جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
مادری زبان، ماں کی پہچان: شمیم احمد کی زبانی اردو کی داستان
  1. ہوم
  2. مضامین
مضامین

مادری زبان، ماں کی پہچان: شمیم احمد کی زبانی اردو کی داستان

Awaz E Bihar•21 فروری، 2026 کو 01:29 PM•3 ویوز•6 منٹ پڑھیں

مادری زبان پر موت کا سناٹا کیوں ہے؟

ازقلم : محمد فاروق
کہتے ہیں انسان کی پہچان ماں کی گود میں بنتی ہے، اور اس کی زبان کا تعین بھی ماں ہی کرتی ہے۔ وہ آواز جو بچپن میں کانوں میں رس گھولتی ہے، وہ لفظ جو ماں پیار سے دہراتی ہے، وہی ہماری مادری زبان ہے۔ یہ محض بول چال کا ذریعہ نہیں، وجود کی بنیاد ہے، تہذیب کا آئینہ ہے اور خیالات کی سب سے سچی ترجمان ہے۔ یہ وہ امانت ہے جو ہمیں بزرگوں سے ملی، اور یہ ہمارا فرض ہے کہ اسے آنے والی نسلوں تک پہنچائیں۔ جب ہم اپنی مادری زبان میں بات کرتے ہیں تو دل کے سب سے گہرے جذبات بھی بے ساختہ نکل آتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں 21 فروری عالمی یومِ مادری زبان کے طور پر منایا جاتا ہے، تاکہ انسان اپنی جڑوں سے جڑا رہے اور اپنی زبان کی مٹھاس نہ بھولے۔
مگر افسوس! آج سوال یہ ہے کہ مادری زبان پر موت کا سناٹا کیوں طاری ہے؟ اردو اکادمی کیوں خاموش ہے؟ جب اسکول اساتذہ سے خالی ہوں اور اکادمی بے حسی کی چادر اوڑھ لے، تو ہم کس منہ سے یومِ مادری زبان منائیں گے؟
اس خاص موقعے پر ہم مغربی بنگال کے ایک ایسے شخص کا تذکرہ کر رہے ہیں جس نے اپنی مادری زبان اردو کے لیے نہ صرف آواز بلند کی، بلکہ پوری تحریک کو اپنے کندھوں پر اٹھا لیا۔ یہ شخصیت ہیں شمیم احمد، جنہیں اردو والے پیار سے ’قائداردو‘ کہتے ہیں۔ انہوں نے دکھا دیا کہ اگر جذبہ ہو تو ایک عام آدمی بھی کیا کچھ کر سکتا ہے۔
بات ان دنوں کی ہے جب مغربی بنگال کی قریب ایک کروڑ اردو آبادی اپنی زبان کا حق دلانے کو ترس رہی تھی۔ انجمن ترقی اردو اور حکومت کے درمیان آنکھ مچولی جاری تھی۔ وعدے کیے جاتے اور پھر مکر جاتے۔ اسی دوران شمیم احمد نے ٹھان لیا کہ اب بس بہت ہوا۔
شمیم احمد خود بتاتے ہیں کہ وہ نہ اردو کے پروفیسر تھے، نہ بڑے ادیب یا شاعر۔ بالکل عام آدمی تھے، روزمرہ ہی کی طرح دہلی سے کولکتہ آئے۔ ایک دوست نے دھرمتلہ میں ہونے والی اردو کانفرنس میں چلنے کو کہا، تو وہ ایک عام سامع کی طرح پہنچ گئے۔ وہاں اعلان ہوا کہ حکومت اردو کو دوسری سرکاری زبان بنانے پر راضی ہے۔ انہوں نے بھی دوسروں کی طرح خوشی منائی، اخبارات میں مبارکبادیں دیں۔
لیکن کچھ دنوں بعد پتہ چلا کہ یہ سب جھوٹ تھا، حکومت نے صاف انکار کر دیا۔ اس دن وہ سمجھ گئے کہ یہ کوئی کھیل نہیں، سازش ہے اور ان کی زبان کے ساتھ دھوکہ ہو رہا ہے۔ دل میں غصہ تھا، درد تھا، تبھی انہوں نے طے کیا کہ اب کسی کے پیچھے نہیں بھاگنا، اپنی محنت سے نئی شروعات کرنی ہے۔
یہ وہ دور تھا جب بائیں بازو (لیفٹ فرنٹ) کی حکومت اپنے عروج پر تھی اور 2006 میں اسے شاندار جیت ملی تھی۔ ایسے میں حکومت کے خلاف آواز اٹھانا آسان نہیں تھا۔ شمیم احمد کے اپنے لوگ بھی ڈراتے، سمجھاتے، مگر وہ ڈٹے رہے۔ ان کا یقین تھا کہ جب خدا نے دل میں یہ جذبہ ڈالا ہے تو وہی مدد کرے گا۔
شمیم احمد نے اکیلے یہ مہم چھیڑ دی۔ گاؤں گاؤں، شہر شہر لوگوں سے ملے۔ 2012 میں کولکاتا کے میٹرو چینل پر ہزاروں کا مجمع ہوا، پھر یہ تحریک دہلی کے جنتر منتر تک جا پہنچی۔ لوگوں کا جوش دیدنی تھا۔ آخر کار یہ تحریک رنگ لائی اور بنگال اسمبلی میں اردو کو دوسری سرکاری زبان بنانے کا بل پاس ہوا۔
مگر کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔ بل پاس ہونے کے بعد نو ماہ تک گورنر کے دستخط کا انتظار رہا۔ پھر سے تحریکیں ہوئیں، نادر شاہ کے مقبرے کے سامنے مظاہرے کیے گئے۔ بالآخر وہ دن آیا جب گورنر نے دستخط کیے اور اردو کو اس کا حق مل گیا۔ اس دن شمیم احمد نے اعلان کیا کہ ان کا مقصد پورا ہو گیا، اب اردو کی ترقی کی ذمہ داری ان لوگوں پر ہے جو اس زبان میں پڑھے لکھے ہیں، جو لاکھوں کما رہے ہیں، جو شاعر و ادیب ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ ان 12-14 سالوں میں کیا بدلا؟ کیا اردو سچ میں ترقی کر پائی؟ عالمی یومِ مادری زبان پر شمیم احمد نے پھر اسی درد بھری آواز میں کہا کہ حالات پہلے سے بدتر ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ جب لیفٹ حکومت تھی، اردو کو سرکاری درجہ نہیں تھا، مگر اسکولوں میں اساتذہ تھے، پڑھائی کا ماحول تھا۔ آج سرکاری درجہ ملنے کے بعد اردو اسکول اساتذہ سے خالی ہو چکے ہیں۔ ہزاروں عہدے خالی ہیں، بھرتی نہیں ہو رہی۔
شمیم احمد نے اردو اکادمی کے کام کاج پر بھی سوال کھڑے کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے جو چیئرمین ہوتے تھے، وہ اردو کے بڑے نام ہوتے تھے، جنہیں زبان کی باریکیوں کا پورا علم تھا۔ آج اکادمی میں ایسے لوگوں کو بٹھا دیا گیا ہے جن کا اردو سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔
وہ سوال کرتے ہیں کہ کیا بنگلہ اکادمی میں کسی ایسے شخص کو جگہ مل سکتی ہے جو بنگلہ نہیں جانتا؟ پھر اردو اکادمی کے ساتھ یہ ناانصافی کیوں؟ یہاں چپل بنانے والے سے لے کر ٹھیکیدار تک سب بیٹھ گئے ہیں۔ یہ محض سرکاری فنڈ کی بربادی ہے۔
ان کے مطابق اکادمی کا کام صرف مشاعرے اور قوالیاں کرانا نہیں۔ اصل ذمہ داری یہ ہے کہ حکومت کو بتائے کہ کہاں اساتذہ کی کمی ہے، کس اسکول میں بنیادی سہولیات نہیں۔ اگر اکادمی صرف پانچ چھ چہروں کے سہارے چلتی رہے گی تو اردو کی ترقی کیسے ہوگی؟
شمیم احمد نے براہِ راست موجودہ چیئرمین ندیم الحق سے اپیل کی ہے کہ اگر انہیں اپنی زبان سے محبت ہے تو اس کرسی سے استعفیٰ دے دیں، کیونکہ اس کرسی پر وہی بیٹھ سکتا ہے جو اردو کو سمجھتا ہو، جس نے اردو میں تعلیم حاصل کی ہو۔ ان کا صاف کہنا ہے کہ جب تک اسکولوں میں اساتذہ نہیں آئیں گے، بچوں کو کتابیں نہیں ملیں گی، تب تک یہ چکا چوند بھرے پروگرام اردو کو نہیں بچا سکتے۔
شمیم احمد کا درد صاف جھلکتا ہے۔ وہ شخص جس نے بغیر کسی عہدے کے، صرف اپنے دم پر ایک زبان کو اس کا حق دلایا۔ آج جب وہ دیکھتے ہیں کہ وہی زبان پھر نظر انداز ہو رہی ہے، تو ان کا دل ٹوٹ جاتا ہے۔
اس عالمی یومِ مادری زبان پر ان کا پیغام واضح ہے کہ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اپنی مادری زبان کو صرف جشن کا موضوع نہ بنائیں، بلکہ اسے اسکولوں، کالجوں اور گلیوں تک میں زندہ رکھیں۔ اپنی مادری زبان سے پیار کریں، اسے پڑھیں، اپنے بچوں کو بھی پڑھائیں۔ مادری زبان ہی ہماری اصل پہچان ہے۔
آئیے، اس دن ہم سب یہ عہد کریں کہ چاہے کتنی بھی زبانیں سیکھ لیں، اپنی مادری زبان کو کبھی نہیں بھولیں گے اور اسے آنے والی نسلوں تک پہنچانے کی کوشش کرتے رہیں گے۔ یہی ان لاکھوں لوگوں کو سچی خراجِ عقیدت ہوگی جنہوں نے زبان کے لیے قربانیاں دیں۔
آپ کو عالمی یومِ مادری زبان بہت بہت مبارک ہو۔ اپنی زبان پر ناز کیجیے، اسے سلام کیجیے!

شیئر کریں:

More from مضامین

عبد الجلیل مستان
مضامین

عبد الجلیل مستان

28 ستمبر، 2026
آٹھ سال کے بعد اردو ڈائرکٹریٹ، پٹنہ کا بے مثال جشن اردو
مضامین

آٹھ سال کے بعد اردو ڈائرکٹریٹ، پٹنہ کا بے مثال جشن اردو

28 اگست، 2026
آزادی کے بعد آزادی کی تلاش،خواب ابھی باقی ہے
مضامین

آزادی کے بعد آزادی کی تلاش،خواب ابھی باقی ہے

21 اگست، 2026
سپریم کورٹ کا حکم، انتظامی ضوابط اور جدید معاشی تحفظ کا پیغام
مضامین

سپریم کورٹ کا حکم، انتظامی ضوابط اور جدید معاشی تحفظ کا پیغام

21 اگست، 2026
شوبھندو حکومت کے 100 دن
مضامین

شوبھندو حکومت کے 100 دن

20 اگست، 2026
​پولیس تشدد کے خلاف اہم فیصلہ
مضامین

​پولیس تشدد کے خلاف اہم فیصلہ

13 جولائی، 2026