جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
مفتی شمائل اور جاوید اختر کے مناظرہ کا تعین
  1. ہوم
  2. مضامین
مضامین

مفتی شمائل اور جاوید اختر کے مناظرہ کا تعین

Awaz E Bihar•27 دسمبر، 2025 کو 10:48 AM•0 ویوز•10 منٹ پڑھیں

جعفر حسین ماپکر
جاوید اختر صاحب اور مفتی شمائل صاحب کے درمیان گفتگو یا آپ اسے مناظرہ کہہ لیں، محض ایک بحث نہیں، بلکہ دو مختلف نظریات کا ٹکراؤ تھا. جہاں ایک طرف مفتی صاحب کے دلائل منطقی، فہم إدراك کو لیکر تھے، وہیں جاوید اختر جذبات کو لیکر اپنے موقف پر قائم اور آخیر تک غیر مطمئن ہی رہے. جاوید اختر صاحب ایک کھُلے اور واضح مُلحِد (Atheist) اور ترقی پسند دانشور ہیں۔ وہ مذہب اور خدا کے تصور کو منطق، انسانی عقل اور سائنسی شواہد کی کسوٹی پر پرکھنے کے قائل ہیں. ​انہیں اللہ تعالیٰ کے وجود پر قائل کرنے کے لیے روایتی یا جذباتی تقریروں کے بجائے کچھ خاص علمی اور عقلی مناہج (Approaches) کی ضرورت تھی. جاوید اختر کے بارے میں اکثر تنقید نگاروں نے یہ نُکتہ اٹھایا ہے کہ وہ الحاد کے کوئی "مبلغ" یا داعی نہیں تھے، بلکہ محض ایک آزاد خیال ادیب تھے۔ ایسے شخص کے لیے اتنے بڑے پیمانے پر "علمی محاذ" کھولنے کی ضرورت نہیں تھی، بلکہ ان سے عام فہم اور محبت بھرے انداز میں بھی بات کی جا سکتی تھی. اس مناظرہ کے کچھ اہم نکات پر بات کرتے ہیں.

مفتی شمائل کا بنیادی مقدمہ نظمِ کائنات (Argument from Design) پر ہوتا ہے—کہ اتنی پیچیدہ کائنات خود بخود نہیں بن سکتی. ​عامیانہ سطح پر، یہ بات دل کو لگتی ہے کہ "گھڑی ہے تو گھڑی ساز بھی ہوگا"۔
​جاوید اختر کا موقف: وہ ارتقاء (Evolution) اور فزکس کے قوانین کو کائنات کی ترتیب کا ذمّہ دار مانتے ہیں اور سوال اٹھاتے ہیں کہ "اگر ہر چیز کو کسی نے بنایا ہے، تو خدا کو کس نے بنایا؟"
​3. جذباتی وابستگی بمقابلہ فکری بغاوت
​جاوید اختر کا الحاد محض علمی نہیں بلکہ سماجی بھی ہے۔ وہ مذہب کو انسان کی بنائی ہوئی ایک ضرورت سمجھتے ہیں. ان کا مسئلہ یہ ہے کہ اگر ہر چیز کو کسی نے بنایا ہے، تو خدا کو کس نے بنایا؟" مذہب کے ماننے والے اگر خدا ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں تو وہ ثابت کریں. ان کا نقطہ نظر یہ ہے کہ جو وجود کا دعویٰ کر رہا ہے، ثبوت اسے دینا چاہیے. جاوید اختر کا اصرار تھا کہ مفتی صاحب کوئی ایسا ٹھوس مادی ثبوت دیں جو انسانی حواس سے پرکھا جا سکے، نہ کہ صرف ذہنی منطق.

​اکثر ایسے مناظروں کا نفسیاتی پہلو، یہ ہوتا ہے کہ، اس میں کوئی بھی فریق اپنی شکست تسلیم کرنے یا "مطمئن" ہونے کے لیے نہیں بیٹھتا۔
​مفتی صاحب کا مقصد: اپنے عقیدے کا دفاع اور سامعین کے ایمان کو تقویت دینا تھا۔
​جاوید صاحب کا مقصد: مذہب کے روایتی تصورات پر سوال اُٹھانا تھا۔
بحث کا​خلاصہ
جاوید صاحب جیسے ملحدین کے لیے خدا ایک "شخصی وجود" ہے جس کا ثبوت کائنات میں مادّی طور پر ملنا چاہیے۔ جبکہ مفتی صاحب کے لیے خدا "واجب الوجود" ہے جس کا ادراک عقل سےکیا جاتا ہے. ملحدین کے نزدیک جاوید صاحب کے غیر مطمئن ہونے کی چند وجوہات میں سے ملحدین کا یہ اعتراض کرنا کہ مذہبی مفکرین "خلاؤں کے خدا" (God of the Gaps) کا سہارا لیتے ہیں۔ یعنی جہاں سائنس خاموش ہے، وہاں خدا کو بٹھا دیا جاتا ہے .

​مفتی شمائل کے دلائل ان لوگوں کے لیے بہت وزنی ہیں جو کائنات میں ایک "مقصدیت" (Purpose) دیکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن جاوید اختر کے لیے وہ صرف "خوبصورت باتیں" ہیں جن کے پیچھے ان کے بقول کوئی ٹھوس مادی حقیقت نہیں. یہ "اطمینان" اس لیے نہیں ہوا کیونکہ دونوں کے نزدیک سچائی کا معیار الگ ہے۔

ان دونوں کی بحث کو تھوڑی دیر کے لئے بھول کر ہم کچھ اپنے طور پر کہنے کی کوشش کرتے ہیں.
1: جاوید اختر انسانی حقوق اور اخلاقیات کے علمبردار ہیں۔ ان سے یہ سوال کیا جا سکتا تھا کہ اگر کائنات محض ایک حادثہ ہے اور کوئی خدا نہیں، تو "اچھائی" اور "بُرائی" کے عالمی پیمانے کہاں سے آئے؟ اگر مادہ ہی سب کچھ ہے، تو اخلاقیات محض کیمیاوی ردعمل (Chemical Reactions) ہونی چاہئیں، لیکن انسان اسے ایک"مقدس ذمہ داری" سمجھتا ہے،تو یہ ادارک کس نے دیا؟

2: قدیم مسلم فلاسفہ (جیسے ابن سینا یا امام غزالی) کے "واجب الوجود" (Necessary Being) کے تصورات پر علمی گفتگو۔ یہ دلیل کہ ہر حادث (پیدا ہونے والی چیز) کے لیے ایک علت (Cause) کا ہونا ضروری ہے، اور سلسلۂ اسباب کو کہیں نہ کہیں ایک ایسی ہستی پر رُکنا چاہیے جو خود کسی کی محتاج نہ ہو.

شعور کی حقیقت (The Problem of Consciousness)
​سائنس مادی اشیاء کی وضاحت تو کر سکتی ہے، لیکن "شعور" (Consciousness) یا "میں" کا احساس کہاں سے آتا ہے؟ مادہ (Matter) بے جان ہے، تو اس سے احساسات اور جذبات کیسے پیدا ہوئے؟ جاوید اختر سے اس نکتے پر گفتگو کی جا سکتی تھی کہ انسانی روح یا شعور کی ماورائی حقیقت کسی اعلیٰ ہستی کے وجود کی طرف اشارہ کرتی ہے
جو مادے سے بالاتر ہے.
3: خدا کی تعریف ہی یہ ہے کہ وہ "غیر مخلوق" (Uncreated) اور "ازلی" (Eternal) ہے۔ اگر ہم یہ کہیں کہ خدا کو کسی اور نے بنایا ہے، تو پھر وہ "خدا" نہیں رہے گا، بلکہ وہ ایک "مخلوق" بن جائے گا۔ پھر سوال پیدا ہوگا کہ اس کے خالق کو کس نے بنایا؟ اس طرح یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوگا، جسے منطق میں "تسلسل" (Infinite Regress) کہا جاتا ہے، جو کہ عقلی طور پر ناممکن ہے.
4: جاوید اختر کا یہ بار بار نکتہ اٹھانا کے اگر خدا ہے تو اس نے فلسطین کی تباہی پر خاموشی کیوں اختیار کی، کیوں پینتالیس ہزار بچوں کے قتل پر وہ خاموش رہا، اسرائیل کو روکا کیوں نہیں؟جاوید اختر صاحب کا یہ سوال نیا نہیں ہے، بلکہ یہ فلسفے اور مذہب کی تاریخ کا ایک قدیم ترین سوال ہے جسے "مسئلہ شر" (Problem of Evil) کہا جاتا ہے۔ ان کا نقطہ نظر خالصتاً عقلیت پسندی (Rationalism) اور انسانی ہمدردی پر مبنی ہے، جو ایک ایسے شخص کا بیانیہ ہے جو کائنات کو صرف مادّی اور انسانی زاویے سے دیکھتا ہے. ​ان کے اس اعتراض اور اس کے جواب میں موجود مختلف پہلوؤں کو ہم اس طرح سمجھ سکتے ہیں. جاوید اختر ایک ملحد (Atheist) کے طور پر یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر ایک قادرِ مطلق اور رحیم خدا موجود ہے، تو وہ معصوم بچوں کے قتل عام پر مداخلت کیوں نہیں کرتا؟ ان کی منطق یہ ہے کہ، ​اگر خدا بااختیار ہے اور نہیں روک رہا، تو وہ (نعوذ باللہ) ظالم ہے. ​اگر وہ روکنا چاہتا ہے مگر روک نہیں سکتا، تو وہ کمزور ہے (خدا نہیں۔) ​چونکہ ظلم جاری ہے، اس لیے وہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ ایسی کسی ہستی کا وجود ہی نہیں ہے. مذہبی مفکرین اس سوال کا جواب "آزمائش" اور "انسانی خود مختاری" (Free Will) کے تصور سے دیتے ہیں. خود قرآن مجید میں ارشاد ہے.
وَقُلِ الْحَقُّ مِن رَّبِّكُمْ ۖ فَمَن شَاءَ فَلْيُؤْمِن وَمَن شَاءَ فَلْيَكْفُرْ ۚ إِنَّا أَعْتَدْنَا لِلظَّالِمِينَ نَارًا أَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا. سورۃ نمبر 18 الكهف آیت نمبر 29 کی تفسیر:
کفار مکہ کی طرف سے کوئی درمیانی راستہ نکالنے کی کوششوں کے جواب میں یہاں حضور کی زبان مبارک سے واضح اور دو ٹوک انداز میں اعلان کرایا جا رہا ہے کہ تمہارے رب کی طرف سے جو حق میرے پاس آیا ہے وہ میں نے تم لوگوں کے سامنے پیش کردیا ہے۔ اب تمہارے سامنے دو ہی راستے ہیں اسے من و عن قبول کرلو یا اسے رد کر دو ۔ لیکن یاد رکھو اس میں کچھ لو اور کچھ دو کے اصول پر تم سے کوئی سودے بازی ممکن نہیں۔ یہ وہی مضمون ہے جو سورة الدھر میں اس طرح بیان ہوا ہے : اِنَّا ہَدَیْنٰہُ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاکِرًا وَّاِمَّا کَفُوْرًا یعنی ہم نے انسان کے لیے ہدایت کا راستہ واضح کردیا ہے اور اس کو اختیار دے دیا ہے کہ اب چاہے وہ شُکر گزار بنے اور چاہے نا شُکرا۔
اِنَّآ اَعْتَدْنَا للظّٰلِمِيْنَ نَارًا ۙ اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا. ہم نے ظالموں کے لئے آگ تیار کی ہوئی ہے.

5: یہاں ​ارادہِ انسانی (Free Will) کی بات کی جارہی ہے. اسلام اور دیگر مذاہب کے مطابق خدا نے انسان کو اچھے اور بُرے کے انتخاب کی آزادی دی ہے۔ اگر خدا ہر برائی کو فوری طور پر روک دے، تو انسان کے "امتحان" اور "اختیار" کا تصور ختم ہو جائے گا۔ فلسطین میں جو ہو رہا ہے، وہ انسانی ظلم ہے، اور اس کا حساب انسانوں سے ہی ہونا ہے، جو خاموش تماشائی بنے تھے.
​دنیا کی حیثیت: مذہب کی رو سے یہ دنیا جائے جزا نہیں بلکہ جائے امتحان ہے۔ یہاں کی تکلیفیں عارضی ہیں اور اصل انصاف آخرت میں قائم ہوگا. ​خدا کی خاموشی کا مطلب "رضا" نہیں: قرآن کے مطابق، خدا ظالموں کو ڈھیل دیتا ہے تاکہ وہ اپنے ظلم کی انتہا کر دیں، جس کے بعد ان کی پکڑ زیادہ سخت ہوتی ہے.

6: جاوید اختر کے اس سوال کا ایک تنقیدی رُخ یہ بھی ہے کہ جب ہم فلسطین جیسے مظالم پر خدا سے سوال کرتے ہیں، تو ہم کہیں نہ کہیں انسانی ذمّہ داری سے پہلو تہی کر رہے ہوتے ہیں.
​سوال یہ بھی ہونا چاہیے کہ مسلم ممالک کو امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا ادراک ہونے کے باوجود بھی یہ ممالک، اسرائیلی بربریت پر خاموش کیوں تھے؟ یہ ایک نہایت اہم اور تلخ سوال ہے جو اس وقت دنیا بھر کے مسلمانوں اور انصاف پسند لوگوں کے ذہنوں میں گردش کر رہا ہے. غزہ اور فلسطین کی صورتحال پر مسلم ممالک کی "خاموشی" یا "بے عملی" کے پیچھے کئی پیچیدہ سیاسی، اقتصادی منصوبہ بندی اور حکمت عملی عوامل کارفرما ہیں. کئی مسلم ممالک کی معیشتیں مغربی ممالک، خاص طور پر امریکہ اور یورپی یونین کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔ تجارت، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کے لیے وہ ان طاقتوں پر منحصر ہیں جو اسرائیل کی حامی ہیں۔ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ سخت موقف اپنانے سے ان کی اپنی معیشت اور اپنے بقا کو نقصان پہنچ سکتا ہے.

کئی عرب اور مسلم ممالک دفاعی سامان اور سیکیورٹی کے لیے امریکہ پر بھروسہ کرتے ہیں۔ بعض ممالک کو یہ خدشہ بھی رہتا ہے کہ اگر انہوں نے سخت قدم اٹھایا تو خطے میں طاقت کا توازن بگڑ سکتا ہے یا انہیں براہِ راست جنگ میں گھسیٹا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ تیار نہیں ہیں. اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ عالمی برادری اور انسانی حقوق کے علمبردار کہاں ہیں؟
جب بھی سلامتی کونسل میں اسرائیل کے خلاف کوئی قرارداد آتی ہے، امریکہ یا دیگر بڑی طاقتیں اسے "ویٹو" کر دیتی ہیں، جس سے عالمی برادری مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے.

اب ​کیا یہ خدا کی ناکامی ہے یا اس نظام کی جسے انسانوں نے بنایا ہے؟ یہ قطعی طور پر اس نظام کی ناکامی ہے جو انسانوں نے "انصاف اور برابری" کے نام پر بنایا تھا۔ جب انسان اپنے بنائے ہوئے قوانین کو صرف کمزوروں پر لاگو کرتے ہیں اور طاقتور کو استثنیٰ دیتے ہیں، تو نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے.
​
​جاوید اختر کا سوال ایک جذباتی اور منطقی احتجاج ہے جو ہر اس شخص کے دل میں پیدا ہوتا ہے جو انسانی تڑپ دیکھتا ہے۔ تاہم، اہل ایمان کے لیے یہ صورتحال خدا کے نہ ہونے کی دلیل نہیں، بلکہ انسان کے ظالم ہونے اور قانون کی بے حرمتی کا ہے، انصاف کی دھجیاں اُڑنے اور اس دنیا کے "نامکمل" ہونے کا ثبوت ہے، جس کا پورا انصاف صرف خدا کی عدالت میں ہی ممکن ہے.

شیئر کریں:

More from مضامین

عبد الجلیل مستان
مضامین

عبد الجلیل مستان

28 ستمبر، 2026
آٹھ سال کے بعد اردو ڈائرکٹریٹ، پٹنہ کا بے مثال جشن اردو
مضامین

آٹھ سال کے بعد اردو ڈائرکٹریٹ، پٹنہ کا بے مثال جشن اردو

28 اگست، 2026
آزادی کے بعد آزادی کی تلاش،خواب ابھی باقی ہے
مضامین

آزادی کے بعد آزادی کی تلاش،خواب ابھی باقی ہے

21 اگست، 2026
سپریم کورٹ کا حکم، انتظامی ضوابط اور جدید معاشی تحفظ کا پیغام
مضامین

سپریم کورٹ کا حکم، انتظامی ضوابط اور جدید معاشی تحفظ کا پیغام

21 اگست، 2026
شوبھندو حکومت کے 100 دن
مضامین

شوبھندو حکومت کے 100 دن

20 اگست، 2026
​پولیس تشدد کے خلاف اہم فیصلہ
مضامین

​پولیس تشدد کے خلاف اہم فیصلہ

13 جولائی، 2026