جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
صوفیائے کرام اور کسب معاش
  1. ہوم
  2. مضامین
مضامین

صوفیائے کرام اور کسب معاش

Awaz E Bihar•27 مارچ، 2026 کو 02:11 PM•25 ویوز•13 منٹ پڑھیں

ڈاکٹر محمد ذاکر حسین
خدا بخش لائبریری، پٹنہ
Email: zakirkbl@gmail.com
Mobile: 09199702756
کتاب و سنت کی روشنی میں اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کا نام تصوف ہے۔حضرت ابراہیم بن محمد نصراباذی (متوفی ۳۶۷ھ) فرماتے ہیں التصوف ملازمۃ الکتاب و السنۃ یعنی کتاب و سنت کی پیروی ہی تصوف کا مقصود ہے اور حضرت جنید بغدادی (متوفی ۲۹۷ھ) تو ایسے شخص کے اتباع کو تسلیم ہی نہیں کرتے جس نے قرآن شریف حفظ نہ کیا ہو اور حدیث کو نہ لکھا ہو کیونکہ ہمارا علم کتاب و سنت کا پابند ہو نا چاہئے (من لم یحفظ القرآن و لم یکتب الحدیث لا یقتدی بہ فی ھذا الامر لان علمنا مقید بالکتاب و السنۃ)۔اسی بنا پر حضرت احمد بن محمد روذباری (متوفی ۳۲۲ھ) نے یہ فرمان جاری کیا کہ تصوف مکمل سنجیدگی کا متقاضی ہے اس کو ہزلیات وغیرہ سے آلودہ نہیں کرنا چاہئے (سئل عن التصوف فقال ھذا مذھب کلہ جد فلا تخلطوہ بشئی من الھزل)۔ اب جہاں تک تعلق ہے سماج اور معاشرہ کا تو اس سلسلے میں جو نظریہ اسلام کا ہے، وہی نظریہ تصوف کا بھی ہے۔قرآن شریف کے مطابق انسانی زندگی کا بنیادی مقصد و ما خلقت الجن و الانس الا لیعبدون میں موجود ہے یعنی انسان کی پیدائش کا مقصد ہی عبادت خداوندی ہے۔گویا انسان کے شب و روز کا ایک ایک لمحہ یا تو عبادت میں شمار ہوتا ہے یا نافرمانی میں۔اور جب عبادت ہی انسانی زندگی کا مقصد ٹھہرا تو اس کے شب و روز کیسے عبادت میں گزریں گے، اس کے لئے اسلام نے چنداصول و آداب وضع کیا ہے۔ اگر ان اصول و آداب کی پابندی کی گئی تو انسان کا اٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا، سونا جاگنا وغیرہ وغیرہ سب عبادت میں شمار ہوں گے۔چونکہ سماج بھی انسانی گروہ سے ہی بنتا ہے، ظاہر ہے عبادت ہی اس کا مقصد اصلی ہونا چاہئے یعنی سماج کی تشکیل و تعمیر اس نہج پر ہو جس کے ذریعہ عبادت اور اطاعت خداوندی کا سازگار ماحول مہیا کیا جاسکے اور جو سماج اپنے اس ہدف کو پس پشت ڈال دیتا ہے، پھر ایسے سماج کی اصلاح نہایت ضروری ہو جاتی ہے۔ کیونکہ انسان اور سماج اپنی برتری عبادت خداوندی کے ذریعہ سے ہی حاصل کر سکتا ہے۔ سونا چاندی کی مثال ہی لے لیجئے کہ ہر دور اور ہر زمانہ میں اس کو جو تفوق حاصل ہے، وہ اللہ تعالی کی محبت کا ہی ثمرہ ہے۔ اختیار الرفیق لطلاب الطریق، ص۲۹ پر یہ واقعہ مذکور ہے کہ حضرت ابن عطا ؒ (احمد بن محمد بن سہل) فرماتے ہیں کہ جب حضرت آدم علیہ السلام سے خطا سرزد ہوئی تو جنت کی ہر چیز ان کے لئے روئی لیکن سونا چاندی نہیں روئے۔ اللہ تعالی نے ان کی طرف وحی فرمائی اور پوچھا کہ آدم (علیہ السلام) کے لئے تم دونوں کیوں نہیں روئے۔ ان دونوں نے عرض کیا کہ ہم ان کے لئے رویا نہیں کرتے جو آپ کی نافرمانی کرتا ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا، میری عزت اور میرے جلال کی قسم، میں ہر چیز کی قیمت تم دونوں کو بناؤں گا اور بنی آدم کو تمہارا خادم بنا دوں گا۔اس پس منظر میں دنیا کے موجودہ معاشی نظام پر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ آج بھی سونا چاندی کی بنیاد پر ہی کسی بھی ملک کے معاشی نظام کے استحکام کو تسلیم کیا جاتا ہے۔
اب اس کلیہ کی روشنی میں موجودہ انسانی سماج کا محاسبہ کیجئے تو معلوم ہوگا کہ آج کی سماجی زندگی مختلف مسائل اور چیلنجز سے دوچار ہے۔ ہر طرف پریشانی اور اضطراب کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔ کسب معاش اور روزگار کے مسائل دن بہ دن پیچیدہ ہوتے جارہے ہیں۔ مادیت پرستی، فہم و فراست کا فقدان، لاقانونیت اور خود غرضی عام ہو گئی ہے۔ اخلاقی اور ثقافتی انحطاط نے انسانی اقدار کو کمزور کر دیا ہے۔ معاشرہ لوٹ مار، دہشت گردی اور استحصال کی لپیٹ میں آ چکا ہے۔ ایسے سنگین اور ہنگامہ خیز دور میں معاشرے میں انفرادی اور اجتماعی زندگی کی بقا، امن و امان، آشتی اور رواداری کی فضا قائم کرنے کے لیے صوفیاء کرام اوان کی تعلیمات و ہدایات کا کردار بہت اہم ہو جاتاہے۔ صوفیانہ تعلیمات اور صوفی طریقے ہمارے سماجی مسائل کو بہتر طریقے سے حل کر سکتے ہیں۔تصوف کا بنیادی کام بھی یہی ہے کہ کس طرح سسکتی انسانیت کا مداوا کیا جاسکے، صرف کشف وکرامات کا نام تصوف نہیں ہے۔ ایک عربی شاعر نے تصوف کی کیا خوب تشریح کی ہے کہ:
لیس التصوف بالخرق من قال ھذا قد مرق
ان التصوف یا فتی حرق یمازجھا القلق
یعنی تصوف کشف وکرامات کا نام نہیں ہے، جس نے یہ کہا اس نے گمراہی کی بات کی۔ اے نوجوان، بے شک تصوف ایک ایسی آگ ہے جس میں اضطراب کی آمیزش ہے اور اسی تصوف میں اضطراب کی آمیزش پائی جاتی ہے جس میں انسانیت کا درد پنہاں ہوتا ہے۔لیکن افسوس کا مقام ہے کہ جتنی توجہ صوفیاء کرام کے کشف و کرامات پر دی گئی ہے، اتنی ان کی سماجی زندگی پر نہیں ۔ حالانکہ کسی بھی شخصیت کی عظمت کا پتااس کے اقوال سے زیادہ اس کے اعمال سے لگایا جاتا ہے۔ کیونکہ اگر اس کا عمل اس کے قول کی نفی کرتا ہے تو اس قول کی کوئی معنویت باقی نہیں رہ جاتی۔
موجودہ زمانہ کا سب سے اہم اور سنگین مسئلہ کسب معاش اور روزگار کا ہے، اسی کے افراط و تفریط اور کمی بیشی سے سارے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ مذہب اسلام میں کسب معاش کو مبارک عمل قرار دیا گیا ہے۔ قرآن شریف اور احادیث مبارکہ میں کسب معاش کی اہمیت اور فضیلت کو مختلف انداز میںبیان کیا گیا ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے :لیس علیکم جناح ان تبتغوا فضلاً من ربکم (سورہ البقرہ:آیت: ٌ)!) ترجمہ: تم پر کسی بھی قسم کا کوئی گناہ و حرج نہیں کہ تم اپنے ربّ کا فضل (رزق) تلاش کرو‘‘ اسی طرح فرمایا: فاذا قضیت الصلوۃ فانتشروا فی الارض و ابتغوا من فضل اللہ(سورہ الجمعہ: آیت: ۱۰) ترجمہ: پھر جب نماز مکمل ہوجائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل (رزق) تلاش کرو۔ حدیث میں آتا ہے کہ عمل الرجل بیدہ و کل بیع مبرور یعنی بہترین ذریعہ معاش آدمی کے خود کے ہاتھ کی کمائی ہے اور بخاری شریف کی ایک حدیث ہے خیر کسب المرء عمل یمینہ یعنی آدمی کی بہترین کمائی خود اس کے ہاتھ کی کمائی ہے۔ صوفیائے کرام نے کسب معاش کے سلسلے میں کتاب و سنت کی اس تعلیم کو اپنی زندگی میں پوری طرح اتار لیا تھا۔ انھوں نے نہ صرف اس کی تلقین کی بلکہ اس کا عملی نمونہ بھی پیش کیا۔ چنانچہ حضرت ابراہیم بن ادھمؒ (متوفی ۱۶۱ھ) نے جب حکومت داری کو تر ک کر تصوف کے دامن میں پناہ لی تو کسب معاش کے لئے انھوں نے کھیتوں اور باغوں میں مزدوری کی۔ حضرت ابراہیم خواصؒ (متوفی ۲۹۱ھ) اور حضرت سلیمان خواص ( متوفی ۱۶۰ھ)کھجور کے پتوں سے پنکھے اور چٹائیاں بنایا کرتے تھے۔ حضرت ابراہیم صیاد ؒ شکار کیا کرتے تھے۔ حضرت احمد بن عیسی خراز ؒ (متوفی ۲۸۶ھ) چمڑے سے مشک اور نیام کی سلائی کیا کرتے تھے۔ حضرت احمد بن محمد ادمیؒ (متوفی ۳۰۹ھ) چمڑے کا کام کیا کرتے تھے۔ حضرت احمد بن نصر زقاقؒ اور حضرت محمد بن عبد اللہ زقاق (متوفی ۲۹۰ھ) مشک بنایا کرتے تھے۔ حضرت بنان بن محمد حمالؒ (متوفی ۳۱۶ھ) قلی کا کام کیا کرتے تھے۔ حضرت جنید بغدادیؒ (متوفی ۲۹۷ھ) ریشم کے کپڑے بنایا کرتے تھے اور ان کے والد بوتل بیچا کرتے تھے۔ حضرت جعفر حذاؒ جوتا بنایا کرتے تھے۔ حضرت حمدون بن احمد قصارؒ (متوفی ۲۶۱ھ) کپڑا دھلنے کا کام کیا کرتے تھے۔ حضرت خیر بن عبد اللہ نساجؒ (متوفی ۳۲۲ھ) کپڑا بُنا کرتے تھے۔ حضرت زید بن بندار نجار ؒ (متوفی ۲۷۳ھ) بڑھی کا کام کیا کرتے تھے۔ حضرت سری سقطی ؒ (متوفی ۲۵۳ھ) پرانے سامانوں کو فروخت کیا کرتے تھے۔حضرت علی بن ابراہیم حُصری ( متوفی ۳۶۱ھ) چٹائی بُنا کرتے تھے۔ حضرت علی بن محمد مزین ؒ (۳۲۸ھ) بال بنایا کرتے تھے۔ حضرت عمرو بن سلم حداد ؒ (۲۶۵ھ) لوہار کا کام کیا کرتے تھے۔ حضرت محمد بن علی کتانی ؒ (۳۲۲ھ) پٹوا سے کپڑا بنایا کرتے تھے۔ حضرت محمد بن علی قصاب ؒ (۲۷۵ھ) گوشت بیچا کرتے تھے۔ حضرت محمد بن ابراہیم بزاز ؒ (۲۸۹ھ) دوا فروش تھے۔ حضرت محمد بن ابراہیم زجاجی ؒ (۳۴۸ھ) شیشہ بنایا کرتے تھے۔ حضرت محمد بن عمر وراق ؒ کتابوں کی جلد سازی کرتے تھے۔ حضرت ولید سقاؒ (۳۲۰ھ) پانی پلانے کا کام کیا کرتے تھے۔حضرت لاحق بن ابو الفضل خباز ؒ (متوفی ۶۰۰ھ) روٹی بنایا کرتے تھے۔ حضرت ابراہیم دباغ ؒ چمڑا صاف کرنے کا کام کیا کرتے تھے۔ حضرت ابو بکر خیاط ؒ کپڑا سلائی کا کام کیا کرتے تھے۔ حضرت ابوبکر دقاقؒ اور حضرت حسن بن علی دقاق ؒ آٹا پیسا کرتے تھے۔ حضرت ابو حاتم عطار بصری ؒ عطر فروش تھے۔
یہ صوفیائے کرام دوسری سے ساتویں صدی ہجری تک کے ہیں اور اس طرح کے کام کرنے میں انھیں کوئی عار محسوس نہیں ہوتی تھی، بلکہ یہ کام ان کے نزدیک اتنا معزز اور باوقار تھا کہ انھوں نے اپنے کام کو اپنے نام کا حصہ بنا لیا تھا جیسے خواص، صیاد، خراز، ادمی، زقاق، حمال، خزاز، حذا، قصار، نساج، نجار، سقطی، حصری، مزین، حداد، کتانی، قصاب، بزاز، وراق، سقا، خباز دباغ، دقاق، عطار۔ اگر موجودہ زمانے کی زبان میں مذکورہ بالا صوفیائے کرام کے کاموں اور اسی مناسبت سے عربی الفاظ کی وضاحت کی جائے تو اُن میںکوئی بُنکرتھے، کوئی موچی تھے، کوئی چمڑیا تھے، کوئی قلی تھے، کوئی دھوبی تھے، کوئی حجام تھے، کوئی بڑھی تھے، کوئی لوہار تھے، کوئی کباڑی تھے، کوئی قصائی تھے، کوئی نانبائی تھے، کوئی درزی تھے، کوئی میر شکار تھے، کوئی عطر فروش تھے، کوئی بھشتی تھے، وغیرہ وغیرہ۔ صوفیائے کرام نے اپنے اقوال اور افعال کے ذریعہ ایک مضبوط پیغام دیا کہ ہر انسان کو اپنے معاش کے لئے خود کفیل ہونا چاہئے، نہ کہ دوسروں پر بوجھ بننا چاہئے اور سماج اور معاشرہ کی ضروریات کے مطابق مختلف کام کر کے انھوں نے یہ عملی نمونہ پیش کیا کہ کوئی کام چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا اور نہ اس کام کو کرنے والا حقیر ہوتا ہے۔یہ تو ہماری نا اہلی اور صوفیائے کرام کی تعلیمات سے دوری کا نتیجہ ہے کہ ہم نے غیر مسلموں کی طرح ذرائع معاش کے جائز طریقوں کو حقارت کی نظروں سے دیکھا اور ان میں سے کچھ کو اعلی سمجھا اور کچھ کو حقیر۔ہمارا یہ رویہ صوفیانہ تعلیمات اور صوفیانہ طریقے کے سراسر مخالف ہے۔ ہمیں اپنے نظریات کی اصلاح کرنی ہوگی اور کسب معاش کے تعلق سے صوفیائے کرام کے نظریے کو عام کرنا ہوگا۔
ساتھیوں کے ساتھ حسن سلوک:
حضرت ابراہیم بن ادھمؒ فصل کی کٹائی اور باغوں کی نگہبانی کیا کرتے تھے اور اپنی ساری کمائی اپنے ساتھیوں پر خرچ کر دیا کرتے تھے۔ وہ دن میں کام کرتے تھے اور رات میں وہ اور ان کے سارے ساتھی ایک جگہ اکٹھا ہوتے تھے اور وہ سب کے سب روزہ سے ہوتے تھے۔ ابراہیمؒ کو اکثر کام سے لوٹنے میں تاخیر ہو جاتی تھی۔ ان کے ساتھیوں نے ایک شام آپس میں فیصلہ کیا کہ ابراہیمؒ کو چھوڑ کر ہم لوگ افطار کر لیں تاکہ وہ آئندہ وقت پر آیا کریں اور کبھی تاخیر نہ کریں۔ چنانچہ وہ لوگ افطار کرکے سو گئے۔ ابراہیم بن ادھمؒ جب اپنے کام سے واپس آئے تو ان لوگوں کو سویا ہوا دیکھ کر انھیں خیال ہوا کہ شاید ان لوگوں کو افطار کرنے کے لئے کچھ میسر نہ ہو سکا، اس لئے ان پر غشی طاری ہو گئی ہے۔ انھوں نے چولہے کو درست کیا اور آٹا گوندھا۔ جب آگ روشن کی اور چولہے پر ڈالا تو وہ لوگ جاگ گئے۔ اس وقت وہ زمین پر اپنی ڈاڑھ رکھے ہوئے آگ پھونک رہے تھے۔ ان لوگوں نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے جواب دیا، مجھے گمان ہوا کہ تم لوگوں کو افطار کے لئے کچھ نہ مل سکا، اس لئے سو گئے ہو۔ میں نے مناسب خیال کیا کہ تمھیں اس وقت بیدار کروں جب چولہا گرم ہو چکا ہو۔ ان لوگوں نے آپس میں کہا، دیکھو ہم نے ان کے ساتھ کیسا برتاؤ کیا اور وہ کیسا حسنِ سلوک برت رہے ہیں۔
سہل بن ابراہیم کہتے ہیں ، میں ابراہیم بن ادھمؒ کی صحبت میں تھا کہ بیمار پڑگیا۔ انھوں نے تمام سرمایہ تیمارداری میں خرچ کر ڈالا۔ مجھے کچھ کھانے کی خواہش ہوئی تو انھوں نے اپنا گدھا بیچ کر اس کی قیمت مجھ پر صرف کر دی۔ جب میں رو بصحت ہوا تو پوچھا ابراہیم! گدھا کہاں ہے؟ فرمایا، بیچ دیا۔ میں نے کہا، اب میں کس پر سوار ہوں گا، جواب دیا، میرے بھائی میری گردن پر اور مجھے اٹھا کر تین منزل تک لے گئے۔
ساتھیوں کی خبر گیری:
شقیق بلخی کہتے ہیں، ایک دن میں ابراہیم بن ادھمؒ کے پاس تھا کہ ان کے قریب سے ایک آدمی گزرا۔ انھوں نے پوچھا، یہ فلاں آدمی نہیں ہے؟ جواب ملا، ہاں۔ آپ نے ایک شخص سے کہا کہ اس سے ملاقات کرو اور میری طرف سے کہنا، تم نے سلام نہیں کیا۔ اس نے کہا، میری اہلیہ زچگی کی حالت میں ہے اور میرے پاس کچھ نہیں ہے، اس لئے دیوانہ وار نکل پڑا۔ اس شخص نے یہ خبر حضرت ابراہیمؒ کو دی۔ وہ فرمانے لگے یا اللہ! میرے ساتھی مصیبت میں گرفتار ہیں اور ہم بے خبر ہیں۔ انھوں نے ایک آدمی سے کہا باغ والے سے دو دینار قرض لے کر بازار جاؤ اور ایک دینار سے اس کے لائق سامان خریدو اور وہ سامان اور ایک دینار اسے دے دینا۔ وہ آدمی نے بیان کیا کہ میں بازار سے سامان لے کر اس کے گھر گیا اور دروازہ کو کھٹکھٹایا۔ اس کی اہلیہ نے پوچھا، تم کون ہو۔ میں نے کہا، میں فلاں ہوں اور فلاں سے ملنے آیا ہوں۔ اس نے کہا اس وقت وہ گھر پر نہیں ہے۔ میں نے دروازہ کھولنے کی اجازت طلب کی۔ دروازہ کھول کر میں اندر داخل ہوا اور سامان صحن میں رکھ کر ایک دینار اسے دے دیا۔ اس نے دریافت کیا یہ کس نے بھیجا ہے؟ میں نے جواب دیا، حضرت ابراہیم بن ادھمؒ نے۔ اس نے اللہ سے یہ دعا مانگی کہ آج کے بعد ابراہیم بن ادھم کو نہ بھُلانا۔ واپس آکر میں نے سارا واقعہ ابراہیم بن ادھم کو بتایا، جس سے وہ اس قدر خوش ہوئے کہ کبھی اتنا خوش نہ ہوئے تھے۔
ضرورت مندوں کی مدد:
ابو الجھم احمد بن حسین فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت احمد بن ابی الحواریؒ کے پاس آیا اور کہا اے ابو الحسن! گزشتہ رات میرے یہاں ایک بچہ کی ولادت ہوئی ہے اور خرچ کے لئے میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ حضرت احمدبن ابی الحواریؒ نے کہا کہ میرے پاس بھی یہ دو قمیص ہیں۔ تم ان دونوں میں سے کوئی ایک لے لو۔ پھر دونوں قمیص کو دیکھا کہ کون اچھی ہے۔ فرمایا، نیچے والی قمیص زیادہ بہتر ہے۔ اس کا اچھا پیسہ ملے گا۔ چنانچہ مسجد کی دیوار کی اوٹ میں جاکر نیچے والی قمیص اتاری اور اوپر والی پہن لیا۔ وہ آدمی قمیص لے کر چلا گیا۔
لوگوں کی تکلیف کا احساس:
کچھ لوگوں نے بیان کیا کہ شدید سردی کے موسم میں حضرت بشر بن حارثؒ کے پاس گیا، وہ بغیر کپڑے کے تھے اور کپکپا رہے تھے۔ میں نے کہا، اے ابو نصر، لوگ ایسے موسم میں زیادہ کپڑے پہنتے ہیں اور آپ کم کئے ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا، مجھے فقرا اور ان کی بے سر و سامانی کی یاد آ گئی اور میرے پاس ان کو تسلّی دینے کے لئے کچھ نہیں ہے۔ اس لئے میں نے سردی میں ان کی موافقت کرنی چاہی۔
شیئر کریں:

More from مضامین

عبد الجلیل مستان
مضامین

عبد الجلیل مستان

28 ستمبر، 2026
آٹھ سال کے بعد اردو ڈائرکٹریٹ، پٹنہ کا بے مثال جشن اردو
مضامین

آٹھ سال کے بعد اردو ڈائرکٹریٹ، پٹنہ کا بے مثال جشن اردو

28 اگست، 2026
آزادی کے بعد آزادی کی تلاش،خواب ابھی باقی ہے
مضامین

آزادی کے بعد آزادی کی تلاش،خواب ابھی باقی ہے

21 اگست، 2026
سپریم کورٹ کا حکم، انتظامی ضوابط اور جدید معاشی تحفظ کا پیغام
مضامین

سپریم کورٹ کا حکم، انتظامی ضوابط اور جدید معاشی تحفظ کا پیغام

21 اگست، 2026
شوبھندو حکومت کے 100 دن
مضامین

شوبھندو حکومت کے 100 دن

20 اگست، 2026
​پولیس تشدد کے خلاف اہم فیصلہ
مضامین

​پولیس تشدد کے خلاف اہم فیصلہ

13 جولائی، 2026