آپریشن ’’وعدہ حق 4‘‘ کی نئی لہر، امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
Awaz E Bihar••3 ویوز•7 منٹ پڑھیں
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ آپریشن "وعدہ حق 4" کی 95ویں لہر کے تحت بحرین سمیت خطے کے مختلف مقامات پر امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک جامع اور کثیرالجہتی کارروائی شروع کی گئی، جس میں ایرواسپیس فورس اور بحریہ نے شمالی بحرین میں امریکی پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام کو مہارت کے ساتھ نشانہ بنایا۔بیان کے مطابق اس کارروائی میں کویت میں موجود امریکی ہیمارس بیٹریز اور بحرین کے شمالی علاقے میں پیٹریاٹ میزائل سسٹم کو بھی نشانہ بنایا گیا۔پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ ان حملوں میں حج قاسم، خیبر شکن اور قادر سمیت جدید میزائل استعمال کیے گئے۔مزید بتایا گیا کہ متحدہ عرب امارات میں قائم امریکی فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا، جن میں ہیمارس لانچر یونٹس، سینئر امریکی فوجی افسران اور انسٹرکٹرز کے لیے قائم کمانڈ سینٹر اور تربیتی مرکز شامل ہیں۔بیان کے مطابق متحدہ عرب امارات میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنی اوریکل کو بھی حملے کا نشانہ بنایا گیا۔پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ یہ آپریشن جاری ہے اور آئندہ بھی مزید کارروائیوں کی تفصیلات جاری کی جائیں گی۔تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق اتوار کو جاری بیان میں ایرانی فوج نے کہا کہ کارروائی کے دوران جن فضائی اثاثوں کو تباہ کیا گیا ان میں ایک سی 130 فوجی ٹرانسپورٹ طیارہ اور دو بلیک ہاک ہیلی کاپٹر شامل ہیں۔جنوبی اصفہان میں ایک امریکی سی 130 طیارہ مار گرانے کے اعلان کے بعد ایرانی حکام نے بتایا کہ یہ کارروائی فضائیہ، بری فوج، عوامی یونٹس، بسیج فورسز اور پولیس کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ تھی، جس کے دوران دشمن کے متعدد "اڑتے ہوئے اجسام" کو نشانہ بنایا گیا۔اسی سلسلے میں ایرانی فوج نے اصفہان کے علاقے میں ایک اسرائیلی ڈرون مار گرانے کی بھی تصدیق کی ہے، جبکہ مقامی میڈیا کے مطابق امریکی پائلٹ کے ریسکیو آپریشن کے دوران ہونے والے حملوں میں پانچ ایرانی شہریوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی فوج نے پائلٹ تک پہنچنے والے ایرانیوں کو روکنے کے لیے ڈرون حملے کیے۔ ذرائع کے مطابق ریسکیو مشن کے دوران پھنس جانے والے اپنے دو ایم سی 130 طیاروں کو بھی امریکی فوج نے خود تباہ کر دیا۔ دوسری جانب سی بی ایس کے مطابق امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کارروائی کے دوران امریکی اور ایرانی افواج کے درمیان براہ راست جھڑپ بھی ہوئی۔ جبکہ فاکس نیوز کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے انکشاف کیا کہ واشنگٹن نے پائلٹ کی بازیابی سے قبل تہران کو گمراہ کرنے کے لیے ایک فریب دہ مہم بھی چلائی۔یہ تمام پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکی فوج نے صوبہ کہگیلویہ و بویر احمد میں لاپتہ دوسرے پائلٹ کو بھی بحفاظت نکال لیا ہے۔ واضح رہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اب اپنے چھٹے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔یاد رہے کہ ایف 15 ای لڑاکا طیارہ ایران کے اندر گر کر تباہ ہوا تھا، تاہم اس کے دونوں پائلٹ پیراشوٹ کے ذریعے بحفاظت نکلنے میں کامیاب رہے تھے۔ ایران نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کی فورسز نے طیارہ مار گرایا ہے اور دوسرے پائلٹ کی گرفتاری میں مدد دینے والوں کے لیے انعام کا بھی اعلان کیا گیا تھا، تاہم امریکی اسپیشل فورسز دونوں پائلٹس کو نکالنے میں کامیاب رہیں۔ ایران کے سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات بھی ایران کے خلاف جاری جنگ میں شامل ہو چکا ہے۔ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ اسے ایسی دو دستاویزات حاصل ہوئی ہیں جو متحدہ عرب امارات کی جنگ میں شمولیت کو ظاہر کرتی ہیں۔بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یکم اپریل کو ایک چینی ساختہ ونگ لونگ-2 ڈرون کی تباہی، جو صرف سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے زیر استعمال ہے، اس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ امارات اس تنازع میں شریک ہے۔اسی طرح 22 مارچ کو ایران کے جزیرہ جاسک پر اماراتی میراج 2000 لڑاکا طیارے کی پرواز کو بھی اس دعوے کے ثبوت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی کسی آزاد یا بین الاقوامی میڈیا ذریعے سے تصدیق سامنے نہیں آئی ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے بھی اس حوالے سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا گیا۔یاد رہے کہ ایران اس وقت اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں خطے میں موجود امریکی فوجی اثاثوں کی میزبانی کرنے والے ممالک، جن میں اردن، عراق اور خلیجی ریاستیں شامل ہیں، پر ڈرون اور میزائل حملے کر رہا ہے، جس سے خطے میں صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔ ٹرمپ کی 48 گھنٹے کی وارننگ مسترد، ایران کی جوابی دھمکی ایرانی مرکزی فوجی قیادت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی گئی 48 گھنٹوں کی مہلت اور سخت دھمکی کو مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی حملے کی صورت میں بھرپور اور تباہ کن جواب دیا جائے گا۔ ایران کی مشترکہ فوجی قیادت، ہیڈ کوارٹر خاتم الانبیاء مرکزی کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی علی آبادی نے اپنے بیان میں کہا کہ ٹرمپ کی دھمکی "عاجزانہ، تناؤ سے بھرپور اور غیر متوازن رویہ" کی عکاسی کرتی ہے۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ٹرمپ کے اس بیان کے جواب میں کہ "جہنم نازل ہونے میں صرف 48 گھنٹے باقی ہیں"، ایرانی کمانڈر نے دوٹوک انداز میں کہا کہ "تمہارے لیے جہنم کے دروازے کھل جائیں گے"۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر ایران کو امریکی یا اسرائیلی حملوں کا سامنا کرنا پڑا تو وہ امریکہ اور اسرائیل کے زیر استعمال تمام بنیادی ڈھانچے کو بلا کسی پابندی مسلسل اور تباہ کن حملوں سے نشانہ بنائے گا۔ایرانی کمانڈر کا کہنا تھا کہ مسلط کردہ جنگ کے آغاز سے اب تک کیے گئے وعدوں پر عمل کیا گیا ہے اور آئندہ بھی اسی حکمت عملی کو جاری رکھا جائے گا۔ صدر ٹرمپ نے ہفتے کے روز ایک بار پھر ایران کو دی گئی مہلت کی یاد دہانی کراتے ہوئے خبردار کیا کہ جنگ کے خاتمے سے قبل اب صرف 48 گھنٹے باقی رہ گئے ہیں، بصورت دیگر سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر لکھا کہ ایران کو معاہدہ کرنے یا آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے دی گئی مدت ختم ہونے والی ہے اور "جہنم" کے آغاز میں اب صرف 48 گھنٹے باقی ہیں۔
واضح رہے کہ ٹرمپ نے تہران کو 6 اپریل 2026ء تک کی مہلت دی تھی کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھول دے، جسے 28 فروری 2026ء سے جاری امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد عملاً بند رکھا گیا ہے، بصورت دیگر ایران کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی وارننگ دی گئی تھی۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کا ماننا ہے کہ پلوں اور پاور اسٹیشنوں کو نشانہ بنانے سے ایران کے میزائل اور جوہری پروگرام کو شدید دھچکا پہنچ سکتا ہے۔
ادھر خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک اعلیٰ اسرائیلی دفاعی اہلکار نے کہا ہے کہ اسرائیل ایرانی توانائی تنصیبات پر حملوں کی تیاری کر رہا ہے، تاہم اس کے لیے امریکہ کی منظوری کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
اسرائیلی اہلکار کے مطابق ممکنہ حملے آئندہ چند روز میں کیے جا سکتے ہیں، جبکہ اس سے قبل بھی ٹرمپ ایرانی پاور پلانٹس کو نشانہ بنانے کی دھمکی دے چکے ہیں۔