جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
شهید بابری مسجد اور مسلمانان هند کی بےبسى؟
  1. ہوم
  2. مضامین
مضامین

شهید بابری مسجد اور مسلمانان هند کی بےبسى؟

Awaz E Bihar•7 دسمبر، 2025 کو 03:07 PM•0 ویوز•6 منٹ پڑھیں

ریاض فردوسی.9968012976

تاریخی بابری مسجد کی شہادت کو 33 برس بیت گئے ہیں،اس سانحہ پر امت مسلمہ کے منافقین کو چھوڑ کر پوری ملت اسلامیہ کے دلوں میں یہ زخم آج بھی تازہ ہیں،بابری مسجد کے بعد بھارتی مسلمان عدم تحفظ اور ذہنی تکلیف کا شکار ہیں، ہندو انتہا پسند تنظیمیں ریاستی سرپرستی سے اقلیتوں کو مزید محدود کرناچاہتی ہیں۔جنونی ہندوؤں نے بابری مسجد کو شہید کر کے بھارتی مسلمانوں کے جذبات کو جو ٹھیس پہنچائی تھی اس کا مداوا آج تک نہیں ہو سکا بلکہ انتہا پسند ہندو گروہ کھلے عام اپنے اس غیر انسانی جرم کو بطور کارنامہ بیان کرتے ہیں اور سنگھ پریوان میں شامل BJP سمیت ساری جماعتیں اس دن کو ’’ گرو دیوس‘‘ یعنی یومِ فخر کے طور پر مناتی ہیں.
اس امر سے سبھی آگاہ ہیں کہ یہ گروہ ان مذموم عزائم کا اظہار کر رہے ہیں کہ وہ جلد ہی متھرا میں واقع عید گاہ مسجد اور بنارس کی عالم گیری مسجد کو بھی شہید کر دیں گے اور ان کی جگہوں پر بالترتیب کرشن مندر اور شیو مندر بنایا جائے گا ۔ اس کے علاوہ بھی پورے ہندوستان میں 3 ہزار دیگر مسجدوں اور درگاہوں کی فہرست جاری کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ جلد یا بدیر ان تمام عبادت گاہوں کو مسمار کر دیا جائے گا۔
انسانی معاشرے نے تاریخ کے دوران ہمیشہ ظالمانہ اور مظلومانہ دونوں طرح کی حرکات کا مشاہدہ کیا ہے،لیکن کیا ظالمانه اور سنگ دل‌انگیز تماشہ ہےکہ تمام گواہان اور شواھد کے ہوتے ہویے بھی اللہ کے گھر کو شہید کرکے اس پر کھلے عام بت پرستی شروع ہوگیی۔
ہماری آنکھوں میں آنسو تک نہیں؟
ہمارے دل اس درد عظیم کو بھلا چکے ہیں؟

مسلمانوں جب NRC کے بہانے تمہیں باہر نکالنے کی سازشیں ہورہی تھی تو ملت کی مائیں،بہنیں،سب سڑک پر اپنے گھر کو بچانے کے لیے آگیے تھے،لیکن اللہ کے گھر کے معاملے میں ہم کیوں ابابیل کے لشکر کا انتظار کر رہےہیں؟
کیوں ہم سنت عبد المطلب ادا کرنے کی بات کرتے ہیں؟
6 دسمبر1992ء مسلمانانِ ہند کے لئے ناقابلِ فراموش تاریخ ہے۔جس میں متعصب قوم ہنود کی جماعت وشو ہندوپریشد،بی جے پی،بجرنگ دل،شیوسینا پارٹیوں کے کارکنان ساختہ پرداختہ پروگرام سے تقریباً کئی سو سالہ قدیم عظیم تاریخی بابری مسجد جو سر زمینِ اجودھیا میں آباد تھی اس کو زمین بوس کردیا۔
معتبر ذرائع وشواہد سے واضح ہوتا ہے کہ اس وقت کی برسر اقتدار حکومت کانگریس پارٹی کے وزیراعظم ہند نرسمہا راؤ اور اترپردیش کے وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ بھی خفیہ طور پر ان لوگوں کی اس خبیث سازش میں برابر کے شریک تھے،چونکہ کئی ہزار کے فوجی دستے کی موجودگی میں بابری مسجد کو شہید کیا جاتا رہا اور تمام فوجی دستے نیز ارکان و عملہ تماشائی بنے رہے۔آخر ان افواج وعساکر کے ارسال کا منشا و مقصد کیا تھا؟مقام حیرت واستعجاب تو یہ ہے کہ اگر اس وقت کی حکومت سے بابری مسجد کے انہدام اور افواج و عساکر کے بھیجنے کے متعلق دریافت کیا جاتا تو وہ یہی جواب دیتی کہ اگر فرستادہ افواج وعساکر بزورِ بازو ہندوؤں کو روکنے،مسجد منہدم کرنے اور مندر کی تعمیر سے مانع ہوتے تو کافی خون خرابا ہوتا اور خون خرابا مجھے منظور نہ تھا۔بالائے تعجب ہے ایسی بوالعجمی پر کہ سر زمینِ اجودھیا میں خون خرابا کی وجہ سے افواج وعساکر کے ہاتھوں میں بیڑیاں اور پاؤں میں زنجیریں ڈالی گئیں تھیں جس کا نتیجہ اور ثمرہ اظہر من الشمس اور ابین من الامس یہ نکلا تھا کہ بابری مسجد شہید کردی گئی۔سچ تو یہ ہے کہ تمام سرکاری نوکر کچھ الله پرست مسلمانوں کو روکنے کے لیے وہاں موجود تھے۔
تاریخی حقیقت ہے کہ اودھ کے حاکم میر باقی اصفہانی نے 1528ء میں بابری مسجد تعمیر کروائی تھی۔ یہ دور شہنشاہ بابر کا تھا۔ہندو انتہا پسند تنظیموں نے بابری مسجد کو سب سے پہلے 27 مارچ 1932ء کو گئو کشی کے نام پر نشانہ بنایا تھا۔ پھر اس کے 60 سال بعد چھ دسمبر 1992 کو ہندو کارسیوکوں نے بابری مسجد کو منہدم کر دیا۔ گزشتہ 33 سال سے ہر برس 6 دسمبر کو رام جنم بھومی کی حامی تنظیمیں 'شوریہ دیوس' اور مسلم تنظیمیں 'یوم سیاہ' کے طور پر مناتے آرہے ہیں۔ اسی سال بابری مسجد کے مقام پر رام مندر کی تعمیر مکمل ہوئی اور پی ایم مودی نے اس کا افتتاح کیا۔
واضح رہے کہ فیض آباد کے ایس پی کرناسنگھ نے یکم جون 1950ء کو جو جواب دعویٰ عدالت میں داخل کیا اس میں لکھا تھا کہ”زمانہ قدیم سے بابری مسجد ہے اس میں مسلمان ہمیشہ سے نماز پڑھتے چلے آرہے ہیں ہندؤں کا اس سے کوئی واسطہ اور سروکار نہیں ہے۔“
ڈپٹی کمشنر فیض آباد نے اسی مقدمہ سے متعلق یکم جولائی 1950ء کو جو حلف نامہ داخل کیا تھا اس میں بھی ”بابری مسجد“ کی مسجدیت کا اعتراف و اقرار موجود ہے،مذکورہ بالا مقدمہ کے علاوہ 1961ء میں دو مزید مقدمات دائر کئے گئے ایک رام چندر داس کی جانب سے اور دوسرا نرموہی اکھاڑہ کی طرف سے،جس کے جواب میں جمعیة علماء ہند اور یوپی سنی سنٹرل وقف بورڈ کی جانب سے بھی مقدمات قائم کئے گئے جن میں کہا گیا تھا کہ یہ بابری مسجد مسلمانوں کی مسجد ہے جس میں وہ 1528ء سے برابر عبادت کرتے رہے ہیں لہٰذا یہ مسجد انھیں واپس دی جائے اور نماز وغیرہ میں کسی قسم کی مداخلت نہ کی جائے۔ملک کی جنگ آزادی میں مسلمانوں کی جان ومال،عزت و آبرو تباہ و برباد كرنے کا اولین صلہ،قربانیوں کا اولین انعام،آزاد ہونے کے بعد یہ دیاگیا کہ مسلمانو کی قدیم متبرک عبادت گاہ میں مورتیاں رکھ دی گئیں اوراس کے منبر ومحراب جو اب تک رکوع و سجود سے آباد تھے،بند کر دیاگيا.
اس حادثہ کے وقت مولانا آزاد نے کہا تھا کہ ”میرے ذہن میں یہ سوال گونج رہا ہے کہ مستقبل میں مسلمانوں کو ایک ملت کی حیثیت سے قبول کیا جائے گا یا نہیں،اگر اس کا جواب اثبات میں ملتا ہے،تو بابری مسجد سے بت ہٹادئیے جائیں گے،اور اگر آئندہ چل کر اس کی نفی ہوتی ہے،تو انتظار کیجئے دوسری مسجدوں میں بھی اس طرح کے حادثات پیش آسکتے ہیں۔“
اوس بن شرحبیل سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ارشاد فرماتے ہیں کہ جو شخص کسی ظالم کی مدد کے لئے، اور اس کا ساتھ دینے کے لئے چلا اور اُس کو اس بات کا علم تھا کہ یہ ظالم ہے تو وہ اسلام سے نکل گیا۔
قرآن نے ظالم کا ہاتھ پکڑنے اور مظلوموں کا ساتھ دینے کا حکم دیا ہے۔ کفر کی حکومت تو قائم رہ سکتی ہے مگر ظلم کی نہیں،ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا : اے لوگو! تم اس آیت کو پڑھتے ہو: "سورہ مائدہ۔ 105۔اے ایمان والو! اپنی فکر کرو۔ جب تم راهِ راست پر چل رہے ہو، تو جو شخص گمراه رہے، اس سے تمہارا کوئی نقصان نہیں)
میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے :
"لوگ جب ظالم كو ظلم کرتا ہوا دیکھیں اور اسے نہ روکیں تو قریب ہے کہ اللہ کی طرف سے ان سب پر عذاب نازل ہوجائے۔"(رواه أبو داود والترمذي والنسائي في الكبرى وابن ماجه واحمد۔سنن الترمذي۔2168)
امیر المومنین،امام متقین سیدنا مولی علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا:ظالم کے دشمن اور مظلوم کے مددگار بنے رہنا(نہج البلاغه:مکتوب نمبر 47)

شیئر کریں:

More from مضامین

عبد الجلیل مستان
مضامین

عبد الجلیل مستان

28 ستمبر، 2026
آٹھ سال کے بعد اردو ڈائرکٹریٹ، پٹنہ کا بے مثال جشن اردو
مضامین

آٹھ سال کے بعد اردو ڈائرکٹریٹ، پٹنہ کا بے مثال جشن اردو

28 اگست، 2026
آزادی کے بعد آزادی کی تلاش،خواب ابھی باقی ہے
مضامین

آزادی کے بعد آزادی کی تلاش،خواب ابھی باقی ہے

21 اگست، 2026
سپریم کورٹ کا حکم، انتظامی ضوابط اور جدید معاشی تحفظ کا پیغام
مضامین

سپریم کورٹ کا حکم، انتظامی ضوابط اور جدید معاشی تحفظ کا پیغام

21 اگست، 2026
شوبھندو حکومت کے 100 دن
مضامین

شوبھندو حکومت کے 100 دن

20 اگست، 2026
​پولیس تشدد کے خلاف اہم فیصلہ
مضامین

​پولیس تشدد کے خلاف اہم فیصلہ

13 جولائی، 2026