جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے ہنگامے کے درمیان ایم ایس ایم ای ترمیمی بل پیش
  1. ہوم
  2. سیاست
سیاست

راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے ہنگامے کے درمیان ایم ایس ایم ای ترمیمی بل پیش

Awaz E Bihar•28 جولائی، 2026 کو 04:25 PM•33 ویوز•5 منٹ پڑھیں

پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے مسلسل ساتویں دن بھی راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے ہنگامے کے باعث کوئی خاص قانون سازی یا دیگر کارروائی نہیں ہو سکی۔ دوپہر دو بجے شور و غل اور نعرے بازی کے درمیان مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی ترقی (ترمیمی) بل-2026 پیش کیے جانے کے بعد ایوان کی کارروائی پورے دن کے لیے ملتوی کر دی گئی۔دوپہر کی کارروائی باضابطہ طور پر شروع بھی نہیں ہوئی تھی کہ اپوزیشن ارکان نے شور شرابہ شروع کر دیا۔ نائب چیئرمین ہری ونش نے ارکان سے نظم و ضبط برقرار رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے ایم ایس ایم ای کے وزیر جیتن رام مانجھی کو آج کی فہرستِ کارروائی کے مطابق مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی ترقی (ترمیمی) بل پیش کرنے کے لیے مدعو کیا۔
شری مانجھی نے شور شرابے کے درمیان کہا کہ وقت کے تقاضوں کے مطابق ایم ایس ایم ای ایکٹ 2006 میں ترمیم ضروری ہے، اسی مقصد کے تحت یہ ترمیمی بل ایوان میں پیش کیا جا رہا ہے۔ اس دوران اپوزیشن کی نشستوں سے نعرے بازی اور ہنگامہ مزید شدت اختیار کر گیا۔ نائب چیئرمین نے صوتی ووٹنگ کے ذریعے شری مانجھی کو بل پیش کرنے کی اجازت دے دی۔ایوان میں بڑھتے ہوئے ہنگامے کے درمیان نائب چیئرمین ہری ونش نے اپوزیشن کی جانب دیکھتے ہوئے کہا، "تو آپ لوگ نہیں چاہتے کہ ایوان چلے..."۔ اس کے بعد انہوں نے کارروائی بدھ کی صبح 11 بجے تک کے لیے ملتوی کر دی۔آج کی فہرستِ کارروائی میں قومی وقار کی توہین کی روک تھام ایکٹ میں ترمیم سے متعلق مجوزہ بل پر بحث اور منظوری بھی شامل تھی۔ "وندے ماترم بل" کے نام سے معروف اس ترمیمی بل کو موجودہ اجلاس کے دوران وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے پیش کیا تھا، تاہم مسلسل ہنگامے کے باعث اس پر اب تک بحث نہیں ہو سکی۔اس سے قبل آج صبح جیسے ہی ایوان کی کارروائی شروع ہوئی، اپوزیشن نے ہنگامہ آرائی شروع کر دی۔ نیٹ یو جی امتحان کے پرچہ لیک کے خلاف جنتر منتر پر دھرنا دینے اور پارلیمنٹ تک مارچ کرنے والے طلبہ اور دیگر مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی کے معاملے پر اپوزیشن وزیر داخلہ امت شاہ کے جواب کا مطالبہ کرتی رہی۔ اسی ہنگامے کے باعث ایوان کی کارروائی دوپہر دو بجے تک ملتوی کر دی گئی۔
لوک سبھا میں منگل کے روز پرچہ لیک، تعلیمی نظام اور نوجوانوں کے مستقبل کے موضوع پر حکمراں اتحاد اور اپوزیشن کے درمیان زبردست بحث ہوئی۔ حکمراں جماعت نے 'پبلک امتحان (غلط طوروطریقوں کی روک تھام) ترمیمی بل، 2026' کو امتحانی نظام میں شفافیت لانے اور نوجوانوں کے مفاد میں اٹھایا گیا سخت قدم قرار دیا، جبکہ اپوزیشن نے اسے حکومت کی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش بتاتے ہوئے کہا کہ اصل مسئلہ قانون کا نہیں بلکہ حکومت کی نیت اور جوابدہی کا ہے۔بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی رکن پارلیمنٹ بانسری سواراج نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ملک میں تعلیمی شعبے میں غیر معمولی توسیع ہوئی ہے اور طلبہ اب "ایگزام وریئرسے ایگزام واریئر" بن چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں کے دوران میڈیکل کالجوں کی تعداد دوگنی ہو گئی، ایمس کی تعداد سات سے بڑھ کر 20 ہو گئی اور جامعات کی تعداد میں 60 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق وزیر اعظم ہر سال "پریکشا پہ چرچا" پروگرام کے ذریعے طلبہ کی رہنمائی کرتے ہیں، جبکہ سی یو ای ٹی جیسے نظام سے یونیورسٹیوں میں داخلے کا عمل زیادہ شفاف ہوا ہے۔بانسری سواراج نے الزام لگایا کہ کانگریس کے دورِ حکومت میں 22 مرتبہ پرچے لیک ہوئے اور کانگریس کے زیر اقتدار کئی ریاستوں میں بھی ایسے واقعات پیش آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ مودی حکومت نے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) قائم کر کے امتحانات کو شفاف بنانے کی سمت ٹھوس اقدامات کیے ہیں۔
دوسری جانب ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ابھشیک بنرجی نے کہا کہ طلبہ کو شفاف امتحان ملنا ان کا بنیادی حق ہے، لیکن پرچہ لیک روکنے کے لیے صرف نیا قانون بنا دینا کافی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو پہلے یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ وہ پرچہ لیک روکنے میں ناکام رہی ہے۔ ان کا الزام تھا کہ حکومت ہر ناکامی کے بعد قانون تبدیل کر دیتی ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر حکومت میزائلوں کی نگرانی کر سکتی ہے تو پھر پرچہ لیک کیوں نہیں روک سکتی؟ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں میں متعدد پرچے لیک ہوئے، مگر قصورواروں کو سزا نہیں ملی۔ انہوں نے حکومت پر طلبہ کی تحریکوں کو طاقت کے ذریعے دبانے اور بہتر طرز حکمرانی فراہم کرنے میں ناکام رہنے کا بھی الزام عائد کیا۔دراوڑ منیترا کزگم (ڈی ایم کے) کے رکن پارلیمنٹ دیانِدھی مارن نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں میں کئی وزرائے تعلیم تبدیل ہوئے، لیکن تعلیمی نظام میں مطلوبہ اصلاحات نہیں ہو سکیں۔ ان کے مطابق پرچہ لیک ایک سنگین مسئلہ ہے، جس پر حکومت نے بروقت توجہ نہیں دی، اور حکومت طلبہ اور عوامی نمائندوں کی بات سننے کے لیے بھی تیار نہیں ہے۔
شیئر کریں:

More from سیاست

ہندوستان میں دہشت گردی کو برداشت نہیں کیا جائے گا:مودی
سیاست

ہندوستان میں دہشت گردی کو برداشت نہیں کیا جائے گا:مودی

27 ستمبر، 2026
ووٹ چوری سے آئین و جمہوریت ختم ہو رہی ہے: راہل گاندھی
سیاست

ووٹ چوری سے آئین و جمہوریت ختم ہو رہی ہے: راہل گاندھی

24 ستمبر، 2026
جموں و کشمیر اسمبلی میں ہنگامہ، پہلے ہی دن بی جے پی ارکان کا احتجاج
سیاست

جموں و کشمیر اسمبلی میں ہنگامہ، پہلے ہی دن بی جے پی ارکان کا احتجاج

21 ستمبر، 2026
ترقی یافتہ ہندوستان کے سفر کے مرکز میں ہے ملک کی نوجوان طاقت: مودی
سیاست

ترقی یافتہ ہندوستان کے سفر کے مرکز میں ہے ملک کی نوجوان طاقت: مودی

19 ستمبر، 2026
رمیش نے شی جن پنگ سے ملاقات کے بعد مودی کی چین پالیسی پر سوال اٹھائے، سرحد، آپریشن سندور اور معاشی انحصار کا معاملہ اٹھایا
سیاست

رمیش نے شی جن پنگ سے ملاقات کے بعد مودی کی چین پالیسی پر سوال اٹھائے، سرحد، آپریشن سندور اور معاشی انحصار کا معاملہ اٹھایا

13 ستمبر، 2026
’بچوں کی زندگی میں داخل ہونا ہوگا‘، یوم اساتذہ پر وزیراعظم نریندر مودی کی اساتذہ سے اپیل
سیاست

’بچوں کی زندگی میں داخل ہونا ہوگا‘، یوم اساتذہ پر وزیراعظم نریندر مودی کی اساتذہ سے اپیل

5 ستمبر، 2026