مہوا موئترا نے رات کے وقت سرکٹ ہاؤس خالی کرانے پر لوک سبھا اسپیکر سے شکایت کی
Awaz E Bihar••24 ویوز•3 منٹ پڑھیں
کولکاتا، 15 اگست : مغربی بنگال کے کرشن نگر پارلیمانی حلقے کی رکنِ پارلیمنٹ مہوا موئترا نے الزام عائد کیا ہے کہ یومِ آزادی کی شام ضلع انتظامیہ نے انہیں نادیہ واقع سرکٹ ہاؤس خالی کرنے کے لیے کہا، جبکہ اسی دوران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے کارکنوں نے ان کے گھر کا گھیراؤ کرکے نعرے بازی کی۔ محترمہ موئترا نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو لکھے ایک خط میں الزام عائد کیا کہ رات 9 بج کر 45 منٹ پر ان سے سرکٹ ہاؤس خالی کرنے کو کہا گیا۔ اسی دوران بی جے پی کارکنوں نے مبینہ طور پر عمارت کا گھیراؤ کرکے ان کے خلاف نعرے بازی کی۔ انہوں نے خط میں کہا کہ اس واقعے نے خاتون ارکانِ پارلیمنٹ کی سلامتی اور وقار کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ وہ کلکتہ ہائی کورٹ سے رجوع کر سکتی ہیں اور کہا کہ وہ پیر کو لوک سبھا میں خصوصی مراعات کی تحریک پیش کریں گی۔ محترمہ موئترا نے خط میں بتایا کہ وہ جمعہ کی شام تقریباً 6 بج کر 15 منٹ پر سرکٹ ہاؤس پہنچی تھیں۔ تقریباً سات بجے انہیں چائے پیش کی گئی اور رات 9 بج کر 20 منٹ پر انہیں کھانا دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ رات 9 بج کر 47 منٹ پر نادیہ کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی جانب سے انہیں فون آیا اور عمارت خالی کرنے کے لیے کہا گیا۔ خط میں کہا گیا ہے، ''جب میں نے وجہ پوچھی تو مجھے بتایا گیا کہ 'اوپر سے' حکم آیا ہے۔'' انہوں نے کہا کہ ضلع انتظامیہ نے رات 10 بج کر 52 منٹ پر واٹس ایپ کے ذریعے انہیں حکم کی نقل بھیجی، جس میں کمرے کی بکنگ منسوخ کرنے کی وجہ سالانہ صفائی مہم بتائی گئی تھی۔ رکنِ پارلیمنٹ نے خط میں کہا کہ ان کی بکنگ نئی تھی اور بکنگ کرانے یا سرکٹ ہاؤس پہنچنے کے وقت انتظامیہ کی جانب سے انہیں ایسی کسی کارروائی کے بارے میں مطلع نہیں کیا گیا تھا۔ انہوں نے انتظامیہ کی کارروائی کے وقت پر بھی سوال اٹھایا اور پوچھا کہ اگر نئی بکنگ روکنے سے متعلق پہلے سے کوئی ہدایت تھی تو انہیں اس کی اطلاع رات میں ہی کیوں دی گئی۔ محترمہ موئترا نے کہا کہ سلامتی اور رہائش کے معاملات میں ارکانِ پارلیمنٹ کو ترجیح دی جاتی ہے۔ مرکزی وزارتِ داخلہ کے پروٹوکول کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ارکانِ پارلیمنٹ کو ترجیحی فہرست میں 21ویں مقام پر رکھا گیا ہے۔ انہوں نے استدلال کیا کہ اپنے پارلیمانی حلقے میں گئی کسی رکنِ پارلیمنٹ کو ایسے حالات میں سرکٹ ہاؤس خالی کرنے کے لیے نہیں کہا جانا چاہیے۔ محترمہ موئترا نے لوک سبھا اسپیکر سے معاملے کی تحقیقات کرانے اور مناسب کارروائی کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے سے خواتین کی سلامتی کے حوالے سے سوالات اٹھتے ہیں۔