ہوا۔ یران نے کویت میں ڈی سیلینیشن (سمندری پانی کو میٹھا بنانے والے) پلانٹ پر حملے کا الزام اسرائیل پر لگادیا۔ ایرانی فوج کی آپریشنل کمانڈ ختم الانبیا کے جاری بیان میں کہا گیا کہ کویت میں ڈی سیلینیشن پلانٹ پر حملے کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل نے حالیہ حملہ ایران پر الزام عائد کرنے کے بہانے کے طور پر کیا، جو اسرائیلی حکومت کی وحشیانہ جارحیت اور صہیونی غاصبوں کی پستی کی عکاسی کرتا ہے۔ اس سے پہلے خبر آئی تھی کہ ایران کے کویت پر حملے میں پلانٹ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔کویت کی وزارتِ بجلی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ایک سروس بلڈنگ پر ایرانی جارحیت کے نتیجے میں بھاری نقصان ہوا ۔ بیان کے مطابق فوری تکنیکی اور ہنگامی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں تاکہ نقصان کا ازالہ اور پلانٹ کی نارمل سرگرمیاں بحال رکھی جا سکیں۔ اسرائیل کے شہر حیفہ میں آئل ریفائنری پر میزائل کے ملبے گرنے سے صنعتی عمارت اور فیول ٹینکر متاثر ہوگئے۔ ایران نے اسرائیل پر میزائل حملوں کی 86ویں لہر داغ دی، حیفہ آئل ریفائنری کو ایک بار پھر نشانہ بنایا، حملےکے بعد ریفائنری میں آگ بھڑک اٹھی، دھویں کے بادل اٹھتے دکھائی دیے، صنعتی زون میں اسرائیل کی کیمیکل فیکٹری بھی نشانہ بنی، تل ابیب پر میزائل حملے کے باعث اسرائیلی پارلیمنٹ کا اجلاس موخر ہوگیا۔ اسرائیلی فوج نے ایران جنگ کے آغاز سے261 فوجی زخمی ہو نے کی تصدیق کردی، جبکہ ہلاکتوں کی تعداد ظاہر نہیں کی۔ اسرائیلی فائر سروس کے مطابق میزائل کو فضا میں تباہ کیا گیا تھا، تاہم اس کا ملبہ ریفائنری کے احاطے میں گرا جس کے باعث ایک ٹینکر کو براہ راست نقصان پہنچا اور قریبی عمارت سے دھواں اٹھتا دیکھا گیا، فائر فائٹرز ممکنہ طور پر ملبے تلے دبے افراد کو تلاش کررہے ہیں۔ اسرائیلی وزیر توانائی ایلی کوہن نے کہا ہے کہ ریفائنری کی پیداواری تنصیبات محفوظ ہیں اور ایندھن کی فراہمی متاثر نہیں ہوگی۔ دوسری جانب ایرانی عدلیہ نے اپوزیشن گروپ سے تعلق اور حملوں کی منصوبہ بندی کے الزام میں دو افراد کو سزائے موت دیتے ہوئے کہا کہ دونوں افراد تہران میں دیسی ساختہ لانچر ڈیوائسز کے ذریعے مسلح حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔