آمد مصطفی ﷺ تاریخ انسانیت کا عظیم ترین انقلاب ہے: مولانا غلام رسول بلیاوی
Awaz E Bihar••72 ویوز•6 منٹ پڑھیں
نعرہ رسالت ﷺ سے گونجا پٹنہ، درود و سلام سے معطر ہوئیں فضائیں
پٹنہ: مرکزی ادارۂ شرعیہ پٹنہ کی قیادت میں شہر پٹنہ کے تقریباً پچاس مختلف مقامات سے عظیم الشان جلوسِ محمدی ﷺ نکالا گیا۔ شہر کے مختلف راستوں سے گزرتے ہوئے عاشقان رسول ﷺ کے قافلوں نے فضا کو درود و سلام، نعت رسول مقبول ﷺ، تکبیر اور رسالت کے نعروں سے معطر کر دیا۔ ہر طرف "سرکار کی آمد مرحبا" کی صدائیں بلند ہو رہی تھیں اور پٹنہ کی فضائیں عشق مصطفیٰ ﷺ کے نعروں سے گونج اٹھیں۔ جلوس محمدی ﷺ محمدی کو ابتدا سے انتہا تک صدر مرکزی ادارہ شرعیہ غازی ملت مولانا غلام رسول بلیاوی نے قائدانہ ذمہ داری کو بحسن و خوبی انجام دیا۔مرکزی ادارۂ شرعیہ کے صدر، سابق ممبر آف پارلیمنٹ مولانا غلام رسول بلیاوی نے جلوس محمدی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضور سید المرسلین، رحمت عالم ﷺ کی آمد ایک عظیم انقلاب آفریں اور ہمہ گیر واقعہ ہے۔ آپ ﷺ کی تشریف آوری سے دنیا کے مظلوموں، یتیموں، بے کسوں اور محروم طبقات کو حقوق اور انصاف ملا۔ انسانیت کو خدا کی معرفت، وحدانیت کا پیغام، اخوت و محبت کا درس اور قرآن و ایمان کی دولت نصیب ہوئی۔ آپ ﷺ کی آمد کائنات انسانی کی تاریخ کا ایسا عظیم الشان انقلاب ہے جس نے زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج ہم اس عظیم ہستی کی محبت میں سڑکوں پر نکلے ہیں جن کے صدقے اللہ تعالیٰ نے کائنات ہستی کو وجود بخشا۔ حضور اکرم ﷺ نے مظلوموں کو حق دلایا، یتیموں اور بیواؤں کے حقوق کی حفاظت فرمائی اور انسانوں کو عدل و انصاف، امن، محبت اور بھائی چارے کا راستہ دکھایا۔ رسول ہاشمی ﷺ نے اپنی پوری حیات طیبہ کے ذریعے انسانیت کو امن، اخوت، محبت، مساوات اور بھائی چارے کا پیغام دیا۔ آپ ﷺ کی سیرت طیبہ قیامت تک پوری انسانیت کے لیے مشعل راہ ہے، اس لیے دنیا و آخرت کی کامیابی اسی میں ہے کہ ہم سیرت اور محبت مصطفیٰ ﷺ کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ صدرمفتی ادارۂ شرعیہ، مفتی محمد حسن رضا نوری نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نبیٔ محتشم، نور مجسم، رحمت عالم ﷺ کی آمد ہمارے لیے خوشی، محبت، اخوت اور انسانیت کا پیغام ہے۔ جشن میلادِ مصطفیٰ ﷺ کا مقصد صرف خوشی کا اظہار نہیں بلکہ حضور اکرم ﷺ کی تعلیمات کو یاد کرنا اور اپنی زندگی کو آپ ﷺ کی سیرت مبارکہ کے مطابق ڈھالنے کا عہد کرنا بھی ہے۔ قاضی شریعت ڈاکٹر امجد رضا امجد نے کہا کہ سرور کائنات ﷺ کی ذات ستودہ صفات نے اس خاک دان کا مقدر بدل ڈالا اور انسانی تہذیب و تمدن کے بے جان جسم میں وہ روح پھونک دی جس سے تاریخ انسانی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ محسن انسانیت ﷺ کے وجود اقدس میں حسن و جمال ایزدی کے جملہ مظاہر اپنی تمام تر دل آویزیوں اور رعنائیوں کے ساتھ جلوہ گر ہوئے، یہاں تک کہ تمام حسینان عالم کے سراپے ماند پڑ گئے۔ پرنسپل ادارۂ شرعیہ مولانا نوازش کریم فیضی نے کہا کہ میلادِ مصطفیٰ ﷺ کا جشن منانا ایمان والوں کے لیے ایک عظیم سعادت اور انمول سوغات ہے۔ یہ دن ہمیں حضور اکرم ﷺ کی ولادت باسعادت کی خوشی کے ساتھ ساتھ آپ ﷺ کی سیرت و کردار کو اپنی زندگی میں اپنانے کا پیغام بھی دیتا ہے۔ نائب قاضیٔ شریعت مفتی غلام حسین ثقافی نے کہا کہ میلادِ مصطفیٰ ﷺ کی اس صبح اولیں سے آج تک چودہ صدیوں سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، لیکن آج بھی جب اس عظیم ترین ہستی کے ظہور قدسی کا دن آتا ہے تو مسلمانان عالم کے دلوں میں مسرت کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ ماہ ربیع الاول کا یہ مقدس دن صدیوں گزرنے کے باوجود نوید جشن لے کر طلوع ہوتا ہے اور مسلمانان عالم اس روز سعید کو عقیدت و محبت کے ساتھ مناتے ہیں۔ اس موقع پر ڈاکٹر مفتی غلام اختر رضا نوری، مفتی غلام سرور مصباحی ،مفتی وسیم اختر،حافظ وقاری معراج احمد فریدی مفتی غلام رسول اسماعیلی اور دیگر علماء کرام نے بھی اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مقررین نے کہا کہ حضور اکرم ﷺ کی ولادت باسعادت پوری انسانیت کے لیے اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے اور آپ ﷺ کی سیرت طیبہ کو عام کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اس سال مرکزی ادارۂ شرعیہ کی جانب سے جلوسِ محمدی ﷺ کو "یوم انقلاب" کے عنوان سے منانے کا پیغام دیا گیا۔ اس موقع پر واضح کیا کہ رسول اکرم ﷺ کی تشریف آوری نے جہالت، ظلم، ناانصافی، طبقاتی تفریق اور انسانی استحصال کے اندھیروں کو ختم کرکے علم، عدل، مساوات، رحمت، اخوت اور انسانیت کا چراغ روشن کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ کی آمد کو تاریخ انسانیت کا عظیم ترین انقلاب قرار دیا جاتا ہے۔ جلوسِ محمدی ﷺ نماز ظہر کے بعد مرکزی ادارۂ شرعیہ سے نکالا گیا۔ جلوس سلطان گنج، پتھر کی مسجد اور دیگر اہم راستوں سے گزرتا ہوا درگاہ شاہ ارزاں پہنچا، جہاں حضرت شاہ ارزاں رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہ میں فاتحہ خوانی اور صلوٰۃ و سلام پیش کیا گیا۔ اس کے بعد جلوس کا قافلہ محمد پور شاہ گنج پہنچا، جہاں نماز عصر ادا کی گئی اور شرکائے جلوس کی ضیافت کا اہتمام کیا گیا۔ بعد ازاں جلوس پٹنہ کالج پہنچا، جہاں نماز مغرب ادا کی گئی۔ اس کے بعد عاشقان رسول ﷺ کا یہ عظیم قافلہ انجمن اسلامیہ ہال پہنچا، جہاں ایک عظیم الشان جلسے کی صورت میں جلوسِ محمدی ﷺ کا اختتام ہوا۔ پورے جلوس کے دوران عاشقان رسول ﷺ کے جذبات قابل دید تھے۔ مختلف مقامات پر نعت خوانی، درود و سلام اور حضور اکرم ﷺ سے محبت و عقیدت کے نعروں نے ماحول کو روحانی کیفیت سے معمور کر دیا۔ جلوس محمدی ﷺ کو کامیاب، منظم اور باوقار بنانے میں مرکزی ادارۂ شرعیہ کے اساتذہ، اراکین، کارکنان اور وابستگان نے بھرپور محنت کی۔ مختلف مقامات سے آنے والے جلوسوں کو منظم انداز میں مرکزی جلوس میں شامل کیا گیا اور پورے پروگرام کے دوران نظم و ضبط کا خصوصی خیال رکھا گیا۔ مرکزی ادارۂ شرعیہ کی قیادت میں منعقد ہونے والا یہ عظیم الشان جلوسِ محمدی ﷺ پٹنہ میں عشق رسول ﷺ، اتحاد امت، اخوت و محبت اور سیرت مصطفیٰ ﷺ کے پیغام کو عام کرنے کی ایک مؤثر اور یادگار کوشش ثابت ہوا۔