اپوزیشن کے ہنگامے کے باعث دونوں ایوانوں میں دوسرے دن بھی کام کاج نہ ہو سکا
Awaz E Bihar••20 ویوز•5 منٹ پڑھیں
نیشنل ایلیجیبلٹی کم انٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) پیپر لیک، وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفی اور دیگر امور کو لے کر اپوزیشن کا ہنگامہ دوسرے دن بھی جاری رہا، جس کی وجہ سے لوک سبھا کی کارروائی منگل کے روز دن بھر کے لیے ملتوی کر دی گئی۔دو بار کے التوا کے بعد دوپہر دو بجے، پریزائڈنگ آفیسر دلیپ سائکیا نے ہنگامے کے درمیان ایوان کی کارروائی شروع کرتے ہوئے رول 377 کے تحت اراکین سے اپنے اپنے مسائل ایوان کی میز پر رکھنے کو کہا تو اپوزیشن جماعتوں کے اراکین نعرے بازی کرتے ہوئے ایوان کے وسط میں آ گئے۔ مسٹر سائکیا نے ہنگامہ کرنے والے اراکین سے کہا کہ آپ مسلسل دوسرے دن ایوان کے وسط میں آکر کارروائی میں خلل ڈال رہے ہیں، جس سے ایوان کا کام کاج متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے کئی بار اراکین سے اپنی نشستوں پر واپس لوٹنے اور ایوان کی کارروائی چلانے میں تعاون کرنے کی اپیل کی، لیکن ہنگامہ تھمنے کے بجائے اور تیز ہو گیا، جس کے بعد انہوں نے ایوان کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کر دی۔ اس سے پہلے صبح 11 بجے اسپیکر اوم برلا نے جیسے ہی ایوان کی کارروائی شروع کی، کانگریس، سماجوادی پارٹی، ڈراوڈ منیترا کزگم (ڈی ایم کے)، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (ایس پی) اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے اراکین نے نیٹ پیپر لیک اور دیگر مسائل پر نعرے بازی شروع کر دی۔ مسٹر برلا نے وقفہ سوالات کو چلنے دینے کے لیے اراکین سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وقفہ سوالات اراکین کے لیے حکومت سے جواب طلب کرنے کا ایک اہم موقع ہوتا ہے، لیکن ہنگامہ جاری رہنے پر انہوں نے ایوان کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک کے لیے ملتوی کر دی۔اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو اپوزیشن اراکین پلے کارڈز اور بینرز لے کر ایوان کے وسط میں پہنچ گئے اور نعرے بازی جاری رکھی۔ سماجوادی پارٹی کے اراکین کالے رنگ کے بڑے بڑے بینرز اور ڈی ایم کے کے اراکین ہرے رنگ کے بینرز لے کر آئے تھے۔پریزائڈنگ آفیسر سندھیا رائے نے ہنگامے کے درمیان ضروری قانون سازی سے متعلق دستاویزات ایوان کے میز پر رکھوائے اور اراکین سے اپنی اپنی نشستوں پر واپس جا کر وقفہ صفر کو چلنے دینے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ وقفہ صفر میں اراکین کو اپنے علاقوں کے مسائل اٹھانے کا موقع ملتا ہے اور پورا ملک ایوان کی کارروائی دیکھ رہا ہے۔ اس کے باوجود اپوزیشن اراکین نے ہنگامہ جاری رکھا، جس کے باعث ایوان کی کارروائی دوپہر دو بجے تک کے لیے ملتوی کرنی پڑی۔ نیٹ پیپر لیک اور اس کے خلاف پارلیمنٹ مارچ کر رہے مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی پر بحث کے مطالبے کے حوالے سے اپوزیشن کے ہنگامے کے باعث منگل کے روز راجیہ سبھا میں مسلسل دوسرے دن بھی کوئی کام کاج نہیں ہو سکا۔ دو بار کے التوا کے بعد دوپہر دو بجے ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی اپوزیشن اراکین کھڑے ہو کر نیٹ پیپر لیک، مظاہرین طلباء پر پولیس کارروائی اور دیگر امور پر بحث کا مطالبہ کرنے لگے۔ نائب چیئرمین ہری ونش نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ ایوان میں بحث کے لیے کچھ قواعد طے ہیں۔ پہلے سے جو موضوعات فہرست میں شامل ہیں ان کے علاوہ بحث نہیں ہو سکتی۔ نائب چیئرمین نے اپوزیشن اراکین سے اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھنے کی اپیل کی کی اور کہا کہ وہ ایوان کے وقار کا پاس رکھیں۔ لیکن اپوزیشن اراکین پرسکون نہیں ہوئے اور کھڑے ہو کر شور شرابہ کرتے رہے۔ ایوان میں بدنظمی کو دیکھ کر مسٹر ہری ونش نے کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کر دی۔ اس سے پہلے انہی مسائل پر اپوزیشن کے ہنگامے کے باعث راجیہ سبھا میں پہلے وقفہ صفر اور پھر وقفہ سوالات بھی نہیں ہو سکا تھا۔ جاری مانسون سیشن کے پہلے دن پیر کو بھی نیٹ پیپر لیک پر بحث اور طلبہ پر پولیس کارروائی کو لے کر اپوزیشن اراکین نے ایوان میں ہنگامہ کیا تھا اور پورے دن کوئی قانون سازی کا کام نہیں ہوا تھا۔ آج صبح 11 بجے ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی اپوزیشن نے نیٹ یو جی پیپر لیک کی مخالفت اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفی کا مطالبہ کر رہے طلبہ اور دیگر مظاہرین پر لاٹھی چارج کا مسئلہ اٹھانے کی کوشش کی۔ چیئرمین نے قانون سازی سے متعلق دستاویزات ایوان کے میز پر رکھے جانے کے بعد قائدِ حزبِ اختلاف ملیکارجن کھرگے کو بولنے کا موقع دیا۔ مسٹر کھرگے نے مظاہرین طلبہ پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے گولے چھوڑے جانے کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے اسے دردناک قرار دیا۔ ان کے یہ معاملہ اٹھاتے ہی حکمران جماعت کے اراکین نے پرزور انداز اس کی مخالفت شروع کر دی۔ اپوزیشن اراکین کے ساتھ ان کی نوک جھونک شروع ہو گئی۔ ایوان میں بدنظمی کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے چیئرمین نے ایوان کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک کے لیے ملتوی کر دی۔ راجیہ سبھا کی کارروائی دوپہر 12 بجے جیسے ہی دوبارہ شروع ہوئی، اپوزیشن اراکین نے ایک بار پھر اپنے مسائل اٹھانے کی کوشش کی۔ اس پر چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے کہا کہ وہ بعد میں انہیں اپنی بات رکھنے کا موقع دیں گے۔ اپوزیشن کے شور شرابے کے درمیان ہی چیئرمین کی اجازت سے راجیہ سبھا کے سیکرٹری جنرل نے لوک سبھا سے آیا پیغام پڑھا۔ اس کے بعد مسٹر رادھا کرشنن نے ایوان کی کارروائی دوپہر دو بجے تک کے لیے ملتوی کر دی۔