کرناٹک کے دو بندوں والے’وندے ماترم‘ حکم کو ہائی کورٹ میں چیلنج
Awaz E Bihar••16 ویوز•4 منٹ پڑھیں
'وندے ماترم‘ کی ادائیگی سے متعلق ایک نئی قانونی جنگ کرناٹک ہائی کورٹ پہنچ گئی ہے۔ ایک مفادِ عامہ کی عرضی (پی آئی ایل) میں ریاستی حکومت کے اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے، جس کے تحت سرکاری تقریبات میں قومی گیت کو صرف پہلے دو بندوں تک محدود کردیا گیا ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ کرناٹک حکومت ایگزیکٹو حکم کے ذریعے مرکزی حکومت کے مقرر کردہ پروٹوکول کو تبدیل نہیں کرسکتی۔ یہ پی آئی ایل ایڈووکیٹ گریش بھاردواج نے ایڈووکیٹ انگد کامتھ کے ذریعے دائر کی ہے۔ اس میں یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیا ریاستی حکومت کسی قومی علامت کی شکل اور مواد کا تعین کرسکتی ہے۔ عرضی میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ جب بھی ریاستی تقریبات میں 'وندے ماترم' گایا جائے تو اسے مرکزی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ سرکاری ورژن کے مطابق پیش کیا جائے۔ توقع ہے کہ منگل کو اس معاملے کو ہائی کورٹ میں سماعت کے لیے درج کرنے کی غرض سے پیش کیا جائے گا۔ یہ چیلنج 8 ستمبر کو محکمہ عملہ و انتظامی اصلاحات (سیاسی) کی جانب سے جاری کیے گئے حکم کے خلاف ہے۔ یہ حکم 3 ستمبر کو کابینہ کے فیصلے کے بعد جاری کیا گیا تھا۔ اس میں ریاستی حکومت کے پروگراموں میں 'وندے ماترم‘ کے صرف پہلے دو بند گانے کو لازمی قرار دیا گیا ہے، تاہم صدر، نائب صدر، وزیر اعظم یا گورنر کی شرکت والی تقریبات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔عرضی گزار نے دلیل دی ہے کہ ریاستی حکومت کا یہ حکم قومی گیت سے متعلق مرکزی حکومت کی ہدایات کے براہِ راست منافی ہے۔ وزارت داخلہ نے 9 جولائی کو ریاستوں کو بھیجے گئے ایک مراسلے میں ہدایت دی تھی کہ جب بھی قومی گیت گایا جائے تو اجتماعی گائیکی کے دوران اس کے سرکاری ورژن کی ادائیگی کی جائے۔پی آئی ایل میں وفاقی ڈھانچے سے متعلق ایک وسیع تر سوال بھی اٹھایا گیا ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ ساتویں آئینی شیڈول کی ریاستی فہرست یا مشترکہ فہرست میں قومی گیت کا موضوع شامل نہیں ہے، اس لیے یہ آئین کے آرٹیکل 248 کے ساتھ پڑھے جانے والے مرکزی فہرست کے اندراج 97 کے تحت پارلیمنٹ کے باقی ماندہ قانون سازی کے اختیار میں آتا ہے۔عرضی گزار نے کہا ہےکہ ''ریاستی مقننہ جو کام قانون کے ذریعے نہیں کرسکتی، ریاستی حکومت وہ کام ایگزیکٹو حکم کے ذریعے بھی نہیں کرسکتی۔'' ان کا کہنا ہے کہ آئین کا آرٹیکل 162 ریاست کے ایگزیکٹو اختیار کو ان معاملات تک محدود کرتا ہے جو ریاست کی قانون سازی کی اہلیت کے دائرے میں آتے ہیں۔عرضی میں آئین کے آرٹیکل 256 اور 257 کا بھی حوالہ دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ریاستی حکومت کی انتظامی کارروائی مرکزی حکومت کے اختیار کے خلاف نہیں ہوسکتی۔عرضی گزار نے مزید قومی اعزاز کی توہین کی روک تھام (ترمیمی) ایکٹ، 2026 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ نے قومی گیت کو قانونی تحفظ فراہم کردیا ہے اور اس کے نتیجے میں مرکزی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ سرکاری ورژن میں ریاستی حکومت تبدیلی نہیں کرسکتی۔ پی آئی ایل میں کرناٹک کابینہ کی جانب سے اختیار کیے گئے طریقہ کار کو بھی چیلنج کیا گیا ہے۔ عرضی گزار کا الزام ہے کہ 19ویں کابینہ میٹنگ میں یہ فیصلہ ''غیر رسمی بحث'' کے طور پر کیا گیا، جبکہ متعلقہ محکمے کی جانب سے کابینہ نوٹ یا محکمہ قانون کی رائے موجود نہیں تھی۔ عرضی میں اسے کرناٹک حکومت (کاروبار کی انجام دہی) قواعد، 1977 کے منافی قرار دیا گیا ہے۔ عرضی گزار نے 'وندے ماترم سے متعلق سابقہ مقدمات سے موجودہ چیلنج کو الگ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ معاملہ افراد کو قومی گیت گانے پر مجبور کرنے سے متعلق نہیں، بلکہ اس بات سے متعلق ہے کہ کیا ریاستی حکومت مرکزی پروٹوکول کے مبینہ طور پر خلاف کوئی الگ ورژن مقرر کرسکتی ہے۔؎ عرضی میں آئین کے آرٹیکل 19(1)(اے) کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ مرکزی حکومت کے مقرر کردہ طریقے کے مطابق قومی گیت گانا اظہارِ رائے کے آئینی تحفظ کے دائرے میں آتا ہے اور ایک ایگزیکٹو حکم آرٹیکل 19(2) کے تحت اس اظہار پر پابندی عائد نہیں کرسکتا۔ اس طرح یہ مقدمہ کرناٹک حکومت کے دو بندوں والے حکم کو صرف 'وندے ماترم کے معاملے تک محدود نہیں رکھے گا بلکہ قومی علامات سے متعلق مرکزی ہدایات کے مقابلے میں ریاستی حکومت کے انتظامی اختیارات کی حدود کے وسیع تر سوال کو بھی جانچ کے دائرے میں لاسکتا ہے۔