ایران نے جنگ کے آٹھویں روز اسرائیل پر میزائلوں کی بارش کردی ، جس کے بعد تل ابیب دھماکوں سےگونج اٹھا۔ تفصیلات کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ شدت اختیار کرگئی ہے۔ ایران نے 'وعدہ صادق 4' کے تحت اسرائیل پر میزائلوں کے وسیع تر حملے کیے ہیں۔ ایرانی حملوں کے بعد اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب، یروشلم، وسطی و جنوبی اسرائیل، مغربی کنارہ اور غزہ بارڈر کے علاقوں میں خطرے کے سائرن گونج اٹھے۔ عرب میڈیا کے مطابق تل ابیب میں یکے بعد دیگرے کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ اسرائیلی فوج نے نئے ایرانی میزائلوں کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کا ڈیفنس سسٹم حملوں کو ناکارہ بنا رہا ہے، تاہم کئی مقامات پر اہداف کے متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔ دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے 'وعدہ صادق 4' کی 24 ویں لہر کے میزائل حملوں کی ویڈیو جاری کر دی ہے۔ ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ اس لہر میں تل ابیب کے اندر متعین فوجی اور اسٹریٹجک اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس سے قبل عالمی خبر رساں ادارے 'بلوم برگ نے ایک سنسنی خیز رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ایران نے اردن کے 'موافق السلطی ایئر بیس پر موجود امریکی میزائل دفاعی نظام کے اہم ترین ریڈار کو تباہ کر دیا ہے، اس جدید ریڈار سسٹم کی قیمت تقریباً 30 کروڑ ڈالر تھی۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف کارروائی مکمل کرنے میں 4 سے 6 ہفتے لگیں گے۔ ترجمان وائٹ ہاؤس کیرولائن لیویٹ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے ہتھیاروں کا بڑا ذخیرہ موجود ہے، آج صدر ٹرمپ وزیر دفاع سے ملاقات کریں گے، جب کہ ایرانی قیادت کے لیے متعدد شخصیات کے ناموں پر غور کیا جا رہا ہے۔ کیرولائن لیویٹ نے کہا کہ اگر روس ایران کے ساتھ انٹیلیجنس معلومات کا تبادلہ کر رہا ہے تو اس سے امریکی فوجی آپریشن پر کوئی اثر نہیں پڑ رہا، ایران کو مکمل طور پر ختم کر رہے ہیں۔ امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ اس نے 28 فروری کے بعد سے ایران میں 3,000 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا ہے اور ایران کے 43 جنگی جہاز تباہ کر دیے ہیں۔ ایران میں ہلاکتوں کی تعداد اب بڑھ کر کم از کم 1,332 ہو گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران سے غیر مشروط سرنڈر کا مطالبہ کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس کے بغیر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔ دوسری طرف ایرانی فوج نے تصدیق کی ہے کہ آبنائے ہرمز ابھی بھی کھلا ہے، تاہم اس نے واضح طور پر کہا ہے کہ اس راستے سے گزرنے کی کوشش کرنے والے کسی بھی امریکی یا اسرائیلی جہاز کو نشانہ بنایا جائے گا۔ ایران کے نائب وزیرِ خارجہ نے یورپی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ اس تنازع میں امریکا اور اسرائیل کا ساتھ دیتے ہیں تو وہ ایران کی جوابی کارروائی کے لیے 'جائز ہدف بن جائیں گے۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اپنے ایرانی ہم منصب مسعود پزیشکیان سے ٹیلیفون پر بات کی، ایران میں ہونے والی ہلاکتوں پر تعزیت کا اظہار کیا اور تازہ صورت حال کے بارے میں رپورٹ حاصل کی۔ امریکی حکام کے مطابق روس مبینہ طور پر ایران کو امریکی فوجی پوزیشنز کے بارے میں انٹیلیجنس معلومات بھی فراہم کر رہا ہے۔ کریملن کے مطابق اس جنگ کی وجہ سے روسی توانائی مصنوعات کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ یہ بیان اس کے ایک دن بعد سامنے آیا جب امریکا نے بھارت کو روسی تیل خریدنے کے لیے 30 دن کی چھوٹ دی۔