کھرگے نے ضروری اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا، شہریوں پر بوجھ ڈالنے کا الزام
Awaz E Bihar••6 ویوز•5 منٹ پڑھیں
کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے بدھ کے روز مودی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اس کی معاشی پالیسیوں کی وجہ سے ضروری اشیاء اور خدمات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس سے عام شہریوں پر بوجھ بڑھ رہا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر ایک پوسٹ میں کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے "ملک کی اسٹریٹجک اور معاشی پالیسیوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے،" انہوں نے مزید کہا کہ اس کے اثرات "1.4 بلین ہندوستانیوں" کو محسوس ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج سے روزمرہ کی کئی ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے، جس سے گھرانے اور چھوٹے کاروبار یکساں طور پر متاثر ہوں گے۔ مخصوص شعبوں کا ذکر کرتے ہوئے کھرگے نے کمرشل ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں زبردست اضافے اور زمینی سطح پر قلت کے الزامات کی طرف اشارہ کیا۔ انہوں نے کہا، "سڑک کنارے ڈھابوں پر چائے سے لے کر مڈ ڈے میل تک، ہر چیز منفی طور پر متاثر ہوگی،" جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ قیمتوں میں اضافہ فوڈ سروسز اور فلاحی اسکیموں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔انہوں نے ہوائی جہاز کے ایندھن (اے ٹی ایف) کی قیمتوں میں اضافے کا بھی ذکر کیا اور دعویٰ کیا کہ اس سے فضائی سفر غریبوں کی پہنچ سے باہر ہو جائے گا۔ کھرگے نے کہا، "فضائی سفر اب ان لوگوں کے لیے بھی ناممکن ہو گیا ہے جو کبھی بجٹ فلائنگ پر انحصار کرتے تھے،" انہوں نے قیمتوں کی حد (پرائس کیپس) ہٹانے پر بھی تنقید کی۔ کانگریس لیڈر نے مزید الزام لگایا کہ 900 سے زائد ضروری ادویات مہنگی ہو گئی ہیں، جس سے صحت کی سہولیات کی استطاعت کے بارے میں خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "علاج کی لاگت میں مزید اضافہ ہوا ہے،" اور کورونری اسٹینٹ کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔ کھرگے نے ٹول ٹیکس میں اضافے کو "ہائی وے ڈکیتی" قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی اور اسپیڈ پوسٹ کے چارجز میں مبینہ طور پر 34 فیصد اضافے کا ذکر کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ پلاسٹک کی اشیاء، اسٹیل اور سیرامکس جیسے مواد کی قیمتوں میں اضافے کے کثیر جہتی اثرات ہوں گے۔ انہوں نے کہا، "کسانوں کے ذریعے استعمال کیئے جانے والے پی وی سی پائپ مہنگے ہو گئے ہیں، بٹومین کی قیمتوں میں 50 فیصد تک اضافہ ہوا ہے، اور تعمیراتی شعبہ شدید دباؤ میں ہے۔" حکمراں بی جے پی پر معاشرے کے اہم طبقات کو نظر انداز کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کھرگے نے کہا، "ایسے وقت میں جب عام لوگ، کسان، مزدور اور ایم ایس ایم ای صنعتیں جدوجہد کر رہی ہیں اور ریلیف کی امید لگائے ہوئے ہیں، بی جے پی قیادت انہیں نظر انداز کر رہی ہے اور اس کے بجائے عوام کا استحصال کرنے اور مشکل وقت میں منافع خوری پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔"یہ ریمارکس مہنگائی اور زندگی گزارنے کی لاگت کے حوالے سے اپوزیشن اور حکومت کے درمیان جاری سیاسی لفظی جنگ کے دوران سامنے آئے ہیں۔ جہاں اپوزیشن لیڈر مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ان کے معاش پر اثرات کا مسئلہ اٹھا رہے ہیں، وہیں حکومت کا موقف ہے کہ اس کے معاشی اقدامات کا مقصد طویل مدتی استحکام کو یقینی بنانا، مہنگائی پر قابو پانا اور تمام شعبوں میں ترقی کو فروغ دینا ہے۔ ایوان میں وقفہ سوالات کی کارروائی شروع ہونے سے ٹھیک پہلے، مسٹر کھرگے نے کہا کہ حکومت جب چاہتی ہے بل لاتی ہے، جس بھی معاملے پر چاہتی ہے بحث کراتی ہے اور بیان دیتی ہے، لیکن اگر اپوزیشن کسی بھی مسئلے پر بحث کا مطالبہ کرے تو اسے مسترد کر دیا جاتا ہے۔قائد حزب اختلاف نے کہا کہ انہوں نے خود دو بار ضابطہ 176 کے تحت مختصر دورانیے کی بحث کے لیے نوٹس دیا تھا جسے قبول نہیں کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پوری دنیا ایل پی جی اور گیس کے لیے پریشان ہے لیکن حکومت کے پاس اس پر بات کرنے کا وقت نہیں ہے، جبکہ قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ اس پر مسٹر ریجیجو نے جواب دیا کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں متعلقہ وزراء نے بیانات دیے ہیں اور وزیراعظم نے بھی دونوں ایوانوں میں مغربی ایشیا کی صورتحال پر بیان دیا ہے۔ یہاں تک کہ فائننس بل پر بحث کے دوران بھی زیادہ تر اپوزیشن ارکان نے ایل پی جی کے معاملے پر ہی اپنی بات رکھی تھی، جس کا وزیر خزانہ نے تفصیل سے جواب دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے حالات کو بہتر طریقے سے سنبھالا ہے اور پیٹرول و ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی میں 10 روپے کی کٹوتی کرنے کا تاریخی قدم اٹھایا ہے۔ پارلیمانی امور کے وزیر نے اپوزیشن کو اس معاملے پر سیاست نہ کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اسی معاملے پر بلائی گئی کل جماعتی میٹنگ میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں کے قائدین حزب اختلاف (بالترتیب راہل گاندھی اور جناب کھرگے) شریک نہیں ہوئے تھے۔ ان کی اس بات پر ایوان میں حکمران جماعت اور اپوزیشن کے درمیان ہلکی نوک جھونک دیگھی گئی۔ مسٹر کھرگے نے جواب دیتے ہوئے پوچھا کہ "آپ کے وزیراعظم کہاں تھے؟" انہوں نے کہا کہ اگر میٹنگ میں وزیراعظم کے نمائندے موجود تھے، تو کانگریس کے بھی سینیئر نمائندے وہاں شریک تھے۔اس پر مسٹر رجیجو نے اپوزیشن پر اپنی ذمہ داریوں سے بھاگنے، الٹے سیدھے بیانات دینے اور وزیراعظم کو دن رات گالی دینے کے الزامات لگائے۔