اسرائیل پر ایران کے حالیہ میزائل حملوں میں کم از کم 90 افراد زخمی ہو گئے۔ اسرائیلی حکام نے تسلیم کیا کہ ایران نے جنوبی اسرائیل میں دو مقامات پر حملے کیے۔ اسرائیلی میزائل ڈیفنس سسٹم ان حملوں کو روکنے میں ناکام رہے۔ ان حملوں کا نشانہ اسرائیل کا مرکزی ایٹمی تحقیقی مرکز رہا۔الجزیرہ اور سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی میزان نے کہا کہ ایران نے اسرائیل کے ڈیمونا پر حملہ کر کے نتنز (ایران کی مرکزی ایٹمی افزودگی کی تنصیب) پر کیے گئے حملے کا بدلہ لیا ہے۔ میزان نے کہا کہ اس تنصیبی مرکز میں کسی بھی قسم کی تابکاری کا اخراج نہیں ہوا ہے۔ یہ مرکز تہران سے تقریباً 135 میل جنوب میں واقع ہے۔اسرائیل کی ہنگامی امدادی ایجنسی ’میگن ڈیوڈ ایڈوم‘ کا کہنا ہے کہ اتوار کی صبح (مقامی وقت) جنوبی اسرائیلی شہر اراد پر ہونے والے ایرانی حملے میں کم از کم 59 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ علاقے کے اسپتالوں میں لائے گئے 59 افراد میں سے چھ کی حالت تشویشناک ہے۔ میگن ڈیوڈ ایڈوم کی ٹیمیں ملبے میں دبے لوگوں کی تلاش کر رہی ہیں۔ ڈیمونا اور اراد اسرائیل کے مرکزی ایٹمی تحقیقی مرکز کے قریب واقع ہیں۔ ڈیمونا پر حملے میں کم از کم 31 افراد زخمی ہوئے ہیں۔اسرائیل کے وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے اتوار کی صبح کہا کہ ہماری فوج مشرقِ وسطیٰ میں جنگ سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے مستقبل کے لیے یہ بہت مشکل وقت ہے۔ نیتن یاہو نے اراد پر حملے کے بعد وہاں کے میئر سے بات کی۔ نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پر لکھا، ’’ہم تمام محاذوں پر اپنے دشمنوں پر حملے جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔‘‘ ان شہروں پر ہوئے حملوں کا بنیادی مقصد ڈمونا کے قریب واقع 'شمعون پیریز نیگیو نیوکلیئر ریسرچ سینٹر کو نشانہ بنانا تھا۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ یہ کارروائی اسرائیل کی جانب سے نتنز جوہری مرکز پر کیے گئے حملوں کے جواب میں کی گئی ہے۔ ایران کے ان میزائل حملوں میں دو بچوں سمیت 100 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے 11 کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق ملک کا جدید فضائی دفاعی نظام کم از کم دو بیلسٹک میزائلوں کو روکنے میں ناکام رہا، جس کی اب اعلیٰ سطحی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ واضح رہے کہ ڈمونا اور اراد شہر صحرائے نیگیو میں واقع ہیں اور اسرائیل کے حساس ڈھانچے کا حصہ ہیں۔ ڈمونا کو عالمی سطح پر اسرائیل کے مشتبہ جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کے مرکز کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اراد شہر کئی اہم اسرائیلی دفاعی اڈوں کے قریب واقع ہے اور جوہری مرکز میں کام کرنے والے اہلکاروں کی رہائش گاہ بھی ہے۔ ایران نے ان دونوں شہروں کو اس لیے منتخب کیا، کیونکہ یہ جوہری بنیادی ڈھانچے اور فوجی رسد کی ایک مشترکہ کڑی بناتے ہیں۔ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس صورتحال کو 'مستقبل کی مہم کی ایک بہت مشکل شام' قرار دیا ہے۔ انہوں نے اور آئی ڈی ایف کے چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال زمیر نے عزم ظاہر کیا ہے کہ اسرائیل تمام محاذوں پر اپنے دشمنوں کے خلاف مضبوطی سے لڑائی جاری رکھے گا۔ مسٹر نیتن یاہو نے متاثرہ شہروں کے میئروں سے بات کرکے انہیں سکیورٹی اور جوابی کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے۔ دوسری جانب اسرائیل نے تہران کے مختلف علاقوں پر تازہ حملے کیے، جن میں شہر کے مشرقی حصے میں دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ ایرانی حکام کے مطابق ان حملوں میں اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ ایران نے ردعمل میں اسرائیل اور خطے کے دیگر ممالک پر میزائل حملے جاری رکھے۔ اسرائیلی شہروں دیمونا اور عراد میں ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں تقریباً 100 افراد زخمی ہوئے۔ ایرانی فوج نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا گیا تو وہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور اسرائیل سے منسلک تمام توانائی تنصیبات کو نشانہ بنائے گا۔ ایرانی حکام نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے تہران کی فضاؤں میں ایک امریکی اسرائیلی ڈرون کو مار گرایا، جبکہ پاسداران انقلاب نے ایک اسرائیلی لڑاکا طیارہ گرانے کا بھی دعویٰ کیا، جس کی اسرائیل نے تصدیق نہیں کی۔ ایران کے جوہری ادارے کے مطابق نطنز میں جوہری تنصیبات کو امریکہ اور اسرائیل نے نشانہ بنایا، تاہم عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی نے کہا ہے کہ کسی قسم کی تابکاری خارج ہونے کے شواہد نہیں ملے۔ ایرانی وزارت صحت کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک 1500 سے زائد افراد جاں بحق اور 20 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ متعدد ہسپتالوں کو بھی خالی کرانا پڑا۔ خلیجی ممالک میں بھی صورتحال کشیدہ ہے۔ سعودی عربیہ نے درجنوں ایرانی ڈرونز اور میزائل مار گرانے کا دعویٰ کیا، جبکہ بحرین نے بھی سینکڑوں حملے ناکام بنانے کی اطلاع دی ہے۔ ادھر قطر میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہو گیا، جس کے بعد ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ اسرائیل میں ایرانی حملوں کے بعد ہنگامی اقدامات کیے گئے ہیں۔ وزیراعظم نیتن یاہو نے صورتحال کو 'انتہائی مشکل' قرار دیتے ہوئے ریسکیو اداروں کو مزید مضبوط کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اسرائیلی وزارت تعلیم نے ملک بھر میں تعلیمی ادارے بند کر دیے ہیں جبکہ جنوبی علاقوں میں اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق جنگ کے پھیلاؤ اور توانائی تنصیبات پر حملوں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے باعث معاشی اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ جنگ کا توازن تبدیل ہو رہا ہے اور اسرائیل کا فضائی دفاعی نظام کمزور پڑ رہا ہے۔ پاسداران انقلاب کے مطابق ڈیمونا، بیرالسبع (بئر السبع) اور ایلات میں حملوں کے نتیجے میں سیکڑوں اسرائیلی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ دوسری جانب ایران کی جانب سے امریکی دھمکیوں پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے، ختم الانبیاء ہیڈکوارٹر نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی بجلی گھروں پر حملہ کیا گیا تو خطے میں تمام امریکی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ خطے کے آئی ٹی انفرااسٹرکچر اور ڈی سیلینیشن پلانٹس بھی ممکنہ اہداف میں شامل ہوں گے۔ ادھر ایرانی وزیر توانائی نے کہا ہے کہ حالیہ حملوں کے باعث پانی اور بجلی کے اہم نظام کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ان کے مطابق پانی کی ترسیل اور صفائی کے درجنوں مراکز کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ امریکی و اسرائیلی حملوں میں اہم نیٹ ورکس کے کچھ حصے تباہ ہو گئے ہیں۔ وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ نقصانات کے ازالے اور مرمت کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ اسرائیلی فوج کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک ایران نے 400 میزائل داغے، ایران کے داغے گئے 92 فیصد میزائل انٹر سیپٹ کر دیے گئے۔ دوسری جانب اسرائیل دفاعی فورسز (آئی ڈی ایف) نے اتوار کو کہا کہ اس نے ایران سے راکٹ لانچ کا پتہ لگایا ہے اور انہیں روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔ فوج نے ٹیلی گرام پر کہا کہ "کچھ دیر پہلے، آئی ڈی ایف نے ایران سے اسرائیل کے علاقے کی طرف داغے گئے میزائلوں کی شناخت کی۔ اس خطرے کو روکنے کے لیے دفاعی نظام کام کر رہے ہیں۔" واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران میں کئی ٹھکانوں پر حملے شروع کیے، جس سے نقصان ہوا اور عام شہریوں کی جانیں بھی گئیں۔ ایران نے اسرائیل کے علاقے پر، ساتھ ہی مغربی ایشیا میں امریکی فوج کے ٹھکانوں پر جوابی حملے کیے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل نے شروع میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے ایٹمی پروگرام سے ممکنہ خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے ان کا "پہلے سے کیا گیا" حملہ ضروری تھا لیکن جلد ہی انہوں نے یہ واضح کر دیا کہ وہ ایران میں اقتدار کی تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں۔