اپوزیشن کے ہنگامے کے باعث راجیہ سبھا کی کارروائی ملتوی
Awaz E Bihar••21 ویوز•7 منٹ پڑھیں
راجیہ سبھا میں مارکس وادی کمیونسٹ پارٹی کے رکن جان برٹاس نے حکمراں جماعت کی ایک خاتون رکن پر ان کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کرنے کا الزام عائد کیا، جس کے بعد حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے ارکان کے درمیان شدید نوک جھونک ہوئی اور ایوان کی کارروائی 2 بجے تک ملتوی کرنی پڑی۔ایوان میں مختلف مسائل پر ہنگامے کے باعث مانسون اجلاس کے دوران اب تک ایک بھی دن وقفۂ صفر اور سوالیہ وقفے کی کارروائی خوش اسلوبی سے نہیں چل سکی ہے۔ اس اجلاس کا یہ آخری ہفتہ ہے اور مقررہ پروگرام کے مطابق اجلاس کا آخری دن کل یعنی جمعرات کو ہے۔ ایوان میں اب تک زیادہ تر کارروائی اپوزیشن کے ہنگامے یا واک آؤٹ کے درمیان ہی ہوئی ہے۔چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے قانون سازی سے متعلق دستاویزات ایوان کی میز پر رکھے جانے کے بعد جیسے ہی کارروائی شروع کی، اپوزیشن کے ارکان اپنی نشستوں سے اٹھ کر بلند آواز میں بولنے لگے۔مسٹر رادھا کرشنن نے مسٹر برٹاس کو اپنی بات رکھنے کا موقع دیا۔ مسٹر برٹاس نے الزام عائد کیا کہ جب وہ ایوان میں اپنی بات رکھ رہے تھے تو حکمراں جماعت کی ایک خاتون رکن ان کے پاس آکر خلل ڈالنے کی کوشش کرنے لگیں اور انہیں بار بار ’’لنگی والا‘‘ کہہ رہی تھیں۔ مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے رکن نے کہا کہ ہم سب ہندستانی ہیں اور مجھے ہندستانی اور جنوبی ہند سے تعلق رکھنے، ملیالم زبان بولنے اور اپنے لباس پر فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنوع میں اتحاد ہمارے ملک کی پہچان ہے۔ انہوں نے کہا کہ رکن کا یہ رویہ ایوان اور ان کی توہین ہے۔ پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ اس ایوان میں تمام ارکان برابر ہیں اور سب ہندستانی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی رکن نے کوئی توہین آمیز رویہ اختیار کیا ہے تو چیئرمین متعلقہ رکن کو اپنے کمرے میں بلا کر ان سے بات کریں اور اس معاملے کو حل کریں۔چیئرمین نے کہا کہ یہ معاملہ ان کے علم میں آیا ہے اور وہ تمام ارکان سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ کسی ساتھی رکن کے ساتھ توہین آمیز سلوک نہ کریں۔ ارکان اس بات کا خیال رکھیں کہ ان کی باتوں سے دوسرے ارکان کے جذبات مجروح نہ ہوں۔ انہوں نے متعلقہ ارکان سے اپنے کمرے میں آکر بات کرنے کے لیے بھی کہا۔ایوان کے قائد جگت پرکاش نڈا نے کہا کہ جب مسٹر برٹاس کو اپنی بات رکھنے کا موقع دیا گیا ہے تو جس رکن سشمتا دیو پر الزام لگایا گیا ہے، وہ بھی اپنا موقف پیش کرنا چاہتی ہیں اور انہیں بھی ایوان میں اپنی بات رکھنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔اس دوران دونوں جانب کے ارکان ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتے رہے اور حکمراں جماعت کی خاتون ارکان نے متحد ہوکر اپوزیشن کے ارکان کی باتوں کی مخالفت کی۔ چیئرمین نے دونوں جانب کے ارکان سے پرسکون رہنے کی اپیل کی، لیکن جب اس کا کوئی اثر نہیں ہوا تو انہوں نے ایوان کی کارروائی 2 بجے تک ملتوی کر دی۔ کھڑگے نے وزیر داخلہ امت شاہ کی ایوان میں غیر موجودگی کا معاملہ اٹھانا چاہا، جب ان کے نام سے متعلق امدادباہمی کے شعبے کا بل پیش کیا جا رہا تھا۔ اس پر نڈا نے سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن رہنما ایوان کو گمراہ کر رہے ہیں اور اپوزیشن بحث سے دوری اختیار کرنا چاہتی ہے۔دوپہر دو بجے کے اجلاس میں قومی کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن (ترمیمی) بل 2026 پر بحث اور اسے منظور کرنے کی تجویز پیش کرنے کے لیے امداد باہمی کے وزیر مملکت مرلی دھر موہول کے کھڑے ہوتے ہی کانگریس سمیت کئی اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے ہنگامہ شروع کردیا۔ ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نے وزیر پارلیمانی امور کرن رجیجو کی درخواست کا حوالہ دیتے ہوئے کیرالہ (نام کی تبدیلی) بل 2026 سے پہلے اس تعاون سے متعلق بل پر بحث کی اجازت دی تھی۔ بحث کے لیے ترنمول کانگریس کی رکن ممتا ٹھاکر کا نام پکارا گیا، لیکن انہوں نے بل پر بات کرنے کے بجائے دہلی میں نوجوان مظاہرین کے معاملے پر وزیر داخلہ امت شاہ سے وضاحت کا مطالبہ کیا۔ ڈپٹی چیئرمین نے اس کی اجازت نہیں دی۔اس کے بعد بی جے پی رکن رام راؤ سکھارام وڈکوتے کی تقریر کے دوران کھڑگے کھڑے ہوگئے۔ ڈپٹی چیئرمین نے اپوزیشن رہنما کا احترام کرتے ہوئے انہیں بولنے کی اجازت دی۔ کھڑگے نے ایوان میں امت شاہ کی مسلسل غیر حاضری پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا، ’’جس کے نام سے تجویز ہے، انہیں اسے پیش کرنے کے لیے بلایا جائے۔‘‘ہری ونش نے ان کی بات کو مسترد کرتے ہوئے ایوان کے رہنما جے پی نڈا کو بولنے کا موقع دیا۔ مسٹر نڈا نے کہا، ’’وہ ایوان کو گمراہ کر رہے ہیں۔ آپ ایوان میں بحث سے فرار اختیار کرتے ہیں۔‘‘اس تلخ کلامی کے بعد کانگریس کے پرمود تیواری نے پوائنٹ آف آرڈر اٹھانے کی کوشش کی، لیکن انہیں اجازت نہیں دی گئی۔ اس پر کانگریس اور اس کی اتحادی جماعتوں کے ارکان ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔بحث کے دوران حکمراں جماعت کے کئی ارکان نے کسانوں کی آمدنی بڑھانے اور دیہی معیشت سے وابستہ تعاون کے شعبے کے اہم بل پر اپوزیشن کے واک آؤٹ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔جنتا دل یونائیٹڈ کے صدر اور بہار کے سابق وزیراعلیٰ نیتش کمار کی موجودگی میں بحث میں حصہ لیتے ہوئے پارٹی کے رکن سنجے کمار جھا نے بل کی حمایت کی اور کہا کہ بہار میں کانگریس کے دور میں 'ہم نے کوآپریٹو مافیا کی لوٹ دیکھی تھی.. کوآپریٹو شوگر ملیں بند ہو گئیں۔' انہوں نے بہار میں 'سودھا دودھ' کوآپریٹو کو نیتش کمار کی دین بتاتے ہوئے کہا کہ مسٹر کمار کی قیادت میں گزشتہ 20 سال میں کوآپریٹو سیکٹر کی شکل بدل چکی ہے۔ ان کے عہد اقتدار میں 2006 میں زرعی منڈی کمیٹی قانون کے پرانے نظام کو ختم کر کے دھان کی خریداری پرائمری سوسائٹیوں کے ذریعے براہ راست کی جانے لگی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مرکزی حکومت کے ادارے انڈیا پوٹاش لمیٹڈ نے دو ملوں کو گود لیا ہے جنہیں دو سال میں چالو کر دیا جائے گا۔ انہوں نے بل کو انقلابی قدم بتاتے ہوئے کہا کہ اس سے زرعی مصنوعات کی پروسیسنگ میں لگی سوسائٹیوں کو شہ ملے گی۔ اور بہار کے مکھانہ جیسی مصنوعات کو عالمی بازار میں مزید وسعت دلانے میں مدد ملے گی۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے راجیندر ہیرا لال جین نے بل کو دیہی معیشت کے لیے اہم بتایا۔ ٹی ڈی پی کے وجے چنتا کائلا اور اسی پارٹی کے روی چندر بڈی راجو نے بھی بل کی حمایت کی۔ بی جے پی کے امرپال موریہ نے بل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اتر پردیش میں سماجوادی پارٹی کی حکومت کے وقت 16 کوآپریٹو شوگر ملیں ایک خاندان کی نذر ہو گئی تھیں۔ بی جے پی کے سدانند مہالو شیٹ تاناوڑے نے اس 'دور اندیشانہ بل' کے لیے وزیراعظم کی قیادت کی ستائش کی۔ انا ڈی ایم کے کے ڈاکٹر ایم دھن پال نے بل کی حمایت کرتے ہوئے اسے خوش آئند قدم بتایا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے کوآپریٹو اداروں کو مضبوطی ملے گی۔ یو پی پی (ایل) کے پرمود بورو نے بھی بل کو اچھا قدم بتاتے ہوئے کہا کہ اس سے کوآپریٹو سیکٹر میں ضروری اصلاحات ہوں گی۔ بی جے پی کے بنشی لال گجر نے کہا کہ بل میں تقریباً چھ دہائی پرانے قانون میں ترمیم کر کے موجودہ ضرورت کے مطابق التزام شامل کیے گئے ہیں۔ بی جے پی کی ڈاکٹر الکا گجر نے کہا کہ حکومت کی کوآپریٹو سے خوشحالی کی اسکیم سے نوجوانوں، کسانوں اور خواتین کی بااختیاری ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوآپریٹو سیکٹر میں حکومت ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہی ہے جس سے ان کے کام کاج میں آسانی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بھارت ٹیکسی کے ذریعے نوجوانوں کو کام دے رہی ہے۔