ٹی سی ایس معاملہ: مبینہ ماسٹر مائنڈ ندا خان کی پیشگی ضمانت مسترد
Awaz E Bihar••25 ویوز•3 منٹ پڑھیں
ناسک میں معروف آئی ٹی کمپنی ٹی سی ایس سے جڑے مبینہ جنسی استحصال اور مذہب تبدیل کروانے کے معاملے نے ملک بھر میں سنسنی پیدا کر دی ہے، اس کیس کی مرکزی ملزمہ ندا خان کی پیشگی ضمانت کی درخواست ناسک روڈ کی عدالت نے مسترد کر دی ہے، جس کے بعد اس کی کسی بھی وقت گرفتاری کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس معاملے میں ندا خان کی جانب سے دائر کی گئی پیشگی ضمانت کی درخواست پر گزشتہ ہفتے عدالت میں تفصیلی سماعت ہوئی، جس کے دوران خصوصی سرکاری وکیل اور تفتیشی افسران نے انتہائی مضبوط اور تفصیلی دلائل پیش کیے۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا، جسے آج سناتے ہوئے ایڈیشنل سیشن جج کے جی جوشی نے ندا خان کی درخواست مسترد کر دی۔ پولیس کے مطابق ندا خان اس مبینہ مذہب تبدیلی نیٹ ورک کی ماسٹر مائنڈ ہے اور وہ اس وقت مفرور ہے۔ اس کی گرفتاری کے لیے ناسک پولیس نے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں اور مختلف مقامات پر اس کی تلاش جاری ہے۔ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ ندا خان حاملہ ہے، اور اسی بنیاد پر اس نے پیشگی ضمانت کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ عدالتی کارروائی کے دوران سرکاری وکیل نے ندا خان اور اس کے ساتھیوں کے خلاف نہایت سنگین نوعیت کے شواہد پیش کیے۔ پولیس کے مطابق ملزمان نے متاثرہ خاتون کو مذہب تبدیل کروانے کے مقصد سے ایک برقع فراہم کیا تھا اور ساتھ ہی اسے اسلامی تعلیمات سے متعلق کتاب بھی دی گئی تھی جس میں حضرت محمد ﷺ کے بارے میں معلومات شامل تھیں۔ مزید تفتیش میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ملزمان کی جانب سے متاثرہ خاتون کو مذہبی تعلیمات سے متعلق یوٹیوب لنکس، انسٹاگرام لنکس، ریلس اور مختلف ویڈیوز بھی مسلسل بھیجے جاتے تھے، تاہم یہ مواد کہاں سے حاصل کیا گیا، اس کی تفتیش ابھی جاری ہے۔ پولیس کے مطابق ندا خان وقتاً فوقتاً متاثرہ خاتون کو مذہبی تعلیم دیتی تھی اور اسے اپنے گھر لے جا کر نماز پڑھنے کا طریقہ، حجاب اور برقع پہننے کا طریقہ سکھاتی تھی۔ تفتیشی افسران نے عدالت کو بتایا کہ ندا خان اور اس کے ساتھیوں نے یہ جرم باہمی سازش کے تحت انجام دیا۔ اس کیس میں شامل ایک اور ملزم دانش شیخ نے متاثرہ خاتون کے تعلیمی اور دیگر اہم دستاویزات اپنے قبضے میں لے لیے تھے اور اس کا نام تبدیل کروانے کی کوشش کی جا رہی تھی، جس کے لیے مبینہ طور پر مالیگاؤں سے تعلق رکھنے والے ایک گروہ کا کردار بھی زیرِ تفتیش ہے۔ سرکاری وکیل نے عدالت سے کہا کہ اس معاملے کی مزید گہرائی سے تفتیش کے لیے ملزمہ کی پیشگی ضمانت مسترد کرنا ضروری ہے، کیونکہ اس کے مفرور ہونے اور شواہد کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے امکانات موجود ہیں۔ عدالت نے تمام دلائل اور شواہد کا جائزہ لینے کے بعد ندا خان کی پیشگی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی، جس کے بعد اب اس کی گرفتاری کسی بھی وقت ممکن ہے۔