جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
بیٹی کو گود میں لے کر ماں نے حاصل کی تعلیمی سند
  1. ہوم
  2. قومی
قومی

بیٹی کو گود میں لے کر ماں نے حاصل کی تعلیمی سند

Awaz E Bihar•9 ستمبر، 2026 کو 03:59 PM•23 ویوز•6 منٹ پڑھیں

شادی، مادریت اور گھریلو ذمہ داریوں کے باوجود رحمت النساء رجب نے جاری رکھا تعلیم کا سفر؛ ممبئی یونیورسٹی کی تقریب میں یادگار منظر

ممبئی یونیورسٹی کے کالینہ کیمپس میں شعبۂ اردو کے زیر اہتمام مراٹھی بھاشا بھون میں منعقدہ خصوصی تقریب اس وقت ایک یادگار منظر میں تبدیل ہوگئی جب رحمت النساء رجب اپنی کمسن بیٹی کو گود میں لیے تعلیمی سند حاصل کرنے کے لیے اسٹیج پر پہنچیں۔ ایک ہاتھ میں تعلیمی سند اور بانہوں میں ننھی بیٹی کے ساتھ ان کی تصویر نے تقریب میں موجود افراد کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی۔یہ محض ایک طالبہ کے تعلیمی کامیابی حاصل کرنے کا منظر نہیں تھا بلکہ ایک ایسی خاتون کی جدوجہد کی عکاسی بھی کررہا تھا جس نے شادی، گھریلو ذمہ داریوں اور مادریت کے باوجود تعلیم کا سفر جاری رکھا۔ رحمت النساء نے اپنی کامیابی کے اہم لمحے کو اپنی بیٹی کے ساتھ بانٹ کر اسے مزید یادگار بنادیا۔
تقریب میں پی ایچ ڈی کی سند حاصل کرنے والے طلبہ کی تہنیت کے ساتھ ایم اے اور ایم فل کی ڈگریاں حاصل کرنے والے طلبہ کو بھی اعزاز سے نوازا گیا۔ کئی طلبہ برسوں کی محنت کے بعد اس تقریب میں اپنی کامیابی کا جشن منانے پہنچے تھے، تاہم رحمت النساء کا انداز سب سے مختلف تھا۔ انہوں نے اپنی کمسن بیٹی کو بھی اس خوشی کا حصہ بنایا۔رحمت النساء رجب کی شادی 2024 میں افضل حسین منصوری سے ہوئی، جو کپڑے اور فیبرک کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔ ان کے مطابق شادی سے قبل ہی ان کی تعلیم جاری تھی اور شادی کے بعد شوہر اور سسرال والوں نے بھی تعلیم مکمل کرنے کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کی۔ان کا کہنا ہے کہ شادی کے بعد زندگی کی ترجیحات ضرور تبدیل ہوئیں، لیکن انہوں نے تعلیم کو ترک نہیں کیا۔ گھر کی ذمہ داریوں کے ساتھ پڑھائی کے لیے وقت نکالنا آسان نہیں تھا، تاہم خاندان کے تعاون نے ان کے لیے یہ سفر نسبتاً آسان بنادیا۔
رحمت النساء کا تعلق ایک گنجان اور نسبتاً پسماندہ بستی سے ہے۔ ایسے ماحول میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا جہاں روزمرہ زندگی کے مسائل ہی ایک بڑا چیلنج ہوں، آسان نہیں تھا، لیکن ان کے والدین نے تعلیم کے معاملے میں ہمیشہ ان کا حوصلہ بڑھایا اور آگے بڑھنے کا موقع فراہم کیا۔رحمت النساء نے تعلیم کو صرف ڈگری حاصل کرنے تک محدود نہیں رکھا بلکہ تدریس کے شعبے سے بھی وابستہ رہیں۔ وہ کنٹریکٹ کی بنیاد پر ٹیچر کے طور پر خدمات انجام دے چکی ہیں جبکہ نائٹ اسکول سے بھی وابستہ رہی ہیں۔ اردو اور تاریخ ان کے تدریسی مضامین رہے ہیں۔ان کی تعلیمی قابلیت میں ڈی ایڈ، بی ایڈ اور ایم اے کی دو ڈگریاں شامل ہیں۔ ان میں سے ایک ڈگری انہوں نے ڈسٹنس موڈ کے ذریعے حاصل کی۔ ان کا تعلیمی سفر اس بات کی مثال ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں، اگر آگے بڑھنے کا عزم ہو تو تعلیم کے مختلف راستوں کو اختیار کرتے ہوئے منزل تک پہنچا جاسکتا ہے۔تعلیم کا سفر جاری تھا کہ رحمت النساء ماں بن گئیں۔ ننھی بیٹی کی آمد ان کے لیے خوشی کا باعث بنی، لیکن اس کے ساتھ ذمہ داریوں میں بھی اضافہ ہوگیا۔ ایک طرف بچی کی دیکھ بھال اور دوسری جانب تعلیم کی ذمہ داریاں، دونوں کو ایک ساتھ نبھانا ان کے لیے ایک نیا چیلنج تھا۔
رحمت النساء کا کہنا ہے کہ ’’ماں بننا کمزوری نہیں، سب سے بڑی طاقت ہے۔‘‘ ان کے مطابق خواتین اگر اپنے مقصد کے بارے میں واضح ہوں اور خاندان ان کا ساتھ دے تو گھریلو ذمہ داریوں کے ساتھ تعلیم بھی جاری رکھی جاسکتی ہے۔وہ سمجھتی ہیں کہ زندگی کے مختلف مراحل میں مشکلات آتی رہتی ہیں، لیکن ان مشکلات کی وجہ سے اپنے خوابوں کو مکمل طور پر ترک کردینا ضروری نہیں۔اپنی بیٹی کو سند حاصل کرنے کی تقریب میں ساتھ لانے کے بارے میں رحمت النساء نے کہا کہ وہ اپنی کامیابی کے اس اہم لمحے میں اسے اپنے سے دور نہیں رکھنا چاہتی تھیں۔ ان کی خواہش تھی کہ بیٹی بھی اس یادگار موقع کا حصہ بنے۔کمسن بچی شاید آج اس منظر کی اہمیت نہیں سمجھ سکتی، لیکن مستقبل میں جب وہ اپنی ماں کی یہ تصویر دیکھے گی تو اسے اندازہ ہوگا کہ اس کی ماں نے اپنی ایک اہم تعلیمی منزل اسے گود میں لے کر حاصل کی تھی۔
رحمت النساء کے نزدیک یہ تصویر صرف ایک یادگار لمحہ نہیں بلکہ ان کی بیٹی کے لیے ایک خاموش پیغام بھی ہے کہ زندگی کی ذمہ داریاں خوابوں کی تکمیل میں لازماً رکاوٹ نہیں بنتیں۔تعلیمی کامیابی کے باوجود رحمت النساء فی الحال ملازمت اختیار کرنے کا ارادہ نہیں رکھتیں۔ ان کی کمسن بیٹی ابھی بہت چھوٹی ہے اور وہ اس کی پرورش کو اپنی اولین ترجیح قرار دیتی ہیں۔ ان کے مطابق اس وقت بچی کو ان کی زیادہ ضرورت ہے، اس لیے وہ اس کی دیکھ بھال پر توجہ دے رہی ہیں۔ تاہم مستقبل میں حالات سازگار ہونے پر تدریس کے شعبے میں دوبارہ سرگرم ہونے کا ارادہ رکھتی ہیں۔خواتین اور نئی نسل کے لیے رحمت النساء کا پیغام ہے کہ مشکلات کی وجہ سے تعلیم کا سلسلہ ترک نہیں کرنا چاہیے۔ زندگی میں ایسے مراحل آسکتے ہیں جب تعلیم مکمل کرنے میں تاخیر ہوجائے یا گھریلو ذمہ داریوں کے باعث کچھ عرصے کے لیے تعلیمی یا پیشہ ورانہ سفر رک جائے، لیکن تعلیم کی محنت کبھی ضائع نہیں ہوتی۔ان کے مطابق علم ایسی دولت ہے جو انسان کے ساتھ زندگی بھر رہتی ہے۔ حالات سازگار ہونے پر انسان اپنی تعلیم، تجربے اور صلاحیتوں سے دوبارہ فائدہ اٹھاسکتا ہے۔رحمت النساء اپنی کامیابی میں والدین کے ساتھ شوہر اور سسرال کے تعاون کو بھی اہم قرار دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر خاندان خواتین کی تعلیم کی حوصلہ افزائی کرے تو اس کے مثبت اثرات صرف ایک خاتون تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری اگلی نسل اس سے فائدہ اٹھاتی ہے۔ممبئی یونیورسٹی کے اسٹیج پر رحمت النساء رجب کا اپنی بیٹی کو گود میں لے کر سند حاصل کرنا اسی حقیقت کی خوب صورت تصویر بن گیا۔ ایک ہاتھ میں برسوں کی محنت کا ثمر اور بانہوں میں مستقبل کی امید—یہ منظر اس پیغام کے ساتھ اختتام پذیر ہوا کہ شادی اور مادریت زندگی کی نئی ذمہ داریاں ضرور ہیں، لیکن عورت کے خوابوں کا اختتام نہیں۔
شیئر کریں:

More from قومی

 مودی سرکار مساجد و عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنا چاہتی ہے
قومی

مودی سرکار مساجد و عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنا چاہتی ہے

29 ستمبر، 2026
امن ہندوستان کی پالیسی، کمزوری نہیں، دہشت گردی پر ضروری قدم اٹھائیں گے: راج ناتھ
قومی

امن ہندوستان کی پالیسی، کمزوری نہیں، دہشت گردی پر ضروری قدم اٹھائیں گے: راج ناتھ

27 ستمبر، 2026
ایس آئی آر کا فیصلہ متفقہ تھا، کابینہ سکریٹری کو لکھے گئے خط کا کسی پالیسی سے تعلق نہیں: الیکشن کمیشن
قومی

ایس آئی آر کا فیصلہ متفقہ تھا، کابینہ سکریٹری کو لکھے گئے خط کا کسی پالیسی سے تعلق نہیں: الیکشن کمیشن

26 ستمبر، 2026
گیانیش کمار کے استعفے و گرفتاری کے مطالبے حق میں کانگریس کا ملک گیر مظاہرہ
قومی

گیانیش کمار کے استعفے و گرفتاری کے مطالبے حق میں کانگریس کا ملک گیر مظاہرہ

25 ستمبر، 2026
گیانیش کمار نے دو دنوں میں استعفیٰ نہیں دیا تو ملک گیر تحریک ہوگی: سی جے پی
قومی

گیانیش کمار نے دو دنوں میں استعفیٰ نہیں دیا تو ملک گیر تحریک ہوگی: سی جے پی

24 ستمبر، 2026
الیکشن کمیشن کی 14 اعتراضات پر وضاحت، اختلافِ رائے کو معمول قرار دیا
قومی

الیکشن کمیشن کی 14 اعتراضات پر وضاحت، اختلافِ رائے کو معمول قرار دیا

23 ستمبر، 2026