جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
وندے ماترم کو قانونی لزوم دینا مذہبی و آئینی آزادی پر حملہ :مسلم پرسنل لا بورڈ
  1. ہوم
  2. قومی
قومی

وندے ماترم کو قانونی لزوم دینا مذہبی و آئینی آزادی پر حملہ :مسلم پرسنل لا بورڈ

Awaz E Bihar•31 جولائی، 2026 کو 07:32 PM•50 ویوز•4 منٹ پڑھیں

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے ترمیمی بل منظور کرکے وندے ماترم کی توہین کو قابلِ سزا جرم قرار دینے کے اقدام پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملک کے آئینی، سیکولر اور جمہوری مزاج کے منافی اور شہریوں کی مذہبی آزادی پر ایک سنگین حملہ قرار دیا ہے ۔ بورڈ کے مطابق قانون سازی کے ذریعے کسی مخصوص مذہبی تصور یا عقیدے کو ملک کے تمام شہریوں پر مسلط کرنا دستورِ ہند کی بنیادی روح سے متصادم ہے ۔آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے جاری کردہ اپنے بیان میں کہا کہ وندے ماترم کو قانونی جبر کے ذریعے تمام طبقات اور مذہبی برادریوں پر لازم کرنے کی کوشش نہ صرف نازیبا بلکہ دستور کے بنیادی اصولوں کے بھی خلاف ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دستور سازی کے مرحلے میں دستور ساز اسمبلی نے گہرے غور و خوض کے بعد وندے ماترم کے ابتدائی دو بندوں کو ہی قومی سطح پر قبول کیا تھا، جبکہ اس کے دیگر حصوں کے مذہبی مفاہیم کو ملک کے سیکولر کردار کے ساتھ ہم آہنگ نہیں سمجھا گیا تھا۔ڈاکٹر الیاس نے کہا کہ وندے ماترم کے بعض مندرجات ایسے مذہبی تصورات پر مبنی ہیں جن میں وطن کو ایک دیوی کی صورت میں پیش کرکے اس کی وندنا کی دعوت دی گئی ہے ۔ مسلمان کے لیے یہ تصور اس کے بنیادی عقیدۂ توحید سے صریحاً متصادم ہے ۔
انہوں نے واضح کیا کہ مسلمان صرف اللہ وحدۂ لاشریک کی عبادت کرتا ہے اور اس کی ذات، صفات، حقوق واختیارات میں کسی بھی درجے کا شرک اس کے ایمان کے منافی ہے ۔ چنانچہ کسی مسلمان کو اس کے عقیدے کے خلاف کسی مذہبی مفہوم کے حامل گیت، نعرے یا عمل میں شرکت پر مجبور کرنا ناقابلِ قبول ہے ۔انہوں نے کہا کہ دستورِ ہند کی دفعہ 25ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل اور اس کی پیروی کی آزادی عطا کرتی ہے ، جبکہ دفعہ 19اظہارِ رائے کی آزادی کی ضمانت فراہم کرتی ہے ۔ ان آئینی ضمانتوں کا واضح تقاضا ہے کہ کسی شہری کو اس کے مذہبی عقیدے اور ضمیر کے خلاف کسی گیت، نعرے ، نظریے یا علامت کو اختیار کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ترجمان نے سپریم کورٹ کے معروف فیصلہ BijoeEmmanuelبنام ریاستِ کیرالہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالتِ عظمیٰ نے حتیٰ کہ قومی ترانے جن گن من کے معاملے میں بھی یہ اصول تسلیم کیا کہ اگر کسی شخص کا مذہبی عقیدہ اسے کسی مخصوص عمل میں شرکت سے روکتا ہو تو اسے محض عدمِ شرکت کی بنیاد پر سزا نہیں دی جاسکتی۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ اظہارِ رائے کی آزادی میں بعض حالات میں خاموش رہنے کا حق بھی شامل ہے اور احترام کے ساتھ عدمِ شرکت کو بے احترامی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ڈاکٹر الیاس نے کہا کہ وطن سے محبت اور وطن کی پوجا دو الگ تصورات ہیں۔ مسلمان اپنے وطن سے محبت کو اپنے دینی و شہری فریضے کا حصہ سمجھتے ہیں، لیکن وہ وطن کو معبود یا دیوی کا درجہ نہیں دے سکتے ۔ انہوں نے کہا کہ حب الوطنی کا معیار کسی مخصوص نعرے یا گیت کی ادائیگی نہیں بلکہ ملک، اس کے آئین، عوام اور ان کے حقوق کے ساتھ وفاداری ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ ایسے حساس اور تقسیم پیدا کرنے والے اقدامات کے بجائے ملک کو درپیش حقیقی مسائل-بے روزگاری، مہنگائی، غربت، تعلیم، صحت، معاشی عدمِ مساوات اور سماجی ناانصافی-کے حل پر توجہ مرکوز کرے ۔ عوام کی توجہ بنیادی مسائل سے ہٹا کر جذباتی اور مذہبی تنازعات کو ہوا دینا نہ ملک کے مفاد میں ہے اور نہ ہی جمہوریت کے ۔ڈاکٹر الیاس نے کہا کہ ایک مضبوط اور متحد ہندوستان وہی ہوگا جہاں ہر شہری کو مساوی عزت، انصاف اور آزادی حاصل ہو، جہاں کسی کی حب الوطنی کو اس کے مذہبی عقیدے کے ترازو میں نہ تولا جائے اور جہاں آئین کی بالادستی، مذہبی آزادی اور شہری حقوق کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جائے ۔
شیئر کریں:

More from قومی

 مودی سرکار مساجد و عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنا چاہتی ہے
قومی

مودی سرکار مساجد و عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنا چاہتی ہے

29 ستمبر، 2026
امن ہندوستان کی پالیسی، کمزوری نہیں، دہشت گردی پر ضروری قدم اٹھائیں گے: راج ناتھ
قومی

امن ہندوستان کی پالیسی، کمزوری نہیں، دہشت گردی پر ضروری قدم اٹھائیں گے: راج ناتھ

27 ستمبر، 2026
ایس آئی آر کا فیصلہ متفقہ تھا، کابینہ سکریٹری کو لکھے گئے خط کا کسی پالیسی سے تعلق نہیں: الیکشن کمیشن
قومی

ایس آئی آر کا فیصلہ متفقہ تھا، کابینہ سکریٹری کو لکھے گئے خط کا کسی پالیسی سے تعلق نہیں: الیکشن کمیشن

26 ستمبر، 2026
گیانیش کمار کے استعفے و گرفتاری کے مطالبے حق میں کانگریس کا ملک گیر مظاہرہ
قومی

گیانیش کمار کے استعفے و گرفتاری کے مطالبے حق میں کانگریس کا ملک گیر مظاہرہ

25 ستمبر، 2026
گیانیش کمار نے دو دنوں میں استعفیٰ نہیں دیا تو ملک گیر تحریک ہوگی: سی جے پی
قومی

گیانیش کمار نے دو دنوں میں استعفیٰ نہیں دیا تو ملک گیر تحریک ہوگی: سی جے پی

24 ستمبر، 2026
الیکشن کمیشن کی 14 اعتراضات پر وضاحت، اختلافِ رائے کو معمول قرار دیا
قومی

الیکشن کمیشن کی 14 اعتراضات پر وضاحت، اختلافِ رائے کو معمول قرار دیا

23 ستمبر، 2026