خدا بخش لائبریری صرف بہار نہیں بلکہ ملک کا عظیم علمی ورثہ، اس کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے: محمد شرف الدین خان
Awaz E Bihar••0 ویوز•3 منٹ پڑھیں
خان بہادر خدا بخش خاں کے پوتے نے یومِ خدا بخش پر مزار پر چادر پوشی کی، لائبریری کی خستہ حالی پر تشویش، حکومت سے فوری توجہ کا مطالبہ
پٹنہ، 5 اگست: خان بہادر خدا بخش خاں کے پوتے محمد شرف الدین خان نے کہا ہے کہ خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری محض ایک ادارہ نہیں بلکہ ہندوستان کی علمی، تہذیبی اور تاریخی شناخت کی علامت ہے۔ اس عالمی شہرت یافتہ لائبریری میں محفوظ نادر و نایاب مخطوطات، قدیم کتابیں اور تاریخی نوادرات پوری انسانیت کا مشترکہ علمی سرمایہ ہیں، جن کی حفاظت اور بقا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس قومی ورثے کے تحفظ، ترقی اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ یومِ خدا بخش خاں کے موقع پر حسبِ روایت خان بہادر خدا بخش خاں کے مزار پر چادر پوشی اور فاتحہ خوانی کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے محمد شرف الدین خان نے لائبریری کے مختلف شعبوں کا معائنہ کیا اور وہاں کی موجودہ صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ جلد ہی بہار کے موجودہ گورنر سے ملاقات کرکے خدا بخش لائبریری کی ترقی، بنیادی سہولیات اور انتظامی مسائل پر تفصیلی گفتگو کریں گے تاکہ اس تاریخی ادارے کو درپیش مشکلات کا مستقل حل نکالا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ لائبریری کو اس وقت سب سے زیادہ ضرورت تربیت یافتہ عملے اور مؤثر سیکورٹی نظام کی ہے۔ ملازمین کی شدید کمی کے باعث قیمتی اور نادر کتابوں کی مناسب دیکھ بھال نہیں ہو پا رہی، جس کے نتیجے میں عالمی اہمیت کا حامل یہ علمی ذخیرہ گرد و غبار کی نذر ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتِ حال نہایت تشویشناک ہے اور اگر بروقت توجہ نہ دی گئی تو ناقابلِ تلافی نقصان کا اندیشہ ہے۔ محمد شرف الدین خان نے مزید کہا کہ لائبریری کی بعض عمارتیں خستہ حال ہو چکی ہیں، جن کی مرمت، رنگ و روغن اور ضروری تزئین و آرائش وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے حکومتِ ہند اور حکومتِ بہار سے اپیل کی کہ اس تاریخی علمی ادارے کے تحفظ، جدید خطوط پر فروغ اور بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی کے لیے خصوصی فنڈ فراہم کیے جائیں تاکہ آنے والی نسلیں بھی اس عظیم علمی ورثے سے مستفید ہو سکیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ خدا بخش خاں نے لائبریری کے قیام کے لئے سب کچھ قربان کردیا ۔انہوں نے کہ کہ خدا بخش کے خاندان کے افراد کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جانا چاہیے ۔لائبرئبری کے معتبر ذرائع نے کہا کہ موجودہ ڈائریکٹر ابھی دو ماہ قبل آئے ہیں اب دھیرے دھیرے لائبریری کے تمام کام انجام دیے جائیں گے ڈائریکٹر موصوف بہت ہی فعال ہیں اس لئے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔