ڈاکٹر محمد ولی اللہ قادری استاد، گورنمنٹ انٹر کالج (ضلع اسکول)، چھپرا، بہار 9852234311
یکم فروری دن اتوار کی صبح یہ جاں فزا خبر موصول ہوئی کہ متعبر و مستند محقق و ناقد اور تصوف کا عالم و ذی وقار شخصیت پروفیسر ڈاکٹر محمد قمر الہدی فریدی صدر شعبہ اردو، علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کو علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کورٹ کا معزز رُکن منتخب کیا گیا ہے۔ خبر موصول ہوتے ہی دل باغ باغ ہو گیا اور فوراً سے پیش تر واٹس ایپ پر پروفیسر موصوف کو مبارک باد اور نیک خواہشات پیش کی۔ پروفیسر قمر الہدی کو اس اعزاز ملنے پر حیرت ہوئی کہ اس دور میں دنیاوی نام وری سے دور رہ کر زندگی گزارنے والی شخصیت کو یہ اعزاز ملنا حیرت کی ضرور بات ہے لیکن اس خبر نے اللہ پاک کا فضل اور بزرگوں کی روحانی عنایات پر یقین کامل کر دیا۔ بعدہٗ پروفیسر فریدی کی شخصیت کے نمایاں پہلو پے در پے یاد آنے لگے اور ان کے احسانات اور کرم فرمائیاں نہاں خانے میں دستک دینے لگیں اس لیے خاک سار کا قلم چل پڑا۔ پروفیسر قمر الہدی فریدی کے نام کی شناسائی طالب علمی میں ہو گئی تھی اور اسی دور میں ان کے مضامین کا مطالعہ شروع ہو گیا۔ مرکزی ادارۂ شرعیہ، پٹنہ میں افتا کی تربیت کے لیے حاضر ہوا تو وہاں ’رفاقت‘کی پرانی فائل میں ان کی تحریر ملی۔ بعدہٗ ان دنوں علامہ ارشد القادری کی کتاب ’بزبان حکایت‘ شائع ہوئی تھی۔ یہ کتاب علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ کے داماد جناب حسیب الرحمان سنجر علیگ کی معرفت مطالعہ میں آئی۔ اس کتاب کا مقدمہ پڑھنے کے بعد مقدمہ نگار پروفیسر قمر الہدی فریدی کی نثر نگاری کا اسیر ہو گیا۔ حسیب صاحب لائبریرین خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری، پٹنہ سے اس مقدمے پر تبادلۂ خیال ہوا تو انھوں نے فریدی صاحب کے سلسلے میں مزید اطلاعات فراہم کی اور ان کی علمی خدمات سے روشناس کرایا۔ مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی، حیدر آباد سے ایم۔ اے اردو کا امتحان مکمل کرنے کے بعد مگدھ یونی ورسٹی، بودھ گیا پی ایچ۔ ڈی کا داخلہ ٹیسٹ ۲۰۱۱ ء میں جب پاس کیا تو مقالہ امتحانیہ کے موضوع کی بات آئی تو استاد پروفیسر صفدر امام قادری سے مشورہ کے بعد ’معاصر اردو تنقید کا موضوعاتی محاسبہ (بہار کے خصوصی حوالے)‘ طے پایا اور ۲۰۱۲ء میں مگدھ یونی ورسٹی، بودھ گیا میں رجسٹریشن بھی ہو گیا۔ مقالے کی تیاری کے سلسلے میں میں خدا بخش لائبریری جانا ہوا تو وہاں پروفیسر قمر الہدی فریدی کی متعدد کتابوں سے استفادہ کیا۔ ناگزیر وجوہات کے سبب عظیم آباد کو خیر باد کہہ دیا اور سمستی پور پہنچا۔ وہیں ۲۰۱۳ء میں سب سے پہلے پروفیسر فریدی سے ملاقات ہوئی تھی۔ وہ وایوا لینے کے لیے متھلا یونی ورسٹی،دربھنگہ تشریف لائے تھے۔ ان کے خسر کا سمستی پور کا محلہ، دھرم پور میں مکان ہے اور ان کے سالے جناب روح اللہ خاں ہمارے دوست ہوچکے تھے، وہیں ملاقات ہوئی۔ پہلی ملاقات میں انھوں نے خردہ نوازی کا جو مظاہرہ فرمایا، وہ بھولے نہیں بھولتا۔ موقع غنیمت جانتے ہوئے اپنی کتاب ’کاوش نقد‘ کا مسودہ پیش کر دیا مسودہ دیکھنے کے بعد خوب حوصلہ افزائی کی۔ خاک سار کی گزارش پر مسودہ اپنے پاس رکھ لیا اور وعدہ کیا کہ علی گڑھ پہنچ کر اس پر تاثرات رقم کروں گا۔ حسبِ وعدہ انھوں نے تاثرات رقم کر روح اللہ خاں کے موبائل پر بھیج دیا۔ اپنے تاثرات میں انھوں نے مذہب و ادب کے ایک معمولی طالب علم کے مضامین کی بڑی تعریف کی جس نے میرا حوصلہ مزید بڑھا۔ پروفیسر فریدی کے تاثرات کی اہمیت کے پیش نظر یہاں محض ایک اقتباس حاضر خدمت ہے: ’’یہ محض شوق خامہ فرسائی میں لکھے گئے مضامین نہیں ہیں بلکہ مختلف ادبی اور مذہبی موضوعات پر بہت سنبھل کر اور نہایت غور و فکر کے بعد لکھے گئے مضامین ہیں۔ کہہ سکتے ہیں کہ مطالعے کا ذوق رکھنے والوں کے لیے یہ گل دستہ صد رنگ ایک بیش بہا علمی تحفہ ہے۔ مصنف کا مطالعہ وسیع ہے اور عمر کم۔ ایسی صورت میں ادعائیت بسا اوقات آدمی کو اس طرح گرفت میں لیتی ہے کہ اپنے سوا کچھ اور نظر نہیں آتا۔ اللہ کا شکر ہے کہ ولی اللہ صاحب کے یہاں ایسی کوئی بات نہیں؛ خود نمائی،زعم ہمہ دانی یا بے جا طول کلامی نظر نہیں آتی۔ وہ متوازن انداز اور صاف ستھری زبان میں اپنے خیالات کا اظہار فرماتے ہیں۔ شخصیت میں توازن ہو،زبان پر قابو ہو اور غوروفکر کے بعد قلم اٹھانے کی عادت ہو تو پھر قلم کار کی ہر تحریر اس قابل ہوتی ہے کہ اسے توجہ سے پڑھا جائے۔ یہی بات ولی اللہ صاحب کی نگارشات کے حوالے سے بھی کہی جا سکتی ہے۔‘‘ (کاوش نقد،صفحہ۔۱۰) پروفیسر فریدی صاحب کے تاثرات کی کافی پذیرائی ہوئی اور ’کاوش نقد‘ کے مبصر نے ان کے تاثرات پر اچھا تبصرہ کیا مبصرین میں مذہبی و ادبی دونوں طبقوں کی شخصیات شامل ہیں۔ اب تو یہ فیصلہ اہلِ علم حضرات فرمائیں گے کہ فریدی صاحب کے تاثرات کی لاج کس حد تک میں نے رکھی ہے؟ عجب اتفاق کہ میرا مقالہ امتحانیہ پروفیسر فریدی صاحب کے پاس گیا اور انھوں نے مقالہ امتحانیہ پر رپورٹ بھیج دی جب کہ جے پی یونی ورسٹی، چھپرا کے ایک پروفیسر نے اپنی رپورٹ روک دی جس کے سبب وایوا میں تاخیر ہو گئی جو مقالہ ۲۰۱۶ ء میں جمع کیا گیا تھا، اس کا وایوا آٹھ نومبر ۲۰۲۳ء کو طے ہوا اور بے شمار صعوبتیں برداشت کر فریدی صاحب تشریف لائے۔ گیا ریلوے اسٹیشن پر راقم الحروف پہلے سے ہی موجود تھا۔ استادِ محترم پروفیسر صفدر امام قادری صاحب بھی وہاں پہنچ گئے۔ گاڑی پہنچنے میں دیر ہو گئی تو صفدر امام قادری صاحب نے فریدی صاحب کی شخصیت اور خدمات کے حوالے سے بہت اہم باتیں بتائیں۔ انھوں نے بتایا کہ قمر الہدی فریدی صاحب نے بھاگل پور میں پروفیسر ناز قادری کی شاگردی میں آئی اے سی کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی پہنچ گئے۔ وہاں اس قدر ذوق اور محنت کی ایم اے اردو میں محض نمایاں نمبرات سے کامیابی حاصل نہیں کی بلکہ بشیر بدر کے زیادہ نمبر لانے کے ریکارڈ کو بھی توڑ دیا۔ فریدی صاحب نے زیادہ نمبر لانے کا جو ریکارڈ قائم کیا تھا، وہ اب بھی برقرار ہے۔ یہ اطلاع پاکر مزید خوشی ہوئی اور موصوف کی عقیدت میں اضافہ ہوا۔ گیا ریلوے اسٹیشن پر گاڑی سے اترے تو چہرے پر داڑھی دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کیوں کہ سمستی پور میں جس وقت ملاقات ہوئی تھی، اس وقت چہرے پر داڑھی نہیں تھی۔ ہم لوگوں کے علاوہ فریدی صاحب کے برادرِ عزیز ڈاکٹر آفتاب فریدی صاحب بھی پہنچ گئے اور وہاں سے انھیں لے کر اپنے مکان لے گئے اور خاک سار پروفیسر صفدر امام قادری کے ہم راہ مگدھ یونی ورسٹی، بودھ گیا پہنچ گیا۔ وقتِ مقررہ پر شعبۂ اردو مگدھ یونی ورسٹی، بودھ گیا میں وایوا ہوا۔ صفدر امام قادری کی موجودگی سے بھی بہت زیادہ سہولت ہوئی۔ وایوا کے دوران ان کا مشفقانہ رویّہ قابل دید تھا۔ ناشتہ وغیرہ سے فارغ ہو کر بہار کی یونی ورسٹی کی روایت کے مطابق ان کی خدمت میں طالب علم کی جانب سے لفافہ پیش کیا گیا تو ان کو حیرت ہوئی پھر بیل کی کاپی لیتے ہوئے فرمایا کہ جب میں اپنا حق لے لیا تو بتایا جائے کہ یونی ورسٹی سے ملنے والی رقم کا اختیار کسی کو دے دوں۔ تب ڈاکٹر ترنم جہاں، استاد، شعبۂ اردو، مگدھ یونی ورسٹی بودھ گیا کے نام کی سفارش کی گئی۔ اگلے دن یومِ اقبال کی مناسبت سے شعبۂ اردو میں فریدی صاحب کو مہمان بنایا گیا۔ ان کے ساتھ پروفیسر صفدر امام قادری بھی شریک تھے۔ اسی لیے اگلے دن ہم لوگ پٹنہ پہنچے چوں کہ واپسی کا ٹکٹ آرا سے تھا اور پٹنہ پہنچنے میں دیر ہو گئی تھی، اس لیے صفدر صاحب کے حکم سے میں بھی ان کے ساتھ ہو گیا تاکہ ان کو دقت نہیں ہو۔ پٹنہ جنکشن پر دیکھا کہ وظائف کی کتابیں مطالعہ فرما رہے ہیں۔ وظیفہ سے فارغ ہو کر ادارۂ شرعیہ کے حوالے سے گفتگو ہوئی اور قاری نہال احمد کریمی کا حال دریافت فرمایا کیوں کہ قاری نہال فریدی صاحب کی پہلی کتاب ’ایک معرکہ لہو کا‘ کی کتابت کی تھی۔ یہ کتاب۱۹۸۳ ء میں شائع ہوئی۔ اس کے بعد پٹنہ سٹی کی ایک مشہور خانقاہ کے سجادہ نشین کی صلح کلیت کا ذکر ہوا تو فریدی صاحب نے اس پر حیرت کے ساتھ ساتھ لعنت کا بھی اظہار کیا جس واضح ہو گیا کہ علی گڑھ کا آزادانہ ماحول نے ان کے راسخ عقیدہ اہل سنت کو متزلزل نہ کر سکا ۔اس پر اللہ پاک کا شکریہ ادا کیا اور اپنے اکابر علماے اہلِ سنت بالخصوص علامہ ارشد القادری کی صحبت اور مولانا عبد السلام فریدی، سجادہ نشین خانقاہ فریدیہ، آرا کی تربیت پر یقین کامل ہو گیا۔ علی گڑھ میں خانقاہ برکاتیہ، مارہرہ شریف کے سجادہ نشین پروفیسر سید شاہ محمد امین میاں برکاتی مدظلہ کی معیت کا اثر بھی فریدی صاحب کے اندر دیکھا۔ پروفیسر سید محمد امین میاں برکاتی مدظلہ بھی فریدی صاحب کو عزیز رکھتے ہیں، اسی کا نتیجہ ہے کہ اپنے صاحب زادے سید عثمان میاں برکاتی کو آپ کی شاگردی میں دیا۔ خاک سار کامیاب وایوا کی تصویر عثمان میاں برکاتی نے پروفیسر قمر الہدی فریدی صاحب کے واٹس ایپ پر بھیجا جس کا اظہار انھوں نے دوران سفر کیا۔ ان کو حیرت ہوئی کہ تصویر ان کو کیسے مل گئی کیوں کہ فریدی صاحب سوشل میڈیا کا ذرا کم استعمال کرتے ہیں۔ میں نے بتایا کہ صفدر امام قادری کے ایک شاگرد نے فیس بک شیر کیا ہے ہو سکتا ہے کہ عثمان میاں نے وہیں سے شئیر کیا ہو۔ بہر کیف ہم لوگ رات کے گیارہ بجے آرا پہنچ گئے جہاں ہم لوگوں کا استقبال خانقاہ فریدیہ کے معتقدین نے کیا۔ انھوں نے ایک کو اشارہ کیا میرے سامان پکڑنے کو میرے منع کرنے کے باوجود بھی انھوں نے میرے سامان کو ایک معتقد کے حوالے کرا دیا۔ خانقاہ حاضر ہو کر خوشی کی انتہا نہ رہی کہ خانقاہ فریدیہ کی حاضری کی خواہش پوری ہوئی۔ نمازِ عشاء ادا کیا۔ اس کے بعد دسترخوان پر بیٹھے فریدی صاحب نے کچھ نہیں لیا لیکن میں نے تبرکا چند لقمے لیے کیوں کہ گیا میں ہم لوگوں نے جو کھانا کھایا وہی کافی تھا۔ رات میں دیر سے سویا تھا لیکن فجر کی نماز جماعت سے ادا کر خانقاہ حاضر ہوا تو دیکھا کہ فریدی صاحب وظیفہ میں مشغول ہیں۔ وظائف سے فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا کہ صاحبِ سجادہ کی زیارت ہو جائے کیوں کہ مجھے چھپرا جلدی لوٹنا تھا۔ فوراً صاحب سجادہ مولانا عبد السلام فریدی مدظلہ کی زیارت سے مشرف ہوا۔ فریدی صاحب نے خاک سار کا تعارف کرایا تو حضرت نے بہت دعائیں دی۔ حضرت نے ناشتے کی ہدایت کی ان کو بتایا کہ ناشتہ سے فارغ ہو چکے ہیں۔ حضرت کی دعا لیکن حجرہ سے باہر آیا تو فریدی صاحب نے بند مٹھی میں کچھ پیسے عنایت کیے۔ میں نے لینے سے انکار کر دیا تو انھوں نے اصرار کر مجھے ان پیسوں کو لینے پر مجبور کر دیا۔ میں عرض کیا ایسا کیوں کر رہے ہیں تو انھوں نے جواب دیا کہ لفافہ میں حساب سے زیادہ روپے تھے اور پٹنہ میں جو ٹکٹ لیا گیا تھا اس کا پیسہ آپ نے ہی دیا تھا فریدی صاحب کا یہ کردار ایک طرف اور ہمارے نگراں موصوف اور جے پی یونی ورسٹی کے پروفیسر کا نازیبا رویہ جب بھی یاد آتا ہے میں فریدی صاحب کے احسان کے بوجھ میں دب جاتا ہوں۔ خیر میرے اسٹاف اور آرہ باشندے جناب منیش کمار تیواری خانقاہ پہنچ گئے اور میں فریدی صاحب سے اجازت لے کر چھپرا کے لیے نکل گیا۔ یہ بھی عجب اتفاق ہے جس تاریخ کو فریدی صاحب کو علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کورٹ کا معزز رکن منتخب کیا گیا اسی تاریخ میں منیش کمار تیواری بھی ہمارے ضلع اسکول چھپرا کے انچارج پرنسپل کا عہدہ سنبھالا۔ اس طرح ایک تاریخ میں ہمیں دو دو خوشیاں ملیں۔ واضح رہے کہ پروفیسر قمر الہدی فریدی کا وطن اصلی مقام لکھن پور، پوسٹ اثر گنج، ضلع مونگیر ہے اور سال پیدایش ۱۹۶۲ ء ہے۔ اب تک ان کی ڈیرھ درجن کتابیں اور ایک سو سے زیادہ مقالات شائع ہو چکے ہیں۔ آپ نِٹ اور جے آر ایف جیسے امتحان میں کامیابی حاصل کر فیلوشپ حاصل کیا اور فروری ۱۹۹۳ ء میں شعبۂ اردو علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی میں لیکچرر منتخب ہوئے اور ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے اس مقام تک پہنچے ہیں۔ ایک مرتبہ پھر سے پروفیسر ڈاکٹر محمد قمر الہدی فریدی کی خدمت میں صمیمِ قلب سے مبارک باد پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ عارف باللہ شیخ المشائخ حضرت شاہ حافظ محمد فرید الدین آروی رضی اللہ عنہ کے روحانی فیض کے صدقے اللہ تعالیٰ دین دنیا کی مزید ترقیاں عطا فرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم۔