جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
کماراسوامی نے کرناٹک کی سیاست میں فوری واپسی کے امکانات کو مسترد کر دیا
  1. ہوم
  2. سیاست
سیاست

کماراسوامی نے کرناٹک کی سیاست میں فوری واپسی کے امکانات کو مسترد کر دیا

Awaz E Bihar•10 جولائی، 2026 کو 05:58 PM•0 ویوز•5 منٹ پڑھیں

مرکزی وزیرِ فولاد ایچ ڈی کماراسوامی نے جمعہ کے روز اپنے سیاسی مستقبل سے متعلق جاری تمام قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ فی الحال ان کا کرناٹک کی سیاست میں واپس آنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔البتہ انہوں نے اشارہ دیا کہ وہ ریاست میں جنتا دل (سیکولر) کو دوبارہ مضبوط بنانے کے لیے زیادہ فعال کردار ادا کریں گے۔ریاست میں اپنی سرگرمیوں اور مسلسل دوروں سے متعلق خبروں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کماراسوامی نے کہا کہ ان کے بار بار کرناٹک آنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ فوراً ریاستی سیاست میں واپسی کر رہے ہیں۔ انہوں نے صحافیوں سے کہاکہ "ریاست میں آنے کا مطلب یہ نہیں کہ میں کل ہی واپس آ رہا ہوں۔ میں ریاست اور مرکز، دونوں جگہ اپنی ذمہ داریاں نبھا رہا ہوں۔"
کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مرکزی حکومت میں ان کی ذمہ داریاں اب بھی ان کی اولین ترجیح ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بطور رکنِ لوک سبھا ان کی مدتِ کار کے ابھی تین سال باقی ہیں اور مرکز نے انہیں اہم ذمہ داریاں سونپ رکھی ہیں۔انہوں نے کہاکہ "میں اس وقت مرکزی وزیر ہوں اور لوک سبھا کے رکن کے طور پر میری مدت کے تین سال باقی ہیں۔ مرکز نے مجھے کچھ اہم ذمہ داریاں دی ہیں، جنہیں میں انجام دے رہا ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ میں ریاست میں پارٹی کو مضبوط بنانے کے لیے بھی سرگرم رہوں گا۔"
کماراسوامی کے اس بیان کو ان کی قومی ذمہ داریوں اور کرناٹک میں ان کے سیاسی اثر و رسوخ کے درمیان توازن قائم رکھنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ساتھ اتحاد کے بعد جنتا دل (سیکولر) اپنی سیاسی بنیاد دوبارہ مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ان کے اس بیان سے ان قیاس آرائیوں پر بھی روک لگ گئی ہے کہ وہ ریاست میں پارٹی کی انتخابی مہم کی قیادت کے لیے جلد ہی نئی دہلی میں اپنا عہدہ چھوڑ سکتے ہیں۔
اگرچہ انہوں نے ریاستی سیاست میں فوری واپسی کے امکان کو مسترد کیا، تاہم واضح کیا کہ جنتا دل (سیکولر) کی تنظیمی ازسرِ نو مضبوطی ان کی اہم ترجیحات میں شامل رہے گی۔ ان کا یہ بیان اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کہ پارٹی آئندہ انتخابات سے قبل بی جے پی۔جے ڈی (ایس) اتحاد کے کارکنوں کو متحد رکھنے اور اتحاد میں اپنے کردار کو نئی شکل دینے کی کوشش کر رہی ہے۔
مجوزہ ہری یور اسمبلی ضمنی انتخاب کے بارے میں کماراسوامی نے کہا کہ پارٹی کارکنوں کی جانب سے جنتا دل (سیکولر) کا امیدوار میدان میں اتارنے کے لیے کافی دباؤ ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس معاملے پر اتحادی جماعت بی جے پی کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔
انہوں نے کہاکہ "ہری یور سے انتخاب لڑنے کے لیے ہمارے کارکنوں کا دباؤ ہے۔ میں نے اس معاملے پر بی جے پی کی اعلیٰ قیادت اور ہری یور حلقے کے رہنماؤں سے بات چیت کی ہے۔ ہمارے پاس ابھی وقت ہے، دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے۔"اس بیان سے اشارہ ملتا ہے کہ نشستوں کی تقسیم کے بارے میں ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ہری یور کا ضمنی انتخاب بی جے پی اور جنتا دل (سیکولر) کے درمیان انتخابی ہم آہنگی کا پہلا بڑا امتحان سمجھا جا رہا ہے، جہاں دونوں جماعتیں اتحاد کے سیاسی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی انتخابی حکمت عملی کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں۔
بنگلورو میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کماراسوامی نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا جن میں کہا گیا تھا کہ ایچ ایم ٹی نے جنگلاتی زمین پر قبضہ کر رکھا ہے۔ انہوں نے سرکاری دستاویزات پیش کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ اراضی کو 1960 میں ہی قانونی طور پر جنگلاتی زمین کی فہرست سے خارج کر دیا گیا تھا اور محکمہ جنگلات سے عدم اعتراض سرٹیفکیٹ (این او سی) حاصل کرنے کے بعد اسے ایچ ایم ٹی کے حوالے کیا گیا تھا۔انہوں نے کہاکہ "محکمہ جنگلات کا ایچ ایم ٹی کی زمین سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ریاستی حکومت کا اس پر کوئی حق یا دعویٰ نہیں بنتا۔ جو لوگ الزامات لگا رہے ہیں، وہ دستاویزات کی جانچ کرنے کے لیے آزاد ہیں۔"
کماراسوامی نے سابق وزیر جنگلات اور موجودہ وزیر پنچایت راج ایشور کھنڈرے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوال کیا کہ وہ دیگر مقامات پر بڑے پیمانے پر جنگلاتی زمینوں پر قبضوں کو نظر انداز کرکے صرف ایچ ایم ٹی کی زمین کو ہی کیوں نشانہ بنا رہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ "بطور وزیر جنگلات اپنے تین سالہ دور میں آپ نے حقیقتاً کتنی جنگلاتی زمین واگزار کرائی؟ وسیع رقبوں پر غیر قانونی قبضے موجود ہیں، پہلے اس کا جواب دیں۔"
مرکزی وزیر نے الزام لگایا کہ ایشور کھنڈرے سیاسی مقاصد کے تحت ایسی زمین کو، جو تقریباً چھ دہائیاں پہلے قانونی طور پر جنگلاتی علاقے سے خارج کی جا چکی تھی، اب تجاوزات قرار دے رہے ہیں۔
کماراسوامی نے کہا کہ ایچ ایم ٹی زمین کا تنازع پہلے ہی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب اس تاریخی سرکاری ادارے کے لیے بحالی پیکیج حاصل کرنے کی کوششیں آخری مرحلے میں تھیں، عین اسی وقت محکمہ جنگلات کے ایک افسر نے من مانے طریقے سے ایچ ایم ٹی کو زمین خالی کرنے کا نوٹس جاری کر دیا۔
انہوں نے ریاستی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کدرے مکھ آئرن اور کمپنی لمیٹڈ (کے آئی او سی ایل) کا بھی ذکر کیا اور الزام لگایا کہ حکومت نے اس سرکاری ادارے سے 546 کروڑ روپے سے زیادہ کا محصول وصول کرنے کے باوجود گزشتہ دو برسوں سے اسے کان کنی کی اجازت نہیں دی، جس سے روزگار اور صنعتی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔
شیئر کریں:

More from سیاست

ہندوستان میں دہشت گردی کو برداشت نہیں کیا جائے گا:مودی
سیاست

ہندوستان میں دہشت گردی کو برداشت نہیں کیا جائے گا:مودی

27 ستمبر، 2026
ووٹ چوری سے آئین و جمہوریت ختم ہو رہی ہے: راہل گاندھی
سیاست

ووٹ چوری سے آئین و جمہوریت ختم ہو رہی ہے: راہل گاندھی

24 ستمبر، 2026
جموں و کشمیر اسمبلی میں ہنگامہ، پہلے ہی دن بی جے پی ارکان کا احتجاج
سیاست

جموں و کشمیر اسمبلی میں ہنگامہ، پہلے ہی دن بی جے پی ارکان کا احتجاج

21 ستمبر، 2026
ترقی یافتہ ہندوستان کے سفر کے مرکز میں ہے ملک کی نوجوان طاقت: مودی
سیاست

ترقی یافتہ ہندوستان کے سفر کے مرکز میں ہے ملک کی نوجوان طاقت: مودی

19 ستمبر، 2026
رمیش نے شی جن پنگ سے ملاقات کے بعد مودی کی چین پالیسی پر سوال اٹھائے، سرحد، آپریشن سندور اور معاشی انحصار کا معاملہ اٹھایا
سیاست

رمیش نے شی جن پنگ سے ملاقات کے بعد مودی کی چین پالیسی پر سوال اٹھائے، سرحد، آپریشن سندور اور معاشی انحصار کا معاملہ اٹھایا

13 ستمبر، 2026
’بچوں کی زندگی میں داخل ہونا ہوگا‘، یوم اساتذہ پر وزیراعظم نریندر مودی کی اساتذہ سے اپیل
سیاست

’بچوں کی زندگی میں داخل ہونا ہوگا‘، یوم اساتذہ پر وزیراعظم نریندر مودی کی اساتذہ سے اپیل

5 ستمبر، 2026