جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
پیپر لیک پر سخت التزامات والابل لوک سبھا میں اپوزیشن کی نعرے بازی کے درمیان منظور
  1. ہوم
  2. سیاست
سیاست

پیپر لیک پر سخت التزامات والابل لوک سبھا میں اپوزیشن کی نعرے بازی کے درمیان منظور

Awaz E Bihar•29 جولائی، 2026 کو 05:50 PM•15 ویوز•5 منٹ پڑھیں

لوک سبھا میں بدھ کو حکمران جماعت اور اپوزیشن میں تکرار اور ہنگامے کے درمیان پیپر لیک روکنے سے متعلق عوامی امتحان (غیر منصفانہ طریقوں کی روک تھام) ترمیم بل، 2026 زبانی ووٹ سے منظور کر لیا گیا۔بل پر دو دن میں 10 گھنٹے سے زیادہ چلی بحث میں آج اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کی تقریر کے دوران ان کی طرف سے استعمال ایک 'غیر پارلیمانی' لفظ اور وزیر داخلہ امت شاہ کے خلاف الزام کے تعلق سے دونوں فریقوں میں شدید تکرار ہوئی اور ایوان کی کارروائی دو بار ملتوی کرنی پڑی۔ تین بجے کارروائی دوبارہ شروع ہونے پر وزیراعظم کے دفتر کے وزیر مملکت جیتندر سنگھ نے بحث کا جواب دیا اور اس کے بعد ایوان نے زبانی ووٹ سے بل کو منظوری فراہم کی۔ وزیر موصوف کے جواب کے دوران کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے اراکین نعرے بازی کرتے رہے۔ مسٹر گاندھی کی تقریر کے دوران پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے وزیر داخلہ کے خلاف مسٹر گاندھی کے تبصروں پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ 'وہ اس کی تصدیق کریں یا اس کے لیے معافی مانگیں۔' اس بات پر ایوان میں شور شرابے کے درمیان اسپیکر اوم برلا نے کارروائی پہلے ڈھائی بجے تک اور پھر تین بجے تک کے لیے ملتوی کر دی۔
کارروائی شروع ہونے پر بل پر بحث کا جواب دیتے ہوئے مسٹر سنگھ نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر نے جس غیر پارلیمانی لفظ کا استعمال کیا ہے، کیا وہ طلبہ کے لیے کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ حیران ہیں کہ اپوزیشن لیڈر کو عوامی زندگی کے بنیادی نظام کی بھی معلومات نہیں ہے۔ مسٹر سنگھ کے پاس عملہ، عوامی شکایات اور پنشن کے شعبے کی بھی ذمہ داری ہے اور انہوں نے ہی اس بل کو ایوان میں پیش کیا تھا۔ مسٹر سنگھ نے کہا کہ مسٹر گاندھی نے کہا ہے کہ مظاہرین پر گولیاں چلائی گئیں، اور اس کا حکم وزیر داخلہ نے دیا۔ انہوں نے کہا کہ گولی چلائی ہی نہیں گئی اور ان کے ساتھ بہت ہی سنجیدہ کارروائی کی گئی۔ کہیں بھی مظاہرین پر گولی چلانے کا حکم مجسٹریٹ دیتا ہے۔ گولی چلانے کا حکم کبھی کوئی وزیر نہیں دیتا۔ اس سے واضح ہے کہ مسٹر گاندھی میں عوامی زندگی کی معلومات کا فقدان ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسٹر گاندھی نے یہ بھی کہا کہ وزیر داخلہ کے قافلے میں 30 گاڑیاں چلتی ہیں، یہ بھی غلط واقعہ ہے، وزیر داخلہ کے قافلے میں اتنی گاڑیاں نہیں چلتیں۔ وزیر داخلہ کے بیرون ملک جانے کی باتیں کی گئیں، وہ واضح کرتے ہیں کہ وزیر داخلہ کبھی بیرون ملک گئے ہی نہیں اور اپوزیشن لیڈر کا غیر ذمہ داری سے بات کہنا، زیب نہیں دیتا۔
مسٹر سنگھ نے کہا کہ مسٹر گاندھی 21 جولائی کو اچانک وزیراعظم کی رہائش گاہ کے باہر دھرنے پر بیٹھ گئے، انہیں سمجھانے کی کوشش کی تو انہوں نے کہا کہ وہ نہیں ہٹیں گے، انہیں ہٹا دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بڑے بے غیرت ہو کر وزیراعظم کی رہائش گاہ کے باہر سے ہٹے۔ اسی تناظر میں انہوں نے یہ شعر پڑھا ..... 'بڑے بے آبرو ہو کر، تیرے کوچے سے ہم نکلے.. بہت نکلے میرے ارمان پھر بھی کم نکلے.. انہوں نے کہا کہ بحث کے دوران کانگریس رکن گورو گوگوئی نے کہا کہ تحریکِ کرنے والوں پر مظالم کیے گئے۔ مسٹر سنگھ نے کہا کہ آسام میں کانگریس کے دور حکومت میں تحریک کرنے والے طلبہ کے خلاف مظالم کیے گئے تھے اور بڑی تعداد میں طلبہ مارے گئے تھے۔ شاید انہوں نے اسی کے مدنظر ایسا کہا ہے۔
مسٹر سنگھ نے کہا کہ کانگریس رکن پرینکا گاندھی نے 152 بار پیپر لیک ہونے اور کروڑوں طلبہ اور ان کے اہل خانہ کے متاثر ہونے کی بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں نہیں معلوم کہ محترمہ گاندھی کو یہ اعداد و شمار کہاں سے ملے۔ انہوں نے مودی حکومت کے دور اقتدار میں تعلیمی سہولیات کی توسیع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کی تعداد سات سے بڑھ کر 20 ہو گئی ہے۔ سرکاری میڈیکل کالجوں کی تعداد 387 سے بڑھ کر 844 ہو گئی ہے۔ میڈیکل تعلیم کے لیے نشستیں بڑی تعداد میں بڑھائی گئی ہیں۔
ڈاکٹر نے کہا کہ "وزیراعظم نریندر مودی نے پیپر لیک کے واقعے کو بہت سنجیدگی سے لیا ہے۔" پیپر لیک ہونے کی اطلاع ملتے ہی مرکزی تفتیشی بیورو سے جانچ کے احکامات دیے گئے۔ ملزمان پکڑے گئے اور وہ جیل میں ہیں۔ یہ بل پیپر لیک پر حکومت کی سنجیدگی اور حساسیت کی عکاسی کرتا ہے۔ اس میں ملزمان کے خلاف سزا اور جرمانے کو بہت بڑھا دیا گیا ہے۔ وزیر کے جواب کے بعد ایوان نے اپوزیشن کی نعرے بازی کے درمیان بل کو زبانی ووٹ سے منظور کرلیا۔ اسپیکر نے بل منظور ہونے کے بعد ایوان کی کارروائی جمعرات کو صبح 11 بجے تک کے لیے ملتوی کر دی۔مانسون سیشن کا آج آٹھواں دن تھا اور اس دوران یہ پہلا بل تھا جو لوک سبھا میں منظور ہوا ہے۔
شیئر کریں:

More from سیاست

ہندوستان میں دہشت گردی کو برداشت نہیں کیا جائے گا:مودی
سیاست

ہندوستان میں دہشت گردی کو برداشت نہیں کیا جائے گا:مودی

27 ستمبر، 2026
ووٹ چوری سے آئین و جمہوریت ختم ہو رہی ہے: راہل گاندھی
سیاست

ووٹ چوری سے آئین و جمہوریت ختم ہو رہی ہے: راہل گاندھی

24 ستمبر، 2026
جموں و کشمیر اسمبلی میں ہنگامہ، پہلے ہی دن بی جے پی ارکان کا احتجاج
سیاست

جموں و کشمیر اسمبلی میں ہنگامہ، پہلے ہی دن بی جے پی ارکان کا احتجاج

21 ستمبر، 2026
ترقی یافتہ ہندوستان کے سفر کے مرکز میں ہے ملک کی نوجوان طاقت: مودی
سیاست

ترقی یافتہ ہندوستان کے سفر کے مرکز میں ہے ملک کی نوجوان طاقت: مودی

19 ستمبر، 2026
رمیش نے شی جن پنگ سے ملاقات کے بعد مودی کی چین پالیسی پر سوال اٹھائے، سرحد، آپریشن سندور اور معاشی انحصار کا معاملہ اٹھایا
سیاست

رمیش نے شی جن پنگ سے ملاقات کے بعد مودی کی چین پالیسی پر سوال اٹھائے، سرحد، آپریشن سندور اور معاشی انحصار کا معاملہ اٹھایا

13 ستمبر، 2026
’بچوں کی زندگی میں داخل ہونا ہوگا‘، یوم اساتذہ پر وزیراعظم نریندر مودی کی اساتذہ سے اپیل
سیاست

’بچوں کی زندگی میں داخل ہونا ہوگا‘، یوم اساتذہ پر وزیراعظم نریندر مودی کی اساتذہ سے اپیل

5 ستمبر، 2026