مہاراشٹر میں آنگن واڑی اعزازیہ بحران، ادائیگی میں تاخیر نے نظامِ فلاح کو ہلا دیا
Awaz E Bihar••6 ویوز•7 منٹ پڑھیں
مہاراشٹر میں آنگن واڑی کارکنان اور معاونین کے اعزازیہ کی ادائیگی میں طویل تاخیر نے ایک بڑے سیاسی اور انتظامی بحران کو جنم دیا ہے، اپوزیشن جماعت شیو سینا (یو بی ٹی) نے الزام عائد کیا ہے کہ گزشتہ ساڑھے تین ماہ سے ادائیگیاں رکی ہوئی ہیں، جس کے باعث لاکھوں خواتین کارکنان اپنی روزمرہ زندگی کے اخراجات پورے کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔ یہ معاملہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب پارٹی کے سرکاری سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جمعرات 2 اپریل کو جاری بیان میں حکومت سے سوال کیا گیا کہ جو کارکنان بچوں کی دیکھ بھال، غذائیت، صحت اور دیگر بنیادی خدمات انجام دے رہی ہیں، انہیں بروقت معاوضہ کیوں فراہم نہیں کیا جا رہا۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ صورتحال حکمرانی، جوابدہی اور فلاحی نظام کی سنجیدگی پر سنگین سوالات کھڑے کرتی ہے۔ مزید برآں، این سی پی (ایس پی) کے رکن اسمبلی جینت پاٹل نے بھی یکم اپریل کو اس مسئلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ادائیگی میں تاخیر کی بنیادی وجہ مرکزی حکومت کی جانب سے فنڈز کے اجراء میں رکاوٹ ہے۔ ان کے مطابق مہاراشٹر میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ آنگن واڑی کارکنان اس تاخیر کے باعث شدید مالی بحران کا شکار ہو چکی ہیں، جو فلاحی نظام میں موجود ایک بڑی ساختی کمزوری کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس پورے معاملے کی جڑ انٹیگریٹڈ چائلڈ ڈیولپمنٹ سروسز (ICDS) کے نظام میں ہے، جو 1975 میں شروع کیا گیا تھا اور اس وقت "مشن سکشم آنگن واڑی اور پوشن 2.0" کے تحت نافذ العمل ہے۔ اس نظام کے تحت آنگن واڑی کارکنان (سیوکائیں) اور معاونین گاؤں اور محلوں کی سطح پر بنیادی صحت اور غذائیت کی خدمات فراہم کرتے ہیں، جو ماں اور بچے کی صحت کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہیں۔ ان کارکنان کی ذمہ داریاں نہایت وسیع اور کثیر الجہتی ہیں، جن میں بچوں کے لیے غذائیت سے بھرپور کھانا فراہم کرنا، چھ سال سے کم عمر بچوں کو ابتدائی تعلیم دینا، حفاظتی ٹیکہ کاری میں تعاون، صحت کی باقاعدہ جانچ، بچوں کی نشوونما کی نگرانی، حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کو مشورے دینا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ یہ گھر گھر جا کر سروے کرتی ہیں، ''پوشن ٹریکر'' ایپ کے ذریعے ڈیجیٹل ریکارڈ رکھتی ہیں اور مختلف سرکاری اسکیموں کے نفاذ میں بھی معاونت فراہم کرتی ہیں۔ مہاراشٹر میں ان کی ذمہ داریوں میں مزید اضافہ ہوا ہے، جہاں انہیں "ماجھی لڑکی بہن یوجنا" جیسی اسکیموں کے مستحقین کی تصدیق جیسے اضافی کام بھی سونپے گئے ہیں، تاہم ان اضافی ذمہ داریوں کے مقابلے میں ان کے اعزازیہ میں کوئی نمایاں اضافہ نہیں کیا گیا، جس سے کارکنان میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ آنگن واڑی کارکنان کو سرکاری ملازمین کا درجہ حاصل نہیں ہے، بلکہ انہیں رضاکارانہ خدمات انجام دینے والا تصور کیا جاتا ہے اور انہیں تنخواہ کے بجائے ''اعزازیہ'' دیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے انہیں نہ ملازمت کا تحفظ حاصل ہے اور نہ ہی مکمل سماجی تحفظ یا دیگر سرکاری مراعات، جس سے ان کی معاشی حالت مزید غیر مستحکم ہو جاتی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق پورے ملک میں تقریباً 14 لاکھ آنگن واڑی کارکنان اور معاونین خدمات انجام دے رہے ہیں، جو تقریباً 15 کروڑ 80 لاکھ مستحقین تک خدمات پہنچاتے ہیں، جبکہ صرف مہاراشٹر میں ہی تقریباً 2 لاکھ کارکنان 50 لاکھ بچوں اور خواتین کو خدمات فراہم کرتے ہیں۔ ایسے میں اس نظام میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ سال 2026 کے مطابق ایک آنگن واڑی کارکن کو تقریباً 13 ہزار روپے ماہانہ اعزازیہ ملتا ہے، جس میں مرکزی حکومت کی جانب سے 4500 روپے اور 500 روپے ترغیبی رقم جبکہ ریاستی حکومت کی جانب سے 8500 روپے شامل ہیں۔ معاونین کو مجموعی طور پر تقریباً 7500 روپے ماہانہ ملتے ہیں۔ تاہم مرکزی حصہ اکتوبر 2018 کے بعد سے نہیں بڑھایا گیا، جس پر ملک بھر میں مسلسل اعتراضات سامنے آتے رہے ہیں۔ ادائیگی میں تاخیر کوئی نیا مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک بار بار سامنے آنے والا رجحان ہے، جو عموماً بیوروکریٹک پیچیدگیوں اور فنڈز کے اجراء میں تاخیر سے جڑا ہوتا ہے۔ بروقت ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں کارکنان کو اپنی جیب سے اخراجات برداشت کر کے خدمات جاری رکھنی پڑتی ہیں، جو ان کے لیے ایک اضافی مالی بوجھ بن جاتا ہے۔ ان مسائل کے علاوہ کارکنان کو کم معاوضہ، طویل اوقات کار، اضافی ذمہ داریاں، اور صحت کے مسائل جیسے تناؤ، خون کی کمی اور دیگر بیماریوں کا بھی سامنا ہے۔ انہیں نہ کم از کم اجرت دی جاتی ہے، نہ مہنگائی الاؤنس اور نہ ہی مکمل سماجی تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔ اگرچہ کچھ اسکیموں کے تحت بیمہ اور طبی سہولیات دستیاب ہیں، لیکن وہ کارکنان کے بنیادی مطالبات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی سمجھی جاتی ہیں۔ ریاست میں انفراسٹرکچر اور تحفظ کے مسائل بھی درپیش ہیں، جہاں کئی آنگن واڑی مراکز بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور کارکنان کو دور دراز علاقوں میں بغیر مناسب سیکیورٹی کے جانا پڑتا ہے۔ ان تمام مسائل کے باعث ریاست بھر میں وقتاً فوقتاً احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آئے ہیں، جن میں پونے اور ناسک جیسے شہروں میں حالیہ مظاہرے بھی شامل ہیں۔ اس سے قبل 2023-24 میں 53 دن طویل ہڑتال بھی کی جا چکی ہے، جس میں کارکنان نے اعزازیہ میں اضافہ، مستقل ملازمت کا درجہ، پنشن اور بہتر سہولیات کا مطالبہ کیا تھا۔ قومی سطح پر بھی مختلف تنظیموں نے مرکزی اعزازیہ میں اضافہ اور کارکنان کو سرکاری ملازم کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا ہے، تاہم اب تک اس حوالے سے کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ سیاسی سطح پر یہ معاملہ حکمراں اتحاد اور اپوزیشن کے درمیان شدید تنازع کا باعث بن گیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے اسے ’’ڈبل انجن حکومت‘‘کی ناکامی قرار دیتے ہوئے مرکز اور ریاست کے درمیان ہم آہنگی کے فقدان پر سوال اٹھائے ہیں۔ شیو سینا (یو بی ٹی) کے لیڈر ادھو ٹھاکرے نے بھی کارکنان کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے مطالبات خیرات نہیں بلکہ ان کا حق ہیں۔ کارکنان کے مطابق ادائیگی میں تاخیر کا اثر براہ راست ان کی زندگی پر پڑ رہا ہے، جہاں انہیں کرایہ، بچوں کی تعلیم اور طبی اخراجات پورے کرنے میں دشواری ہو رہی ہے، جبکہ کچھ کو اضافی روزگار تلاش کرنا پڑ رہا ہے، جس سے ان کی خدمات بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ یہ بحران صرف کارکنان تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات پورے فلاحی نظام پر مرتب ہو سکتے ہیں، کیونکہ آنگن واڑی مراکز بچوں کی غذائیت، تعلیم اور صحت کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان خدمات میں خلل بچوں کی نشوونما اور غذائی قلت کے خلاف جاری کوششوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ فی الحال ریاستی حکومت کی جانب سے اس تاخیر پر کوئی واضح سرکاری بیان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مرکزی فنڈز کے اجراء میں تاخیر اس کی بڑی وجہ ہے۔ اپوزیشن نے فوری مداخلت اور بقایاجات کی ادائیگی کا مطالبہ کیا ہے۔ موجودہ صورتحال نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ ملک کے فلاحی نظام میں کام کرنے والی خواتین کارکنان نہایت اہم کردار ادا کرنے کے باوجود مالی عدم استحکام اور ادارہ جاتی بے توجہی کا شکار ہیں، اور ان کے مسائل کے حل کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔