جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
 نئے وزیر تعلیم پرہلاد جوشی ’ریپسٹوں کا محافظ‘
  1. ہوم
  2. قومی
قومی

نئے وزیر تعلیم پرہلاد جوشی ’ریپسٹوں کا محافظ‘

Awaz E Bihar•28 جولائی، 2026 کو 05:56 PM•23 ویوز•3 منٹ پڑھیں

نئی دہلی: لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف اور کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی نے نئے مرکزی وزیرِ تعلیم پرہلاد جوشی کی تقرری پر سخت اعتراض کرتے ہوئے انہیں ریپسٹوں یعنی عصمت دری کے مجرموں کا محافظ قرار دیا ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ طلبہ کے احتجاج کے بعد ایسے شخص کو وزارتِ تعلیم کی ذمہ داری دینا حیران کن اور افسوسناک فیصلہ ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ملک بھر میں تعلیمی نظام اور امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف طلبہ نے احتجاج کیا، متعدد طالبات پر لاٹھی چارج کیا گیا، لیکن حکومت نے نوجوانوں کے خدشات دور کرنے کے بجائے ایسے شخص کو وزیرِ تعلیم بنایا جو ریپسٹوں کا دفاع کرتا ہے۔
راہل گاندھی نے کہا، ’’اس سے زیادہ گھٹیا بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ کوئی شخص ریپسٹوں کو تحفظ دینے کی بات کرے۔ آج ہندوستان کے وزیرِ تعلیم ایسے شخص ہیں۔ وزیرِ اعظم کی کابینہ میں کئی لوگ موجود تھے، وہ کسی اور کو یہ ذمہ داری دے سکتے تھے، لیکن انہوں نے ایسے شخص کا انتخاب کیا جو عصمت دری کے مجرموں کا دفاع کرتا ہے۔ یہ واقعی حیران کن ہے۔‘‘
کانگریس رہنما کا یہ بیان پرہلاد جوشی کے 2022 کے اس مؤقف کے تناظر میں سامنے آیا ہے جو انہوں نے بلقیس بانو اجتماعی عصمت دری کیس کے 11 سزا یافتہ مجرموں کی قبل از وقت رہائی کے بعد اختیار کیا تھا۔ اس وقت پرہلاد جوشی نے کہا تھا کہ مجرموں کی رہائی قانونی ضابطوں کے مطابق عمل میں آئی ہے اور قانون کے تحت سزا کا مقررہ عرصہ مکمل ہونے کے بعد رہائی کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔
بلقیس بانو کیس کے مجرموں کی رہائی پر ملک بھر میں شدید عوامی اور سیاسی ردِعمل سامنے آیا تھا۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ مجرموں کی رہائی اختیارات کے غلط استعمال کی بنیاد پر کی گئی تھی۔ واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے ہفتے کے روز پرہلاد جوشی کو وزارتِ تعلیم کی ذمہ داری سونپی تھی۔
ان کی تقرری اس وقت عمل میں آئی جب دھرمیندر پردھان نے وزارتِ تعلیم سے استعفیٰ دیا۔ پردھان کے استعفے سے قبل ملک کے مختلف حصوں میں پیپر لیک کے معاملات، امتحانی نظام میں شفافیت اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبات کو لے کر طلبہ کی جانب سے مسلسل احتجاج کیا گیا تھا۔ حکومت اور طلبہ کے نمائندوں کے درمیان متعدد دور کی بات چیت کے بعد احتجاج ختم ہو گیا، تاہم اپوزیشن اب بھی حکومت پر نوجوانوں کے مستقبل کے تحفظ اور امتحانی نظام میں شفافیت برقرار رکھنے میں ناکامی کا الزام عائد کر رہی ہے۔
شیئر کریں:

More from قومی

 مودی سرکار مساجد و عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنا چاہتی ہے
قومی

مودی سرکار مساجد و عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنا چاہتی ہے

29 ستمبر، 2026
امن ہندوستان کی پالیسی، کمزوری نہیں، دہشت گردی پر ضروری قدم اٹھائیں گے: راج ناتھ
قومی

امن ہندوستان کی پالیسی، کمزوری نہیں، دہشت گردی پر ضروری قدم اٹھائیں گے: راج ناتھ

27 ستمبر، 2026
ایس آئی آر کا فیصلہ متفقہ تھا، کابینہ سکریٹری کو لکھے گئے خط کا کسی پالیسی سے تعلق نہیں: الیکشن کمیشن
قومی

ایس آئی آر کا فیصلہ متفقہ تھا، کابینہ سکریٹری کو لکھے گئے خط کا کسی پالیسی سے تعلق نہیں: الیکشن کمیشن

26 ستمبر، 2026
گیانیش کمار کے استعفے و گرفتاری کے مطالبے حق میں کانگریس کا ملک گیر مظاہرہ
قومی

گیانیش کمار کے استعفے و گرفتاری کے مطالبے حق میں کانگریس کا ملک گیر مظاہرہ

25 ستمبر، 2026
گیانیش کمار نے دو دنوں میں استعفیٰ نہیں دیا تو ملک گیر تحریک ہوگی: سی جے پی
قومی

گیانیش کمار نے دو دنوں میں استعفیٰ نہیں دیا تو ملک گیر تحریک ہوگی: سی جے پی

24 ستمبر، 2026
الیکشن کمیشن کی 14 اعتراضات پر وضاحت، اختلافِ رائے کو معمول قرار دیا
قومی

الیکشن کمیشن کی 14 اعتراضات پر وضاحت، اختلافِ رائے کو معمول قرار دیا

23 ستمبر، 2026