محمد ہاشم القاسمی (خادم دارالعلوم پاڑا ضلع پرولیا مغربی بنگال) فون 9933598528
پارلیمنٹ کا موسمِ سرما اجلاس اپنے مقررہ دنوں کے ساتھ جاری ہے، 8 دسمبر کو "وندے ماترم" پر پارلیمنٹ میں ہونے والی 10 گھنٹے کی طویل بحث کا آغاز وزیر اعظم نریندر مودی نے کیا۔وندے ماترم گیت کے 150 سال مکمل ہونے پر وزیراعظم نریندر مودی اپنے بھاشن میں تحریک آزادی کے بے شمار گمنام مجاہدین کو یاد کیا۔ انہوں نے کہا کہ "ہمارے کتنے ہی آزادی پسندوں نے "وندے ماترم" کا نعرہ لگاتے ہوئے ہنستے ہنستے پھانسی کے پھندے کو گلے لگایا۔ مختلف جیلوں میں رہتے ہوئے بھی سب کا ایک ہی منتر تھا "وندے ماترم"۔ اسی دوران وزیراعظم نے ان تاریخی اخبارات کا بھی ذکر کیا، جن کا نام وندے ماترم تھا"۔ پارلیمنٹ کا 10 گھنٹے ایک گیت پر بحث کرنے میں صرف ہوئی ہے، آپ جانتے ہیں کہ عوام کے ٹیکس کے پیسوں کا ایک منٹ پارلیمنٹ میں ڈھائی لاکھ روپے (2،50،000₹) کا پڑتا ہے، مگر 10 قیمتی گھنٹے یعنی 600 منٹ ایک لا حاصل بحث میں ضائع کر دیے گئے، آپ اندازہ لگا لیں کتنے پیسے اس سیشن میں خرچ ہوئے ہیں۔! آپ کو معلوم ہو گا کہ" وندے ماترم" بنگلہ زبان کے مشہور ناول نگار بنکِم چندر چٹرجی کی 1882 میں لکھی گئی معروف ناول "آنندمٹھ" میں شامل ہے۔ آنند مٹھ ایک ایسی ناول ہے جس میں مسلم مخالف جذبات کو ابھارا گیا ہے، اور مسلمانوں کے خلاف اپنی دیوی اور دیوتاؤں کی قسمیں کھائی گئی ہیں، نیز مسجدوں کو مسمار کر کے ان پر مندر تعمیر کرنے کی بات کہی گئی ہے، اب رہی یہ بات کہ وندے ماترم میں کیا پیش کیا گیا ہے؟ تو اس پر روشنی ڈالنے سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ وندے ماترم کا اردو ترجمہ پیش کیا جائے، تاکہ ترجمہ دیکھ کر ہر شخص اس میں پیش کئے گئے مواد کو راست طور پر جان سکے، ترجمہ ملاحظہ فرمائیں " تیری عبادت کرتا ہوں اے میرے اچھے پانی، اچھے پھل، بھینی بھینی خشک جنوبی ہواوں اور شاداب کھیتوں والی میری ماں، حسین چاندنی سے روشن رات والی، شگفتہ پھولوں والی، گنجان درختوں والی، میٹھی ہنسی، میٹھی زبان والی، خوشی دینے والی، برکت دینے والی ماں، میں تیری عبادت کرتا ہوں اے میری ماں.تیس کروڑ لوگوں کی پرجوش آوازیں، ساٹھ کروڑ بازو میں سمیٹنے والی تلواریں،کیا اتنی طاقت کے بعد بھی تو کمزور ہے اے میری ماں۔ تو ہی میرے بازو کی قوت ہے، میں تیرے قدم چومتا ہوں اے میری ماں۔ تو ہی میرا علم ہے، تو ہی میرا مذہب ہے، تو ہی میرا باطن ہے، تو ہی میرا مقصد ہے، تو ہی جسم کی روح ہے، تو ہی بازو کی طاقت ہے، تو ہی دلوں کی حقیقت ہے، تیری ہی محبوب مورتی مندر میں ہے، تو ہی درگا،دس مسلح ہاتھوں والی، تو ہی کملا ہے، تو ہی کنول کے پھولوں کی بہار ہے، تو ہی پانی ہے، تو ہی علم دینے والی ہے، میں تیرا غلام ہوں، غلام کا غلام ہوں، غلام کے غلام کا غلام ہوں، اچھے پھل والی میری ماں ۔ میں تیرا بندہ ہوں، لہلہاتے کھیتوں والی مقدس موہنی، آراستہ پیراستہ، بڑی قدرت والی قائم و دائم ماں، میں تیرا بندہ ہوں۔ اے میری ماں میں تیرا غلام ہوں۔" (یہ اردو ترجمہ، آل انڈیا دینی، تعلیمی کونسل لکھنو کا شائع شدہ ہے)۔ بنکِم چندر چٹرجی اسے 7 نومبر 1875 میں لکھا تھا۔ لیکن باضابطہ طور پر روندر ناتھ ٹیگور نے 1896 میں کانگریس کی منعقدہ میٹنگ، کلکتہ میں اسے پہلی مرتبہ گایا تھا اور اس کا دھن بھی بنایا تھا۔ اس کے دس سال بعد بنارس کے اجلاس میں سرلہ دیوی چودھرانی نے اسے ترنم سے گایا، اس نظم کو قومی اہمیت تب حاصل ہوئی جب لالہ لجپت رائے نے وندے ماترم نامی ایک جریدہ جاری کیا۔ مگر جب اس نظم کو قومیت کی علامت بنا کر پیش کیا جانے لگا تو روندر ناتھ ٹیگور نے ہی اس کی مخالفت کرتے ہوئے 1937 میں سبھاش چندر بوس کو ایک خط بھی لکھا کہ ”وندے ماترم کا بنیادی عقیدہ دیوی دُرگا کی پرستش ہے اور یہ اتنا واضح ہے کہ اس پر کسی قسم کی بحث کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ بیشک بنکم نے دُرگا کو متحدہ بنگال کی ایک علامت کے طور پر پیش کیا ہے مگر کسی مسلم سے یہ توقع نہیں کی جانی چاہیے کہ وہ حب الوطنی کے نام پر دس ہاتھوں والی درگا کی عبادت کرے" (بحوالہ: رابندر ناتھ کے منتخبہ خطوط‘ مطبوعہ کیمبریج یونیورسٹی) ہندوستان کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نے قومی گیت "وندے ماترم" کو قومی ترانہ"جن گن من" کے برابر تسلیم کرنے سے متعلق ایک عرضی کو اس دلیل کے ساتھ مسترد کردیا تھا کہ اس میں قومی گیت کا کوئی تصور نہیں ہے۔ جسٹس دیپک مسرا، جسٹس آر بھانومتی اور جسٹس ایس ایم ملک ارجن گوڑا کی بنچ نے بی جے پی رہنما اور سینئر وکیل اشونی اپادھیائے کی اس عرضی کو مسترد کردیا تھا جس میں انہوں نے قومی ترانہ، قومی پرچم اور قومی گیت کو فروغ دینے کے لئے آئین کی دفعہ 51 اے کے تحت قومی پالیسی بنانے کی اپیل کی تھی۔ جسٹس مشرا نے اپنے مختصر حکم میں کہا کہ دفعہ 51 اے میں صرف قومی پرچم اور قومی ترانہ کا ذکر کیا گیا ہے اس لئے جہاں تک قومی گیت (وندے ماترم) کی بات ہے تو ہم اس پر کوئی نئی بحث نہیں چھیڑنا چاہتے ہیں۔ عدالت نے دفاتر، عدالتوں، ریاستی اسمبلیوں اور پارلیمنٹ میں قومی ترانہ کو لازمی قرار دینے سے متعلق عرضی مسترد کردی۔ حالانکہ اسکولوں میں قومی ترانہ کو لازمی قرار دینے سے متعلق عرضی پر الگ سے غور کرنے کے لئے حامی بھر دی۔ جسٹس مشرا نے کہا کہ اسکولوں میں تمام کام کے دنوں میں قومی ترانہ گانے کے سلسلے میں عرضی کو چھوڑ کر دیگر تمام عرضیاں مسترد کردی جاتی ہیں۔ دیکھیے (روزنامہ تاثیر 17 فروری 2017 ) وندے ماترم جس آنند مٹھ ناول کا حصہ ہے، وہ 1875ء میں لکھا گیا تھا، لیکن ابتدا میں اسے کوئی شہرت نہ مل سکی، بلکہ وہ ایک عرصہ تک گوشۂ گمنامی میں پڑا رہا، اس نغمہ کو شہرت تب ملی جب اس کے تخلیق کار بنکم چٹر جی نے اسے اپنے ناول آنند مٹھ میں شامل کیا، یہ ناول بنیادی طور پر مغل حکمرانوں سے ہندؤوں کی جنگ کے موضوع پر لکھی گئی ہے، یہ ایک مسلم مخالف ناول ہے جو فرضی کرداروں پر مشتمل ہے، اس کا مرکزی کردار بھوا نند نامی ایک برہمن سنیاسی ہے، جو ہندؤوں کو مغل حکمرانوں کے خلاف اُکساتا ہے، اس ناول کے کرداروں کے مطالعہ سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ناول نفرت اور فرقہ پرستی سے لبریز ہے، ناول کا وہ اقتباس ملاحظہ فرمایئے، جس میں بھوا نند ایک دوسرے کردار جس کا نام مہندر ہے اس سے کہتا ہے "ہمارا مذہب، ہماری ذات، ہمارا وقار خطرے میں ہے اور جب تک اس ملک میں مسلمان رہیں گے ہم کبھی سراٹھا کر نہیں جی سکیں گے" مہندر کے اس سوال کے جواب میں کہ کیا تم تنہا مقابلہ کرو گے؟ بھوا نند کہتا ہے: "جب تین کروڑ آوازیں بلند ہوں گی اور دو کروڑ بازؤوں میں لہراتی تلواریں ہوں گی تو کیا تب بھی میری ماتا کمزور ہوگی، مہندر کو تب بھی اطمینان نہیں ہوا تو وہ اسے لیکر آنند مٹھ مندر جاتا ہے جہاں درگا اور کالی کی مورتیوں کے سامنے اس کے جذبات برانگیختہ کرتا ہے، اور جوش دلاتا ہے، اس ناول کے ایک اور منظر میں ہندوؤں کو مسلمانوں کا قتل عام کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جو وندے ماترم کا نعرہ لگاتے ہوئے آپس میں سوال کرتے ہیں کہ وہ دن کب آئے گا جب ہم مسجدوں کو مسمار کرتے ہوئے ان مقامات پر مندر تعمیر کرنے میں کامیاب ہوں گے، نیز اس ناول سے انگریز اور ان کی حکومت سے وفاداری کا بھی خوب اظہار ہوتا ہے، چنانچہ ناول کا مرکزی کردار بھوا نند اپنے ساتھی سے کہتا ہے کہ اب ہماری جان ومال کو امان ملے گی، کیوں کہ مغل حکمرانوں کی جگہ پر انگریز آئے ہیں۔ اس ناول سے بنکم چندر چٹر جی کا مقصود ہندوستانی قومیت کو فروغ دینا نہیں تھا، بلکہ ہندوستان کو ہندوراشٹر بنانا تھا، ناول کا ایک اقتباس یوں ہے: "جیوا نند ہاتھ میں تلوار لئے ہوئے مندر کے دروازے پر کھڑا ہے، اور ماں کالی کے بھکتوں کو ترغیب دیتا ہے، ہم نے کئی مرتبہ مسلم حکومت کے گھونسلے توڑنے اور ان پر حملہ آوروں کو کھینچ کر ندی میں پھینک دینے اور خاکستر کرکے مادر وطن کو آزاد کرنے کی بات سوچی ہے، دوستو اب وہ دن آ گیا ہے جب بھوا نند مہندر کو آنند مٹھ لے جا کر جدوجہد میں شامل کرنے کے لیے ترغیب دیتا ہے۔ آنند مٹھ کا بنیادی تصور ان سنیاسیوں یا بچوں کے تذکرہ پر ہے جنھوں نے اپنے گھر بار چھوڑ کر اپنی زندگی کو مادر وطن کے لیے وقف کردیا تھا، اور یہ لوگ اپنی مادر وطن کو ماں کالی کے روپ میں پوجتے تھے، بنکم چندر چٹر جی نے حب الوطنی کو مذہب اور مذہب کو حب الوطنی کے ساتھ ملادیا تھا، آنند مٹھ کے اس پہلو اور ماں کالی کے تصور کو دیکھتے ہوئے اس بات میں کوئی شبہ نہیں رہ جاتا کہ بنکم چندر کا نیشنلزم ہندوستانی نیشنلزم نہیں تھا، اسی طرح نیرج سی چودھری اپنی کتاب" آٹو بائیو گرافی آف این نان انڈین "میں لکھتے ہیں "بنکم چندر چٹر جی اور رمیش چندر کی تاریخی تصانیف میں مسلم حکومت کے خلاف ہندو بغاوت کی قصیدہ خوانی کی گئی ہے، اور مسلمانوں کو نامناسب ڈھنگ سے پیش کیا گیا ہے"۔ یہاں ایک بات غور طلب ہے وہ یہ کہ ہمارے ملک ہندوستان میں جن جن چیزوں کو قومی شناخت کا درجہ دیا گیا ہے وہ سب ایک ہی ہیں، مثلا ہندوستان کا قومی پرچم "ترنگا" ایک ہے، اسی طرح قومی جانور "شیر " ایک ہے، قومی پرندہ "مور" ایک ہے، نیز قومی نشان اشوک کا "لاٹ" ایک ہے، جب قومی درجے کی شناخت رکھنے والی ہر چیز ایک ہے تو پھر قومی گیت ایک کیوں نہیں؟ ہندوستان کے مسلمانوں نے کبھی ترنگے پر اعتراض نہیں کیا، اسی طرح مسلمانوں نے یہ نہیں کہا کہ شیر تو دُرگا کی سواری ہے ہم اسے قومی جانور نہیں مانتے، ایسے میں صرف قومی گیت کے تعلق سے ملک کی سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں کی مجبوری کو کیوں سمجھنے کی کوشش نہیں کی جاتی جس ملک میں ہر مذہب کے ماننے والوں کو اپنے مذہبی امور میں کسی کی مداخلت کی اجازت نہیں ہے جبکہ اس سے براہ راست مسلمانوں کے عقیدہ پر زد پڑتی ہے، اسلام میں وطن سے محبت کو ممنوع نہیں قرار دیا گیا، سیرت کا مطالعہ کرنے والوں سے یہ مخفی نہیں ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے مدینہ ہجرت فرمانے لگے تو مکہ کی طرف مڑ کر اپنی بے پناہ محبت کا اظہار کیا اور یوں فرمایا" اے مکہ! اگر تیری قوم مجھے نکلنے پر مجبور نہ کرتی تو میں ہرگز نہ نکلتا" اسکے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مدینہ کو اپنا وطن بنا لیا تو مدینہ سے ٹوٹ کر محبت فرمائی، آپ نے مدینہ کے لیے برکت کی دعا فرمائی، اس لئے مسلمان جہاں بھی ہوتے ہیں اپنے وطن سے ٹوٹ کر محبت کرنا سنت سمجھ کر کرتے ہیں، لیکن مسلمان کبھی بھی وطن کی پرستش نہیں کرسکتے، مسلمان وطن پسند ہوتا ہے لیکن وطن پرست نہیں ہوسکتا، اس لیے وندے ماترم کے مسئلہ کو لیکر مسلمانوں کی حب الوطنی پر انگشت نمائی کرنا سراسر شرارت پر مبنی ہے، نیز مسلمانوں کو اس کا پابند بھی نہیں کیا جاسکتا، چونکہ ایسا کسی بھی قسم کا اقدام مذہبی آزادی سلب کرلینے کے مترادف ہے، ملک کی آزادی کی خاطر مسلمانوں کی قربانیاں روز روشن کی طرح عیاں ہیں، ہندوستان ایک کثیر المذاہب اور کثیر الثقافۃ ملک ہے، لہٰذا تمام مذاہب کی معاشرتی اور آئینی حیثیت بھی زیر غور آتی ہے۔ لیکن بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد ہی آر ایس ایس کی جانب سے ہندوتوا کے نفاذ کا ، اور اب جبکہ بی جے پی مکمل طور سے اقتدار کے نشے میں چور ہے تو ہندوتوا کے نظریے کی روشنی میں ہندو راشٹر کے قیام اور مذہبی آزادی کے خاتمے کا اندیشہ تمام مذہبی اقلیتوں کے سامنے پھن کاڑھے کھڑا ہے۔ اس کی ادنی مثال وندے ماترم پر بلاوجہ پارلیمنٹ میں 10 گھنٹے کی بحث ہے اس سے پہلے طلاق ثلاثہ، تعدد ازدواج، وقف ترمیمی بل وغیرہ سب کا مقصود مسلمانوں کو ان کے دین و شریعت اور عقیدے کے تحفظ کے بارے میں ہمیشہ خوف میں مبتلا رکھنا ہے۔ ***