جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
کلیم حاذق اپنی گمشدہ شناخت کے لیے مضطرب اوراپنے عہد کے رجحانات کا نمائندہ شاعر
  1. ہوم
  2. مضامین
مضامین

کلیم حاذق اپنی گمشدہ شناخت کے لیے مضطرب اوراپنے عہد کے رجحانات کا نمائندہ شاعر

Awaz E Bihar•18 اپریل، 2026 کو 02:25 PM•12 ویوز•8 منٹ پڑھیں

رشیدہ منصوری ہوڑہ
کلیم حاذق کے فن اور فکر کا ایک جامع اور متوازن مرقع تبھی ممکن تھا کہ ان کی تمام تخلیقات سامنے ہوتیں تاکہ ان کی تخلیقی بصیرت اور شاعرانہ جمالیات کو معروضی طور پر یکجا کیا جا سکتا تاکہ ان کا قاری ان کی تخلیقی شخصیت سے مکمل جڑ جاتا۔ لیکن اس کے باجود ان کے ریختہ اور فیس بک سے منتخب اشعار نے ان کی ادبی شخصیت کے خد و خال خوبصورتی سے نمایاں کر دیئے ۔۔ جن کی روشنی میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ کلیم حاذق کی شاعری اس عہد کا وہ آئینہ ہے جس میں ایک حساس انسان اپنی گمشدہ شناخت اور بکھرے ہوئے خوابوں کی کرچیاں تلاش کرتا نظر آتا ہے۔ ان کے فن کا آغاز ہی ایک ایسی رجائیت اور فکری بلندی سے ہوتا ہے جہاں وہ مٹی کے ذروں کو موتی بنانے کا ہنر سکھاتے ہیں اور بنجر دلوں میں خواب بونے کی ترغیب دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک بزرگی محض ظاہری جبہ و دستار کی محتاج نہیں بلکہ اصل پارسائی عجز اور چشمِ نم سے عبارت ہے، کیونکہ زندگی کی حقیقی حرارت صرف ان لوگوں کے حصے میں آتی ہے جو اس سے بھرپور پیار کرنا جانتے ہیں۔ ان کے کلام میں معاشرتی ہوس کی تپش بھی ہے اور تنہائی کے قفس میں قید اداس شاموں کا نوحہ بھی، مگر وہ اپنی انا اور خودداری کے اس مقام پر کھڑے ہیں جہاں کسی کو بار بار منانے کی ذلت اٹھانے سے بہتر وہ سورج کو اپنے ٹھکانے پر رکھنا جانتے ہیں۔
ایک اک ذرے کو موتی سا پرویا کیجئے
کھیتیاں پھر کھل اٹھیں گی خواب بویا کیجئے
جبہ و دستار کی شوکت سے کب چلتا ہے کام
پا رسائی کے لئے دامن بھگویا کیجئے
زندگی سے پیار ہے جن کو وہی ہیں سر بلند
ایسے ہی دیوانوں کے اب پاؤں دھویا کیجئے
ایک اک آنکھ پیش و پس میں ہے
شہر کا شہر کس ہوس میں ہے
ڈوبتا دن، اُداس ہر چہرہ
شام جیسے کسی قفس میں ہے
رات کٹتی نہیں اور قصہ شب ختم ہوا
چلئے کچھ روز یہ سورج بھی ٹھکانے سے رہے
اس کا غصہ کسی صورت نہیں ہوتا کافور
اور ہم بھی اسے ہر بار منانے سے رہے
سازشوں میں اک کھلا تیور نظر آنے لگا
گنبدِ بے در میں آخر در نظر آنے لگا
مختصر دنیا ہوئی یا تھک گئے ہیں میرے پاؤں
دو قدم رستہ چلے اور گھر نظر آنے لگا
بند آنکھوں کا تماشہ، کھوکھلے پاؤں کلیم
شہرِ نا پرساں میں بازی گر نظر آنے لگا
کلیم حاذق کی شاعری روایت اور جدیدیت کا ایک ایسا حسین سنگم ہے جہاں کلاسیکی رچاؤ اور عصری حسیت ایک دوسرے میں پیوست نظر آتے ہیں۔ تسلیم الٰہی زلفی کے مطابق غزل جب درباروں کی مصنوعی فضا سے نکل کر تپتی زمین اور غمِ روزگار کے تجربات سے گزری، تو اس نے زندگی کی تلخ حقیقتوں کو اپنے اندر سمو لیا؛ کلیم حاذق اسی ارتقائی تسلسل کا ایک معتبر نام ہیں۔ ان کی غزل وقت کے نمکیات، انسانی رہن سہن اور معاشرے کے تضادات کی امین ہے۔ کلیم کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی قدیم لفظیات سے آزادی اور جدید طرزِ احساس کی شمولیت ہے۔ انہوں نے کسی کی اندھی تقلید کے بجائے اپنی منزل اور سمتِ سفر کا تعین خود کیا ہے، اسی لیے ان کا فن ایک ایسے کلاسیکی چھتنار پیڑ کی مانند ہے جس کے تنے سے تازہ کونپلیں پھوٹ رہی ہوں۔ ان کے ہاں روایت سے جڑے رہنے کے باوجود ایک ایسی ندرت اور تازگی ہے جو انہیں اپنے ہم عصروں میں نمایاں کرتی ہے۔ان کے کلام میں ایک خاص قسم کا حزنیہ آہنگ، اداسی اور تنہائی کا احساس ملتا ہے، مگر یہ قنوطیت یا پست ہمتی پیدا نہیں کرتا بلکہ ایک گہری فلسفیانہ سوچ کو جنم دیتا ہے۔ وہ ماضی کے بچھڑنے اور یادوں کے ٹھہرنے کو جس فنکاری سے بیان کرتے ہیں، وہ قاری کے دل پر نقش ہو جاتا ہے۔ کلیم حاذق ریت، دریا، خاک، زنجیر اور خوشبو جیسے روایتی استعاروں کو نئے معنی عطا کرنے کے ماہر ہیں۔ ان کے ہاں ذات کی پہچان اور انا کا مسئلہ بہت اہمیت رکھتا ہے اور وہ انسانی نفسیات کے پیچیدہ پہلوؤں کو علامات کے ذریعے واضح کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ ان کے لہجے میں میر تقی میر اور دیگر اساتذہ کا رنگ جھلکتا ہے، جہاں دھیمے پن کے باوجود ایک ایسی کاٹ موجود ہے جو سادہ الفاظ میں بھی گہرے مفاہیم سمو دیتی ہے۔فکری طور پر کلیم حاذق کا مجموعہ "خوشبو کی سواری" محض الفاظ کا ذخیرہ نہیں بلکہ خون کی حدت اور فکر کی گہرائی کا مظہر ہے۔ اس میں کرب کی وادیوں میں محبوس انسانیت کی آواز اور تلخ حقیقتوں کا بے باکانہ اظہار شامل ہے۔ ان کی شاعری کے مختلف رنگوں میں کہیں یادوں کا کرب "کھرونچتا ہے وہ تمثال تیری یادوں کا" کی صورت میں ابھرتا ہے، تو کہیں "نہیں چلتا ہے زور اس کا کسی سرکش ہوا پر" جیسے مصرعوں میں عزم اور استقامت کی لہر دوڑتی دکھائی دیتی ہے۔ وہ معاشرتی رویوں کی عکاسی کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ کلمہٴ حق تو سب کی زبان پر ہے مگر سچ کی حمایت میں لوگ نظر نہیں آتے۔ ان کے ہاں ذات اور کائنات کی کشمکش اس انتہا پر ہے جہاں انسان اپنے ہی گھر کو آگ لگانے یا اپنی کشتی میں خود سوراخ کرنے کی بات کرتا ہے۔
نیند سے اٹھ کر اپنا اپنا چہرہ دیکھ رہے ہیں
کون آیا ہے شہر میں، سب آئینہ دیکھ رہے ہیں
حویلی بن گئی مسمار کر دیا گھر کو
مکیں پرستوں نے بازار کر دیا گھر کو
وہی رہتا ہے تنہا بھیڑ میں بھی
وہی جو سچ ہمارا بولتا ہے
سمجھ لیتا دل اس کا اشارہ خموشی میں بھی چہرہ بولتا ہے
میں شہزادہ ہوں دل کی مملکت کا
مری مرضی سے راجا بولتا ہے
خود اپنے خوابوں کو بے گھر چھوڑ آئے
ترے حوالے سارا منظر چھوڑ آئے
خوشبو کا شعلہ بس وہیں لپکتا ہے
اپنا موسم جس ڈالی پر چھوڑ آئے
قدم ہمارے ناپ رہی ہے سبز ہوا
ریت پر ایسا نقش بنا کر چھوڑ آئے
کلیم حاذق لفظوں کے ذریعے تصویر کشی کرنے اور خاموشی کو زبان دینے کے فن سے واقف ہیں۔ ان کے کلام میں ایک درویشانہ شان اور حالات کے سامنے ڈٹ جانے کا حوصلہ ملتا ہے۔ وہ "نا سمجھ ہونے" کو اپنے بس کا ہنر قرار دیتے ہیں اور محبتوں کی ناقدری پر شہر میں مکاں تلاش کرنے کے بجائے نئے امکانات کی جستجو پر زور دیتے ہیں۔ نئے تقاضوں کے باعث گھر کے دشوار ہونے کا ذکر ہو یا آئینہ دیکھ کر اپنا چہرہ پہچاننے کی تگ و دو، ان کی شاعری عصری انسان کے داخلی اور خارجی انتشار کی بھرپور نمائندگی کرتی ہے۔ نکھری ہوئی زبان، پختہ اسلوب اور منفرد اندازِ فکر نے انہیں جدید غزل کے اس ہراول دستے میں شامل کر دیا ہے جو روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے اسے نئے آفاق سے روشناس کرا رہے ہیں۔
دیوانگی کے نام سے بیزار ہو گیا
کل تک جنوں گلاب تھا اب خار ہو گیا
اس نے دعائے وصل دی لمحاتِ ہجر میں
یہ تیر بھی جگر سے مرے پار ہو گیا
ہمیں زمیں سہی، وہ آسماں تلاش کریں
یقین کافی نہیں تو گماں تلاش کریں
محبتوں کی کوئی قدر جب نہیں ہے یہاں
تمہارے شہر میں ہی کیوں مکاں تلاش کریں
حویلی بن گئی مسمار کر دیا گھر کو
مکیں پرستوں نے بازار کر دیا گھر کو
ہوا وسیلہٴ نکہت سہی مگر جاناں
کھلے دریچوں نے بیمار کر دیا گھر کو
تمام لوگ تجھے ڈھونڈنے نکل آئے
یہ کس ہوا میں گرفتار کر دیا گھر کو
روایتوں کی تھکن خواب سے پرے تھی مگر
نئے تقاضوں نے دشوار کر دیا گھر کو
نیند سے اٹھ کر اپنا اپنا چہرہ دیکھ رہے ہیں
کون آیا ہے شہر میں، سب آئینہ دیکھ رہے ہیں
نم آنکھوں سے دھندلا جاتی ہے آفاق کی سرحد
لیکن ہم یہ کن آنکھوں سے دنیا دیکھ رہے ہیں
ان کا فن اس مرحلے پر آ کر رکتا ہے جہاں شہر کی بدلتی ہوئی قدریں اور مکانوں کا بازار بن جانا انسان کو ہجرت اور نئی جستجو پر مجبور کر دیتا ہے۔ کلیم حاذق کے ہاں گھر کا تصور صرف چار دیواری نہیں بلکہ وہ خواب اور روایتیں ہیں جنہیں "نئے تقاضوں" کی سنگدلی نے مسمار کر دیا ہے۔ ان کی شاعری کے اس سفر کا اختتام ایک ایسی بے یقینی اور حیرت پر ہوتا ہے جہاں انسان خود کو پہچاننے کے لیے آئینے کا محتاج ہے اور نم آنکھوں کی دھندلاہٹ اسے کائنات کی سرحدوں سے پرے دیکھنے کی دعوت دیتی ہے۔ وہ محبتوں کی ناقدری والے اس شہر میں مکاں تلاش کرنے کے بجائے "گماں" اور "آسماں" کی تلاش کو ترجیح دیتے ہیں۔ کلیم حاذق کا یہ لہجہ دراصل جدید غزل کا وہ وقار ہے جو ہمیں بتاتا ہے کہ جب روایت کی تھکن خوابوں سے زیادہ بڑھ جائے تو شاعر کی بصیرت ہی وہ واحد دریچہ ہے جو بیمار گھروں کو زندگی کی تازہ ہوا سے آشنا کر سکتی ہے۔ ان کے اشعار کی یہ تڑپ اور سچائی انہیں ایک ایسے مقام پر فائز کرتی ہے جہاں وہ تخلیقی سچ کا علم بلند کیے نظر آتے ہیں۔
شیئر کریں:

More from مضامین

عبد الجلیل مستان
مضامین

عبد الجلیل مستان

28 ستمبر، 2026
آٹھ سال کے بعد اردو ڈائرکٹریٹ، پٹنہ کا بے مثال جشن اردو
مضامین

آٹھ سال کے بعد اردو ڈائرکٹریٹ، پٹنہ کا بے مثال جشن اردو

28 اگست، 2026
آزادی کے بعد آزادی کی تلاش،خواب ابھی باقی ہے
مضامین

آزادی کے بعد آزادی کی تلاش،خواب ابھی باقی ہے

21 اگست، 2026
سپریم کورٹ کا حکم، انتظامی ضوابط اور جدید معاشی تحفظ کا پیغام
مضامین

سپریم کورٹ کا حکم، انتظامی ضوابط اور جدید معاشی تحفظ کا پیغام

21 اگست، 2026
شوبھندو حکومت کے 100 دن
مضامین

شوبھندو حکومت کے 100 دن

20 اگست، 2026
​پولیس تشدد کے خلاف اہم فیصلہ
مضامین

​پولیس تشدد کے خلاف اہم فیصلہ

13 جولائی، 2026