سڑک جام کرنے کے معاملے میں رکن پارلیمنٹ اقرا حسن کو ملزم بنایا
Awaz E Bihar••38 ویوز•3 منٹ پڑھیں
کیرانہ سے سماجوادی پارٹی (ایس پی) کی رکن پارلیمنٹ (ایم پی) اقرا حسن کو بھی 19 مئی کو ڈی آئی جی سہارنپور رینج ابھیشیک سنگھ کے دفتر کے باہر سڑک جام کرنے کے معاملے میں ملزم بنایا گیا ہے۔ پولیس رپورٹ میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے۔ گزشتہ 19 مئی کو اقرا حسن جسالہ شاملی کے مونو قتل کیس میں ان کی ماں اور دیگر اہل خانہ کے ساتھ انصاف کی فریاد کرنے گئی تھیں۔ الزام ہے کہ ڈی آئی جی نے ان کے معاملے پر غور نہیں کیا اور انہیں اپنے چیمبر سے باہر نکال دیا۔ اس کے بعد ایم پی اقرا حسن سابق درجہ حاصل ریاستی وزیر مانگے رام کشیپ، ان کے ساتھ تیز پال سنگھ کشیپ، اجے کشیپ، انوج کشیپ، شیش پال کشیپ اور ستیا پال کشیپ وغیرہ کے ساتھ آگے کی حکمت عملی پر بات چیت کر رہی تھیں تو اسی دوران مہیلا تھانہ (خواتین تھانہ) پولیس اقرا حسن کو پولیس لائنز واقع مہیلا تھانہ لے گئی اور مانگے رام کشیپ وغیرہ کو تھانہ صدر بازار پولیس نے امن عامہ میں خلل ڈالنے کی دفعات کے تحت گرفتار کر کے سٹی مجسٹریٹ کلدیپ سنگھ کی عدالت میں پیش کیا، جنہوں نے انہیں ضمانت دینے کے بجائے جیل بھیج دیا۔ اپنے ساتھیوں کو جیل بھیجے جانے کی خبر ملنے پر اقرا حسن اور ان کے حامیوں نے مانگے رام کشیپ اور ان کے ساتھیوں کی رہائی کے مطالبے کو لے کر رات نو بجے تک تھانہ صدر بازار میں دھرنا دیا۔ ایس پی سٹی ویوم بندل اور سٹی مجسٹریٹ کلدیپ سنگھ کے اس بھروسے پر کہ جیل بھیجے گئے کشیپ سماج کے تمام چھ لوگوں کو 20 مئی کی صبح چھوڑ دیا جائے گا، دھرنا ختم ہو گیا۔ دھرنے کے دوران ایم پی اقرا حسن لگاتار اور پرزور انداز میں پولیس حکام سے کہہ رہی تھیں کہ انہیں بھی جیل بھیجا جائے لیکن سہارنپور کی پولیس انتظامیہ خاموش رہی۔ دھرنے کی خبریں سوشل میڈیا پر مسلسل پھیلنے سے سپی ایم ایل اے آشو ملک، سابق ایم ایل اے ویریندر ٹھاکر، سابق ایم ایل اے ماویہ علی، سابق ایم ایل اے منوج چودھری وغیرہ بڑی تعداد میں صدر تھانے پر ڈٹ گئے اور مظفر نگر کے ایم پی ہریندر ملک وغیرہ بھی کارکنوں کے ساتھ سہارنپور کے لیے روانہ ہو گئے۔ پولیس انتظامیہ نے اقرا حسن کو وہاں سے آرام سے جانے دیا۔ اب سوالات اٹھ رہے ہیں کہ جب ان کو بھی ایف آئی آر میں اسی جرم کے لیے نامزد کیا گیا تھا جس میں مانگے رام کشیپ وغیرہ کو جیل بھیجا گیا، تو اقرا حسن کو گرفتار کر کے جیل بھیجنے میں حکام کے سامنے کیا مشکل تھی۔ اقرا حسن تو دھڑلے سے اسی تھانے میں ڈٹی رہی تھیں۔ دھرنا ختم کرتے ہی وہ مونو کشیپ کی ماں اور اپنے بڑے بھائی و ایم ایل اے ناحید حسن کے ساتھ لکھنؤ روانہ ہو گئیں جہاں اکھلیش یادو اور ڈمپل یادو نے متاثرین کی بات سنی اور دو لاکھ روپے کی امدادی رقم کا چیک پیش کیا۔ اس معاملے میں آج ایس پی سٹی ویوم بندل نے صحافیوں کو بتایا کہ پولیس کارروائی کر رہی ہے۔ اس پورے واقعے سے ایس پی کو سیاسی فائدہ پہنچتا دکھائی دے رہا ہے۔ پورے معاملے پر بی جے پی لیڈران بھی چپ سادھے ہوئے ہیں۔ پورا معاملہ پسماندہ ذات کے کشیپ سماج سے جڑا ہوا ہے، اس لیے اس پورے واقعے کا اثر یقینی طور پر اسمبلی انتخابات پر پڑے گا۔