جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
کتب حدیث سے رہنمائی حاصل کیجیے!
  1. ہوم
  2. مضامین
مضامین

کتب حدیث سے رہنمائی حاصل کیجیے!

Awaz E Bihar•7 اپریل، 2026 کو 01:35 PM•16 ویوز•12 منٹ پڑھیں

ڈاکٹر محمد واسع ظفر
حدیث شریعت اسلامیہ کا دوسرا بنیادی ماخذ ہے، پہلا ماخذ تو قرآن ہے، یہ ہم سب جانتے ہیںلیکن قرآن کریم کو احادیث نبویہ اور آثار صحابہ کی روشنی میں ہی بہتر طور پر سمجھا جاسکتا ہے کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ذمے داری تھی کہ وہ قرآن کریم کی تفسیر و تشریح کرکے لوگوں کو سمجھائیں اور اس کی تعلیمات پر عمل کرکے ان کے لیے عملی نمونہ بھی پیش کریں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {وَأَنْزَلْنَآ إِلَیْْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَیْْہِمْ وَلَعَلَّہُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ} ’’اور ہم نے آپ پر بھی یہ ذکر (قرآن) اس لیے نازل کیا ہے تاکہ آپ لوگوں کے لیے اس کی وضاحت کردیں جو ان کی جانب نازل کیا گیا ہے اور تاکہ وہ غور و فکر کریں۔ ‘‘ (النحل: ۴۴)۔ نیز ارشاد ربانی ہے: {وَمَا أَنْزَلْنَا عَلَیْْکَ الْکِتٰبَ إِلاَّ لِتُبَیِّنَ لَہُمُ الَّذِیْ اخْتَلَفُوْا فِیْہِ وَہُدًی وَّرَحْمَۃً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ} ’’اور ہم نے آپ پر یہ کتاب صرف اس لیے نازل کی ہے تاکہ آپ ان کے لیے اس کی وضاحت کردیں جس میںانہوں نے اختلاف کیا ہے اور یہ ان کے لیے ہدایت اور رحمت ہے جو ایمان لاتے ہیں۔‘‘ (النحل: ۶۴)۔ نیز فرمان ربی ہے: {یَا أَیُّہَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَیْْکَ مِن رَّبِّکَ وَإِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہٗ} ’’اے رسول! جو کچھ بھی آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے، اسے لوگوں تک پہنچا دیجیے اوراگر آپ نے ایسا نہ کیا ہے تو گویا اس کی رسالت کا حق ادا نہ کیا۔‘‘ (المائدۃ: ۶۷)۔
چنانچہ آپ ؐ نے قرآن کی تشریح و ابلاغ کی یہ ذمے داری کماحقہ نبھائی ہے۔ اس پہلو سے دیکھیں تو احادیث، نبی کریم ﷺ کے ان ہی اقوال و افعال اور تقریرات (Silent Approvals) کا مجموعہ ہے جو آپ سے قرآن کریم اور شریعت اسلامیہ کی قولی و عملی وضاحت کے سلسلے میں صادر ہوئے ہیں۔ نبی کریم ﷺ کے براہ راست شاگرد چوں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تھے، اس لیے قرآن کریم اور شریعت اسلامیہ کو سمجھنے میں ان کے اقوال و افعال کی بھی بڑی اہمیت ہے جنھیں ’’آثار صحابہ‘‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ آج حدیث کی جو اکثر کتابیں موجود ہیں وہ دراصل احادیث رسول ﷺ اور آثار صحابہ کا مجموعہ ہیں۔ ہاں بعض کتابیں صرف آثار صحابہ پر ہی مبنی ہیں جیسے امام محمد بن حسن شیبانیؒ کی ’’کتاب الآثار‘‘۔ حدیث کی اہم کتابوں میں مؤطا امام مالکؒ، مسند امام احمد بن حنبلؒ، صحیح بخاریؒ، صحیح مسلمؒ، جامع ترمذیؒ، سنن ابی داؤدؒ، سنن نسائیؒ، سنن ابن ماجہؒ، مستدرک علی الصحیحین للحاکمؒ، صحیح ابن حبانؒ، صحیح ابن خزیمہؒ، سنن الکبریٰ للبیہقیؒ، شعب الایمان للبیہقیؒ، مصنف ابن ابی شیبہؒ، مصابیح السنۃ للبغویؒ، شرح السنۃ للبغویؒ، مشکوٰۃ المصابیح للخطیب التبریزیؒ، کنزالعمال فی سنن اقوال وافعال للامام علی متقی الہندیؒ، بلوغ المرام من أدلۃ الاحکام للحافظ ابن حجر عسقلانیؒ، سلسلہ احادیث صحیحہ للالبانیؒ وغیرہ شامل ہیں۔ ان کے علاوہ سنن الدارمیؒ، سنن الدار قطنیؒ، مسند امام شافعیؒ، مسند البزارؒ، امام طبرانیؒ کی معجم الکبیر، معجم الاوسط اور معجم الصغیر، امام سیوطیؒ کی جمع الجوامع المعروف بالجامع الکبیر اور الجامع الصغیر بھی حدیث کی مشہور کتابیں ہیں۔
شریعت اسلامیہ کو سمجھنے اور دینی معاملات میں خود کفیل ہونے کے لیے یہ ضروری ہے ایک پڑھا لکھا اور تعلیم یافتہ مسلمان احادیث نبویؐ اور آثار صحابہ کا مطالعہ کرے۔ جب ہی ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ صحیح اسلامی عقائد کیا ہیں اور اللہ کے رسول ﷺ نے زندگی کے مختلف شعبوں میں ہمارے لیے کن باتوں کو لازم کیا ہے اور کن باتوں سے بچنے کی ہدایت دی ہے۔ نیز احکام الٰہی کو نبوی طریقے پر ادا کرنے کی سمجھ بھی اسی ذریعے سے حاصل ہوگی۔ علاوہ ازیں سیرت نبویؐ کے تمام پہلو مثلاً عبادات، معاملات، اخلاقیات، معاشرت وغیرہ بھی احادیث نبویؐ اور آثار صحابہ کے ذریعے ہی ہم تک پہونچے ہیں۔ اس لیے نبی کریم ﷺ کی سیرت کو اختیار کرنے اور ان کی سنتوں کی پیروی کے لیے بھی احادیث و آثار کا مطالعہ ناگزیرہے۔ جن لوگوں نے کالج یا یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی ہے اور عصری علوم کے حامل ہیں، انھیں حدیث کی کتابوں کے بارے میں بہت علم نہیں ہوتا ہے، اسی لیے احقر نے حدیث کی کتابوں کا نام سطور بالا میں درج کردیا ہے، اور اگر کسی کو تھوڑا علم ہوتا بھی ہے تو وہ یہ سمجھتے ہیں ان کتابوں کا سمجھنا صرف علما کا کام ہے، ہم انھیں کیسے سمجھ سکتے ہیں، یہ تو عربی میں ہیں۔ تو میرے مخلص بھائیو یہ ایک غلط خیال ہے، اگر آپ عربی نہیں جانتے تو کیا ہوا، اب حدیث کی اکثر کتابوں کا ترجمہ اردو میں ہوچکا ہے بلکہ انگریزی، ہندی اور دوسری زبانوں میں بھی بہت سی کتابیں آچکی ہیں اور سارے تراجم علمائے کرام نے ہی عوام کے استفادے کے پیش نظر کیے ہیں۔ اس لیے آپ کو صرف مطالعہ کا ارادہ کرنے اور اس پر جٹ جانے کی ضرورت ہے۔ اگر آپ مذکورہ ساری کتابیں نہیں پڑھ سکتے جو کہ عام حالات میں بہت ممکن بھی نہیں ہے، تو کم از کم ایک کتاب کا تو ضرور ہی بالاستیعاب (Thoroughly) مطالعہ کریں۔ آپ دیکھیں گے کہ کچھ دنوں میں ہی بے علمی و جہالت کی تاریکی دور ہونا شروع ہوجائے گی اور علم کا نور آپ کے اندر داخل ہونا شروع ہوجائے گا۔ پھر ایک دن آئے گا کہ اوامر و نواہی (Do's and Dont's) کا ایک جامع اسلامی تصور آپ کی نگاہوں کے سامنے ہوگا اور ان کی رعایت کرنا بھی آپ کے لیے آسان ہوجائے گا۔ نیز سنت نبویؐ کا فہم و ادراک بھی کافی حد تک آپ کو حاصل ہوجائے گا۔ اس لیے مطالعہ حدیث کی طرف قدم ضرور بڑھائیں، جہالت کے ساتھ مسلمان رہنے سے کہیں بہتر علم و فہم کے ساتھ مسلمان ہونا ہے۔
جہاں تک حدیث کے مطالعہ کے لیے کتاب کے انتخاب کا معاملہ ہے تو اگر اس حقیر سے کوئی یہ پوچھے کہ اسے حدیث کی کسی ایک کتاب کا نام بتائیں جو ایک عام تعلیم یافتہ شخص پڑھ لے تو میں اسے امام ولی الدین محمد بن عبداللہ الخطیب التبریزیؒ (متوفی ۷۴۱ھ ؍ ۱۳۴۰ء) کی کتاب ’’مشکوٰۃ المصابیح‘‘ تجویز کروں گا۔ عام لوگوں کے مطالعہ کے لیے حدیث کی اس سے بہتر کوئی کتاب نہیں۔ اس میں مختلف بابوں کے تحت زندگی کے تمام امور سے متعلق احادیث کو کئی مستندکتابوں سے جمع کیا گیا ہے جن میں صحیح بخاریؒ، صحیح مسلمؒ، جامع ترمذیؒ، سنن ابی داؤدؒ، سنن نسائیؒ، سنن ابن ماجہؒ، سنن الکبریٰ للبیہقیؒ، شعب الایمان للبیہقیؒ، مؤطا امام مالکؒ، مسند امام احمد بن حنبلؒ، مسند امام شافعیؒ، سنن دارمیؒ، سنن دارقطنیؒ اہم ہیں۔ مشکوٰۃ المصابیح کا کئی لوگوں نے اردو میں ترجمہ کیا ہے، ان میں سے کسی کا انتخاب کیا جاسکتا ہے لیکن احقر جس ترجمے کی تجویز کرے گا وہ جناب ابو انس محمد سرور گوہر صاحب کا ہے جس کا نام ہے :’’مشکوٰۃ المصابیح مع الاکمال فی اسماء الرجال‘‘ (عربی۔ اردو) ہے۔ اس کی نظرثانی شیخ الحدیث ابو محمد حافظ عبدالستار الحماد صاحب نے کی ہے اور تحقیق و تخریج حافظ زبیر علی زئی صاحبؒ کی ہے۔ یہ کتاب تین جلدوں پر مشتمل ہے جسے مکتبہ اسلامیہ، لاہورنے اگست ۲۰۱۳ء میں شائع کیا۔ اس کی پی ڈی ایف فائلیں https://archive.org/ پر موجود ہیں۔ یہ ترجمہ بہت بہتر اور آسان ہے، اس میں حدیث کی تشریحات نہیں ہیں لیکن محقق نے ہر حدیث کے اصل ماخذ اور اس کی صحت کے بارے میں حاشیہ میں نشان دہی کردی ہے کہ یہ حدیث صحیح، حَسَن یا ضعیف ہے جسے ایک عام آدمی بھی سمجھ سکتا ہے۔ بس اتنا یاد رکھنا ہے کہ مسائل کی بنیاد صحیح یا حدیث حَسَن پر رکھی جاتی ہے اور ضعیف حدیث کو ان سے الگ رکھا جاتا ہے، اسے صرف ترغیب و ترہیب کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے اور جو حکم نص قطعی یعنی قرآن اور صحیح احادیث سے ثابت ہو، اس کی تائید میں اسے لایا جاسکتا ہے لیکن صرف ضعیف حدیث کی بنیاد پر کوئی حکم ثابت نہیں کیا جاسکتا یا کوئی عمل قائم نہیں کیا جاسکتا۔
مشکوٰۃ المصابیح کو اگر کوئی شخص ترجمے اور حدیث کی تشریحات کے ساتھ پڑھنا چاہے تو اسے ’’مظاہر حق جدید‘‘ کا مطالعہ کرنا چاہیے جس کے مرتب مولانا عبداللہ غازی پوری ہیں اور افادات علامہ نواب قطب الدین خاں دہلویؒ کا ہے۔ یہ کتاب سات جلدوں پر مشتمل ہے۔ ہندوستان میں اسے ادارہ اسلامیات، دیوبندنے اور پاکستان میں دارالاشاعت، کراچی نے شائع کیا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ کسی اور ادارے نے بھی اسے شائع کیا ہو۔ پاکستانی ایڈیشن کی پی ڈی ایف فائلیں https://archive.org اور https://www.emaanlibrary.com/ پر موجود ہیں۔ مشکوٰۃ کی اردو زبان میں کئی اور بھی شروحات ہیںلیکن یہ عام فہم ہے۔ اس میں احادیث کی وضاحت اور مسائل کے استخراج میں ائمہ اربعہ کے اقوال بھی نقل کرنے کا التزام کیا گیا ہے۔ مشکوٰۃ شریف کی ایک اور شرح جو بہت مشہور ہے، ملا علی قاری حنفیؒ کی ہے جس کا نام ’’مرقاۃ المصابیح‘‘ ہے۔ اس کا بھی اردو میںترجمہ ہوچکا ہے جو کہ گیارہ جلدوں پر مشتمل ہے۔ اسے مکتبہ رحمانیہ، لاہور نے شائع کیا ہے۔ اس کی پی ڈی ایف فائلیں بھی https://archive.org پر موجود ہیں۔ مشکوٰۃ المصابیح کی ایک اور شرح جس سے استفادہ کیا جاسکتا ہے، ’’انوار المصابیح‘‘ ہے جو پانچ جلدوں پر مشتمل ہے۔ترجمہ و تشریح شیخ الحدیث مولانا عبدالسلام بستویؒ نے کیا ہے ۔ اسے مکتبہ قدوسیہ، لاہور نے ۲۰۱۴ء میں شائع کیا ہے۔اس کتاب کی بھی سبھی جلدیں https://archive.org/ پر پی ڈی ایف فائلوں کی شکل میں دستیاب ہیں۔
مشکوٰۃ شریف کے علاوہ اگر کوئی حدیث کی کتاب ایک عام تعلیم یافتہ شخص کو تجویز کی جاسکتی ہے، وہ پچھلی صدی عیسوی کے ہندوستان کے ایک مشہور عالم دین مولانا منظور احمد نعمانیؒ (۱۹۰۵ - ۱۹۹۷ء) کی تالیف ’’معارف الحدیث‘‘ ہے۔ وہ لکھنؤ کے باشندہ تھے اور احقر کو ایک بار ان سے ملاقات کا شرف بھی حاصل ہے جب کہ وہ صاحب فراش ہوچکے تھے۔ یہ سنہ ۱۹۹۴ء کی بات ہے۔ بہرحال ان کی یہ کتاب بھی احادیث کا ایک اہم مجموعہ ہے جو آٹھ جلدوں پر مشتمل ہے۔ اس میںعام تعلیم یافتہ مسلمانوں کی دینی، ذہنی، علمی و فکری حالت کو پیش نظر رکھ کر حدیث کے متن کے ساتھ اس کا ترجمہ اور تشریح دونوں عام فہم اردو میں پیش کیا گیا ہے۔ جن احادیث کے سلسلے میں کسی طبقے میں کچھ غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں، ان کے ازالہ کی بالخصوص کوشش کی گئی ہے۔ پہلی جلد میں ایمان کے مختلف اجزا و ارکان سے متعلق احادیث ہیں، دوسری جلد میں کتاب الرقاق و کتاب الاخلاق ہے، تیسری میںطہارت و پاکیزگی اور نماز کے مسائل سے متعلق احادیث ہیں، چوتھی جلد زکوٰۃ، روزے اور حج سے متعلق احادیث پر مبنی ہے، پانچویں جلد میں اذکار اور دعاؤں کو یکجا کیا گیا ہے، چھٹی اور ساتویں جلد میں اسلامی معاشرت اور معاملات کا بیان ہے اور آٹھویں جلدمیں علم، کتاب اللہ اور تعلیمات نبویؐ کی پابندی، بدعات سے اجتناب، دعوت الی الخیر، فتنے اور علامات قیامت نیز امہات المؤمنین، اہل بیت اور اجلہ صحابہ کرام کے فضائل و مناقب سے متعلق احادیث کو لانے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ ہندوستان میں اس کتاب کو الفرقان بک ڈپو، لکھنؤ نے شائع کیا ہے اور پاکستان میں دارالاشاعت، کراچی نے۔ پاکستانی ایڈیشن کی پی ڈی ایف فائلیں بھی https://archive.orgپر موجود ہیں جن سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔
اس کے علاوہ حدیث کی ایک اور اہم کتاب جو ایک عام تعلیم یافتہ شخص کو تجویز کی جاسکتی ہے ’’بُلُوغُ الْمَرامِ مِنْ أدِلَّۃِ الاحکام‘‘ ہے۔ یہ علامہ ابوالفضل شہاب الدین احمد ابن حجر عسقلانیؒ (۷۷۳ - ۸۵۲ھ) کی تالیف ہے جو آٹھویں و نویںصدی ہجری کے مصر کے مشہور و معروف عالم اور محدث گزرے ہیں۔ ان کی حدیث پر کئی تصانیف ہیں لیکن ’’بلوغ المرام ‘‘ بہت مقبول ہے اور بہت سے مدارس کے نصاب میں بھی داخل ہے۔ اس کتاب کا بھی ترجمہ اردو میں ہوچکا ہے اور اس کی شرح بھی آچکی ہے۔ وہ نسخہ جس سے احقر استفادہ کرتا رہاہے ، دارالسلام پبلشرز اینڈ ڈسٹری بیوٹرز، ریاض و لاہور کاشائع کردہ ہے جسے ’’اتحاف الکرام شرح بلوغ المرام‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس کا ترجمہ مولانا عبدالوکیل علوی نے کیا ہے، تشریحات مولانا صفی الرحمن مبارکپوری کی ہیں اور تصحیح و تنقیح کا کام مولانا ارشاد الحق اثری نے انجام دیا ہے۔ یہ کتاب دو جلدوں پر مشتمل ہے۔ پہلی جلد میں طہارت، نماز، جنازہ، زکوٰۃ، روزہ اور حج کے مسائل سے متعلق احادیث ہیں جو ۵۰۵ ؍ صفحات پر مشتمل ہے اور دوسری جلد میں تجارت، نکاح و طلاق، حدود ، قضا، شکار و قربانی، آداب و اخلاق سے متعلق احادیث ہیں جو۴۹۳؍صفحات پر مشتمل ہے۔ دونوں جلدوں کی پی ڈی ایف فائل https://archive.org پر موجود ہے۔ ’’بلوغ المرام ‘‘ کی ایک دوسری شرح ’’فتح ذی الجلال و الاکرام شرح بلوغ المرام ‘‘ کے نام سے بھی ہے۔ اس کے مترجم مولانا آصف نسیم اور شارح فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمینؒ ہیں۔ اسے دار المعرفۃ، لاہورنے دو جلدوں میں شائع کیا ہے۔ پہلی جلد۱۰۲۴؍ صفحات پر اور دوسری جلد۱۰۹۷؍ صفحات پرمشتمل ہے۔ یہ دونوں جلدیں بھی پی ڈی ایف فائل کی شکل میں https://archive.org پر موجود ہیں۔
بہتر تو یہ ہے کہ مذکورہ تینوں کتابیں ہر مسلمان کے گھر میں موجود ہوں ورنہ کم از کم ایک تو ضرور ہی ہو۔ نئی نسل چوں کہ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ سے زیادہ وابستہ ہے، اس لیے پی ڈی ایف ورژن کی معلومات بھی فراہم کردی ہیں۔ اپنی سہولت کے اعتبار سے جس سے چاہیں استفادہ کریں۔ بس ایک یا دوحدیث مع تشریحات کے روزانہ پڑھنے کا معمول بنالیں، اگر گھر کی مستورات اور بچوں کو ساتھ بٹھا کر پڑھیں تو اور بھی مفید ہوگا۔ اس سے تمام اہل خانہ کے اندر دین کی سمجھ پیدا ہوگی، احکام کی بجا آوری کا نبوی طریقہ بھی سمجھ میں آئے گا، بچوں میں دین داری آئے گی اور گھر کے اندر برکتوں کا نزول ہوگا۔ بہت سی خرافات سے بھی نجات حاصل ہوجائے گی جن میں عام مسلم گھرانا مبتلا ہوچکا ہے۔ یاد رکھیںکہ دین کو سمجھنا، اپنے اہل و عیال کو اس سے آگاہ کرنا اور اسلامی خطوط پر ان کی تربیت کرنا ہر مسلمان کی ذمے داری ہے جس کے متعلق اس سے باز پرس ہوگی۔ اس لیے اپنی اس ذمے داری کو سمجھیں اور حدیث کی تعلیم کا اپنے گھر میں معمول ضرور بنائیں۔ نیت خالص طلب ہدایت، عمل آوری اور رضائے الٰہی کی ہو، پھر اللہ تعالیٰ کی مدد ضرور آئے گی اور مذکورہ فوائد کا آپ خود مشاہدہ کریں گے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
٭٭٭٭٭


شیئر کریں:

More from مضامین

عبد الجلیل مستان
مضامین

عبد الجلیل مستان

28 ستمبر، 2026
آٹھ سال کے بعد اردو ڈائرکٹریٹ، پٹنہ کا بے مثال جشن اردو
مضامین

آٹھ سال کے بعد اردو ڈائرکٹریٹ، پٹنہ کا بے مثال جشن اردو

28 اگست، 2026
آزادی کے بعد آزادی کی تلاش،خواب ابھی باقی ہے
مضامین

آزادی کے بعد آزادی کی تلاش،خواب ابھی باقی ہے

21 اگست، 2026
سپریم کورٹ کا حکم، انتظامی ضوابط اور جدید معاشی تحفظ کا پیغام
مضامین

سپریم کورٹ کا حکم، انتظامی ضوابط اور جدید معاشی تحفظ کا پیغام

21 اگست، 2026
شوبھندو حکومت کے 100 دن
مضامین

شوبھندو حکومت کے 100 دن

20 اگست، 2026
​پولیس تشدد کے خلاف اہم فیصلہ
مضامین

​پولیس تشدد کے خلاف اہم فیصلہ

13 جولائی، 2026