اسکرین سے دستبرداری، اخبار سے یاری
مضامین

اسکرین سے دستبرداری، اخبار سے یاری

Awaz E Bihar••0 ویوز•8 منٹ پڑھیں


(حافظ)افتخاراحمدقادری
دورِ حاضر کی سیاست محض اقتدار کی کشمکش یا انتخابی نعروں تک محدود نہیں رہی بلکہ اب یہ براہِ راست ذہنوں کی تشکیل، ترجیحات کی سمت اور سوچ کے زاویوں کو متاثر کرنے کا ذریعہ بن چکی ہے۔ آج کے عہد میں اصل معرکہ سرحدوں پر نہیں بلکہ ذہنوں میں برپا ہے، جہاں سچ اور جھوٹ، خبر اور پروپیگنڈا، شعور اور فریب کے درمیان ایک خاموش مگر نہایت خطرناک جنگ جاری ہے۔ اس جنگ میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والی نسل ہمارے بچے ہیں، جن کی فکری تربیت اب اسکرین، الگورتھم اور وائرل مواد کے رحم و کرم پر چھوڑ دی گئی ہے۔ ایسے نازک سیاسی و سماجی ماحول میں تعلیم سے جڑے کسی بھی فیصلے کو محض تعلیمی اصلاح نہیں بلکہ ایک سیاسی، فکری اور تہذیبی موقف کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ ڈیجیٹل دور میں موبائل فون، ٹیبلٹ اور اسکرین کلچر نے بچوں کی زندگی پر غیر معمولی غلبہ حاصل کر لیا ہے۔ کھیل کے میدان، لائبریریاں اور مطالعے کی میزیں خاموش ہو چکی ہیں جبکہ انگلیوں کی ایک جنبش پر آنے والی مختصر، سطحی اور اکثر گمراہ کن معلومات نے بچوں کے ذہنوں کو منتشر کر دیا ہے۔ سیاست دانوں کی تقریریں ہوں، سوشل میڈیا کے ٹرینڈز ہوں یا نفرت و اشتعال پر مبنی مواد سب کچھ ایک ہی اسکرین پر بغیر کسی فلٹر کے بچوں تک پہنچ رہا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ارتکاز، برداشت، سنجیدہ مطالعہ اور تنقیدی فکر جیسی صلاحیتیں بتدریج کمزور پڑتی جا رہی ہیں جو کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ ایسے پس منظر میں اتر پردیش حکومت کا اسکولوں میں اخبار بینی کو لازمی قرار دینا محض ایک تعلیمی فیصلہ نہیں بلکہ ایک فکری اور سیاسی اعلان ہے۔ یہ اس بات کا اعتراف ہے کہ اگر آنے والی نسل کو باشعور شہری بنانا ہے تو اسے مستند معلومات، ذمہ دار صحافت اور سنجیدہ مطالعے سے جوڑنا ناگزیر ہے۔ اخبار، جو برسوں سے رائے عامہ کی تشکیل اور جمہوری اقدار کے استحکام کا ذریعہ رہا ہے، آج بھی خبر اور افواہ کے درمیان فرق سکھانے کا سب سے مؤثر وسیلہ ہے۔ اسی لیے اس اقدام کو قومی سطح پر تعلیمی اصلاحات میں ایک سنگِ میل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور مہاراشٹر سمیت دیگر ریاستوں کے تعلیمی حلقے بھی اسی طرز کی اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا نے بظاہر معلومات تک رسائی کو آسان بنا دیا ہے، مگر اس کے ساتھ فیک نیوز، آدھی سچائیاں اور منظم گمراہ کن مہمات بھی عام ہو گئی ہیں، جو خاص طور پر کم عمر ذہنوں کو آسانی سے متاثر کر لیتی ہیں۔ بچے اکثر یہ فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے کہ کون سی خبر مستند ہے اور کون سا مواد کسی سیاسی یا نظریاتی ایجنڈے کے تحت پھیلایا جا رہا ہے۔ یہی وہ خلا ہے جسے اخبار پُر کرتا ہے۔ اخبار نہ صرف خبر کی تصدیق، حوالہ اور پس منظر فراہم کرتا ہے بلکہ بچوں کو یہ سکھاتا ہے کہ معلومات کو سوالیہ نگاہ سے دیکھا جائے، اس پر غور کیا جائے اور پھر کوئی رائے قائم کی جائے۔ ماہرینِ تعلیم اور نفسیات اس امر پر متفق ہیں کہ مسلسل اسکرین ٹائم بچوں میں ذہنی دباؤ، بے چینی، چڑچڑا پن اور توجہ کی کمی کا سبب بنتا ہے۔ اس کے برعکس اخبار بینی ایک سست مگر گہرا عمل ہے جو صبر، یکسوئی اور فکری ٹھہراؤ پیدا کرتا ہے۔ یہ عادت بچوں میں زبان دانی کو مضبوط کرتی ہے، اظہارِ خیال کو نکھارتی ہے اور سماجی و سیاسی معاملات کو سمجھنے کا شعور عطا کرتی ہے۔ یہی وہ عناصر ہیں جو ایک ذمہ دار ووٹر، باخبر شہری اور جمہوریت کے محافظ کی بنیاد بنتے ہیں۔
ریاستی سطح پر اگر روزانہ باقاعدہ ریڈنگ سیشنز، مباحثے اور مطالعے سے جڑی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے تو یہ محض نصابی کامیابی تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ بچوں میں فکری پختگی، سماجی حساسیت اور سیاسی شعور بھی پیدا کریں گی۔ ایک ایسا طالب علم جو اخبار پڑھنے کا عادی ہو، وہ کسی بھی سیاسی نعرے، اشتعال انگیز بیان یا نفرت آمیز مہم کا آسان شکار نہیں بنتا بلکہ سوال کرتا ہے، پس منظر تلاش کرتا ہے اور اپنی رائے دلیل کی بنیاد پر قائم کرتا ہے۔ والدین، اساتذہ اور حکومت تینوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو اسکرین کے بے لگام استعمال سے بچائیں اور انہیں کتاب اور اخبار کی طرف واپس لائیں۔ یہ کام محض اخلاقی نصیحت سے نہیں بلکہ عملی اقدامات، تعلیمی پالیسی اور سماجی ماحول کی تشکیل سے ممکن ہے۔ اسکولوں میں اخبار کلچر کو فروغ دینا دراصل ایک ایسی نسل کی تیاری ہے جو سچ اور جھوٹ میں تمیز رکھتی ہو، اختلاف کو برداشت کرنا جانتی ہو اور جمہوری اقدار کی حفاظت کر سکے۔ تعلیم اور سیاست ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ جس معاشرے کے بچے فکری طور پر کمزور ہوں، وہاں جمہوریت بھی کمزور ہو جاتی ہے۔ اسکرین سے دستبرداری اور اخبار سے یاری محض مطالعے کی عادت نہیں بلکہ ایک سیاسی، سماجی اور تہذیبی ضرورت ہے۔ یہی راستہ ایک باشعور، باخبر اور ذمہ دار نسل کی تشکیل اور ایک روشن، مستحکم مستقبل کی ضمانت بن سکتا ہے۔
اب سوال یہ نہیں رہ جاتا کہ اخبار پڑھا جائے یا موبائل اسکرین دیکھی جائے بلکہ اصل سوال یہ بنتا ہے کہ قوم کی اجتماعی سمت کس کے ہاتھ میں دی جائے؟ ذمہ دار صحافت کے یا بے لگام ڈیجیٹل سیاست کے؟ سیاست چونکہ محض اقتدار کا کھیل نہیں بلکہ رائے عامہ کی تشکیل، خوف اور امید کے بیانیے، نفرت اور ہم آہنگی کے زاویے طے کرنے کا نام ہے اس لیے یہ فیصلہ کہ عوام معلومات کہاں سے حاصل کریں دراصل یہ طے کرنا ہے کہ جمہوریت کس بنیاد پر کھڑی ہوگی۔ موبائل اسکرین پر سیاست اکثر جذبات کو بھڑکانے، فوری ردِعمل پیدا کرنے اور سوچے سمجھے بغیر کسی ایک بیانیے کے حق یا مخالفت میں کھڑا کر دینے کا ذریعہ بنتی ہے۔ یہاں خبر سے زیادہ شور، دلیل سے زیادہ الزام اور مکالمے سے زیادہ تصادم کو فروغ دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسکرین پر سیاست دیکھنے والا فرد اکثر باشعور شہری نہیں بلکہ کسی نہ کسی ڈیجیٹل لشکر کا حصہ بن جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں اخبار سیاست کو صرف نعرے یا ٹرینڈ کی شکل میں نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل، ایک تاریخی تسلسل اور ایک سماجی ذمہ داری کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اخبار پڑھنے والا قاری کسی ایک خبر پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ مختلف زاویوں سے حالات کو دیکھتا ہے، پس منظر کو سمجھتا ہے اور یہ جاننے کی کوشش کرتا ہے کہ کسی فیصلے کے پیچھے کون سے مفادات کار فرما ہیں۔ یہی وہ تربیت ہے جو عوام کو اندھی تقلید کے بجائے شعوری شرکت کی طرف لے جاتی ہے۔ سیاست اگر عوامی مفاد سے ہٹ کر نفرت، مذہب، قومیت یا خوف کے سہارے کی جائے تو اخبار اسے بے نقاب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے بشرطیکہ قاری خود پڑھنے، سمجھنے اور سوال کرنے کی عادت رکھتا ہو۔
آج جہاں سوشل میڈیا پر ایک جھوٹ چند منٹوں میں سچ بن جاتا ہے اور سچ کو منظم طریقے سے دبایا جا سکتا ہے وہاں اخبار عوام کے لیے ایک فکری پناہ گاہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ پناہ گاہ شور سے دور، اشتعال سے آزاد اور کم از کم اتنی مہلت ضرور دیتی ہے کہ قاری خود سے یہ سوال کر سکے کہ جو کچھ اسے بتایا جا رہا ہے، کیا وہ مکمل سچ ہے یا کسی مخصوص سیاسی فائدے کے لیے تراشا گیا بیانیہ؟ موبائل اسکرین اس مہلت کو چھین لیتی ہے کیونکہ وہاں ہر چیز فوری ہے، ہر ردِعمل جذباتی ہے اور ہر اختلاف دشمنی میں بدلنے کے لیے تیار کھڑا ہے۔ عوام اگر سیاست کو واقعی سمجھنا چاہتے ہیں، اپنے ووٹ کی حرمت کو پہچاننا چاہتے ہیں اور اپنے بچوں کے مستقبل کو نفرت اور فریب کے حوالے نہیں کرنا چاہتے تو انہیں اسکرین سے محتاط فاصلہ اور اخبار سے سنجیدہ رشتہ قائم کرنا ہوگا۔ یہ کوئی رجعت پسندانہ سوچ نہیں بلکہ ایک جمہوری ضرورت ہے۔ کیونکہ وہ قوم جو اپنی سیاست کو محض موبائل کلپس، وائرل نعروں اور جذباتی پوسٹوں سے سیکھتی ہے وہ جلد یا بدیر اپنے فیصلوں کی قیمت بھی چکاتی ہے۔ اس کے برعکس وہ معاشرہ جو اخبار، کتاب اور سنجیدہ مطالعے کے ذریعے سیاست کو سمجھتا ہے، اختلاف کے باوجود ٹوٹتا نہیں بلکہ مضبوط ہوتا ہے۔ لہٰذا! آج عوام کے سامنے اصل انتخاب یہ ہے کہ وہ سیاست کو ایک تماشہ بننے دیں یا اسے ایک ذمہ دار عمل کی شکل دیں۔ موبائل اسکرین سیاست کو تماشہ بناتی ہے جبکہ اخبار اسے فہم، شعور اور مکالمے کا راستہ دکھاتا ہے۔ اسکرین سے بچنا اور اخبار سے جڑنا محض ذاتی عادت کی تبدیلی نہیں بلکہ ایک اجتماعی سیاسی فیصلہ ہے۔ یہی فیصلہ طے کرے گا کہ آنے والے دنوں میں سیاست عوام کی خادم ہوگی یا عوام سیاست کے ایندھن بن کر رہ جائیں گے۔
شیئر کریں:

More from مضامین