جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
 پوتن محدود حملے کے ذریعے نیٹو کے اتحاد کو آزما سکتے ہیں: رپورٹ
  1. ہوم
  2. عالمی خبریں
عالمی خبریں

پوتن محدود حملے کے ذریعے نیٹو کے اتحاد کو آزما سکتے ہیں: رپورٹ

Awaz E Bihar•8 اگست، 2026 کو 03:08 PM•8 ویوز•5 منٹ پڑھیں

امریکی انٹیلی جنس کے جائزوں کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پوتن آئندہ چند برسوں کے دوران نیٹو کے کسی رکن ملک پر محدود حملہ کرکے اتحاد کے عزم اور اتحاد کو آزمانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ یہ بات ان جائزوں سے واقف افراد نے بتائی ہے۔
امریکی انٹیلی جنس کے جائزوں میں روس کی جانب سے ممکنہ کشیدگی میں اضافے کے کئی منظرنامے پیش کیے گئے ہیں، جن میں سائبر حملوں سے لے کر محدود فوجی دراندازی تک شامل ہے۔ سی این این نے تین ایسے افراد کے حوالے سے بتایا ہے جو ان رپورٹس سے واقف ہیں کہ ان اقدامات کا مقصد نیٹو کے اتحاد اور اجتماعی دفاع سے متعلق آرٹیکل 5 کے تحت اس کے عزم کو آزمانا ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق ان منظرناموں میں لازمی طور پر ایسا بڑا حملہ شامل نہیں جس کے نتیجے میں نیٹو فوری طور پر مکمل پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کرنے پر مجبور ہو جائے۔
یہ واضح نہیں کہ پوتن ایسی حکمت عملی کب یا اختیار کریں گے بھی یا نہیں۔ ایک ذریعے کے مطابق روس کی جانب سے بالٹک ریاستوں یا پولینڈ کو نشانہ بنانے کا امکان زیادہ ہو سکتا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے سب سے پہلے حالیہ امریکی انٹیلی جنس جائزوں کی رپورٹ شائع کی تھی۔
ذرائع کے مطابق امریکی اور نیٹو حکام کا خیال ہے کہ اگر پوتن یوکرین کی جنگ سے نکلنے کے لیے ایسا راستہ حاصل کرنے میں ناکام رہے جس سے ان کی ساکھ یا وقار برقرار رہ سکے تو وہ نیٹو کے خلاف کشیدگی بڑھانے پر غور کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اس حوالے سے ممکنہ مدت موجودہ وقت سے لے کر آئندہ کئی برسوں تک ہو سکتی ہے۔
نیٹو کے سینئر فوجی ترجمان مارٹن او ڈونل نے خفیہ انٹیلی جنس جائزوں پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا، تاہم انہوں نے کہا کہ اتحاد متعدد ممکنہ صورتحال کے لیے تیاری کر رہا ہے۔انہوں نے کہا، ''نیٹو صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور ہم ضرورت کے مطابق روک تھام، دفاع اور کارروائی کے لیے تیار ہیں، جس کا ہم مسلسل مظاہرہ کررہے ہیں۔
روس پر حالیہ برسوں کے دوران نیٹو کے رکن ممالک کی حدود کی خلاف ورزی یا انہیں آزمانے والی کارروائیوں کے متعدد الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔
مئی میں روسی افواج کی جانب سے یوکرین کی ایک قریبی بندرگاہ پر حملے کے دوران دھماکہ خیز مواد سے لیس ایک ڈرون رومانیہ کی ایک رہائشی عمارت سے ٹکرا گیا، جس کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہوئے۔
ستمبر میں روس کی جانب سے یوکرین پر حملے کے دوران متعدد روسی ڈرونز پولینڈ کی فضائی حدود میں داخل ہوئے، جنہیں نیٹو کے جنگی طیاروں نے مار گرایا۔
یہ خدشات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب جرمنی میں لیپزگ/ہالے ایئرپورٹ پر ملنے والے دھماکہ خیز مواد سے لیس ڈرون کی الگ تحقیقات بھی جاری ہیں۔
یورپ میں تعینات ایک امریکی دفاعی عہدیدار نے بتایا کہ امریکہ کے اندازے کے مطابق یہ ڈرون روسی انٹیلی جنس سروس کا تھا اور اس میں فوجی نوعیت کا دھماکا خیز مواد موجود تھا۔جرمن حکام لیپزگ/ہالے ایئرپورٹ کے واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ بدھ کے روز پولیس نے رن وے پر دھماکہ خیز مواد سے نمٹنے کی صلاحیت رکھنے والا ایک روبوٹ بھی تعینات کیا۔ اس دوران یوکرین کا ایک انتونوف کارگو طیارہ قریب ہی کھڑا تھا۔
جرمن وزیر داخلہ الیگزینڈر ڈوبرنٹ نے کہا کہ ڈرونز دیکھے جانے اور ان سے متعلق خطرات کوئی نئی بات نہیں، تاہم کسی ایئرپورٹ پر دھماکہ خیز مواد سے لیس ڈرون کا ملنا خطرے کی ایک نئی نوعیت کی نشاندہی کرتا ہے۔
ڈوبرنٹ نے جمعرات کو کہا کہ ڈرون کا تعلق ''غیر ملکی طاقتوں'' سے ہو سکتا ہے، تاہم انہوں نے کسی ملک کا نام نہیں لیا۔
جرمنی کی قومی سلامتی کونسل، جس کی سربراہی چانسلر فریڈرک مرس کرتے ہیں، نے جمعے کو ایئرپورٹ کے واقعے پر غور کرنے کے لیے اجلاس منعقد کیا۔
کریملن نے پوتن سے متعلق امریکی انٹیلی جنس جائزوں یا جرمنی میں ڈرون کے واقعے پر تبصرے کے لیے کی جانے والی درخواستوں کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔
یہ انٹیلی جنس جائزے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی حکام ایران کے خلاف جنگ کے بعد اہم گولہ بارود کے ذخائر میں کمی کے خدشات کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ یوکرین میں روس کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کے حملوں میں شہری ہلاکتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق رواں سال جنوری سے جون کے دوران روس کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں سے ہونے والی شہری ہلاکتوں میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 60 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
رواں ہفتے ایک رات روسی بیلسٹک اور اینٹی شپ میزائلوں کے حملوں میں کم از کم 17 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے، جبکہ یوکرین کے فضائی دفاعی نظام نے ان میں سے کسی بھی میزائل کو نہیں روکا۔
ان معاملات سے واقف افراد کے مطابق امریکا کے اہم انٹرسیپٹر میزائلوں اور دیگر گولہ بارود کے ذخائر پر پڑنے والا دباؤ مستقبل کی ممکنہ جنگوں کے لیے فوجی منصوبہ بندی کو متاثر کر رہا ہے۔ ان میں روس اور نیٹو کے درمیان ممکنہ تصادم یا بحرالکاہل میں چین کے ساتھ جنگ بھی شامل ہے۔
چھ ایسے افراد کے مطابق جو گزشتہ ہفتے کیمپ ڈیوڈ میں ہونے والے کابینہ اجلاس سے واقف ہیں، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں نجی طور پر ان رپورٹس پر تشویش کا اظہار کیا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے باعث امریکی ہتھیاروں کے ذخائر کم ہو گئے ہیں۔
تاہم ٹرمپ نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا کہ امریکہ کے پاس گولہ بارود کی ''بہت بڑی مقدار'' موجود ہے اور مزید اسلحہ تیار کرکے امریکا پہنچایا جا رہا ہے۔
حالیہ انٹیلی جنس جائزے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب یوکرین کی جنگ ختم کرنے کے لیے امریکی قیادت میں جاری سفارتی کوششیں تعطل کا شکار ہیں۔ مغربی پابندیوں نے روسی معیشت پر دباؤ تو ڈالا ہے، تاہم اب تک وہ ماسکو کی فوجی مہم روکنے میں ناکام رہی ہیں۔
شیئر کریں:

More from عالمی خبریں

غزہ میں اسرائیلی جنگ کے تین سال بعد تباہی کی ہولناک تصویرسے پوری دنیا حیران
عالمی خبریں

غزہ میں اسرائیلی جنگ کے تین سال بعد تباہی کی ہولناک تصویرسے پوری دنیا حیران

29 ستمبر، 2026
امریکہ و چین 60 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر ٹیرف کم کرنے پر متفق
عالمی خبریں

امریکہ و چین 60 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر ٹیرف کم کرنے پر متفق

28 ستمبر، 2026
 آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے و اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ایران آنے کی اجازت دینے کا اعلان
عالمی خبریں

آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے و اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ایران آنے کی اجازت دینے کا اعلان

26 ستمبر، 2026
ہم فلسطین کے معاملے میں ناکام ہیں، آئرش وزیر اعظم مارٹن کا اقوام متحدہ میں خطاب
عالمی خبریں

ہم فلسطین کے معاملے میں ناکام ہیں، آئرش وزیر اعظم مارٹن کا اقوام متحدہ میں خطاب

25 ستمبر، 2026
دو عظیم رہنما ؤں کی نازک تجارتی جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش
عالمی خبریں

دو عظیم رہنما ؤں کی نازک تجارتی جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش

24 ستمبر، 2026
ایرانی پاسداران انقلاب کا امریکہ کے ساتھ طویل جنگ کے لیے تیار ہونے کا اعلان، نئی صلاحیتیں استعمال کرنے کی دھمکی
عالمی خبریں

ایرانی پاسداران انقلاب کا امریکہ کے ساتھ طویل جنگ کے لیے تیار ہونے کا اعلان، نئی صلاحیتیں استعمال کرنے کی دھمکی

21 ستمبر، 2026