جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
بھوپال میں اساتذہ کا احتجاج، ٹی ای ٹی کی لازمیت کی مخالفت
  1. ہوم
  2. قومی
قومی

بھوپال میں اساتذہ کا احتجاج، ٹی ای ٹی کی لازمیت کی مخالفت

Awaz E Bihar•18 اپریل، 2026 کو 05:08 PM•3 ویوز•3 منٹ پڑھیں

بھوپال: دارالحکومت بھوپال میں ہفتہ کو ’ادھیاپک-شکشک سنیکت مورچہ‘ کے بینر تلے پوری ریاست کے ٹیچروں نے بڑا احتجاج کیا۔ ’وزیر اعلیٰ انرودھ یاترا‘ کے تحت بی ایچ ای ایل واقع دسہرہ میدان میں منعقدہ اس احتجاج میں مختلف اضلاع سے آئے ہوئے تقریباً 50 ہزار سے زائد ٹیچروں نے حصہ لیا۔ پروگرام کے اختتام پر ٹیچروں نے ایم پی نگر ایس ڈی ایم کو میمورنڈم سونپ کر اپنے مطالبات سے آگاہ کیا۔
سنیکت مورچہ کے رہنماوں نے کہا کہ اگر حکومت ان کے مطالبات پر جلد فیصلہ نہیں لیتی ہے، تو جون کے مہینے میں مزید بڑی تحریک کی حکمت عملی اپنائی جائے گی۔ سنگھ کے صدر بھرت پٹیل نے اس سلسلے میں حکومت کو وارننگ بھی دی۔ مورچہ کے کنوینر جگدیش یادو نے کہا کہ اگر حکومت امتحان منعقد کرنا چاہتی ہے، تو اساتذہ کو کافی وقت دیا جانا چاہیے اور انہیں مردم شماری جیسے اضافی کاموں میں نہ الجھایا جائے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پہلے سے ملازمت کر رہے اساتذہ پر دوبارہ ٹیچر ایلیجبلٹی ٹیسٹ (ٹی ای ٹی) نافذ کرنا مناسب نہیں ہے، کیونکہ تقرری کے وقت انہوں نے تمام ضروری اہلیتیں پوری کی تھیں۔ 25-20 برسوں کی ملازمت کے بعد نئی شرائط نافذ کرنا ناانصافی قرار دیا گیا۔
اساتذہ کے مطابق، سپریم کورٹ کے حالیہ حکم سے ریاست کے 90 سے 95 فیصد اساتذہ متاثر ہوئے ہیں، خاص طور پر وہ جو پہلے ’ادھیاپک‘ تھے اور بعد میں ٹیچر کیڈر میں شامل ہوئے۔ ان اساتذہ نے کم تنخواہ پر نوکری شروع کی تھی اور اب بھی پنشن، گریجویٹی اور سروس کی مدت کے حساب جیسے مسائل پر جدوجہد کر رہے ہیں۔ سنیکت مورچہ نے حکومت پر الزام لگایا کہ تقرری کی اصل تاریخ سے سروس کا حساب نہیں لگایا جا رہا، جس سے مالی نقصان ہو رہا ہے۔ اب ٹی ای ٹی کی شرط نافذ ہونے سے ان پر اضافی دباو بن رہا ہے اور مستقبل میں پنشن و گریجویٹی کم ملنے کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔
احتجاج کے دوران دسہرہ میدان میں بھاری بھیڑ امڈ پڑی، جس کی وجہ سے پنڈال چھوٹا پڑ گیا اور کئی اساتذہ کو درختوں کے نیچے بیٹھنا پڑا۔ پولیس بیریکیڈنگ کے باعث مظاہرین کو اپنی گاڑیاں دور ہی روکنی پڑیں اور پیدل ہی پروگرام کے مقام تک پہنچنا پڑا۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے 8 اپریل کو ضلع سطح اور 11 اپریل کو بلاک سطح پر بھی احتجاج کیے جا چکے ہیں۔ اسی تسلسل میں یہ ریاستی سطح کا احتجاج منعقد کیا گیا۔ آخر میں اساتذہ نے ایم پی نگر ایس ڈی ایم ایل کے کھرے کو میمورنڈم سپرد کرکے جلد حل کا مطالبہ کیا اور پرامن طریقے سے احتجاج ختم کیا۔

شیئر کریں:

More from قومی

 مودی سرکار مساجد و عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنا چاہتی ہے
قومی

مودی سرکار مساجد و عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنا چاہتی ہے

29 ستمبر، 2026
امن ہندوستان کی پالیسی، کمزوری نہیں، دہشت گردی پر ضروری قدم اٹھائیں گے: راج ناتھ
قومی

امن ہندوستان کی پالیسی، کمزوری نہیں، دہشت گردی پر ضروری قدم اٹھائیں گے: راج ناتھ

27 ستمبر، 2026
ایس آئی آر کا فیصلہ متفقہ تھا، کابینہ سکریٹری کو لکھے گئے خط کا کسی پالیسی سے تعلق نہیں: الیکشن کمیشن
قومی

ایس آئی آر کا فیصلہ متفقہ تھا، کابینہ سکریٹری کو لکھے گئے خط کا کسی پالیسی سے تعلق نہیں: الیکشن کمیشن

26 ستمبر، 2026
گیانیش کمار کے استعفے و گرفتاری کے مطالبے حق میں کانگریس کا ملک گیر مظاہرہ
قومی

گیانیش کمار کے استعفے و گرفتاری کے مطالبے حق میں کانگریس کا ملک گیر مظاہرہ

25 ستمبر، 2026
گیانیش کمار نے دو دنوں میں استعفیٰ نہیں دیا تو ملک گیر تحریک ہوگی: سی جے پی
قومی

گیانیش کمار نے دو دنوں میں استعفیٰ نہیں دیا تو ملک گیر تحریک ہوگی: سی جے پی

24 ستمبر، 2026
الیکشن کمیشن کی 14 اعتراضات پر وضاحت، اختلافِ رائے کو معمول قرار دیا
قومی

الیکشن کمیشن کی 14 اعتراضات پر وضاحت، اختلافِ رائے کو معمول قرار دیا

23 ستمبر، 2026